Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3443

3443 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا بزيغ أبو الخليل عن ثابت Y عن أنس بن مالك قال : قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من بلغه عن الله فضيلة فلم يصدق بها لن ينلها ) K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ عزوجل نے کوئی فضیلت پہنچی ہو، اس نے اس کی تصدیق نہ کی وہ اس کو نہ پا سکے گا‘ یعنی وہ اس کی قدر نہ کر سکا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← بزيغ أبو الخليل ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3443

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3444

3444 - حدثنا الحسن بن الصباح البزار حدثنا مؤمل بن إسماعيل عن سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : وجد رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا فلما أصبح قيل : يا رسول الله إن أثر الوجع عليك لبين قال : ( إني على ما ترون قد قرأت البارحة السبع الطول ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی شے پائی ، جب صبح ہوئی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! آپ پر پریشانی کے اثرات نظر آتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میں نے دیکھا ہے تم نے نہیں دیکھا‘ میں نے آج رات سبع طول (سات لمبی سورتیں) پڑھی ہیں۔

وجد رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا فلما أصبح قيل ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3444

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3445

3445 - حدثنا الحسن بن الصباح حدثنا مؤمل عن حماد عن ثابت Y عن أنس قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال في خطبته : ( لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا مگر اس میں سے ضرور فرمایا: اس کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا دین نہیں جو وعدے کا وفادار نہیں ۔

خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3445

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3446

3446 - حدثنا الحسن بن الصباح البزار حدثنا مؤمل بن إسماعيل عن حماد حدثنا ثابت Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من سأل الشهادة صادقا من قلبه أعطاه الله أجر شهيد وإن مات على فراشه ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ سے صدق دل سے شہادت مانگی اس کو شہادت عطا کی جاتی ہے اور شہید کا اجر دیا جا تا ہے اگر چہ وہ اپنے بستر پر ہی مرے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3446

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3447

3447 - حدثنا شيبان حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لما عرج بي إلى السماء السابعة إذا بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا آپ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ بیت المعمور ایسا گھر ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر دوبارہ نہیں آتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3447

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3448

3448 - حدثنا شيبان حدثنا محمد بن زياد البرجمي حدثنا ثابت Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من كان له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فاتقى الله وأقام عليهن كان معي في الجنة هكذا ) وأومأ بالسباحة والوسطى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں ان کے متعلق اللہ سے ڈرے، ان کی اچھی دیکھ بھال کرے وہ میرے ساتھ جنت میں اس طرح ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبابہ اور وسطی کے ساتھ اشارہ کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← محمد بن زياد البرجمي ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3448

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3449

3449 - حدثنا شيبان حدثنا محمد بن عيسى حدثنا ثابت البناني قال : Y قلت لأنس : يا أنس أخبرني بأعجب شئ رأيته قال : نعم يا ثابت خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشر سنين فلم يغير علي شيئا أسأت فيه وإن نبي الله صلى الله عليه و سلم لما تزوج زينب بنت جحش قالت لي أمي : يا أنس إن رسول صلى الله عليه و سلم أصبح عروسا ولا أدري أصبح له غذاء ؟ فهلم تلك العكة فأتيتها بالعكة وبتمر فجعلت له حسيا فقالت : يا أنس اذهب بهذا إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم وامرأته فلما أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بتور من حجارة فيه ذلك الحيس فقال : ( ضعه في ناحية البيت وادع لي أبا بكر و عمر و عليا و عثمان ونفرا من أصحابه ثم أدع لي أهل المسجد ومن رأيت في الطريق ) قال : فجعلت أتعجب من قلة الطعام ومن كثرة ما يأمرني أن أدعو الناس فكرهت أن أعصيه حتى امتلأ البيت والحجرة فقال : ( يا أنس هل ترى من أحد ؟ ) فقلت : لا يا نبي الله قال : ( هات ذاك التور ) فجئت بذلك التور فوضعته قدامه فغمس ثلاث أصابع في التور [ فجعل التور يربو ويرتفع فجعلوا يتغذون ويخرجون حتى إذا فرغوا أجمعون وبقي في التور ] نحو ما جئت به قال : ( ضعه قدام زينب ) فخرجت وأسفقت بابا من جريد قال ثابت : قلت لأنس : كم ترى كان الذين أكلوا من ذلك التور ؟ قال لي : حسبت واحدا وسبعين أو إثنين وسبعين K إسناده ضعيف

حضرت ثابت البنانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے انس! مجھے ایسی عجیب شی کی خبر دیں جو آپ نے دیکھی ہو‘ فرمایا: اے ثابت! جی ہاں! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی شے پر عارنہیں دلائی جس کے متعلق میں نے کوئی غلطی کی ہو‘ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے شادی کی ۔ میری امی نے مجھے کہا: اے انس! بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شادی کی حالت میں کی ہے۔ میں نہیں جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناشتہ وغیرہ کیا ہو، یہ کپی لے جاؤ، میں کپی اور کھجور لے کر آیا اس میں حیس تھا ( حیس کا مطلب ہے :کھجور‘ گھی اور پنیر وغیرہ سے بنا ہوا ایک کھانا ) فرمایا: اے انس! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤ اور ان کی بیوی کے لیے۔ پس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اس کو گھر کے ایک کونے میں رکھ دو اور میرے پاس ابوبکر وعمر وعلی و عثمان اور صحابہ کرام کو بلوا کر لاؤ، پھر مسجد میں رہنے والوں کو جو تجھے راستہ میں ملے اس کو بلوا کر لاؤ ، میں تعجب کرنے لگا کھانے کی قلت پر اتنے زیادولوگوں کو بلوانے پر۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کو پسند نہ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر بھر گیا ، فرمایا: اے انس! کیا کوئی اور ہے؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! نہیں ۔ فرمایا: وہ پیالہ لے کر آؤ، میں نے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنی تین انگلیاں ڈالیں ، تو وہ کپی بڑھتی رہی اور بلند ہوتی رہی، صحابہ کرام کھانے کے لیے آتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ سارے سیر ہو کر فارغ ہو گئے ، وہ برتن اسی طرح بھرا ہوا تھا جیسے میں لے کر آیا تھا، فرمایا اس کو زینب رضی اللہ عنہا کے آگے رکھ دو، میں نے دروازہ لکڑی کے ساتھ کھٹکھٹایا ، حضرت ثابت رحمۃاللہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی : اے انس! کتنے لوگوں نے اس سے کھایا؟ مجھے انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ۷۱یا ۷۲ افراد تھے۔

بأعجب شئ رأيته ← قلت لأنس يا أنس ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3449

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3450

3450 - حدثنا شيبان حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لما عرج بي إلى السماء السابعة ذهب بي إلى سدرة المنتهى فإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشيها تغيرت فما أحد من الناس يستطيع أن ينعتها من حسنها فأوحى إلي ما أوحى ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے سدرۃ المنتہی ٰتک لے جایا گیا‘ میری نظر پڑی تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی مانند ہیں‘ اس کے پھل ڈرموں جتنے ہیں‘ پس جب اس کو ڈھانپ لیا اللہ کے حکم سے جس چیز نے بھی ڈھانپ لیا‘ وہ تبدیل ہوگئی، کوئی انسان اس کے حسن کی تعریف نہیں کر سکتا‘ پس اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3450

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3451

3451 - حدثنا شيبان حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا ومن هم بسيئة فلم يعملها لم يكتب عليه شيء فإن عملها كتبت له سيئة واحدة ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس نے نیکی نہیں کی ‘اس کے لیے اللہ ایک نیکی لکھ دے گا۔ اگر نیکی کر لی تو اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ۔ جس نبرائی کا ارادہ کر لیا لیکن کی نہیں اس کے لیے ایک پرائی نہیں لکھی جائے گی ، جس نے کر لی اس کو ایک گناہ ملے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3451

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3452

3452 - حدثنا شيبان حدثنا جرير حدثنا ثابت Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ربما نزل عن المنبر وقد أقيمت الصلاة فيعرض له الرجل فيحدثه طويلا ثم يتقدم إلى مصلاه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات منبر سے نیچے اتر تے نماز کے لیے اقامت کہی جاتی‘ کوئی آدمی آپ سے گفتگو کرتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک گفتگو کرتے پھر آگے بڑھتے مصلیٰ کی طرف۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ربما نزل ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَرِيرٌ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3452

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3453

3453 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا الحكم بن سنان العبدي حدثنا ثابت Y عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن الله قبض قبضة فقال : إلى الجنة برحمتي وقبض قبضة فقال : إلى النار ولا أبالي ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل ایک مٹھی پکڑے گا‘ اس کو جنت میں ڈالے گا: یہ میری رحمت کا صدقہ ہے! پھر ایک مٹھی پکڑے گا، جہنم کے لیے فرمائے گا: مجھے اس میں داخل ہونے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الحكم بن سنان العبدي ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3453

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3454

3454 - حدثنا موسى ابن حيان حدثنا محمد بن جعفر عن شعبة عن حبيب بن الشهيد عن ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى على قبر K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر کے اوپر نماز جنازہ پڑھایا (یعنی دعا کی)۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← موسى ابن حيان

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3454

chevron_left Previous
1…141516…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter