Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3407

3407 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن ثابت البناني Y عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( لبيك بحجة وعمرة معا ) K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ اکٹھا کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3407

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3408

3408 - حدثنا سعيد بن أبي الربيع السمان حدثنا رشيد أبو عبد الله حدثنا ثابت Y عن أنس بن مالك قال : وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم على مجلس بني سلمة فقال : ( يا بني سلمة ما الرقوب فيكم ؟ ) قالوا : الذي لا ولد له قال : ( بل هو الذي لا فرط له ) قال : ( ما المعدم فيكم ؟ ) قالوا : الذي لا مال له قال : ( بل هو الذي يقدم وليس له عند الله خير ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنی سلمہ کی مجلس پر کھڑے ہوئے ۔ فرمایا: اے بنوسلمہ! رقوب کس کو شمار کرتے ہو؟ عرض کی کہ جس کے پاس اولاد نہ ہو۔ آپ نے فرمایا: بلکہ رقوب میں وہ ہے جس کا قصور کوئی نہ ہو‘ پھر فرمایا: تم معدم کس کو شمار کرتے ہو؟ عرض کی: جس کے پاس مال نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ معدم وہ ہوتا ہے جو خیر میں چلے‘ اللہ کے ہاں اس کے لیے کوئی بھلائی نہ ہو۔

الَّذى لَا مَالَ لَهُ، ← ما المعدم فيكم ← بل هو الذي لا فرط له ← الذي لا ولد له ← يَا بَنِى سَلَمَةَ: مَا الرَّقُوبُ فِيكُمْ؟ ← وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم على مجلس بني سلمة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← رشيد أبو عبد الله ← سعيد بن أبي الربيع السمان

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3408

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3409

3409 - حدثنا سعيد حدثنا رشيد حدثنا ثابت Y عن أنس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على جواري بني النجار وهن يضربن بالدف ويقلن : ( نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار ) . فقال نبي الله : ( اللهم بارك فيهن ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کی لڑکیوں کے پاس سے گزرے وہ دف بجارہی تھیں اور یہ شعر پڑھ رہی تھیں۔ ’’ہم بنی نجار کی پڑوسن ہیں اور محمد ہمارے پڑوسی ہیں‘‘۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ٍنے فرمایا: اے اللہ! ان کے اس کہنے میں برکت عطا فرما۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← رشيد ← سَعِيدٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3409

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3410

3410 - حدثنا أبو موسى حدثنا زكريا بن يحيى ابن عمارة الذارع قال : سمعت ثابتا يحدث Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يوم الخندق : ( ( اللهم لولا أنت ما اهتدينا ولا صمنا ولا صلينا ) . ( اللهم فأنزلن سكينة علينا ) ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: اے اللہ! اگر تُو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ روزے رکھتے نہ نماز پڑھتے‘ ہم پر سکینہ نازل فرما۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتًا ← زكريا بن يحيى ابن عمارة الذارع ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3410

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3411

3411 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام الجمحي حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس أن أم سليم كانت مع أبي طلحة يوم خيبر ومعها خنجر فقال لها أبو طلحة : يا أم سليم ما هذا ؟ قالت : خنجر اتخذته إن دنا مني أحد من المشركين بعجته قال أبو طلحة : يا رسول الله أما تسمع ما تقول أم سليم ؟ تقول كذا وكذا - شيئا ذهب على أبي حرب - تقتلهم فقال : ( إن الله قد كفى وأحسن ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں خیبر کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر تھا ۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حضرت ابوطلحہ نے فرمایا: اے اُم سلیم ! یہ کیا ہے؟ عرض کی: یہ خنجر ہے اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا اس کے ساتھ ماروں گی ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سن رہے ہیں کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس اس طرح کچھ کہہ رہی ہیں‘ ابوحرب کے پاس جا اسے قتل کر ۔ فرمایا: بے شک اللہ کافی ہے اور اچھا ہے۔

أَبُو طَلْحَةَ ← خنجر اتخذته إن دنا مني أحد من المشركين بعجته ← لَهَا أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا؟ ← أنس أن أم سليم كانت مع أبي طلحة يوم خيبر ومعها خنجر ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3411

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3412

3412 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن أبا طلحة الأنصاري كان يوم أحد يرمي بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم - ورسول الله خلفه - وكان أبو طلحة رجلا راميا وكان إذا رمى رفع النبي صلى الله عليه و سلم شخصه ينظر أين يقع سهمه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیر پھینک رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ایک تیر انداز آدمی تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ تیر پھینکتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ اٹھا کر اس جگہ کو دیکھا کہاں گرا ہے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عبد الرحمن بن سلام

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3412

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3413

3413 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن أبا طلحة قرأ سورة ( براءة ) فأتى على هذه الآيه { انفروا خفافا وثقالا } فقال : ألا أرى ربي يستنفرني شابا وشيخا جهزوني فقال له بنوه : قد غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى قبض وغزوت مع أبي بكر حتى مات وغزوت مع عمر فنحن نغزو عنك فقال جهزوني فجهزوه فركب البحر فمات فلم يجدوا له جزيرة يدفنوه فيها إلا بعد سبعة أيام فلم يتغير K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے باپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ برات پڑھی‘ جب اس آیت پر پہنچے ’’انفروا خفافا وثقالا ‘‘اس کے بعد فرمایا: خبردار! میں دیکھتا ہوں کہ میرا رب چاہتا ہے کہ میں نکلوں جوانی اور بڑھاپے کی حالت میں ۔ان کے بیٹوں نے عرض کی: آپ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کیا‘ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کیا' ہم آپ کی طرف سے جہاد کریں گے‘ اس کے بعد فرمایا: مجھے تیار کرو، آپ رضی اللہ عنہ کے لیے بندوبست کیا‘ سمندر میں سوار ہوئےاس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا اس جزیرہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کرنے کے لیے کوئی جگہ نہ پائی ۔ سات دن کے بعد دفن کیا گیا اس حالت میں کہ ان کے بدن میں ذرہ برابر تبد یلی نہیں آئی تھی۔

«أَلَا أَرَى رَبِّي يَسْتَنفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا، جَهِّزُونِي»، ← أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةً، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عبد الرحمن بن سلام

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3413

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3414

3414 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن ثابت و حميد Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم المدينه و عبد الله بن سلام في نخله فلما سمع به جاء فقال : إني سائلك عن أشباء لا يعلمها إلا نبي فإن أخبرتني بها فأنت رسول الله فسأله عن الشبه وعن أول شيء يحشرالناس وعن أول شيء يأكله أهل الجنة . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أخبرني بهن جبريل آنفا ) قال : ذاك عدو اليهود فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أما الشبه فإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة ذهب بالشبه وإذا سبق ماء المرأة ماء الرجل ذهب بالشبه وأول شيء يحشر الناس نار تجيء من قبل المشرق فتحشر الناس إلى المغرب وأول شيء يأكله أهل الجنة فزيادة كبد حوت ) فآمن عبد الله بن سلام قال يارسول الله إن اليهود قوم بهت وإنهم إن سمعوا بإسلامي بهتوني ويقعون في فاخبأني وبعث إليهم وسلهم عني فبعث إليهم فجاؤوا - وخبأه - فقال : ( أي رجل عبد الله بن سلام فيكم ؟ ) قالوا : خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا وعالمنا وابن عالمنا فقال : ( أرأيتم إن آمن تؤمنون ؟ ) قالوا : أعاذه الله من ذلك ليفعل فقال : ( اخرج يا ابن سلام إليهم ) فخرج فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقالوا : بل هو شرنا وابن شرنا وجاهلنا وابن جاهلنا فقال : ألم أخبرك يارسول الله أنهم قوم بهت K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اس حالت میں کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایک کھجور کے باغ میں تھے، جب انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں تو وہ آئے اور عرض کی: (یا رسول اللہ !) آپ سے چند اشیاء کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جن کو صرف نبی ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں اس کے متعلق کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں ۔ حضرت عبداللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھا کہ (۱) بچہ اپنا باپ یا ماں کے کیسے مشابہ ہوتا ہے؟ (۲)اول شے کون سی لوگوں کو اکٹھا کرے گی؟ (۳) جنت میں سب سے پہلے کون سی شے کھائی جائے گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ہے کہ حضرت عبداللہ نے عرض کی: یہ یہود کا دشمن ہے‘ یعنی حضرت جبریل ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہر حال (۱) ہر بچہ ماں یا باپ کے کیسے مشابہ ہوتا ہے تو وہ یہ کہ اگر مرد کا پانی غالب ہو تو بچہ مرد کے مشابہ ہوتا ہے اگر عورت کا پانی غالب ہو تو ماں کے مشابہ ہوتا ہے (۲) سب سے پہلے لوگوں کو جو شے اکٹھی کرے گی وہ آگ ہو گی جو مشرق کی جانب سے آئے گی اور لوگوں کو مغرب کی طرف اکٹھا کر دے گی ۔ سب سے پہلے جنتی لوگ جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ حضرت عبداللہ اسلام لے آئے،عرض کی : یا رسول اللہ ! یہود بہتان باز قوم ہے! اگر انہوں نے میرے اسلام کے متعلق سنا تو مجھ پر بہتان لگائیں گے‘ میرے متعلق باتیں کریں گے ‘مجھے رسوا کر یں گے‘ ان کی طرف کسی کو بھیجیں اور ان سے میرے متعلق پوچھیں ۔ آپ نے ان کی طرف کسی کو بھیجا‘ ان کو بتایا ‘اس نے کہا: تم میں عبداللہ بن سلام کیسے آ دمی ہیں؟ کہنے لگے: ہم میں بہتر ہیں اور بہتر کے بیٹے ہیں‘ ہمارے سردار ہیں‘ اور سردار کے بیٹے ہیں‘ ہمارے عالم اور عالم کے بیٹے ہیں ۔ اس نے کہا: اگر تم کو بتایا جائے کہ وہ ایمان لایا ہے تو تم ایمان لاؤ گے؟ انہوں نے کہا: اللہ ہم کو اس سے بچائے! اس نے ایسے کیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن سلام ! ان کی طرف جاؤ! حضرت ابن سلام نکلے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ ہم میں برا ہے اور برے کا بیٹا ہے وہ ہم میں جاہل ہے اور ہمارے جاہل کا بیٹا ہے۔ ابن سلام نے عرض کی : یارسول اللہ! میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ لوگ بہتان باز ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثابت و حميد ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3414

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3415

3415 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا أبو رجاء الكلبي عن ثابت البناني Y عن أنس أن النساء أتين النبي صلى الله عليه و سلم فقلن : يارسول الله ذهب الرجال بالفضل : يجاهدون ولا نجاهد قال : ( مهنة إحداكن في بيتها تدرك جهاد المجاهدين إن شاء الله ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں‘ عرض کی : یا رسول اللہ !" مرد ہم سے فضیلت لے گئے ، وہ جہاد کرتے ہی ہم جہاد نہیں کرتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں ر ہو تم بھی مجاہدین کے درجہ کو پالوگی ،اگر اللہ نے چاہا۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3415

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3416

3416 - حدثنا نصر بن علي الجهضمي و محمد ابن بحر قالا : حدثنا أبو رجاء روح بن المسيب الكلبي حدثنا ثابت Y عن أنس قال : أتت النساء النبي صلى الله عليه و سلم فقلن يارسول الله ذهب الرجال بالفضل بالجهاد في سبيل الله فما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله قال : ( مهنة إحداكن في بيتها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں، عرض کی : یا رسول اللہ ! مرد ہم سے فضیلت لے گئے ، وہ جہاد کرتے ہی ہم جہاد نہیں کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں ر ہو، تم بھی مجاہدین کے درجہ کو پالوگی ، اگر اللہ نے چاہا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبُو رَجَاءٍ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْكَلْبِيُّ، ← نصر بن علي الجهضمي و محمد ابن بحر

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3416

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3417

3417 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي حدثنا جعفر عن ثابت قال : أحسبه Y عن أنس قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل من الأنصار يعوده فوافقه وهو في الموت فسلم عليه فقال : ( كيف تجدك يا فلان ؟ ) قال : بخير يارسول الله : أرجو الله وأخاف ذنوبي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لم يجتمعا في قلب رجل عند هذا الموطن إلا أعطاه الله مارجاه وآمنه مما خاف )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لیے آئے ۔ اس کو قریب المرگ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سلام کیا ۔ فرمایا: تُو کیسا ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! بہتر ہوں۔ میں اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کا امیدوار بھی ہوں اور اپنے گناہوں کے متعلق ڈرتا بھی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خصوصاً اس موقع پہ یہ دونوں چیز یں کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہوتی ہیں مگر اللہ عز وجل اس کو عطا کر دیتا ہے، جس کی اُسے امید ہوتی ہے‘ اسے خوف سے امن دیتا ہے۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3417

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3418

3418 - حدثنا الحسن بن حماد الكوفي حدثنا إسحاق بن منصور السلولي عن عمارة بن زاذان عن ثابت Y عن أنس بن مالك أن ملك ذي يزن أهدى إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حلة اشتريت بثلاثة وثلاثين بعيرا K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ذی یزن کے بادشاہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ ہدیہ دیا، جس سے بتیس اونٹ خریدے جا سکتے تھے۔

ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ← الحسن بن حماد الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3418

chevron_left Previous
1…111213…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter