Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3287

3287 - حدثنا هدبة و حوثرة قالا : حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس قال : قدم أهل اليمن على رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا : إبعث معنا رجلا يعلمنا قال : فأخذ بيد أبي عبيدة فبعثه معهم وقال : ( هذا أمين هذه الأمة ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل یمن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔عرض کی:ہمارےساتھ ایسے آدمی بھیجیں جو ہمیں دین سکھائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کے ساتھ بھیج دیا اور فرمایا: میں اس امت کا امین ہے ۔

هذا أمين هذه الأمة إسناده صحيح ← فأخذ بيد أبي عبيدة فبعثه معهم ← إبعث معنا رجلا يعلمنا ← قدم أهل اليمن على رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هدبة و حوثرة

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3287

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3288

3288 - حدثنا شيبان و هدبة بن خالد قالا : حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت Y عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ولد لي الليلة فسميته باسم أبي : إبراهيم ثم دفعته إلى أم سيف : إمرأة قين بالمدينة ) . وفي حديث شيبان : فانطلق يأتيه - وفي حديث هدبة فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتيه فاتبعته فانتهينا إلى أبي سيف وهو ينفخ في كيره وقد إمتلأ البيت دخانا فأسرعت المشي بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم وقلت : يا أبا سيف جاء رسول الله فأمسك فدعى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالصبي فضمه إليه وقال ماشاء الله أن يقول . قال : فلقد رأيته بعد ذلك وهو يكيد بنفسه بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم - وفي حديث هدبة : وعين رسول الله تدمع - وفي حديث شيبان : فدمعت عينا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضى ربنا ) - وفي حديث شيبان : ( والله إنا بك يا إبراهيم لمحزونون ) وفي حديث هدبة : ( وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ۔ میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے۔ پھر میں نے حضرت ام سیف کو دیا جو مد ینہ شریف کی ایک گاؤں کی عورت تھی ۔شیبان کی حدیث میں ہے: آپ ان کو لینے گئے‘ اور ہدبہ کی حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لخت سے ملنے کے لیے جاتے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا تا ہم حضرت ابی سیف کے پاس پہنچے ۔ وہ اپنی پھونکنی میں پھونک مار رہے تھے ‘یعنی اپنے گھر میں ترکھان کا کام کرتے تھے۔ ان کا گھر دھواں سے بھرا ہوا تھا ۔میں جلدی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے چلا۔ میں نے کہا: اے ابوسیف ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں رُک جاؤ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر کو بلوایا اس کو اپنے سینے سے لگایا اور جتنا اللہ نے چا ہا، کہا: اس کے بعد (جب ان کا وصال ہو گیا ) تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے ۔ ہدبہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔ اورشیبان کی حدیث میں ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور فرمانےلگے:آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل پریشان ہے‘ ہم وہی کہتے ہیں جیسے ہمارا رب راضی ہے ۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے کہ اللہ کی قسم! اے ابراہیم ! آپ کی وجہ سے ہم پریشان ہیں ۔ اور ہدبہ کی حدیث میں ہے کہ اے ابراہیم ! ہم آپ کی جدائی میں پریشان ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شيبان و هدبة بن خالد

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3288

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3289

3289 - حدثنا شيبان حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت قال Y قال أنس : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم تعجبه الرؤيا فربما رأى الرجل الرؤيا فسأل عنه إذا لم يكن يعرفه فإذا أثنى عليه معروفا كان أعجب لرؤياه عليه فأتته إمرأة فقالت : يارسول الله رأيت كأني أتيت فأخرجت من المدينة فأدخلت الجنة فسمعت وجبة ارتجت لها الجنة فنظرت فإذا فلان إبن فلان وفلان بن فلان فسمت إثني عشر رجلأ - كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد بعث سرية بمثل ذلك - فجيئ بهم على ثياب طلس تشخب أوداجها فقيل : اذهبوا بهم إلى نهر البيذج - أو البيرج - قال : فغمسوا فيه فخرجوا ووجوههم كالقمر ليلة البدر فأتوا بصحفة من ذهب فيها بسرة فأكلوا من بسره ما شاءوا فما يقلبونها من وجه إلا أكلوا من الفاكهة ما أرادوا وأكلت معهم فجاء البشير من تلك السرية فقال : كان من أمرنا كذا وكذا فأصيب فلان وفلان حتى عد إثني عشر رجلا فدعى رسول الله صلى الله عليه و سلم المرأة فقال : ( قصي رؤياك ) فقصتها وجعلت تقول : جيئ بفلان وجيئ بفلان كما قال K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب کو پسند کرتے تھے‘ بسا اوقات کوئی آ دمی خواب دیکھتا ‘وہ آپ سے اس کے متعلق پوچھتا‘ جب اس کی تعبیر ظاہر نہ ہوتی تو اس کی تعریف کی جاتی ۔ ایک بہت اچھی خواب یہ تھی کہ آپ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کی: یارسول اللہ ! میں نے دیکھا ہے گویا کہ میں آئی ہوں اور مجھے مدینہ سے نکال دیا گیا‘ مجھے جنت میں داخل کیا گیا‘ میں نے ایک آواز سنی جو جنت سے نکلی‘ میں نے دیکھا تو فلاں بن فلاں بن فلاں‘ اس نے بارہ آدمیوں کے نام لیے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سر یہ بھیجا تھا ‘اس کی مثل ان کو لایا گیا ان پر طلسی کپڑے تھے ‘ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں‘ اس کے بعد کہا گیا: ان کو بیذ ج یا بیرح کی نہر کی طرف لے جاؤ‘ اس میں ان کو ڈبوؤ ۔ اس میں ڈبویا گیا‘ ان کو نکالا اس حالت میں ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح تھے‘ اس کے بعد ان کے پاس پیالہ لایا گیا‘ اس میں خشک کھجور یں تھیں، انہوں نے خشک کھجور یں کھائیں جتنا چاہا‘ وہ ان سے نہیں ہٹائی گئی تھی ‘انہوں نے پھل کھایا جو چا ہا ‘میں نے بھی ان کے ساتھ کھایا‘اس کے بعد سریہ سے ایک خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے کہا: ہمارے ساتھ فلاں فلاں کام ہوا ہے‘ فلاں فلاں شہید ہو گیا ہے یہاں تک کہ اس نے بارہ افراد گنے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور فرمایا: تو خواب بیان کر! اس نے بیان کیا کہنے لگی: فلاں فلاں آیا ہے‘ جیسے کہا۔

ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3289

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3290

3290 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام الجمحي حدثنا حماد عن ثابت و حميد Y عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( أعطيت الكوثر فضربت بيدي إلى تربته فإذا مسك أذفر وإذا حصاه اللؤلؤ وإذا حافتاه قباب الدر ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کوثر عطا کی گئی‘ میں نے اس کی مٹی کو ہاتھ لگایا ہے‘ وہ اذخر جیسی خوشبو والی ہے‘ اس کی کنکریاں موتیوں کی مانند ہیں اور اس کے پیالے گویاکہ موتیوں کے گنبد ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثابت و حميد ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3290

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3291

3291 - حدثنا عبد الرحمن حدثنا حماد عن ثابت و حميد Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : ( استووا - مرتين أو ثلاثا - والذي نفسي بيده إني لأراكم من خلفي كما أراكم من بين يدي ) وزاد حميد في الحديث : ( استووا وتراصوا ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سید ھے رہو! دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا ‘اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تم کو پیچھے سے دیکھتا ہوں جیسے آگے سے دیکھتا ہوں ۔حمید کی حدیث میں اضافہ ہے کہ سید ھے رہو۔

أَنَسٍ، ← ثابت و حميد ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3291

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3292

3292 - حدثنا هدبة حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس قال : يخرج رجلان من النار فيعرضان على الله فيوجه بهما على النار - فذكر نحو حديث عبد الرحمن - فيدخلون الجنة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو جہنم سے نکالا جائے گا ۔ دونوں کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ اللہ عز وجل ان کے چہرے کو جہنم کی طرف پھیر دے گا۔ باقی حدیث عبدالرحمٰن والی ہے ‘اس کے بعد ان کو جنت میں داخل کرے گا۔

نحو حديث عبد الرحمن فيدخلون الجنة إسناده صحيح ← يخرج رجلان من النار فيعرضان على الله فيوجه بهما على النار ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3292

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3293

3293 - حدثنا عبد الرحمن حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن فتى من أسلم قال : يارسول الله إني أريد الجهاد وليس لي ما أتجهز به قال : ( اذهب إلى فلان الأنصاري فإنه قد كان تجهز فقل له : يقرئك رسول الله السلام ويقول لك : ادفع إلي ما تجهزت به ) فأتاه فقال الرجل - أحسبه لامرأته - : لا تخفي منه شيئا فوالله لاتخفي منه شيئا فيبارك لنا فيه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسلم سے ایک نوجوان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ عرض کی: یا رسول اللہ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں میرے پاس جہاد کے لیے سامان نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ۔ اس نے سامان تیار کیا تھا۔ اس کو کہنا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سلام کہتے ہیں اور اس کو کہنا کہ وہ سامان تجھے دے جو اس نے اپنے لیے تیار کیا تھا۔ وہ اس انصاری کے پاس آیا۔ اس انصاری نے اپنی عورت سے کہا کہ کسی شے کو چھپانا نہیں‘ اللہ کی قسم! تو اس سے کوئی شے نہیں چھپائےگئی‘اللہ عز وجل اس میں برکت دے گا۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3293

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3294

3294 - حدثنا بشر بن هلال الصواف حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يسمع بكاء الصبي وهو في الصلاة فيقرأ بالسورة الصغيرة والسورة الخفيفة K إسناده صحيح . والحديث الآخر في المتن قال الشيخ حسين أسد : إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سنتے جبکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ چھوٹی اور ہلکی سورت کی قرآت فرماتے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3294

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3295

3295 - حدثنا بشر حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يغزو بام سليم معها نسوة من الأنصار فيسقين الماء ويداوين الجرحى K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی جہاد کرنے جاتی تھیں ۔ان کے ساتھ انصار کی عورتیں تھیں وہ مجاہدین کو پانی پلاتی اور زخمیوں کو پٹی کرتی تھیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← بِشْرٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3295

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3296

3296 - حدثنا بشر بن هلال الصواف حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس قال : لما كان اليوم الذي دخل فيه النبي صلى الله عليه و سلم المدينة أضاء منها كل شيئ فلما كان اليوم الذي مات فيه النبي صلى الله عليه و سلم أظلم منها كل شئ وما نفضنا عن النبي صلى الله عليه و سلم الأيدي - إنا لفي دفنه - حتى أنكرنا قلوبنا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف داخل ہوئےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ہر شے روشن ہوگئی۔ جب وہ دن آیا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ہر شے پہ اندھیرا چھا گیا۔ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں سے دفن نہیں کرنا چاہتے تھے یہاں تک کہ ہمارے دلوں نے انکار کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3296

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3297

3297 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا بشار بن الحكم حدثنا ثابت البناني Y عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( إن الخصلة الصالحة تكون في الرجل فيصلح الله بها عمله كله وطهور الرجل لصلاته يكفر الله بطهوره [ ذنوبه ] وتبقى صلاته له نافلة ) K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اچھی خصلت جس آ دمی میں ہوتی ہے اس خصلت کے ذریعے اس کے سارے عمل درست ہو جاتے ہیں، آدمی کا نماز کے لیے وضو اس وضو کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘ اس کی نماز اس کے لیے زیادہ ثواب کا ذریعہ ہو جاتی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3297

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3298

3298 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا بشار بن الحكم حدثنا ثابت البناني Y عن أنس قال : لقى رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا ذر فقال : ( يا أبا ذر ألآ أدلك على خصلتين هما أخف على الظهر وأثقل في الميزان من غيرهما ؟ ) قال : بلى يارسول الله قال : ( عليك بحسن الخلق وطول الصمت فوالذي نفسي بيده ما تجمل الخلائق بمثلهما ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملے ۔ اس کے بعد فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تم کو دو خصلتوں کے متعلق نہ بتاؤں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں اور میزان میں بھاری ہی ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیوں نہیں! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا: حسن خلق کو اپناؤ اور لمبی خاموشی رکھو۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ان دونوں کے ساتھ تیری خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3298

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter