Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3455

3455 - حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى حدثنا أبو داود حدثنا شعبة قال : سمعت ثابتا يقول Y سمعت أنسا يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكثر أن يقول : ( اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ) . قال شعبة : فذكرت ذلك لقتادة فقال : كان أنس يدعو بهذا الدعاء K إسناده صحيح

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ثابت کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کوفرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں اچھائی عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حضرت قتادہ سے ذکر کی‘ فرمایا: حضرت انس یہ دعا کرتے تھے۔

شعبة فذكرت ذلك لقتادة فقال كان أنس يدعو بهذا الدعاء إسناده صحيح ← اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكثر أن ← أَنَسًا ← ثَابِتًا ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3455

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3456

3456 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس أن رجلا من أهل البادية كان اسمه زاهرا وكان يهدي للنبي صلى الله عليه و سلم الهدية من البادية فيجهزه رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يخرج فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إن زاهرا باديتنا ونحن حاضرته ) وكان النبي صلى الله عليه و سلم يحبه وكان رجلا دميما فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم وهو يبيع متاعه فحتضنه من خلفه لا يبصره الرجل فقال : أرسل من هذا ؟ فعرف النبي صلى الله عليه و سلم فجعل لا يألو حتى ألصق ظهره ببطن النبي حين عرفه وجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من يشتري العبد ؟ ) فقال الرجل : يارسول الله إذا تجدني كاسدا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لكنك عند الله ليس بكاسد - أو قال : عند الله أنت غال - ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آ دمی تھا‘اس کا نام زاھر تھا‘ وہ دیہات سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ لیتا تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بھی تحفہ دیتے جب وہ جانے کا ارادہ کرتا‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : زاھر ہمارا دیہاتی ہے ‘ہم اس کے شہری ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے تھے‘ وہ آدمی ایسا تھا کہ اس کی صورت اتنی اچھی نہیں تھی ۔ (ایک دفعہ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا‘ آپ نے پیچھے سے اسے پکڑا ‘وہ آ دمی پیچھے دیکھ نہیں سکتا تھا‘ آپ نے فرمایا: تمہیں کون چھڑائےگا ؟ اس نے پہچان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٍہیں‘ وہ دیر کرتا رہا یہاں تک کہ اپنی پشت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ مبارک سے ملنے لگے‘ جس وقت اس نے آپ کو پہچان لیا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: اس بندے کو کون خریدے گا ؟ اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں بے قیمت ہوں‘ آپ کو پتہ ہی ہے ‘تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ کے نزدیک تو بے قیمت نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک تیری بڑی قیمت ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3456

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3457

3457 - حدثنا إسحاق بن أبي اسرائيل حدثنا زهير بن إسحاق حدثنا أبو خلف عن ثابت Y عن أنس يرفع الحديث قال : ( إن الحمى كور من كؤور جهنم من ابتلي بشيء منها كانت حظه من النار ) K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس مرفوعاً حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمیوں میں سے گرمی ہے ‘جو اس سے آزمایا گیا اس کو جہنم سے اس کا حصہ مل گیا۔

أنس يرفع الحديث ← ثَابِتٍ، ← أَبُو خَلَفٍ، ← زهير بن إسحاق ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3457

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3458

3458 - حدثنا إسحاق بن أبي اسرائيل حدثنا عبد الصمد حدثنا شعبة عن ثابت قال Y سمعت أنسا يقول لأمرأة من أهله : أتعرفين فلانة ؟ إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بها وهي تبكي على قبر فقال لها : ( اتق الله واصبري ) فقالت : إليك عني فإنك لا تبالي بمصيبتي - ولم تكن تعرفه فقيل لها : إنه رسول الله ! فأخذها مثل الموت فجاءت إلى بابه فلم تجد عليه بوابا فقالت : يارسول الله إني لم أعرفك فقال لها : ( إن الصبر عند أول صدمة ) K إسناده صحيح

حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اپنے خاندان کی ایک عورت کو فرماتے ہوئے سنا: کیا تو فلانی کو پہچانتی ہے؟ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ‘وہ قبر پر رورہی تھی ‘آپ نے اس کوفر مایا: اللہ سے ڈر اور صبر کر! اس نے کہا: آپ مجھ سے دور رہیں‘ آپ کو کوئی پروا نہیں ہے کیونکہ مصیبت مجھے پہنچی ہے ۔ وہ عورت آپ کو نہیں پہچانتی تھی‘ اس سے کہا گیا: یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کو موت کی طرح کسی چیز نے پکڑ لیا‘ آپ کے دروازہ پر آئی‘ آپ کا دربان نہ پایا تو عرض کی: یارسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ‘آپ نے اس کو فرمایا: صبر صدمے کی ابتداء کے وقت ہوتا ہے۔

لأمرأة من أهله أتعرفين فلانة ← أَنَسًا ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3458

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3459

3459 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس بن مالك قال : لما قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة لعبت الحبشة بحرابهم فرحا بذلك K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف آئےتو حبشی عورتیں حراب اسے بڑی خوشی سے کھیل رہی تھیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3459

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3460

3460 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس قال : كان شعر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أنصاف أذنيه K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال دونوں کانوں کے نصف تک تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3460

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3461

3461 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( لا يتمن أحدكم الموت ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3461

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3462

3462 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد بن زيد عن ثابت Y عن أنس قال : كنت ساقي القوم في منزل أبي طلحة يوم حرمت الخمر وكان شرابهم يومئذ الفضيخ : البسر والتمر - فيهم رجال من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم - فنادى مناد فقال لي : أخرج فانظر فخرجت فإذا مناد ينادي : إن الخمر قد حرم قال : فإذا هي قد جرت في سكك المدينة فجئت فأخبرت أبا طلحة قال : فخرج فأهرقها . فقال بعض القوم لقد قتل فلان وفلان وهي في بطونهم فأنزل الله { ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا } الآية K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابوطلحہ کے گھر میں قوم کو شراب پلا رہا تھا جس دن شراب کی حرمت نازل ہوئی ‘توان کی شراب چھوہاروں اور کھجوروں کی تھی ۔ ایک آواز دینے والے نے آواز دی: خبردار! شراب حرام کی گئی ہے! پس مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی ۔حضرت ابوطلحہ نے کہا: نکل! اس کو بہا دے۔ پس میں نے اس کو بہا دیا‘ یا بعض لوگ کہنے لگے : فلاں فلاں مارا گیا اس حال میں کہ شراب اس کے پیٹ میں ہے۔ راوی حدیث فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے ‘اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ’’نہیں ہے گناہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اوراچھے عمل کیے جو انہوں نے کھایا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3462

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3463

3463 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى أثر صفرة فقال : ( ما هذا ؟ ) قال : يارسول الله إني تزوجت إمرأة على وزن نواة من ذهب قال : ( بارك الله لك أولم ولو بشاة ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ عرض کی: میں نے ایک عورت سے سونے کی ایک ڈلی مہر کے بدلے میں نکاح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے! ولیمہ کرواگر چہ ایک بکری ذبح کر کے ہی ہو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3463

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3464

3464 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد بن زيد عن ثابت . Y عن أنس قال : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أولم على شيء من نسائه ما أولم على زينب فإنه ذبح شاة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی عورت کا ولیمہ کرتے ہوئےنہیں دیکھا جتنا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی پر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ پر بکری ذبع کی تھی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3464

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3465

3465 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد بن زيد عن ثابت Y عن أنس أن رجلا قال : يارسول الله متى الساعة ؟ قال : ( وما أعددت للساعة ؟ ) قال : لا إلا أني أحب الله ورسوله قال : ( فإنك مع من أحببت ) قال أنس : فما فرحنا بشيء بعد الإسلام فرحنا بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أنت مع من أحببت ) قال : فأنا أحب رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا بكر و عمر وأرجو أن أكون معهم بحبي إياهم وإن كنت لا أعمل بأعمالهم K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کیلئے تو نے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں! مگر یہ کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تو محبت کرتا ہے (اس لیے تجھے کوئی خوف نہیں خواہ کل قیامت آ جائے)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام لانے کے بعد ہم کسی چیز پر اتنے خوش نہیں ہوئےجتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے ہوئی ۔ اس نے عرض کی: میں رسول‘ ابوبکر اور عمر سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے انہیں کے ساتھ ہوں گا‘ اگر چہ میں ان کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

«فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» ← لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ← وما أعددت للساعة ← يارسول اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ ← أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3465

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3466

3466 - حدثنا إسحاق حدثنا حماد بن زيد عن ثابت Y عن أنس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بجنازة فأثنى القوم عليها خيرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( وجبت ) ثم مر بأخرى فأثني عليها شرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( وجبت ) فقيل : يارسول الله قد قلت لهذه : ( وجبت ) ولهذه ( وجبت ) ؟ قال : ( شهادة القوم والمؤمنون شهداء الله في الأرض ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گز را‘ صحابہ کرام نے اس کی تعریف کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی! پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو صحابہ کرام نے اس کے شر کا ذکر کیا‘ رسول کریم مریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ! عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! آپ نے دونوں کے لیے کہا: واجب ہو گئی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کی شہادت ہے اور زمین میں مؤمن‘ اللہ کے گواہ ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3466

chevron_left Previous
1…151617…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter