Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2914

2914 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن أنس Y أن نبي الله صلى الله عليه و سلم حدث لما عرج به إلى السماء قال : أتيت على إدريس في السماء الرابعة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب آسمانوں پر معراج کے لیے لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آیا۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2914

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2915

2915 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام حدثنا . حماد بن سلمة حدثنا قتادة و ثابت و حميد عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي بهم فجاء رجل فدخل في الصلاة وقد حفزه النفس فقال : الله أكبر الحمد لله حمدا كثيرا مباركا طيبا مباركا فيه فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاته قال : أيكم المتكلم بالكلمات ؟ فأرم القوم فقال : أيكم المتكلم بالكلمات ؟ فإنه لم يقل بأسا فقال الرجل : أنا يا رسول الله جئت وقد حفزني النفس فقلتهن فقال : لقد رأيت اثني عشر ملكا ابتدروها أيهم يرفعها K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو ایک آدمی آیا‘ وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور کہنے لگا کہ اللہ بہت بڑا ہے، سب خوبیاں اور حمدیں اللہ جل جلالہ کے لیے ہیں‘ ایسی حمدیں جو بہت کثیر ہیں پاک ہیں بابرکت ہیں پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ( نماز سے فارغ ہوئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کو ادا کرنے والا کون ہے؟ اس نے کوئی برا نہیں کیا ۔ تو اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، میں آیا تھا ، میری سانسیں پھولی ہوئی تھیں تو میں نے یہ کلمات کہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بے شک ( ۱۲ ) بارہ فرشتوں کو دیکھا وہ سارے جلدی کر رہے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے رہے تھے کہ ان میں ان کو اوپر لے کر بلند ہو۔

أَنَسٍ، ← قتادة و ثابت و حميد ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبد الرحمن بن سلام

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2915

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2916

2916 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبدة عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا : وعليكم K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اہل کتاب تم کو سلام کہے تو تم کہا کرو: وعلیکم اور تم پر ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدَةُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2916

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2917

2917 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن بشر العبدي عن سعيد عن قتادة عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يمنعكم أذان بلال عن السحور فإن في بصره شيئا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تمہیں بلال کی اذان سحری سے نہ روکے، بے شک اس کو آنکھوں میں کوئی مسئلہ ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2917

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2918

2918 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن أنس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما بال أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في صلاتهم ؟ فاشتد قوله في ذلك حتى قال : لينتهن عن ذلك أو لتحفطن أبصارهم K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا حال ہے اس قوم کا جو اپنی نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا لیتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں سختی فرمائی حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ اس سے رُک جائیں کہیں ان کی آنکھیں اُچک نہ لی جائیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2918

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2919

2919 - حدثنا أبو بكر حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى لحما فقال : ما هذا ؟ فقالوا : تصدق به على بريرة فقال : هو لها صدقة وهو لنا هدية K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوشت دیکھا تو فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ بریرہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خادمہ تھیں ) پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2919

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2920

2920 - حدثنا أبو بكر حدثنا يزيد بن هارون عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس Y أن أم سليم سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رأت المرأة ذلك الماء فأنزلت فعليها الغسل فقالت أم سليم : يا رسول الله يكون هذا ؟ قال : نعم ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيما سبق أو علا أشبهه الولد K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک سیدہ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اس عورت کے بارے میں جو خواب میں وہ دیکھے جومرد دیکھتا ہے(احتلام وغیرہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت پانی دیکھے اور اس کو انزال ہو گیا ہو تو اس پر غسل واجب ہے تو اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( عورت کو بھی ) یہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور پیلا ہوتا ہے ۔ان پانیوں میں سے جو بھی سبقت لے جائے یا بلند ہو تو بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ ← أنس أن أم سليم سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2920

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2921

2921 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك Y أن عصية و ذكوان و بني لحيان أتوا النبي صلى الله عليه و سلم فاستمدوه ـ وقد أسلموا ـ على عدوهم فأمدهم بسبعين من الأنصار كان يسمون القراء كانوا يحتطبون بالنهار ويصلون بالليل حتى إذا كانوا ببئر معونة قتلوهم فقنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا يدعو عليهم K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک عقبہ، ذکوان اور بنو لحیان نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا اور اپنے دشمن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار میں سے (۷۰) قراء کے ساتھ مدد فرمائی ان سارے حضرات کو قرآء کہا جاتا تھا وہ دن کے وقت لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کے وقت نماز پڑھتے تھے حتٰی کہ جب وہ سارے بئر معونہ پر آئے تو انہوں نے ان سب کو شہید کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا مہینہ دعائے قنوت پڑھی اور ان کے خلاف دعا فرمائی ۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2921

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2922

2922 - حدثنا أبو بكر حدثنا زيد بن الحباب عن علي بن مسعدة حدثنا قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری اولاد ِآدم خطا کرنے والی ہے اور سب سے بہتر خطا کرنے والے وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2922

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2923

2923 - حدثنا أبو بكر حدثنا زيد بن الحباب عن علي ين مسعدة حدثنا قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإسلام علانية والإيمان في القلب ـ ثم يشير بيده إلى صدره ـ التقوى ها هنا التقوى ها هنا K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام علانیہ ہوتا ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینے مبارک کی طرف اشارہ فرما کے فرمایا: تقویٰ یہاں ہوتا ہے، تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← علي ين مسعدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2923

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2924

2924 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حرمي حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعجبه الدباء قال : فرأيته يوما يأكل طعاما فيه دباء فكنت أقربه إليه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدوشریف بہت پسند فرمایا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن ان کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا کھا رہے تھے اور اس میں کدو تھے تو میں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرتا جاتا۔

فرأيته يوما يأكل طعاما فيه دباء فكنت أقربه إليه إسناده صحيح ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعجبه الدباء ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيٌّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2924

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2925

2925 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حرمي بن عمارة حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعثت أنا والساعة كهاتين قال أبو سعيد بإصبعيه : السبابة الوسطى K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح مبعوث ہوئے ہیں ۔ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شہادت والی اور درمیان والی بڑی انگی دونوں کو جمع فرما کا اشارہ کیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2925

chevron_left Previous
1…678…32
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter