مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3479
3479 - حدثنا أبو بكر بن زنحويه حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر قال الحجاج بن علاط : يارسول الله إن لي بمكة مالا وإن لي بها أهلا وإني أريد أن آتيهم فأنا في حل إن أنا نلت منك أو قلت شيئا ؟ فأذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقول ماشاء قال : فأتى امرأته حين قدم فقال : اجمعي ما كان عندك فإني أريد أن أشتري من غنائم محمد وأصحابه فإنهم قد استبيحوا وأصيبت أموالهم قال : وفشا ذلك بمكة فأوجع المسلمين وأظهر المشركون فرحا وسرورا وبلغ الخبر العباس بن عبد المطلب فعقر في مجلسه وجعل لايستطيع أن يقوم . قال معمر : فأخبرني الجزري عن مقسم قال : فأخذ العباس ابنا له يقال له قثم وكان شبه رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستلقى فوضعه على صدره وهو يقول : ( حبي قثم شبيه ذي الأنف الأشم بادي النعم برغم [ أنف ] من رغم ) . قال معمر : قال ثابت : قال أنس : ثم أرسل غلاما له إلى الحجاج بن علاط فقال : ويلك ما جئت به وماذا تقول ؟ فما وعد الله خير مما جئت به قال الحجاج لغلامه أقرئ أبا الفضل السلام وقل له فليخل لي بعض بيوته لآتيه فإن الخبر على ما يسره فجاء غلامه فلما بلغ الباب قال : أبشر أبا الفضل فوثب العباس فرحا حتى قبل بين عينيه فأخبره بما قال الحجاج فأعتقه ثم جاء الحجاج فأخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد افتتح خيبر وغنم أموالهم وجرت سهام الله في أموالهم واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية بنت حيي واتخذها لنفسه وخيرها بين أن يعتقها فتكون زوجته وبين أن تلحق بأهلها فاختارت أن يعتقها وتكون زوجته ولكن جئت لما كان لي ها هنا أردت أن أجمعه وأذهب به فاستأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذن لي أن أقول ما شئت فاخف علي ثلاثا ثم اذكر ما بدا لك . قال : فجمعت امرأته ما كان عندها [ من ] حلي ومتاع فجمعته فدفعته إليه ثم استمر به فلما كان بعد ثلاث أتى العباس امرأة الحجاج فقال : ما فعل زوجك ؟ فأخبرته أنه قد ذهب وقالت : لا يحزنك الله يا أبا الفضل لقد شق علينا الذي بلغك قال : أجل لا يحزنني الله ولم يكن بحمد الله إلا ما أحببناه قد أخبرني الحجاج أن الله فتح خيبر على رسوله وجرت فيها سهام الله واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية لنفسه فإن كان لك حاجة في زوجك فالحقي به قالت : أظنك والله صادقا قال : فإني صادق والأمر على ما أخبرتك . قال : ثم ذهب حتى أتى مجالس قريش وهم يقولون : لا يصيبك إلا خير يا أبا الفضل قال : لم يصيبني إلا خير بحمد الله قد أخبرني الحجاج أن خيبر فتحها الله على رسوله وجرت فيها سهام الله واصطفى رسول الله صفية لنفسه وقد سألني أن أخفي عنه ثلاثا وإنما جاء ليأخذ ما كان له ثم يذهب . قال : فرد الله الكآبة التي كانت بالمسلمين على المشركين وخرج من المسلمين من كان دخل بيته مكتئبا حتى أتوا العباس ورد الله ما كان من كآبة أو غيظ أو خزي على المشركين K إسناده صحيح
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو حجاج بن علاط نے کہا: اے اللہ کے رسول! مکہ میں میرا مال بھی ہے اور اہل و عیال بھی ہیں‘ میں چاہتا ہوں کہ انہیں لے آؤں‘ میرے لیے جائز ہو جو میں آپ سے پاؤں اور جو کوئی چیز آپ سے عرض کروں تو مجھے اجازت ہو؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی کہ وہ جو چاہے کہہ لے ۔ راوی کا بیان ہے: جب وہ مکہ پہنچا تو سیدھا اپنی بیوی کے پاس آیا کہا: جو کچھ تیرے پاس ہے اسے اکٹھا کر کیونکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی غنیمتیں خریدنا چاہتا ہوں ۔ کیونکہ انہوں نے غنیمتیں مباح کر دی ہیں اور انہیں بہت سا مال ملا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات مکہ میں عام ہوگئی جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوئی اور مشرک بہت زیادہ خوش ہوئے۔ یہ بات حضرت عباس بن عبدالمطلب کو پہنچی‘ سو انہیں اس قدر غم ہوا کہ وہ اٹھنا چاہتا تھا لیکن اٹھ نہیں سکتا تھا۔ معمر کا قول ہے: مجھے جزری نے مقسم سے روایت کر کے خبر دی‘ کہتے ہیں: حضرت عباس نے اپنے بیٹے قثم کو ساتھ لیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شکل والے تھے‘ خود چٹ لیٹ گئے اور ان کو اپنے سینے پہ بٹھا لیا اور شعر کہنے لگے: حضرت عباس کی بحر رجز یہ تھی فرماتے ہیں: "اے میری قوم! قثم سے محبت کرو کیونکہ خوبصورت ناک والے کی شبیہ ہے‘ نعمتوں کو ظاہر کرنے والے ہیں‘ اس آدمی کی ناک خاک آلود کرے جس کی ناک خاک آلود ہے‘‘۔معمر نے کہا: ثابت نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اس نے حجاج بن علاط کی طرف اپنا غلام بھیجا‘ سو کہا: تیرے لیے بربادی ہو! تو کیا خبر لایا ہے؟ اور تو کیا کہتا ہے؟ سو بہتر ہے وہ وعدہ جو اللہ نے کیا ہے‘ اس سے جو تو لایا ہے۔ حجاج نے اپنے غلام سے کہا: ابوالفضل کو سلام کہنا اور اس سے کہنا: اپنے مکانوں میں سے ایک مکان میرے لیے خالی کر دے تا کہ میں آؤں کیونکہ خبر وہ ہے جس پر آ دمی خوش ہو ۔ سو غلام آیا‘ جب وہ دروازہ پر پہنچا تو کہا: اے ابوالفضل! بشارت ہو (حضرت عباس کی کنیت ہے: ابوالفضل ) سو حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے جھومنے لگے یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ‘سواس نے آپ کو اس بات کی خبر دی جو حجاج نے کہی تھی‘ سو آپ نے اس کو آزاد کر دیا۔ پھر حجاج آیا سوا سے خبر دی گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا ہے اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ہے اور ان کے مالوں میں اللہ کے حصے بھی جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لیے انتخاب کیا ہے اور انہیں اختیار دیا ہے کہ آپ انہیں آزاد کر کے اپنی بیوی بنا لیں‘ یا وہ اپنے اہل و عیال سے جا کر مل جائیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ آزاد ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بنیں‘ لیکن میں تو اس چیز کے لیے آیا ہوں جو میری وہاں پر تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس کو جمع کر کے یہاں سے لے جاؤں ۔سو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت مرحمت فرمائی کہ میں وہ بات کہوں جو میں چاہتا ہوں ‘تین دن یہ بات پوشیدہ کر پھر تو ہر وہ چیز ذکر کرنا جو تیرے لیے ظاہر ہوئی ۔ وہ کہتے ہیں: ان کی بیوی نے وہ کچھ جمع کیا جو اس کے پاس تھا مثلاً زیور اور سامان اس نے سارا کچھ جمع کر کے اس کی طرف بھیج دیا پھر اپنا کام جاری رکھا۔ پس جب تین دن پورے ہوئے تو حضرت عباس حجاج کی بیوی کے پاس آئےاور اس سے کہا: تیرے خاوند نے کیا کیا؟ سواس نے آپ کو خبر دی کہ وہ چلا گیا ہے اور اس نے کہا: اے ابوالفضل! اللہ تعالیٰ تجھے حزن وغم سے محفوظ رکھے! جو بات آپ تک پہنچی ہے وہ ہم پر سخت گراں تھی‘ آپ نے فرمایا: اللہ مجھے پریشان نہیں فرمائے گا اور الحمد اللہ ! وہی کچھ ہے جو ہم پسند کر یں۔ تحقیق حجاج نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ نے خیبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح فرما دیا ہے اور اس میں اللہ کے حصے جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے پسند فرما لیا ہے‘ سو تجھے اپنے خاوند سے کوئی کام ہے تو اس سے جا کر مل جاؤ۔ اس نے کہا: میرا یقین ہے کہ آپ سچے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بے شک میں سچا ہوں‘ معاملہ اس طرح ہے جس طرح میں نے تجھے خبر دی ہے۔ راوی کا بیان ہے پھر وہ چلتے چلتے قریش کی مجالس میں آئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے۔ اے ابوالفضل! تجھے بھلائی پہنچے گی۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! الحمد اللہ ! میں بھلائی سے ملوں گا۔ مجھے حجاج نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کو اپنے رسول پر فتح کر دیا ہےاور اس میں اللہ کے حصے جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کو اپنی ذات کے لیے پسند کر لیا ہے اور اس نے مجھ سے تین دن پوشیدہ رکھنے کا سوال کیا ہے ۔ وہ صرف اس لیے آیا تھا تا کہ جو کچھ اس کا یہاں ہے وہ لے کر چلا جائے ۔ فرمایا: سواللہ نے وہ مصیبت جو مسلمانوں پر تھی‘ اب مشرکین پرلوٹا دی ہے اور مسلمانوں سے وہ آدمی نکل گیا ہے جو ان کے گھر میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور مصیبت ‘غصہ اور رسوائی اللہ نے مشرکین پر لوٹا دی ہے۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو بكر بن زنحويه
Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3479
