Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3467

3467 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد عن ثابت قال : أظنه Y عن أنس أن أعرابيا بال في المسجد فوثب بعض القوم قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا تزرموه ) ثم دعا بدلو من ماء فصبه عليه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کیا ، بعض صحابہ کرام نے اس کو روکا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ روکو، پھر پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس پر ڈال دیا۔

أنس أن أعرابيا بال في المسجد فوثب بعض القوم ← أَظُنُّهُ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3467

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3468

3468 - حدثنا إسحاق حدثنا علي بن أبي سارة حدثنا ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث مرة إلى رجل من فراعنة العرب فقال : ( اذهب فادعه لي ) فقال : يارسول الله إنه أعتى من ذلك قال : ( اذهب فادعه لي ) . قال : فذهب إليه فقال : يدعوك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لرسول [ رسول ] الله ! وما الله ؟ أمن ذهب هو ؟ أمن فضة هو ؟ أمن نحاس هو ؟ قال : فرجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : يارسول الله قد أخبرتك أنه أعتى من ذلك قال لي كذا وكذا فقال : ( ارجع إليه الثانية ) فقال له مثلها فرجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله قد أخبرتك أنه أعتى من ذلك . قال : ( ارجع إليه فادعه ) فرجع إليه الثالثه قال : فأعاد عليه ذلك الكلام فبينما هو يكلمه إذا بعث الله سحابة حيال رأسه فرعدت فوقع منها صاعقة فذهبت بقحف رأسه فأنزل الله { ويرسل الصواعق فيصيب بها من يشاء } الآية K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے سردار کی طرف ایک آدمی کو انہیں اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجا ‘انہوں نے کہا: جس خدا کی طرف تو ہمیں دعوت دے رہا ہے وہ چاندی کا ہے یا تانبا کا ہے۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں بھی وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: دوبارہ واپس جاؤ! ان کو اللہ کی طرف دعوت دو! وہ دوبارہ واپس گیا تو انہوں نے پہلے کی طرح ہی بات کی‘ وہ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: دوبارہ واپس جا اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دے! اللہ عز وجل نے ان پر کڑک بھیجی‘ وہ دوبارہ واپس آیا انہوں نے دوبارہ وہی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ واپس جاؤ اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دو! اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے راستے میں تھے جو اس کو معلوم نہیں تھا‘ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ اللہ عزوجل نے کڑک بھیجی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی:ويرسل الصواعق الى آخرہ‘‘۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← علي بن أبي سارة ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3468

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3469

3469 - حدثنا هريم بن عبد الأعلى حدثنا معتمر بن سليمان عن سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت عن أنس عن محمود بن الربيع Y عن عتبان بن مالك - قال : لقيت عتبان بعد ذلك فحدثني فأعجبني فقلت لابني : اكتبه فكتبه - فقال عتبان وقد كان ذهب بصره : قلت يا نبي الله لو أتيتني فصليت عندي في مكان أتخذه مسجدا قال : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يصلي وجعل أصحابه يتحدثون بينهم قال : فذكرنا ما يلقون من المنافقين من الأذى فجعلوا عظم ذلك على مالك بن دخشم وكان يعجبهم أن يحملوا النبي صلى الله عليه و سلم فيدعو عليه فيهلكه الله فقالوا : يا نبي الله : إن أمره كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أليس يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله ؟ ) قالوا : إنما يقول ذلك بلسانه وليس له هيئة في قلبه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا يشهد أحد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فيدخله الله - أو قال : فتطعمه النار أبدا ) قال معتمر قال أبي : سمعته من أنس فما حدثت به أحدا K إسناده صحيح

حضرت محمود بنربیع، حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں عتبان سے ملا‘ اس کے بعد مجھے انہوں نے حدیث بیان کی‘ مجھے پسند آئی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اس کو لکھو! اس نے لکھی ۔حضرت عتبان نے فرمایا: میری آنکھ کی بینائی چلی گئی‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! اگر آپ میرے پاس تشریف لائیں اور آپ میرے (گھر) کسی جگہ نماز پڑھیں تو میں اس کو مسجد بنا لوں ۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے‘ آپ نماز پڑھنے لگے ‘صحابہ کرام آپس میں گفتگو کر رہے تھے ‘انہوں نے ان باتوں کا ذکر کیا جو ان کو منافقوں کی طرف سے پہنچی تھیں‘ انہوں نے منافقت کی نسبت حضرت مالک بن دخشم کی طرف کی ۔ صحابہ کرام پسند کرتے تھے کہ حضور اٹھیں اور اس کے لیے بددعا کریں تو اللہ اس کو بلاک کرے گا ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! اس کا معاملہ اس اس طرح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اللہ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یہ زبان سے کہتا ہے لیکن دل سے نہیں کہتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اللہ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے اللہ عز وجل اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔ یا فرمایا: ایسے نہیں ہوسکتا ہے کہ آگ اس کو ہمیشہ کھائے ۔ حضرت معتمر فرماتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی ‘میں اسے کسی کو بھی بیان نہیں کروں گا۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3469

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3470

3470 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا بهز بن أسد حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان معه إحدى نسائه فمر به رجل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إنها زوجتي فلانه ) فقال : يا نبي الله من كنت أظن به فلم أكن أظن بك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زوجہ تھی ۔ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری فلانی بیوی ہے، اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ کے متعلق ایسا گمان نہیں کر سکتا ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے خون میں دوڑتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3470

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3471

3471 - حدثنا أبو عبد الرحمن الأذرمي حدثنا أبو قطن حدثنا مبارك عن ثابت Y عن أنس قال : ما رأيت رجلا قط التقم أذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فينحي رأسه حتى ينحي الرجل رأسه وما رأيت أحدا قط أخذ بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم فيترك يده حتى يكون الرجل هو الذي يترك يده وما مسست قط ألين من جلد رسول الله صلى الله عليه و سلم وما وجدت رائحة قط أطيب من رائحة رسول الله صلى الله عليه و سلم K رجاله ثقات

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کسی آ دمی کو نہیں دیکھا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں گفتگو کرنی شروع کی ہو‘ آپ اس وقت تک اس سے سر جدا نہیں کرتے تھے جب تک وہ آ دمی خو دا پنا سر جدا نہیں کر لیتا تھا‘ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہو اور آپ نے خود اس سے ہاتھ چھڑایا ہو یہاں تک کہ وہ خود آپ کا ہاتھ چھوڑتا ‘میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے بڑھ کر نرم کسی کو ہاتھ نہیں لگایا‘ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلمکے جسم اطہر سے آنے والی خوشبو سے بڑھ کر کبھی خوشبونہیں دیکھی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مُبَارَكٌ، ← أَبُو قَطَنٍ، ← أبو عبد الرحمن الأذرمي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3471

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3472

3472 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن امرأة كان في عقلها شيء فقالت : يارسول الله إني لي إليك حاجة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أم فلان خذي بأي الطريق شئت فقومي فيه حتى أقوم معك ) فخلا معها رسول الله صلى الله عليه و سلم يناجيها حتى قضت حاجتها K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت تھی اس کی عقل میں کچھ تھا، اس نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے کچھ کام ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں کی ماں! مجھے پکڑو جس راستہ میں لے جانا چاہتی ہو لے جاؤ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہوئے ‘میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ گفتگو کرتے کرتے اس کے ساتھ چلتے رہےیہاں تک کہ اس کا کام ہو گیا۔

يارسول الله إني لي إليك حاجة ← أنس أن امرأة كان في عقلها شيء ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3472

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3473

3473 - حدثنا أبو كريب محمد بن علاء حدثنا معاوية بن هشام حدثنا منهال بن خليفة عن ثابت Y عن أنس قال : حدث نبي الله صلى الله عليه و سلم بحديث فما فرحنا بشيء مذ عرفنا الإسلام أشد من فرحنا به قال : ( إن المؤمن ليؤجر في إماطته الأذى عن الطريق وفي هدايته السبيل وفي تعبيره عن الأرثم وفي منحة اللبن حتى إنه ليؤجر في السلعة تكون مصرورة في ثوبه فيلمسها فتخطئها يده ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بات بتائی‘ اس کو سن کر ہم اتنے خوش ہوئے‘ جس سے زیادہ خوش کبھی نہیں ہوئے ، جب سے ہم نے دین اسلام کو پہچانا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کے راستہ سے تکلیف دہ شے اٹھانے پر بھی اجر ملتا ہے، راستہ بتانے پر بھی ثواب ملتا ہے آہستہ بات کو اونچا تعبیر کرنے میں‘ کسی کو دودھ عطا کرنے سے بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اسے اجر دیا جاتا ہے‘ اس سامان میں جو کپڑے کی تھیلی میں ہو‘واپس وہ اس کو ہاتھ لگائے اور اس کا ہاتھ چوک جائے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أبو كريب محمد بن علاء

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3473

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3474

3474 - حدثنا أبو همام حدثنا عبد الله بن المبارك أخبرني معمر عن ثابت Y عن أنس قال : كانت للنبي صلى الله عليه و سلم شعرة إلى أنصاف أذنيه K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال دونوں کانوں کے نصف تک تھے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3474

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3475

3475 - حدثنا أبو ياسر عمار بن نصر حدثنا يوسف بن عطيه أخبرنا ثابت Y عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( مثل المؤمن مثل السنبلة تميل أحيانا وتستقيم أحيانا ومثل أمتي كمثل المطر لا يدرى أوله خيرأو آخره ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی مثال گندم کے خوشہ کی طرح ہے کبھی جھکتا ہے، کبھی سیدھا رہتا ہے، میری امت بارش کی طرح ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کے اول یاآخر میں بہتری ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← يوسف بن عطيه ← أبو ياسر عمار بن نصر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3475

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3476

3476 - حدثنا أبو ياسر عمار حدثنا يوسف حدثنا ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ليس منا من لم يوقر كبيرنا ويرحم صغيرنا ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يُوسُفُ، ← أبو ياسر عمار

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3476

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3477

3477 - حدثنا عمار حدثنا يوسف حدثنا ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بجنازة ليصلي عليها قال : ( هل عليه دين ؟ ) قالوا : نعم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إن جبريل نهاني أن أصلي على رجل عليه دين وقال : إن صاحب الدين مرتهن في قبره حتى يقضى عنه دينه ) فأبى النبي صلى الله عليه و سلم أن يصلي عليه K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرض والے کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ‘اور فرمایا ہے: قرض والا اپنی قبر میں گروی ہی رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کیا جائے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پڑھنے سے انکار کر دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يُوسُفُ، ← عَمَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3477

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3478

3478 - حدثنا أبو ياسر حدثنا يوسف بن عطيه حدثنا ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الخلق عيال الله فأحب خلقه إليه أنفعهم لعياله ) K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوق اللہ کی رحمت ہے ‘اللہ کی مخلوق میں سے اللہ کے ہاں پسندیدہ وہ ہے جو اس کی رحمت کو زیادہ نفع دینے والا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يوسف بن عطيه ← أبو ياسر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3478

chevron_left Previous
1…161718…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter