Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2890

2890 - حدثنا هدبة حدثنا همام عن قتادة قال Y كنا نأتي أنسا وخبازه قائم فقال : كلوا فما أعلم رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رغيفا مرققا ولا شاة سميطا بعينه قط حتى لحق بالله عز و جل K إسناده صحيح

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اس حالت میں نانبائی آپ کے پاس کھڑا تھا‘ آپ نے فرمایا: کھاؤ! میں نہیں جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نرم روٹی دیکھی ہو یا بھونی ہوئی بکری‘ اپنی آنکھ سے دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ عزوجل سے جا ملے ۔

كنا نأتي أنسا وخبازه قائم ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2890

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2891

2891 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن ينبذ التمر والزبيب جميعا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور اور کشمش دونوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2891

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2892

2892 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة حدثنا أنس بن مالك أنه قال يوما Y لأحدثنكم بحديث لا يحدثكم به أحد بعدي سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تقوم الساعة ـ أو قال : من أشراط الساعة ـ أن يرفع العلم ويظهر الجهل ويشرب الخمر ويظهر الزنى ويقل الرجال ويكثر النساء حتى يكون للخمسين امرأة القيم الواحد K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک انہوں نے ایک دن کہا کہ میں تم کو ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں کہ میرے بعد کوئی بھی وہ حدیث بیان نہیں کرے گا۔ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا ، جہالت ظاہر ہو جائے گی ،شراب سر عام پی جائے گی ، زنا عام ہو جائے گا، مرد کم ہو جائیں گے،عورتیں زیادہ ہو جائیں گی اتنی زیادہ کہ پچاس عورتوں کے لیے ایک مرد ہو گا ( راوی کو شک ہے کہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہیں )۔

لا تقوم الساعة أو ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← يوما لأحدثنكم بحديث لا يحدثكم به أحد بعدي ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2892

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2893

2893 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة قال : سألت أنسا Y هل خضب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لم يبلغ ذلك إنما كان شيبه في صدغيه ولكن أبا بكر و عمر خضبا بالحناء والكتم K إسناده صحيح

حضرت قتادہ رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خضاب لگانے کی ضرورت نہیں ہوئی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک میں کنپٹیوں کے پاس کچھ بال سفید تھے، ہاں لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہندی اور زرد رنگ کا خضاب استعمال فرماتے تھے۔

سألت أنسا هل خضب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2893

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2894

2894 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة عن أنس بن مالك Y أن رجلا رفع إلى النبي صلى الله عليه و سلم قد سكر فأمر قريبا من عشرين رجلا فضربوه بالجريد والنعال ثم رفع إلى أبي بكر قد سكر فجلده أربعين فلما ولي عمر وأدمن الناس في الخمر فاستشار الناس فقال عبد الرحمن : أرى أن تجعله وانقطع على أبي يعلى حرف أحسبه قال : ثمانين K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے بے شک ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس حال میں حاضر کیا گیا کہ اس نے شراب پی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقریبا ۲۰افراد سے فرمایا کہ اس کو مارو تو انہوں نے اس کو اپنے جوتوں اور کھجور کی چھٹریوں وغیرہ سے مارا۔ پھر اسی طرح ایک بندے کو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ اس نے شراب پی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ۴۰ کوڑے مروائے پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا لوگوں میں شراب کی سزا مقرر کرنے لگے‘ اس سلسلے میں آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ چاہے اس کو مقرر کریں ۔ مصنف فرماتے ہیں کہ مجھے وہ لفظ مکمل یاد نہیں رہا مگر میرا غالب گمان ہے کہ راوی سے (۸۰) کا ہندسہ ہی کہا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2894

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2895

2895 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة عن أنس أنه قال Y شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أصحابه عند الزوراء ـ أو قال عند بيوت المدينة ـ فأراد الوضوء فأتي بقعب فيه ماء يسير فوضع على القعب فجعل الماء ينبع الماء ينبع من بين أصابعه حتى توضأ القوم كلهم . قلت لأنس : كم كنتم ؟ قال : زهاء ثلاث مئة K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوراء کے مقام پر یا راوی نے کہا کہ مدینہ شریف کے گھروں کے پاس ہی تھے اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس کے اندر تھوڑا سا پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالے پر اپنا دست نبوت رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا۔ اتنا پانی یہاں تک کہ ساری کی ساری قوم نے وضو کر لیا۔ راوی (حضرت قتادہ رحمتہ اللہ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے اس وقت کتنے لوگ تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو افراد۔

شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أصحابه عند الزوراء أو ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2895

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2896

2896 - حدثنا هدبة حدثنا همام حدثنا قتادة عن أنس Y أن أم سليم بعثت معه بشيء ـ سماه همام ـ فيه رطب إلى النبي صلى الله عليه و سلم فجعل يقبض القبضة فيبعث بها إلى بعض أزواجه ويقبض القبضة وإنه ليشتهيه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوئی شی بھیجی (ہمام نے اس میں اس کا نام رکھا ) کہ تر کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹھی بھرنے اور ازواج کے ہاں بھیجنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت ہی چاہت سے مٹھی بھر تے تھے۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2896

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2897

2897 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن قتادة عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من البرص والجذام والجنون وسيء الأسقام K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں برص سے، خارش سے، پاگل پن سے اور بری بری بیماریوں سے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Hadith 2897

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2898

2898 - حدثنا نافع بن خالد الطاحي حدثنا نوح بن قيس عن خالد بن قيس عن قتادة عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤتى بالموت يوم القيامة كأنه كبش أملح فيوقف بين الجنة والنار ثم ينادي مناد : يا أهل الجنة ؟ فيقولون : لبيك ربنا قال : فيقال : هل تعرفون هذا ؟ فيقولون : نعم ربنا هذا الموت فيذبح كما تذبح الشاة فيأمن هؤلاء وينقطع رجاء هؤلاء

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا وہ ایسے ہو گی جس طرح سرخ وسفید مینڈھا۔ اس کو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر ایک ندا دینے والا ندا دے گا: اے جنتیو! وہ کہیں گے : ہم حاضر ہیں ! اے ہمارے رب! ان سے کہا جائے گا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ عرض کریں گے: جی ہاں! ہمارے رب! یہ موت ہے۔ تو اس کو پھر ذبح کر دیا جائے گا جس طرح کہ بکری کو ذبح کیا جاتا ہے۔ تو یہ لوگ اہل جنت امن میں ہو جائیں گے کہ اب ہم مریں گے نہیں اور ان لوگوں ( دوزخیوں ) کی امیدیں منقطع ہو جائیں گی کہ وہ امید کریں کہ انہیں موت آئے اور ہماری تکلیف دور ہو جائے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نافع بن خالد الطاحي

Hadith 2898

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2899

2899 - حدثنا محمد بن عبيد بن حساب حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن أنس بن مالك Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يجمع الله الناس يوم القيامة فليهمون كذلك يقولون : لو استشفعنا على ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا قال : فيأتون آدم فيقولون : يا آدم أبا الخلق خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته فاشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا فيقول : لست هناكم ـ ويذكر خطيئته التي أصاب فيستحي من ربه منها ـ ولكن ائتوا نوحا أول رسول بعثه الله فيأتون نوحا فيقول : لست هناكم ـ ويذكر خطيئته التي أصاب فيستحي من ربه ـ ولكن ائتوا إبراهيم قال فيأتون إبراهيم فيقول : لست هناكم ـ ويذكر خطيئته التي أصاب فيستحيي ربه منها ـ ولكن ائتوا موسى فيأتون موسى فيقول : لست هناكم ـ ويذكر خطيئته التي أصاب فيستحيي ربه منها ـ ولكن ائتوا عيسى روح الله وكلمته قال : فيأتون عيسى فيقول : لست هناكم ولكن ائتوا محمدا عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر قال : فيأتوني فاستأذن فيؤذن لي فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني فيقول : ارفع محمد قل يسمع وسل تعط واشفع تشفع فارفع رأسي فأحمد ربي بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرجهم من النار فأدخلهم الجنة ثم أعود وأقع ساجدا فأحمد ربي بتحميد يعلميه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرجهم من النار فأدخلهم الجنة ثم أعود وأقع ساجدا فأحمد ربي بتحميد يعلمنيه ثم يقال : يا محمد قل يسمع سل تعط اشفع تشفع فأرفع رأسي فأحمد ربي بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرجهم من النار وأدخلهم الجنة وقال في الثالثة أو الرابعة : فلا يبقى في النار إلا من حسبه القرآن قال قتادة : أي وجب الخلود K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع فرمائے گا تو وہ سارے کے سارے گھبرائے ہوئے ہوں گے تو وہ کہیں گے کاش کہ کوئی آج ہماری ، ہمارے رب کے ہاں سفارش کرے اور اس مکان سے ہم نجات پا لیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سارے جناب آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ آ کر کہیں گے، اے آدم ! آپ ساری مخلوق کے باپ ہیں ۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ) سے بنایا ہے اور ملائکہ نے آپ علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا تو آپ علیہ السلام ہمارے لیے اپنے رب کے حضور شفاعت کریں تاکہ اس جگہ سے ہمیں راحت نصیب ہو تو وہ جواباً کہیں گے کہ آج میں اس مقام پر نہیں ہوں اور پھر آپ علیہ السلام اپنی اس بات کا تذکرہ فرمائیں گے جسکے سبب آپ علیہ السلام آزمائے گئے پھر آپ علیہ السلام کو اپنے رب سے حیاء آئے گی اور فرمائیں گے لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ دنیا میں مبعوث ہونے والے پہلے رسول علیہ السلام ہیں تو وہ سارے جناب نوح علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو جناب نوح علیہ السلام فرمائیں گے میں بھی اس مقام ( مقام شفاعت میں) تمہارے ساتھ نہیں ہوں وہ بھی اپنی آزمائش کا تذکرہ کریں گے جس میں مبتلا ہوئے وہ بھی شفاعت کے مقابلے میں اپنے رب سے حیا کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سارے جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے ، وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس مقام شفاعت میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں ، وہ بھی اپنی اس آزمائش کا ذکر فرمائیں گے جس میں مبتلا ہوئے ۔ وہ بھی شفاعت کے معاملے میں اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ کے پاس جاؤ وہ روح اللہ بھی ہیں اور اس کا کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سارے جناب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں ہوں لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خاص بندے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ان کی وجہ سے ان کے پہلوں اور ان کے پھلوں کے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سارے لوگ میرے پاس حاضر ہوں گے تو میں اجازت مانگوں گا ( شفاعت کی ) تو مجھ کو اجازت دے دی جائے گی ۔ جب میں اپنے رب عزوجل کو دیکھوں گا تو میں سجدے میں گر جاؤں گا اللہ رب العزت میری وجہ سے جتنے لوگوں کو چاہے گا چھوڑ دے گا اور پھر فرمائے گا: اے محمد ! اپنا سر مبارک سجدے سے اٹھائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی ، سوال کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا جائے گا ، سفارش کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ تو میں اپنا سر سجدے اسے اٹھاؤں گا پھر میں اپنے رب عزوجل کی اس طرح حمد کروں گا جیسا کہ اس نے مجھے سکھائی ہے پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی ( کہ ان کے ایمان کی حد تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جنت میں لے جا سکتے ہیں ) پھر میں ان کو آگ سے نکالوں گا اور میں ان کو جنت میں داخل کر دوں گا ۔ پھر میں دوبارہ سجدے میں گر جاؤں گا اور میں اپنے رب کی کثرت سے حمد کروں گا جیسا کہ اس نے مجھے اپنی حمد سکھائی ہے پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی ( کہ اس مقدار کے ایمان والے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ) تو میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور ان کو جنت میں داخل کر دوں گا پھر میں دوبارہ سجدے میں گر جاؤں گا میں اپنے رب کی حمد کروں گا‘ ایسی حمد جیسی کہ اس نے مجھے اور خاص مجھے سکھائی ہے‘ پھر کہا جائے گا: اے محمد! آپ کہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی ، سوال کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا جائے گا، شفاعت کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔ تو میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا اس تحمید خاص کے ساتھ جو مجھے میرے رب نے سکھائی ہے، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی ( کہ اتنی مقدار کے ایمان والے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جا سکتے ہیں ) تو میں ان کو جہنم سے نکالوں گا اور ان کو جنت میں داخل فر ما دوں گا۔ (راوی کہتے ہیں) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں ( یہ راوی کو شک ہے ) فرمایا: دوزخ میں کوئی بھی باقی نہ رہے گا مگر وہی کہ جس کو قرآن نے روک رکھا ہو۔ قتادہ رحمتہ اللہ نے کہا ہے کہ یعنی ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خلود فی النار ہو گا اسی لیے وہ رہ جائیں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ

Hadith 2899

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2900

2900 - حدثنا عبد الله بن عون الخراز حدثنا محمد بن بشر عن مسعر بن كدام عن قتادة عن أنس قال Y قام رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تورمت قدماه ـ أو ساقاه ـ فقيل له : أليس قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر ؟ قال : أفلا أكون عبدا شكورا ؟ K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا قیام فرمایا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک یا پنڈلی مبارک ( راوی کو شک ہے) پر ورم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: کیا ایسا نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی پہلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عبد الله بن عون الخراز

Hadith 2900

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2901

2901 - حدثنا سريج بن يونس حدثنا القاسم حدثنا سعيد عن قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقوم الساعة حتى يرفع العلم ويظهر الجهل ويكثر النساء ويقل الرجال حتى يكون الرجل الواحد قيم خمسين امرأة K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا ، جہالت عام ہو جائے گی ،عورتیں بہت زیادہ ہو جائیں گی ، مرد بہت کم رہ جائیں گے اتنے کم کہ پچاس عورتوں کے لیے ایک مرد ہو گا ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← الْقَاسِمِ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Hadith 2901

chevron_left Previous
1…456…32
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter