Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3503

3503 - حدثنا زهير حدثنا حبان عن حماد بن سلمة عن حميد و ثابت Y عن أنس قال : سقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا القدح الماء واللبن والنبيذ والعسل K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اس پیالہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی ‘دودھ‘نبیذ اور شہد پلایا ہے ۔

أَنَسٍ، ← حميد و ثابت ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حِبَّانُ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3503

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3504

3504 - حدثنا زهير حدثنا عبد الصمد حدثنا شعبة حدثنا ثابت قال Y سمعت أنس بن مالك يقول : لامرأة من أهله : أما تعرفين فلانة : فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر عليها وهي تبكي على قبر فقال لها : ( اتقي الله واصبري ) فقالت له إليك عني فإنك لا تبالي بمصيبتي قال : ولم تكن عرفته فقيل لها : إن هذا رسول الله فأخذها مثل الموت فجاءت على بابه فلم تجد عليه بوابا فقالت : يا رسول الله إني لم أعرفك فقال : ( إن الصبر عند أول صدمة ) K إسناده صحيح

حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ایک خاندان کی عورت کو فرماتے ہوئے سنا: کیا تو فلانی کو پہچانتی ہے؟ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ‘وہ قبر پر رو رہی تھی‘ آپ نے اس کو فرمایا: اللہ سے ڈر اور صبر کر! اس نے کہا: آپ مجھ سے دور رہیں آپ کو کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ مصیبت مجھے پہنچی ہے۔ وہ عورت آپ کو نہیں پہچانتی تھی‘ اس سے کہا گیا: یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کو موت کی طرح کسی چیز نے پکڑ لیا۔ آپ کے دروازہ پر آئی‘ آپ کا دربان نہ پایا تو عرض کی : یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ‘آپ نے اس کو فرمایا: صبر صدمے کی ابتداء میں ہوتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3504

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3505

3505 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( دخلت الجنة فسمعت خشفة فقلت : ما هذه الخشفة ؟ فقيل الرميصاء بنت ملحان ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا میں نے ایک آہٹ سنی ہے‘ میں نے کہا: کس کی آہٹ ہے؟ عرض کی گئی : رمیصاء بنت ملحان کی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3505

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3506

3506 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد ابن سلمة أخبرنا ثابت Y عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى نخامة في قبلة المسجد فحكها بيده K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کو صاف کر دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حماد ابن سلمة ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3506

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3507

3507 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه جبريل وهو يلعب مع الغلمان فأخذه فصرعه فشق عن قلبه فاستخرج منه علقة فقال : هذا حظ الشيطان منك ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم ثمض لأمه وأعاده في مكانه وأتى الغلمان يسعون إلى أمه - يعني ظئره - فقالوا : إن محمدا قد قتل فاستقبلته وهو منتقع اللون . قال أنس : وكنت أرى أثر المخيط في صدره وربما قال حماد : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه آت K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب اطہر شق کیا‘ اس سے ایک لوتھڑا نکالا ۔ عرض کی: یہ شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اس کو دھویا ، سونے کے ایک پیالہ میں ۔ زمزم کے پانی سے پھر دوبارہ اس جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑ کر اپنی امی کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو شہید کیا گیا ہے! حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں‘ ان کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں دھاگہ کی طرح کے نشانات تھے اور کبھی حضرت حماد نے یہ الفاظ کہے: آپ کے پاس ایک آنے والا آیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3507

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3508

3508 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا قتادة و حميد و ثابت Y عن أنس أن ناسا من عرينة قدموا المدينة فاجتووها فبعثهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في إبل الصدقة فقال : ( اشربوا أبوالها وألبانها ) فقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم واستاقوا الإبل وارتدوا عن الإسلام فأتي بهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف وسمل أعينهم وألقاهم بالحرة . قال أنس : قد كنت أرى أحدهم يكيد الأرض بفيه حتى ماتوا وربما قال حماد : يكدم الأرض بفيه حتى ماتوا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنوعر ینہ کا ایک گروہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں مدینہ کی آب و ہوا ناموافق آئی ہے۔ ہمارے پیٹ بڑے ہو گئے ہیں اور ہمارے گوشت لاغر ہو گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بیت المال کے اونٹوں کے داعی کے پاس جائیں تو انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیا تو وہ تندرست ہو گئے ۔ ان کے جسم بھی ٹھیک ہو گئے انہوں نے نگہبان کو قتل کر دیا اور اونٹ ہا نک کر لے گئے اور مرتد ہو گئے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو بھیجا ان کو لایا گیا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھیں نکال دیں اور ان کو گرمی میں (سورج کی دھوپ میں ) ڈال دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا وہ اپنے منہ کے ساتھ زمین کو یہاں تک کہ وہ سارے مر گئے ‘اور کئی بار حضرت حماد نے بھی یوں کلام کیا۔

حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3508

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3509

3509 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد حدثنا ثابت Y عن أنس أن الناس قالوا : يا رسول الله هلك المال قحطنا يارسول الله وهلك المال فاستسق لنا فقام يوم الجمعة وهو على المنبر فاستسقى - ووصف حماد بسط يديه حيال صدره وبطن كفيه مما يلي الأرض - وما في السماء قزعة فما انصرف حتى أهمت الشب القوي نفسه أن يرجع إلى أهله قال : فمطرنا إلى الجمعة الأخرى فقالوا يا رسول الله تهدم البنيان وانقطع الركبان فادع الله أن يكشفها عنا فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : ( اللهم حوالينا ولا علينا ) قال : فانجابت حتى كانت المدينة كأنها في إكليل K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے ‘لوگوں نے چیخنا شروع کیا‘ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش کی قحط سالی ہے‘ درخت سرخ ہو گئے ہیں اور جانور مر رہے ہیں ‘اللہ سے بارش کی دعا کر یں! آپ نے عرض کی: اے اللہ ! ہم پر بارش برسا! اے اللہ! ہم پر بارش برسا! حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم ! ہم آسمان میں دانہ کے برابر بھی بادل نہیں دیکھ رہے تھے‘ بادل پیدا ہوئے اور چلنے لگے‘ پھر بارش ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے‘ آپ نے نماز پڑھائی اور سلام پھیرا ‘پھر دوسرے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا، عرض کی: اے اللہ کے نبی! گھر گرنے شروع ہو گئے ہیں‘ راستے بند ہو گئے ہیں‘ اللہ سے بارش رکنے کی دعا کر یں! آپ نے عرض کی: اے اللہ ! ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا! پس مدینہ سے بارش اٹھ گئی اور اردگرد برسنے لگی ‘مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں بر سا‘ میں نے مدینہ کودیکھا تو تھال کی مثل تھا۔

أنس أن الناس ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3509

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3510

3510 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس بن مالك أن أم سليم كانت مع أبي طلحة يوم حنين وإذا مع أم سليم خنجر فقال أبو طلحة : ما هذا معك يا أم سليم ؟ قالت : اتخذته إن دنا مني أحد من الكفار أبعج به بطنه . فقال أبو طلحة : يا نبي الله ألا تسمع إلى ما تقول أم سليم ؟ تقول كذا وكذا فقالت : يا رسول الله قتل من بعدنا من الطلقاء انهزموا بك يا رسول الله قال : ( يا أم سليم إن الله قد كفى وأحسن ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں خیبر کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر تھا ۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حضرت ابوطلحہ نے فرمایا: اے ام سلیم ! یہ کیا ہے؟ عرض کی:یہ خنجر ہے اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا ۔ اس کے ساتھ ماروں گی ۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سن رہے ہیں کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس اس طرح کچھ کہہ رہی ہیں‘ ابوحرب کے پاس جا اسے قتل کر۔ فرمایا: بے شک اللہ کافی ہے اور اچھا ہے۔

أبو طلحة ما هذا معك يا أم سليم ← إذا مع أم سليم خنجر ← أنس بن مالك أن أم سليم كانت مع أبي طلحة يوم حنين ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3510

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3511

3511 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل على رجل من أصحابه يعوده وقد صار كالفرخ فقال له : ( هل سألت الله ؟ ) قال : قلت : اللهم ما كنت معاقبي في الآخره فعجله لي في الدنيا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا طاقة لك بعذاب الله هلا قلت : اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ؟ ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے کسی کی عیادت کرنے کے لیے آئے وہ حالت گھبراہٹ میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کیا تو نے اللہ سے مانگا؟ اس نے عرض کی : میں نے مانگا ہے اللہ سے جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے تو مجھے دنیا میں دے دے۔ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ‘تو نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اے اللہ ! تو مجھ کو دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3511

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3512

3512 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد رجلا من الأنصار فقال : ( يا خال قل : لا إله إلا الله ) فقال : خال أم عم ؟ قال : لا بل خال وقال : خير لي أن أقولها ؟ قال : ( نعم ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک آدمی کی عیادت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خالو! کہہ لا الہ الا اللہ۔ حضرت ثابت نے کہا: آپ کے چچا یا خالو تھے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ خالو تھے‘ اور اس نے کہا: میرے لیے بہتر ہے کہنا ؟ فرمایا: جی ہاں!

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3512

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3513

3513 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس قال : لقد سقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بقدحي هذا الشراب كله : العسل والنبيذ واللبن K إسناده صحيح

۳۵۰۰-حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے پیالہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی‘ دودھ‘ نبیذ اور شہد پلایا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3513

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3514

3514 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد أخبرنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( استووا استووا فوالله إني لأراكم من خلفي كما أراكم من بين يدي ) K إسناده صحيح

۳۵۰۱۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدھے رہو! سیدھے رہو‘ برابر ہو جاؤ۔ فرمایا‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تم کو پیچھے سے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے آگے سے دیکھتا ہوں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3514

chevron_left Previous
1…19202122
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter