Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2926

2926 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة حدثنا أنس Y أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : [ يقال ] للرجل يوم القيامة : أرأيت لو كان لك ملء الأرض ذهبا أكنت تفتدي به ؟ قال : نعم قال : فيقال له : قد سئلت أيسر من ذلك K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک مرد سے کہا جائے گا، تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے پاس پوری زمین کا سونا ہو تو کیا اس کا فدیہ دے دے گا، اس عذاب سے بچنے کے لیے؟ وہ کہے گا: جی ہاں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کہا جائے گا کہ تجھ سے (دنیا میں ) اس سے بہت کم کا سوال کیا گیا تھا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2926

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2927

2927 - حدثنا عبيد الله حدثنا معاذ بن هشام و أبو عامر العقدي جيمعا قالا : حدثنا هشام عن قتادة عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يخرج من النار من قال : لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة ثم يخرج من النار من قال : لا إله إلا الله وكان في قلبه ما يزن ذرة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو جہنم سے نکال دیا جائے گا جس نے کہا: لا الہ الا اللہ اور اس کے دل میں ایک دانے کے وزن برابر بھی نیکی ہو پھر اس کو بھی جہنم سے نکال دیا جائے گا‘ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی نیکی ہو۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← معاذ بن هشام و أبو عامر العقدي جيمعا ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2927

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2928

2928 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حرمي بن عمارة حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل نبي دعوة دعا بها وإني ادخرت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو کہ ہر کسی نے دعا کر لی ہے اور میں نے اس کو قیامت کے دن اپنی اُمت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2928

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2929

2929 - حدثنا عبيد الله حدثنا حرمي بن عمارة حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال Y انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند شق ہوا تھا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2929

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2930

2930 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن قتادة عن أنس Y في قوله : { اقتربت الساعة وانشق القمر } [ القمر : 1 ] قال : قد انشق زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت قتادہ رحمتہ اللہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ’’اقتربت الساعة وانشق القمر ‘‘حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند کو شق کیا تھا۔

قد انشق زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم إسناده صحيح ← أنس في قوله اقتربت الساعة وانشق القمر القمر ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2930

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2931

2931 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الأعلى قال : حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قال Y ألا أحدثكم بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ يقول : من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويظهر الجهل ويشرب الخمر ويفشو الزنى ويقل الرجال ويكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کیا میں تم کو ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور یہ حدیث میرے بعد تم کسی سے بھی نہیں سنو گے ۔ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت عام ہو جائے گی ، شراب کھلم کھلا پی جائے گی ، زنا عام ہو جائے گا ، مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں بہت زیادہ ہو جائیں گی ، اتنی زیادہ کہ ایک مرد پچاس عورتوں کے لیے ہو گا ۔

من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ألا أحدثكم بحديث ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2931

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2932

2932 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا يزيد بن زريع : قال سعيد : حدثنا قتادة عن أنس بن مالك Y نزلت هذه الآية على النبي صلى الله عليه و سلم { إنا فتحنا لك فتحا مبينا } [ الفتح : 1 ] مرجعه من الحديبية ونزلت وأصحابه مخالطون الحزن وحيل بينهم وبين نسكهم ونحروا الهدي بالحديبية فلما نزلت هذه الآية ال لأصحابه : لقد أنزلت علي آية خير من الدنيا جميعا فلما تلاها نبي الله صلى الله عليه و سلم قال رجل من القوم : هنيئا مريئا يا نبي الله قد بين الله لنا ما يفعل بك فماذا يفعل بنا ؟ فأنزل الله بعدها : { ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار } [ الفتح : 5 ] K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی:’’انا فتحنالك فتحا مبینا ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوٹنا حدیبیہ سے تھا‘ اس حال میں نازل ہوئی کہ آپ کے صحابہ پریشان تھے‘ ان کے اور عمرہ کے احکامات ادا کرنے میں رکاوٹ آ چکی تھی‘ انہوں نے اپنی قربانیاں حدیبیہ کے مقام پر ہی ذبح کر لی تھیں ۔ پس جب آیت نازل ہوئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: مجھ پر وہ آیت نازل ہوئی ہے جو پوری دنیا سے بہتر ہے‘ پس جب آپ نے اس کو تلاوت کیا تو صحابہ میں سے ایک نے عرض کی: مبارک ہو! اے اللہ کے نبی ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیے جانے والے اچھے سلوک کو تو واضح کر دیا ہے لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک فرمائے گا (اس نے اس کو بیان نہیں کیا ) پس اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ليدخل المؤمنين الیٰ آخرہ‘‘۔ حضرت

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2932

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2933

2933 - حدثنا هريم بن عبد الأعلى أبو حمزة الأسدي حدثنا المعتمر قال : سمعت أبي يحدث عن قتادة عن أنس قال Y كان عامة وصية رسول الله صلى الله عليه و سلم حين حضره الموت الصلاة وما ملكت أيمانكم حتى جعل يغرغرها ـ أو يغرغر بها ـ في صدره وما يفيض بها لسانه K إسناده صحيح

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عام وصیت جس وقت آپ کے وصال کا وقت قریب آیا وہ یہ تھی کہ نماز (ادا کیا کرو) اور جو تمہارے غلام ہیں ان سے اچھا سلوک کیا کرو یہاں تک کہ آپ کے سینے مبارک سے آواز آنے لگی یا آپ کی زبان اس سے چلنے لگی ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← هريم بن عبد الأعلى أبو حمزة الأسدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2933

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2934

2934 - حدثنا أبو حمزة هريم حدثنا معتمر عن أبيه حدثنا قتادة عن أنس بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : إني لأتوب في اليوم سبعين مرة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک دن میں ۷۰ مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔

إني لأتوب في اليوم سبعين مرة إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← أبو حمزة هريم

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2934

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2935

2935 - حدثنا محمد بن المنهال الضرير حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يرفع يديه في شيء من الدعاء إلا في الاستسقاء فإنه كان يرفع يديه حتى يرى بياض أبطيه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعاؤں میں سے کسی دعا میں اتنے زیادہ ہاتھ بلند نہ کرتے تھے جتنے کہ بارش طلب کرنے کے لیے دعا میں ہاتھ بلند کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استسقاء میں اس قدر ہاتھ بلند کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغلوں مبارک کی سفیدی ظاہر ہو جاتی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2935

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2936

2936 - حدثنا عمرو محمد الناقد حدثنا سليمان ابن عبيد الله أبو أيوب الرقي حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي عن معمر عن قتادة عن أنس بن مالك قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ينتعل الرجل قائما K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← سليمان ابن عبيد الله أبو أيوب الرقي ← عمرو محمد الناقد

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2936

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2937

2937 - حدثنا عبد الواحد بن غياث و سعيد بن أبي الربيع ـ وهذا لفظ عبد الواحد ـ قالا : حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن أنس Y أن ثلاثة انطلقوا يرتادون لأهليهم فأخذتهم السماء فوقع عليهم حجر متجاف حتى ما يرون منه خصاصة فقال بعضهم : قد وقع الحجر وعفا الأثر ولا يعلم مكانكم إلا الله فادعوا الله بأوثق أعمالكم قال : فقال رجل : اللهم إنك تعلم أنه كان لي والدان فكنت أحلب لهما في إنائهما فإذا وجدتهما راقدين قمت على رؤوسهما حتى يستيقظا متى استيقظا كراهية أن أراد وسنهما في رؤوسهما اللهم إن كنت تعلم أني إنما فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك فافرج عنا قال : فزال ثلث الحجر . وقال الثاني : اللهم إن كنت تعلم أنه أعجبتني امرأة ـ وأنه جعل لها بدلا فلما قدر عليها وفر لها جعلها وسلم لها نفسها ـ اللهم إن كنت تعلم أنما فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك فافرج عنا : قال : فزال ثلثا الحجر . وقال الآخر : اللهم إنك تعلم أني استأجرت أخيرا على عمل يعمله لي فأتى يطلب أجره وأنا غضبان فزبرته فذهب وترك أجره فجمعته له وثمرته حتى كان منه كل المال فأتاني يطلب أجره فأعطيته ذاك كله ولو شئت لم أعطه إلا أجره الأول اللهم إن كنت تعلم إني فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك فافرج عنا قال : فزال الحجر وخرجوا يمشون K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک تین آدمیوں کا گروہ چلا اپنے اہل وعیال کے لیے رزق کی تلاش میں ان کو آسمان نے پکڑ لیا (تیز بارش آ گئی) تو اچانک ان پر ایک پتھر گرا جو بہت بڑا تھا حتٰی کہ وہ اس پتھر کی وجہ سے کچھ بھی نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے کہا کہ پتھر آگے آ گیا ہے، ہمارا نشان بھی ختم ہو گیا ہے اور تمہارے اس جگہ موجود ہونے کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا ۔ تو اب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اپنے کسی نیک عمل کے طفیل ۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی بولا : اے اللہ ! بے شک تو جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے، میں ان کے لیے برتن میں دودھ لایا کرتا تھا میں نے ان کوسو یا ہوا پایا تو میں ان دونوں کے سرہانے کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ وہ دونوں بیدار ہوں تو میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا کہ کہیں ان کے آرام میں خلل نہ ہو اور میں ان کے سر میں دوبارہ نیند نہیں ڈال سکتا ۔ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ یہ جو میں نے عمل کیا ہے صرف اور صرف تیری رحمت کی امید اور بڑے عذاب کے ڈر سے کیا ہے، ہم کو اس تکلیف سے خلاصی نصیب فرما۔ راوی کہتے ہیں: پھر تیسرا حصہ ہٹ گیا۔ اور دوسرے نے کہا: اے اللہ! بے شک تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور اجرت پر رکھا تھا جو میرے لیے کام کرتا تھا ایک دن وہ آیا اور اپنی مزدوری کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا اور میں اس وقت غصے کی حالت میں تھا ، میں نے اس کو جھڑک دیا وہ چلا گیا اور اپنی مزدوری بھی چھوڑ گیا ، میں نے اس کو جمع کر لیا اور اس سے منافع کمایا حتٰی کہ میرے پاس ہر قسم کا مال ہو گیا۔ پھر ایک دن وہ آیا اور اپنی مزدوری کا مطالبہ کرنے لگا تو میں نے اس کو (اس کی مزدوری سے کمایا گیا ) سارا مال دے دیا اگر میں چاہتا تو میں اس کو صرف پہلی مزدوری ہی دیتا۔اے اللہ! تو جانتا ہے کہ یہ میں نے تیری رحمت کی امید اور تیرے عذاب کے خوف سے کیا ہے تو ہماری اس تکلیف کو ہم سے دور فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ پتھر دوسرا حصہ ہٹ گیا۔اور تیسرے نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے ایک خاتون بہت اچھی لگتی تھی ایک دن اس نے بدل مقرر کیا پھر جب میں اس پر قادر ہو گیا اور اس کو اس کا بدل بھی دے دیا تھا تو اس نے اپنا نفس مجھے سونپ دیا (یعنی اس نے مجبور ہوکر ایک دن کچھ عوض کا مطالبہ کیا اور جب وہ عوض ادا کر چکا اور بالکل اس کی شرمگاہ کے قریب تھا کہ اچانک اس کو چھوڑ دیا ) اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رحمت کی امید اور تیرے عذاب کے خوف سے کیا تو ہم سے اس تکلیف کو دور کر اور ہم سے کھول دے۔ راوی کہتے ہیں کہ پتھر بالکل ہٹ گیا وہ سارے نکل گئے اور اپنے راستے پر چل پڑے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عبد الواحد بن غياث و سعيد بن أبي الربيع وهذا لفظ عبد الواحد

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2937

chevron_left Previous
1…789…32
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter