Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3058

3058 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا أبو هلال عن قتادة عن أنس قال Y كانت شجرة في طريق الناس كانت تؤذي الناس فأتاها رجل فعزلها عن طريق الناس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فلقد رأيته يتقلب في ظلها في الجنة K إسناده حسن

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں ایک درخت تھا‘ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی‘ ایک آدمی آیا اور اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے جنت میں اس درخت کے سایہ میں آتے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

طريق الناس ← كانت شجرة في طريق الناس كانت تؤذي الناس فأتاها رجل فعزلها ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3058

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3059

3059 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا شيبان عن قتادة عن أنس قال Y لقد دعي رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على خبز وشعير وإهالة سنخة

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی گئی ایک دن جَو کی روٹی اور بد بودار چربی کی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! محمد کے پاس گندم یا کھجور کے صاع نے صبح نہیں کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وقت نو بیویاں تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی ، مدینہ شریف میں اس سے گندم لی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بظاہر اسے چھڑانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3059

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3060

3060 - قال : ولقد سمعته ذات يوم وهو يقول Y والذي نفس محمد بيده ما أصبح عند محمد صاع حب ولا صاع تمر وإن له يومئذ تسع نسوة

ذات يوم وهو ← وَلَقَدْ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3060

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3061

3061 - قال Y ولق رهن درعا له عند يهودي بالمدينة أخذ منه طعاما فما وجد لها ما يفتكها به K إسناده صحيح

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3061

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3062

3062 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا شيبان عن قتادة عن أنس قال Y ألا أحدثكم حديثا لا يحدثه أحد بعدي سمعه من نبي الله صلى الله عليه و سلم ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويظهر الجهل ويشرب الخمر ويفشو الزنى ويقل الرجال ويكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة قيم واحد K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کیا میں تم کو ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور یہ حدیث میرے بعد تم کسی سے بھی نہیں سنو گے۔ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت عام ہو جائے گی ، شراب کھلم کھلا پی جائے گی ، زنا عام ہو جائے گا، مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی ، اتنی زیادہ کہ ایک مرد پچاس عورتوں کے لیے ہو گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3062

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3063

3063 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا شيبان عن قتادة عن أنس Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو أن لابن آدم واديين من مال لا بتغى واديا ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب K إسناده صحيح

3051-حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم ( آدم کے بیٹے ) کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی تلاش میں ہو گا اور اس کے پاس دو ہوں تو وہ ضرور تیسری کی تلاش و فکر میں ہو گا اور ابن ِآدم کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی شے نہیں بھر سکتی اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3063

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3064

3064 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا شيبان حدثنا قتادة عن أنس بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يجمع المؤمنون يوم القيامة فيهتمون بذلك قال : يقولون : لو استشفعنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا قال : فينطلقون حتى يأتوا آدم فيقولون : يا آدم أنت أبو البشر خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وعلمك أسماء كل شيء اشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا قال : فيقول : لست هناكم ويذكر خطيئته التي أصاب من أكل الشجرة قال : يقول : ولكن ائتوا نوحا أول رسول بعثه الله قال : فينطلقون حتى يأتوا نوحا فيقول : لست هناكم ويذكر خطيئته التي أصاب من سؤاله ربه ما ليس له به علم قال : يقول : ائتوا إبراهيم خليل الرحمن قال : فينطلقون حتى يأتوا إبراهيم فيقول : لست هناكم ويذكر كذباته الثلاث : قوله { بل فعله كبيرهم هذا } [ الأنبياء : 63 ] وقوله { إني سقيم } [ الصافات : 89 ] وقوله حين أتى على الجبار أخبري أني أخوك فإني سأخبر أنك أختي فإنا أخوان في كتاب الله ليس في الأرض مؤمنان غيرنا قال : يقول : ولكن ائتوا موسى الذي كلمه الله وأعطاه التوراة فينطلقون حتى يأتوا موسى فيقول : لست هناكم ويذكر خطيئته التي أصاب من قبل قال يقول : ولكن ائتوا عيسى عبد الله ورسوله وكلمة الله وروحه قال : فينطلقون حتى يأتوا عيسى فيقول : لست هناكم ولكن ائتوا محمدا صلى الله عليه و سلم غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر قال : فيأتونني فأستأذن على ربي فيؤذن لي عليه فإذا رأيته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم قال لي : ارفع رأسك يا محمد قل يسمع واشفع تشفع وسل تعطه ؟ فارفع رأسي فأحمد ربي بتحميد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأخرجه من النار فأدخله الجنة ثم أعود إلى ربي الثانية فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال لي : ارفع محمد قل يسمع واشفع تشفع وسل تعطه فارفع رأسي فاحمد ربي بحمد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرجه من النار فأدخله الجنة فأعود الثالثة إلى ربي فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال لي : ارفع محمد قل يسمع واشفع تشفع وسل تعطه فارفع رأسي فأحمد ربي بحمد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرجه من النار وأدخله الجنة حتى أعود إلى ربي ويقال الرابعة قال : فأقول : يا رب ما بقي في النار إلا من حبسه القرآن قال : يقول : وجب عليه الخلود . قال قتادة { عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } [ الاسراء : 79 ] قال هذا المقام المحمود الذي وعده الله تبارك وتعالى نبيه عليه السلام K إسناده صحيح

3052-حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان والوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا‘ وہ پریشان ہوں گے‘ وہ کہیں گے: اگر ہماری ہمارے رب کے ہاں شفاعت کی جائے تا کہ ہم اس جگہ سے راحت حاصل کریں۔ وہ چلیں گے یہاں تک کہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے‘ عرض کر یں گے: اے آدم! آپ تمام انسانیت کے باپ ہیں‘ اللہ عزوجل نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے‘ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کروایا گیا‘ آپ کو ہرشی کے نام سکھائےگئے‘آپ اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں تا کہ ہم اس جگہ سے راحت حاصل کریں۔حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے:میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ آپ اس غلطی کا ذکر کر یں گے جو آپ نے درخت کھانے سے کی تھی ۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے: تم لوگ نوح کے پاس چلے جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے بھیجا ہے۔ حضرت انس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آ ئیں گے‘ آپ بھی فرمائیں گے: یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ آپ بھی اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو آپ نے اپنے رب سے سوال کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا۔ آپ فرمائیں گے: تم حضرت ابراہیم اللہ کے دوست کے پاس چلے جاؤ۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے۔ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ آپ اپنے تین جھوٹ کا ذکر کریں گے: (۱) جب آپ نے بتوں کو توڑا تھا) اُنہوں نے آپ نے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: اس بڑے نے کیا ہے (۲) میں بیمار ہوں (۳) جس وقت آپ ظالم بادشاہ کے پاس آئےتھے‘اس نے آپ کی بیوی کو پکڑا تھا تو آپ نے فرمایا: یہ میری بہن ہے‘ اور میں اس کا بھائی تھا اللہ کی کتاب کے مطابق حالانکہ روئے زمین میں ہمارے علاوہ کوئی ایمان والا نہیں تھا۔حضرت ابرا ہیم علیہ السلام فرمائیں گے: تم موسیٰ کے پاس چلے جاؤ کیونکہ ان سے اللہ نے کلام کیا ہے اور آپ کو تو رات دی ہے۔ وہ چلیں گے یہاں تک کہ حضور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے‘ آپ بھی فرمائیں گے۔ میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ آپ بھی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو آپ کو اس سے پہلے پہنچی تھی‘ آپ بھی فرمائیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف چلے جاؤ کیونکہ وہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں۔ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چل کر جائیں گے تو آپ بھی فرمائیں گے: میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ کیونکہ آپ کی وجہ سے اللہ عزوجل نے آپ کی امت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کیے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگ میرے پاس آئیں گے‘ میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت ملے گی‘ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا ‘مجھے چھوڑ دیا جائے گا جتنی دیر اللہ عز وجل مجھے چھوڑنا چاہے گا‘ پھر مجھے کیا جائے گا: اے محمد!اپناسر اُٹھاؤ!عرض کریں آپ کی سنی جائے گی‘ آپ شفاعت کر یں آپ کی شفاعت قبول کی جائےگی‘ آپ مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا۔میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد کروں گا ایسی حمد جو مجھے سکھائی گئی ہوگی‘ پھر میں شفاعت کروں گا‘میرے لیے حد مقرر کی جائے گی‘میں ان کو جہنم سے نکالوں گا‘ میں ان کو جنت میں داخل کروں گا پھر میں دوبارہ اپنے رب کی طرف آؤں گا اور جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو میں سجدہ کروں گا‘ میں اپنے رب کو پکاروں گا‘ مجھے چھوڑ دیا جائےگا جتنی دیر اللہ عز وجل مجھے چھوڑنا چاہے گا‘ پھر مجھے کہا جائے گا: محمد! سر اُٹھاؤ! عرض کرو آپ کی سنی جائے گی اور شفاعت کر یں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا۔ میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور اپنے رب کی سکھائی ہوئی تعریف کروں گا‘ پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی‘ میں ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں تیسری مرتبہ اپنے رب کی بارگاہ میں جاؤں گا‘ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجد ہ کروں گا ‘مجھے چھوڑ دیا جائے گا جتنی دیر اللہ عز وجل چھوڑ نا چاہے گا ‘پھر مجھے کہا جائےگا:محمد! اُٹھو! عرض کرو آپ کی سنی جائے گی اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی‘ مانگیں آپ کو عطا کیا جائےگا میں اپنا سر اٹھاؤں گا‘میں اپنے رب کی سکھائی ہوئی تعریف کروں گا‘پھر میں شفاعت کروں گا‘ میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی‘ میں ان کو جہنم سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا یہاں تک کہ دوبارہ اپنے رب کی بارگاہ میں جاؤں گا‘ چوتھی مرتبہ کہا جائےگا:عرض کریں!میں عرض کروں گا:اے میرے رب! جہنم میں کوئی باقی نہ رہے مگر جس کو قرآن نے روک لیا ہو (یعنی کا فر)‘آپ کو کہا جائے گا۔ ان پر ہمیشہ رہنا واجب ہے۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی کہ’’ قریب ہے آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے‘‘۔ فرمایا:یہ مقام محمود ہے جس کا اللہ عزوجل نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیاہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3064

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3065

3065 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن زريع حدثنا حجاج الأحول الباهلي عن قتادة عن أنس قال Y سئل رسول الله صلى الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يرقد عن الصلاة أو يغفل عنها قال : كفارتها أن يصليها إذا ذكرها K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا کہ ایک آ دمی نماز کے وقت سویارہتا ہے‘ یا غفلت میں رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس کو یاد آئے اس کو پڑھے۔

كفارتها أن يصليها إذا ذكرها إسناده صحيح ← الصَّلَاةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا، ← الرَّجُلِ يَرْقُدُ ← سئل رسول الله صلى الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حجاج الأحول الباهلي ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3065

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3066

3066 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة أن أنس بن مالك حدثهم Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يرفع يديه في شيء من دعائه ـ أو عند شيء من دعائه ـ إلا في الاستسقاء فإنه كان يرفع يديه حتى يرى بياض إبطيه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاؤں میں سے کسی دعا میں اتنے زیادہ ہاتھ بلند نہ کرتے تھے جتنے بارش طلب کرنے کے لیے دعا میں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم استقاء میں اس قدر ہاتھ بلند کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغلوں مبارک کی سفیدی ظاہر ہو جاتی ۔

قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3066

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3067

3067 - حدثنا عبيد الله حدثنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يرفع يديه في شيء من الدعاء إلا في الاستسقاء فإنه كان يرفعهما حتى يبدو إبطاه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے لیے دعا میں اتنے ہاتھ بلند نہ فرماتے تھے جتنے بارش مانگنے میں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ہاتھ اٹھاتے کہ آپ کی بغلیں ظاہر ہو جاتیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3067

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3068

3068 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة أن أنس بن مالك حدثهم Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان من أخف الناس صلاة في تمام K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تمام لوگوں میں سب سے زیاد مختصر تھی ، تمام نمازوں میں۔

قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3068

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3069

3069 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا هشام الدستوائي حدثنا قتادة عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من أحياء العرب K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کے خلاف ایک ماہ تک دعا کرتے رہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3069

chevron_left Previous
1…181920…32
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter