Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3431

3431 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا صدقة بن موسى حدثنا ثابت البناني Y عن أنس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أفضل الصيام قال : ( شعبان تعظيما لرمضان ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سے روزے افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شعبان کے رمضان کی تعظیم کے لیے۔

شعبان تعظيما لرمضان إسناده ضعيف ← أفضل الصيام ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← صدقة بن موسى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3431

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3432

3432 - حدثنا عبد الله بن عون الخراز حدثنا أبو عبيدة الحداد حدثنا محمد بن ثابت البناني عن أبيه Y عن أنس بن مالك : قال رسول الله صلى الله عيله وسلم : ( إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا ) قيل : يارسول الله وما رياض الجنة ؟ قال : ( حلق الذكر ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنت کے باغوں سے گزرا کرو تو اس سے کھا لیا کرو،عرض کی: یا رسول اللہ! جنت کے باغ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کا حلقہ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن ثابت البناني ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← عبد الله بن عون الخراز

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3432

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3433

3433 - حدثنا عمرو بن الضحاك حدثنا أبي حدثنا مستورد أبو الهمام حدثنا ثابت Y عن أنس قال : جاء رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله ما تركت حاجة ولا داجة إلا قد أتيت قال : ( أليس تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ؟ ) ثلاث مرات قال : نعم قال : ( ذاك يأتي على ذلك ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہر ضرورت‘ خدمت اور کام چھوڑ کر آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو توحید و رسالت کی گواہی دیتا ہے، تین مرتبہ فرمایا‘ اس نے عرض کی: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ثواب ملے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مستورد أبو الهمام ← أَبِي ← عمرو بن الضحاك

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3433

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3434

3434 - حدثنا محمد بن بحر حدثنا يحيى بن سليم الطائفي حدثنا الأزور بن غالب البصري عن ثابت البناني و سليم التيمي Y عن أنس بن مالك : قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن لله في كل يوم جمعة ست مئة ألف عتيق يعتقهم من النار ) قال أحدهما في حديثه : ( كلهم قد استوجبوا النار ) K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل جمعہ کے دن ساٹھ ہزار آدمیوں کو جنت دیتا ہے جن پر جہنم واجب ہو گئی تھی ( جہنم سے نکال دیتا ہے، ان تمام پر جہنم واجب ہوگئی ہوتی ہے)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثابت البناني و سليم التيمي ← الأزور بن غالب البصري ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← محمد بن بحر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3434

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3435

3435 - حدثنا محمد بن بحر حدثنا أبو ميمون شيخ من أهل البصرة حدثنا ثابت Y عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن لله [ في كل ] ساعة من ساعات الدنيا ست مئة ألف عتيق يعتقهم من النار كلهم قد استوجب النار ) K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل دنیا کی گھڑیوں میں سے ہر گھڑی ساٹھ ہزار آدمیوں کو جنت دیتا ہے جن پر جہنم واجب ہو گئی تھی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أبو ميمون شيخ من أهل البصرة ← محمد بن بحر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3435

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3436

3436 - حدثنا قطن بن نسير الغبري حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسمع بكاء الصبي فيقرأ السورة الخفيفة K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ حالت نماز میں ماں کے ساتھ بچے کے رونے کی آواز سنتے تو آپ مختصر قرأت کرتے یا چھوٹی سورت پڑھتے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3436

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3437

3437 - حدثنا أبو بكر بن زنجويه حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس قال : بلغ صفية أن حفصة قالت لها : ابنة يهودي فدخل عليها النبي صلى الله عليه و سلم وهي تبكي فقال ( ما يبكيك ؟ ) قالت : قالت لي حفصة : إني ابنة يهودي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إنك لابنة نبي وإن عمك لنبي وإنك لتحت نبي فبما تفخر عليك ؟ ) ثم قال : ( اتقي الله يا حفصة ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: یہودی کی بیٹی ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اس حالت میں کہ وہ رو رہی تھیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں رو رہی ہو؟ عرض کی : مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہودی کی بیٹی کہا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو تو ایک نبی کی بیٹی ہے، کیونکر ان کا چچا نبی تھا اور تو نبی کے نکاح میں ہے اس بات پر فخر کیوں نہیں کرتی ہو، پھر فرمایا: اے حفصہ! اللہ سے ڈرو۔

بلغ صفية ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو بكر بن زنجويه

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3437

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3438

3438 - حدثنا أبو بكر بن زنجويه حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت Y عن أنس : قال : أراد المغيرة بن شعبة أن يتزوج امرأة فذكر للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( اذهب فانظر إليها فإنه أجدر أن يؤدم بينكما ) قال : ففعل فتزوجها فذكر من موافقتها K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا، یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو جا کر اس کو دیکھو، تمہارے درمیان زیادہ محبت ہو گی انہوں نے ایسے ہی کیا اس کے بعد شادی کر لی ، ان دونوں کے درمیان موافقت رہی۔

من موافقتها إسناده صحيح ← ففعل فتزوجها ← اذهب فانظر إليها فإنه أجدر أن يؤدم بينكما ← للنبي صلى الله عليه و سلم ← أراد المغيرة بن شعبة أن يتزوج امرأة ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو بكر بن زنجويه

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3438

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3439

3439 - حدثنا أبو بكر بن زنجويه حدثنا عبد الرزلق أخبرنا معمر عن ثابت و قتادة و أبان كلهم Y عن أنس قال : لما حرمت الخمر قال : إني يومئذ أسقي أحد عشر رجلا قال : فأمروني فكفأتها وكفأ الناس آنيتهم بما فيها حتى كادت السكك تمتنع من ريحها . قال أنس : وما خمرهم يومئذ إلا البسر والتمر مخلوطين . قال : فجاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إنه قد كان عندي مال يتيم فاشتريت به خمرا أفترى أن أبيعه فأرد على اليتيم ماله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فباعوها وأكلوا أثمانها ) ولم يأذن له النبي صلى الله عليه و سلم ببيع الخمر K إسناده صحيح

حضرت ثابت و قتادہ و ابان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ شراب ( جب ) حرام کی گئی تو میں اس دن گیارہ مرد حضرات کو شراب پلا رہا تھا، مجھے حکم دیا گیا تو میں نے اسے بہا دیا۔لوگوں نے اپنے برتنوں میں جو شراب تھی وہ بھی بہا دی (اتنی شراب ہوئی ) کہ قریب تھا کہ گلیوں سے شراب گزرنا کی بدبو کی وجہ سے مشکل ہو جائے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجور کو ملا کر بنی ہوتی تھی اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میرے پاس یتیم کا مال ہے ‘میں نے اس کے بدلے شراب خریدی ہے‘ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کو فروخت کر کے یتیم کو اس کا مال واپس کر دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عز وجل یہود کو ہلاک کرے! ان پر چر بی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کیا اور اس کی کمائی کھائی‘ آپ نے اس کو شراب فروخت کر نے کی اجازت نہیں دی۔

أَنَسٍ، ← ثابت و قتادة و أبان كلهم ← مَعْمَرٌ، ← عبد الرزلق ← أبو بكر بن زنجويه

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3439

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3440

3440 - حدثنا أبو بكر بن زنجويه حدثنا عبد الرزاق أخبرنا جعفر بن بن سليمان عن ثابت Y عن أنس قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم مكة في عمرة القضاء و ابن رواحة بين يديه وهو يقول : ( خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تأويله ) . ( ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله ) . فقال له عمر : يا ابن رواحة في حرم الله وبين يدي رسول الله تقول هذا الشعر ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( خل عنه يا عمر فوالذي نفسي بيده لكلامه أشد عليهم من وقع النبل ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمرہ قضا کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئےاس حال میں کہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تھے‘ وہ پڑھ رہے تھے: ”اے کافروں کے بیٹو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دو! آج کے دن ‘ان کو روکنے پر ہم تمہیں وہ ضرب لگائیں گے کہ تمہارے سر تن سے جدا ہو جائیں گے اور دوست اپنے دوست سے غسل و بے گا نہ ہو جائے گا‘‘۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے ابن رواحہ! اللہ کے حرم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے‘ تو یہ شعر پڑھتا ہے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اسے اپنا کام کرنے دو‘ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے‘ اس کا کلام ان پر تیر لگنے سے زیادہ سخت ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جعفر بن بن سليمان ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو بكر بن زنجويه

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3440

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3441

3441 - حدثنا نصر بن علي الجهضي حدثنا عبد الله بن الزبير الباهلي حدثنا ثابت البناني Y عن أنس قال : لما وجد النبي صلى الله عليه و سلم من كرب الموت ما وجد قالت فاطمة وا كرب أباه ! فقال : ( لا كرب على أبيك بعد اليوم إنه قد حضر من أبيك ما ليس الله بتارك منه أحدا موافاته يوم القيامة ) K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی کو پایا‘ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میرے باپ پر کیا سختی ہو رہی ہے! آپ نے فرمایا: آج کے دن کے بعد تیرے باپ پر تکلیف نہیں آئے گی ۔ آپ کے پاس وہ آئی ہے جو قیامت کے دن مرنے کے وقت حاضر ہو گی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْبَاهِلِيُّ، ← نصر بن علي الجهضي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3441

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3442

3442 - حدثنا نصر بن علي حدثنا عبد الله بن الزبير حدثنا ثابت Y عن أنس قال : قال رجل : يا رسول الله إني أحب فلانا في الله قال : ( فأعلمته ؟ ) قال : لا قال : ( فأته فأعلمه ) قال : فأتاه فأعلمه فقال : يا فلان إني أحبك في الله قال : أحبك الذي أحببتني له K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ! میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں اللہ کی رضا کے لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تو نے بتایا ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو بتا اور کہہ: اے فلاں! میں تجھ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواباً کہا: تو مجھ سے محبت کرتا ہے میں بھی تجھ سے محبت کرتا ہوں۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3442

chevron_left Previous
1…131415…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter