Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3395

3395 - حدثنا أبو موسى حدثنا زكريا بن يحيى ابن عمارة الذارع قال : سمعت ثابتا يحدث Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يوم الخندق : ( ( اللهم لولا أنت ما اهتدينا ولا صمنا ولا صلينا ) . ( فأنزلن سكينة علينا ) ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ روزے رکھتے نہ نماز پڑھتے‘ ہم پر سکینہ نازل فرما۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتًا ← زكريا بن يحيى ابن عمارة الذارع ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3395

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3396

3396 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن أخت الربيع أم حارثه جرحت إنسانا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( القصاص [ القصاص ] ) فقالت أم الربيع : يارسول الله أيقتص من فلانه ؟ لا والله لا يقتص منها [ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( سبحان الله يا أم الربيع ! القصاص كتاب الله ) قالت : لا والله لا يقتص منها أبدا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ] : إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع رضی اللہ عنہ کی بہن ام حارثہ نے کسی آدمی کو قتل کر دیا‘ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: قصاص‘ قصاص! حضرت ام ربیع نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے فلانی سے قصاص لیا تھا؟ نہیں لیا تھا‘ اللہ کی قسم! اس سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک ہے! اے ام ربیع قصاص کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ حضرت ام ربیع نے عرض کی: نہیں! اللہ کی قسم! اس سے ہمیشہ قصاص نہیں لیا جائے گا ۔ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو اللہ پر قسم اٹھا لیں اللہ ان کی قسم پوری کرتا ہے ۔

أنس أن أخت الربيع أم حارثة جرحت إنسانا ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3396

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3397

3397 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد عن ثابت Y أنهم قالوا لأنس : ادع لنا فقال : اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار قالوا : زدنا فأعادها قالوا : زدنا قال : ما تريدون ؟ سألت لكم خير الدنيا والآخرة قال أنس : فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكثر أن يدعو ( اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ) K إسناده صحيح

حضرت ثابت رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : ہمارے لیےدعا کریں ، آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی : اے اللہ! ہم کو دنیا اور آخرت میں اچھائی عطا فرما اور ہم کو عذاب قبر سے محفوظ رکھ ۔ انہوں نے عرض کی : اور زیادہ دعا کر یں آپ رضی اللہ عنہ نے دو بار ہ وہی دعا کی ۔ انہوں نے عرض کی : اور زیادہ کر یں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو میں نے تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگی ہے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم اکثر یہ دعا کرتے تھے۔

مَا تُرِيدُونَ؟ سَأَلْتُ لَكُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ← زدنا ← زِدْنَا، فَأَعَادَهَا؛ ← اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ← لأنس ادع لنا ← ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3397

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3398

3398 - حدثنا شيبان حدثنا عمارة بن زاذان حدثنا ثابت البناني Y عن أنس أن أبا طلحة كان له ابن يكنى أبا عمير قال : فكان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( أبا عمير ما فعل النغير ؟ ) قال : فقبض و أبو طلحة غائب في بعض حيطانه فهلك الصبي فقامت أم سليم فغسلته وكفنته وسجت عليه ثوبا وقالت : لا يكون أحد يخبر أبا طلحة حتى أكون أنا الذي أخبره فجاء أبو طلحة كالا وهو صائم فتطيبت له وتصنعت له وجاءت بعشائه فقال : ما فعل أبو عمير ؟ قالت : قد فرغ فتعشى وأصاب منها ما يصيب الرجل من امرأته فقالت : يا أبا طلحة أرأيت أهل بيت أعاروا أهل بيت عارية فطلبها أصحابها أيردونها أم يحبسونها ؟ قال : بل يردونها عليهم . فقالت : أحتسب أبا عمير قال : فغضب فانطلق كما هو إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بقول أم سليم وفعلها فقال : ( بارك الله لكما في غابر ليلتكما ) . قال فحملت بعبد الله بن أبي طلحة حتى إذا وضعته كان يوم السابع قالت لي أم سليم : يا أنس اذهب بهذا الصبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهذا المكتل فيه شيء من عجوة حتى يكون هو الذي يحنكه ويسميه فمد النبي صلى الله عليه و سلم رجليه وأضجعه في حجره وأخذ تمرة فلاكها في في الصبي فجعل الصبي يتلمظ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أبت الأنصار إلا حب التمر ) K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا‘ اس کی کنیت ابوعمیرتھی، حضور صلی اللہ آلہ وسلم اس کو فرماتے تھے: اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا ہوا؟ ، حضرت ابوعمیر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کسی باغ میں گئے ہوئے تھے تو بچہ فوت ہو گیا‘ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور اس کو غسل دیا اور اس کو کفن دیا ‘اس کو ایک کپڑے سے لپیٹ دیا اور کہا: ابوطلحہ کو کوئی نہ بتائے! حتیٰ کہ میں خود اسے خبر دوں گی‘ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تھکے ماندے آئے‘ وہ روزہ کی حالت میں تھے‘ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے خوشبو لگائی‘ بناؤ سنگھار کیا‘ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کیلئے رات کا کھانا لائیں ‘انہوں نے فرمایا: ابو عمیر کا کیا حال ہے؟ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ فارغ ہے! حضرت ابوطلحہ نے اُم سلیم سے جماع کیا‘ جب جماع کر کے فارغ ہوئے تو اُم سلیم نے کہا: اے ابوطلحہ! آپ بتائیں کہ اگر ایک گھر والے کسی اہل خانہ کو کوئی شی عار یتاً دیں پھر وہ واپس مانگیں تو کیا وہ واپس کریں گے یا اسے روک لیں گے؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ وہ ان کو واپس کر یں گے۔ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوعمیر کے متعلق ثواب کی نیت سے اللہ کی رضا پر راضی ہوں ۔ حضرت ابوطلحہ کو غصہ آیا اور اسی حالت میں وہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اُم سلیم کی بات اور رات کو جو جماع کیا اس کے متعلق بتایا ‘آپ نے فرمایا: جوتم نے رات کو کیا‘ اللہ اس میں برکت دے! حضرت اُم سلیم‘ عبداللہ بن ابوطلحہ کے ساتھ حاملہ ہوئیں‘ جب انہوں نے اسے جنا تو مجھے ُام سلیم نے کہا: اے انس! اس بچے کو حضور صلی اللہ آلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤ!یہ شیشی ہے اس میں عجوہ کھجور ہے‘ اس کو آپ صلی اللہ آلہ وسلم سے گھٹی بھی دلوانا اور نام بھی رکھوانا ہے ۔حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے اس کے دونوں پاؤں سے پکڑا‘ اس کو اپنی گود میں رکھا اور کھجور پکڑی اسے اپنے منہ میں چبایا اور بچے کے منہ میں رکھی‘ وہ بچہ اس کا ذائقہ لینے لگا‘ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: انصار کھجور سے ہی محبت کرتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3398

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3399

3399 - حدثنا شيبان حدثنا عمارة حدثنا ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يعجبه الدباء وهو القرع K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم پیالہ میں کدو کو پسند کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةَ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3399

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3400

3400 - حدثنا شيبان حدثنا عمارة حدثنا ثابت Y عن أنس قال : ما مسست بكفي ذي شيئا ألين من كف رسول الله صلى الله عليه و سلم : حريرا ولاعنبرة - وأشياء ذكرها لا أحفظها - وما وجدت رائحة أطيب من رائحة رسول الله صلى الله عليه و سلم . وصحبته عشر سنين فما قال لي لشيء قط : لم صنعت كذا وكذا ؟ K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کی ہتھیلی کو نہیں چھوا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو ‘ریشم‘ عنبرہ اور ایسی شی ذکر کی جو مجھے یاد نہیں ہے‘ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے آنے والی خوشبو سے زیادہ خوشبو نہیں پائی‘ میں دس سال آپ کی صحبت میں رہا ہوں‘ مجھے آپ نے کسی شی کے متعلق اُف تک نہیں کہا کہ تُو نے یہ کیوں نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةَ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3400

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3401

3401 - حدثنا شيبان حدثنا عمارة حدثنا ثابت Y عن أنس أن المؤذن - أو بلال - كان يقيم فيدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فيستقبله الرجل فيقوم معه حتى يخفق عامتهم برؤوسهم K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مؤذن یا حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت پڑھ رہے تھے ‘اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے آپ کے سامنے ایک آ دمی آیا‘ آپ اس کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ عام صحابہ کرام اپنے سروں کو نیند کی وجہ سے جھٹکنے لگے ۔

ثَابِتٍ، ← عُمَارَةَ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3401

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3402

3402 - حدثنا شيبان حدثنا عمارة بن زاذان حدثنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : استأذن ملك القطر ربه أن يزور النبي صلى الله عليه و سلم فأذن له وكان في يوم أم سلمه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( يا أم سلمه احفظي علينا الباب لا يدخل علينا أحد ) قال : فبينما هي على الباب إذ جاء الحسين بن علي فاقتحم ففتح الباب فدخل فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يلتزمه ويقبله فقال الملك : أتحبه ؟ قال ( نعم ) قال : إن أمتك ستقتله إن شئت أريتك المكان الذي تقتله فيه قال : ( نعم ) قال : فقبض قبضة من المكان الذي قتل به فأراه فجاء سهلة أو تراب أحمر فأخذته أم سلمة فجعلته في ثوبها . قال ثابت : فكنا نقول : إنها كربلاء K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بارش برسانے والے فرشتے نے رب تعالیٰ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے اجازت مانگی ۔ اس کو اجازت دی گئی ۔ وہ دن ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! ہمارے دروازے پر حفاظت کرو ہمارے پاس کوئی نہ آئے ۔ میں اس حالت میں تھی ، دروازے کے پاس اچا تک امام حسین رضی اللہ عنہ تعریف لائے ، دروازہ کھولا، اندر داخل ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور بوسہ لیا۔ پھر اس فرشتے نے عرض کی : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت عنقریب اس کوقتل کر دے گی ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چا ہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دوں جس جگہ آپ کے اس لخت جگر کو قتل کیا جائے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے ، اس فرشتے نے اس جگہ سے ایک مٹی کی مٹھی لی جو آپ کو دکھائی ، جس جگہ آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جاتا تھا، وہ مٹی سرخ ، تھی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں رکھ لی ، حضرت ثابت رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ وہ کر بلا کی جالی تھی ۔

اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3402

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3403

3403 - حدثنا قطن بن نصير الغبري حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا ثابت Y عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها حتى يسأله شسع نعله إذا انقطع ) K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رب تعالیٰ سے ہرقسم کی ضروریات مانگو، یہاں تک کہ اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا ہو تو وہ بھی مانگو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قطن بن نصير الغبري

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3403

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3404

3404 - حدثنا قطن بن نسير حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا ثابت Y عن أنس قال : آخى رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أصحابه : آخى بين سلمان و أبي الدرداء وآخى بين عوف بن مالك وبين صعب بن جثامة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3404

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3405

3405 - حدثنا معاذ بن شعبة بصري حدثنا عثمان بن مطر عن ثابت Y عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أحسنوا جوار نعم الله لا تنفروها فقلما زالت عن قوم فعادت إليهم ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نعمتوں کی قدر کیا کرو، اس سے بے رغبتی نہ کیا کرو بہت کم لوگ ایسے ہیں جن سے نعمتیں لے کر ان کو واپس کی گئی ہوں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عثمان بن مطر ← معاذ بن شعبة بصري

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3405

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3406

3406 - حدثنا إبراهيم النيلي حدثنا صالح يعني المري عن ثابت Y عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( عمار بيوت الله هم أهل الله ) K إسناده ضعيف جدا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے گھروں کو آباد کرنے والے ہی اللہ والے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح يعني المري ← إبراهيم النيلي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3406

chevron_left Previous
1…101112…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter