Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3479

3479 - حدثنا أبو بكر بن زنحويه حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر قال الحجاج بن علاط : يارسول الله إن لي بمكة مالا وإن لي بها أهلا وإني أريد أن آتيهم فأنا في حل إن أنا نلت منك أو قلت شيئا ؟ فأذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقول ماشاء قال : فأتى امرأته حين قدم فقال : اجمعي ما كان عندك فإني أريد أن أشتري من غنائم محمد وأصحابه فإنهم قد استبيحوا وأصيبت أموالهم قال : وفشا ذلك بمكة فأوجع المسلمين وأظهر المشركون فرحا وسرورا وبلغ الخبر العباس بن عبد المطلب فعقر في مجلسه وجعل لايستطيع أن يقوم . قال معمر : فأخبرني الجزري عن مقسم قال : فأخذ العباس ابنا له يقال له قثم وكان شبه رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستلقى فوضعه على صدره وهو يقول : ( حبي قثم شبيه ذي الأنف الأشم بادي النعم برغم [ أنف ] من رغم ) . قال معمر : قال ثابت : قال أنس : ثم أرسل غلاما له إلى الحجاج بن علاط فقال : ويلك ما جئت به وماذا تقول ؟ فما وعد الله خير مما جئت به قال الحجاج لغلامه أقرئ أبا الفضل السلام وقل له فليخل لي بعض بيوته لآتيه فإن الخبر على ما يسره فجاء غلامه فلما بلغ الباب قال : أبشر أبا الفضل فوثب العباس فرحا حتى قبل بين عينيه فأخبره بما قال الحجاج فأعتقه ثم جاء الحجاج فأخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد افتتح خيبر وغنم أموالهم وجرت سهام الله في أموالهم واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية بنت حيي واتخذها لنفسه وخيرها بين أن يعتقها فتكون زوجته وبين أن تلحق بأهلها فاختارت أن يعتقها وتكون زوجته ولكن جئت لما كان لي ها هنا أردت أن أجمعه وأذهب به فاستأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذن لي أن أقول ما شئت فاخف علي ثلاثا ثم اذكر ما بدا لك . قال : فجمعت امرأته ما كان عندها [ من ] حلي ومتاع فجمعته فدفعته إليه ثم استمر به فلما كان بعد ثلاث أتى العباس امرأة الحجاج فقال : ما فعل زوجك ؟ فأخبرته أنه قد ذهب وقالت : لا يحزنك الله يا أبا الفضل لقد شق علينا الذي بلغك قال : أجل لا يحزنني الله ولم يكن بحمد الله إلا ما أحببناه قد أخبرني الحجاج أن الله فتح خيبر على رسوله وجرت فيها سهام الله واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية لنفسه فإن كان لك حاجة في زوجك فالحقي به قالت : أظنك والله صادقا قال : فإني صادق والأمر على ما أخبرتك . قال : ثم ذهب حتى أتى مجالس قريش وهم يقولون : لا يصيبك إلا خير يا أبا الفضل قال : لم يصيبني إلا خير بحمد الله قد أخبرني الحجاج أن خيبر فتحها الله على رسوله وجرت فيها سهام الله واصطفى رسول الله صفية لنفسه وقد سألني أن أخفي عنه ثلاثا وإنما جاء ليأخذ ما كان له ثم يذهب . قال : فرد الله الكآبة التي كانت بالمسلمين على المشركين وخرج من المسلمين من كان دخل بيته مكتئبا حتى أتوا العباس ورد الله ما كان من كآبة أو غيظ أو خزي على المشركين K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو حجاج بن علاط نے کہا: اے اللہ کے رسول! مکہ میں میرا مال بھی ہے اور اہل و عیال بھی ہیں‘ میں چاہتا ہوں کہ انہیں لے آؤں‘ میرے لیے جائز ہو جو میں آپ سے پاؤں اور جو کوئی چیز آپ سے عرض کروں تو مجھے اجازت ہو؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی کہ وہ جو چاہے کہہ لے ۔ راوی کا بیان ہے: جب وہ مکہ پہنچا تو سیدھا اپنی بیوی کے پاس آیا کہا: جو کچھ تیرے پاس ہے اسے اکٹھا کر کیونکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی غنیمتیں خریدنا چاہتا ہوں ۔ کیونکہ انہوں نے غنیمتیں مباح کر دی ہیں اور انہیں بہت سا مال ملا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات مکہ میں عام ہوگئی جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوئی اور مشرک بہت زیادہ خوش ہوئے۔ یہ بات حضرت عباس بن عبدالمطلب کو پہنچی‘ سو انہیں اس قدر غم ہوا کہ وہ اٹھنا چاہتا تھا لیکن اٹھ نہیں سکتا تھا۔ معمر کا قول ہے: مجھے جزری نے مقسم سے روایت کر کے خبر دی‘ کہتے ہیں: حضرت عباس نے اپنے بیٹے قثم کو ساتھ لیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شکل والے تھے‘ خود چٹ لیٹ گئے اور ان کو اپنے سینے پہ بٹھا لیا اور شعر کہنے لگے: حضرت عباس کی بحر رجز یہ تھی فرماتے ہیں: "اے میری قوم! قثم سے محبت کرو کیونکہ خوبصورت ناک والے کی شبیہ ہے‘ نعمتوں کو ظاہر کرنے والے ہیں‘ اس آدمی کی ناک خاک آلود کرے جس کی ناک خاک آلود ہے‘‘۔معمر نے کہا: ثابت نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اس نے حجاج بن علاط کی طرف اپنا غلام بھیجا‘ سو کہا: تیرے لیے بربادی ہو! تو کیا خبر لایا ہے؟ اور تو کیا کہتا ہے؟ سو بہتر ہے وہ وعدہ جو اللہ نے کیا ہے‘ اس سے جو تو لایا ہے۔ حجاج نے اپنے غلام سے کہا: ابوالفضل کو سلام کہنا اور اس سے کہنا: اپنے مکانوں میں سے ایک مکان میرے لیے خالی کر دے تا کہ میں آؤں کیونکہ خبر وہ ہے جس پر آ دمی خوش ہو ۔ سو غلام آیا‘ جب وہ دروازہ پر پہنچا تو کہا: اے ابوالفضل! بشارت ہو (حضرت عباس کی کنیت ہے: ابوالفضل ) سو حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے جھومنے لگے یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ‘سواس نے آپ کو اس بات کی خبر دی جو حجاج نے کہی تھی‘ سو آپ نے اس کو آزاد کر دیا۔ پھر حجاج آیا سوا سے خبر دی گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا ہے اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ہے اور ان کے مالوں میں اللہ کے حصے بھی جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لیے انتخاب کیا ہے اور انہیں اختیار دیا ہے کہ آپ انہیں آزاد کر کے اپنی بیوی بنا لیں‘ یا وہ اپنے اہل و عیال سے جا کر مل جائیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ آزاد ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بنیں‘ لیکن میں تو اس چیز کے لیے آیا ہوں جو میری وہاں پر تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس کو جمع کر کے یہاں سے لے جاؤں ۔سو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت مرحمت فرمائی کہ میں وہ بات کہوں جو میں چاہتا ہوں ‘تین دن یہ بات پوشیدہ کر پھر تو ہر وہ چیز ذکر کرنا جو تیرے لیے ظاہر ہوئی ۔ وہ کہتے ہیں: ان کی بیوی نے وہ کچھ جمع کیا جو اس کے پاس تھا مثلاً زیور اور سامان اس نے سارا کچھ جمع کر کے اس کی طرف بھیج دیا پھر اپنا کام جاری رکھا۔ پس جب تین دن پورے ہوئے تو حضرت عباس حجاج کی بیوی کے پاس آئےاور اس سے کہا: تیرے خاوند نے کیا کیا؟ سواس نے آپ کو خبر دی کہ وہ چلا گیا ہے اور اس نے کہا: اے ابوالفضل! اللہ تعالیٰ تجھے حزن وغم سے محفوظ رکھے! جو بات آپ تک پہنچی ہے وہ ہم پر سخت گراں تھی‘ آپ نے فرمایا: اللہ مجھے پریشان نہیں فرمائے گا اور الحمد اللہ ! وہی کچھ ہے جو ہم پسند کر یں۔ تحقیق حجاج نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ نے خیبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح فرما دیا ہے اور اس میں اللہ کے حصے جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے پسند فرما لیا ہے‘ سو تجھے اپنے خاوند سے کوئی کام ہے تو اس سے جا کر مل جاؤ۔ اس نے کہا: میرا یقین ہے کہ آپ سچے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بے شک میں سچا ہوں‘ معاملہ اس طرح ہے جس طرح میں نے تجھے خبر دی ہے۔ راوی کا بیان ہے پھر وہ چلتے چلتے قریش کی مجالس میں آئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے۔ اے ابوالفضل! تجھے بھلائی پہنچے گی۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! الحمد اللہ ! میں بھلائی سے ملوں گا۔ مجھے حجاج نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کو اپنے رسول پر فتح کر دیا ہےاور اس میں اللہ کے حصے جاری ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کو اپنی ذات کے لیے پسند کر لیا ہے اور اس نے مجھ سے تین دن پوشیدہ رکھنے کا سوال کیا ہے ۔ وہ صرف اس لیے آیا تھا تا کہ جو کچھ اس کا یہاں ہے وہ لے کر چلا جائے ۔ فرمایا: سواللہ نے وہ مصیبت جو مسلمانوں پر تھی‘ اب مشرکین پرلوٹا دی ہے اور مسلمانوں سے وہ آدمی نکل گیا ہے جو ان کے گھر میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور مصیبت ‘غصہ اور رسوائی اللہ نے مشرکین پر لوٹا دی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو بكر بن زنحويه

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3479

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3480

3480 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا عفان حدثنا حماد حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة و ثابت Y عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم سمع أصواتا فقال : ( ماهذه الأصوات ؟ ) قالوا : النخل يأبرونه فقال : ( لو لم يفعلوا لصلح ) قال : فأمسكوا فلم يأبروا عامهم فصار شيصا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( إذا كان من أمر دنياكم فشأنكم وإذا كان شيء من أمر دينكم فإلي ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آواز کی ، فرمایا: یہ کیا آواز ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یہ کھجوروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کر یں تو تب بھی درست ہے ۔ وہ صحابہ کرام رک گئے انہوں نے ایک سال ایسا نہیں کیا۔ان کو نقصان ہوا۔یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دنیا کا معاملہ ہو تو تم ضرور کر لیا کرو۔ اگر دین کا معاملہ ہو تو میری طرف رجوع کیا کرو۔

ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم ← فأمسكوا فلم يأبروا عامهم فصار شيصا ← لو لم يفعلوا لصلح ← النَّخْلُ يَأْبُرُونَهُ ← ماهذه الأصوات ← أصواتا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← عائشة و ثابت ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3480

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3481

3481 - حدثنا أحمد بن عمر الوكيعي حدثنا مؤمل بن إسماعيل حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما من مسلم يموت فيشهد له أربعة أهل أبيات من جيرانه الأدنين أنهم لا يعلمون إلا خيرا إلا قال الله : قد قبلت علمكم وغفرت له ما لا تعلمون ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان مر جائے اس کے متعلق اچھائی کی گواہی چار مسلمان دیں اس کے ہمسایوں میں سے تو اللہ فرماتا ہے میں نے تمہاری بات قبول کر لی میں نے اس کو بخش دیا جو تم نہیں جانتے تھے اس کے گناہ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3481

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3482

3482 - حدثنا عمار أبو ياسر حدثنا سلام أبو المنذر حدثنا ثابت Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( حبب إلي النساء والطيب وجعل قرة عيني في الصلاة ) K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی بیویاں اور خوشبو پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ← عمار أبو ياسر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3482

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3483

3483 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن ثابت Y عن أنس قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم - وعنده بنت له - فقال أنس : فجاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فعرضت نفسها عليه فقالت ابنته : ما أقل حياءها ! فقال : هي خير منك عرضت نفسها على النبي K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ایک بیٹی تھی ، حضرت انس فرماتے ہیں: ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا۔ اس کی بیٹی نے عرض کی : اس میں حیاء کتنی کم ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تجھ سے بہتر ہے ‘اپنے آپ کو نبی پر پیش کر رہی ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3483

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3484

3484 - حدثنا عبد الله بن عبد الصمد حدثنا أبي عبد الصمد بن علي عن عوام البصري عن عبد الواحد بن زيد عن ثابت Y عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن يوم الجمعة وليلة الجمعة أربعة وعشرون ساعة ليس فيها ساعة إلا ولله فيها ست مئة عتيق من النار ) قال : ثم خرجنا من عنده فدخلنا على الحسن فذكرنا له حديث ثابت فقال : سمعته وزاد فيه : ( كلهم قد استوجب النار ) K إسناده تالف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اور جمعہ کی رات میں چوبیسں گھنٹے ہوتے ہیں اس میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہوتی ہے مگر اس وقت میں جنم سے چھ سو غلاموں کو آگ سے آزاد کرا دیتا ۔ عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں کہ ہم حسن کے پاس آئے‘ ہم نے ان کو ثابت والی حدیث پیش کی کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے‘ حضرت حسن نے اس میں اضافہ کیا کہ جو جہنم سے آزاد ہوں گے ان سب پر جہنم واجب ہوئی ہوگی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عبد الواحد بن زيد ← عوام البصري ← أبي عبد الصمد بن علي ← عبد الله بن عبد الصمد

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3484

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3485

3485 - حدثنا أبو يوسف الجيزي حدثنا مؤمل ابن إسماعيل حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول في دعائه : ( اللهم أقبل بقلبي إلى دينك واحفظ من وراءنا برحمتك ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : اللهم اقبل الى آخرہ‘‘۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمل ابْن إِسْمَاعِيل ← أبو يوسف الجيزي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3485

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3486

3486 - حدثنا مجاهد بن موسى حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس قال : لما هاجر رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يركب - و أبو بكر خلفه - وكان أبو بكر الصديق يعرف الطريق باختلافه إلى الشام فكان يمر بالقوم فيقولون : من هذا معك ؟ فيقول : هاد يهديني فلما دنوا من المدينة بعثا إلى القوم الذين أسلموا من الأنصار إلى أبي أمامة وأصحابه فخرجوا إليهما فقالوا : ادخلا آمنين مطاعين فدخلا . قال أنس : فما رأيت يوما قط أنور ولا أحسن من يوم دخل فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر المدينة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو راستے کا پتا تھا، شام کی طرف جانے کی وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسی قوم سے ہوا‘ وہ کہنے لگے: یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مجھے ہدایت دینے والے ہیں جب مدینہ شریف کے قریب ہوئے دونوں ایسی قوم کے پاس آئے جو انصار سے مسلمان ہوئے تھے۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھ دو اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے دونوں داخل ہوں امن اور اطاعت کے ساتھ دونوں داخل ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اتنا حسین اور نور والا دن کبھی نہیں دیکھا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینہ شریف میں داخل ہوئے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3486

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3487

3487 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا حسان بن سياه عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا توضأ خلل لحيته K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حسان بن سياه ← عمرو بن حصين

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3487

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3488

3488 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا علي بن أبي سارة حدثنا ثابت البناني Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما محق الإسلام محق الشح شيء ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کو نہیں مٹا تا ہے کوئی سوائے نجل کے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← علي بن أبي سارة ← عمرو بن حصين

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3488

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3489

3489 - حدثنا أحمد بن الدورقي حدثنا أبو داود حدثنا الحكم بن عطية العيشي حدثنا ثابت Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج إلى المسجد فيه المهاجرون والأنصار ما منهم أحد يرفع رأسه من حبوته إلا أبو بكر و عمر فإنه يتبسم إليهما ويتبسمان إليه K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلتے ان میں مہاجر اور انصار ہوتے تھے ، ان میں کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنا سر اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وعمر رضی اللہ عنہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دونوں کو دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر تبسم کر تے تھے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الحكم بن عطية العيشي ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الدَّوْرَقِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3489

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3490

3490 - حدثنا روح بن عبد المؤمن حدثنا علي بن أبي سارة عن ثابت Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن الرجل من أهل الجنة ليشرف على أهل النار فيناديه رجل من أهل النار : يا فلان أما تعرفني ؟ قال : لا والله ما أعرفك من أنت ويحك ؟ قال : أنا الذي مررت بي في الدنيا فاستسقيتني شربة ماء فسقيتك فاشفع لي بها عند ربك قال : فدخل ذلك الرجل على الله في زوره فقال : يا رب إني أشرفت على أهل النار فقام رجل من أهل النار فنادى : يا فلان أما تعرفني ؟ فقلت : لا والله ما أعرفك ومن أنت ؟ قال : أنا الذي مررت بي في الدنيا فاستسقيتني فسقيتك فاشفع لي بها عند ربك يا رب فشفعني فيه قال فيشفعه الله فيه وأخرجه من النار ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اہل جنت میں سے جہنم کی طرف دیکھے گا ، جہنم میں سے ایک آدمی اس کو آواز دے گا اے فلاں کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں پہچانتا ہوں تو کون ہے تیرے لیے ہلاکت ہو؟ وہ کہے گا: میں وہی ہوں دنیا میں تو میرے پاس سے گزرا تھا تو نے مجھ سے پانی مانگا تھا میں نے تجھے پینے کے لیے دیا تھا، میری اپنے رب کے ہاں سفارش کرو ۔ وہ آدمی اپنے رب کے پاس آئے گا اور عرض کرے گا: اے رب! میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا اہل جہنم سے ایک آدمی کھڑا ہوا‘ اس نے آواز دی: اے فلاں! کیا تو مجھے پہچانتا ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تجھے نہیں پہچانتا ہوں تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہی ہوں جو تو دنیا میں میرے پاس سے گزرا تھا تو نے مجھ سے پانی مانگا تھا ، میں نے تجھے پینے کے لیے دیا تھا ، میری رب کے ہاں شفاعت کرو، اے اللہ ! میں اس کی شفاعت کرتا ہوں ۔ اللہ عز وجل اس کی شفاعت قبول کرے گا ، اس کو جہنم سے نکال دے گا ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← علي بن أبي سارة ← رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3490

chevron_left Previous
1…171819…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter