Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3034

3034 - حدثنا محمد حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس قال Y لما حملت جنازة سعد بن معاذ قال المنافقون : ما أخف جنازته وذلك لحكمه في بني قريظة فبلع ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن الملائكة كانت تحمله

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہنے لگے: اس کے لیے جنازہ کا وزن کم‘ بنی قریظہ میں انصاف کا فیصلہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہنچی تو آپ نے فرمایا: اس کوفرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ۔

لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3034

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3035

3035 - حدثنا محمد حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس قال Y قال أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : يا رسول الله إنا إذا كنا عندك رأينا في أنفسنا ما نحب وإذا رجعنا إلى أهلينا فخالطناهم أنكرنا أنفسنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تدومون على ما تكونون عندي في الخلاء لصافحتكم الملائكة حتى تظلكم بأجنحتها عيانا ولكن ساعة وساعة

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو دیکھتے ہیں کہ ہم کو کوئی شے پسند نہیں ہے۔ جب ہم اپنے گھر واپس جاتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں تو ہم دنیا میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس حالت میں رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو خلوت میں تو تم سے ضرور فرشتے مصافحہ کرتے ہیں یہاں تک کہ تم کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں ، ہر وقت ۔لیکن یہ کوئی وقت ہوتا ہے۔

أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3035

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3036

3036 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت و قتادة عن أنس قال Y نظر بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وضوءا فلم يجد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ها هنا قال : فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وضع يده في الإناء الذي فيه الماء قال : توضؤوا بسم الله قال : فرأيت الماء يفور من بين أصابعه والقوم يتوضؤون حتى توضأ آخرهم قال ثابت : قلت لأنس : كم تراهم كانوا : قال : نحوا من سبعين رجلا K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بعض صحابہ نے پانی کو دیکھا تو نہ پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہیں ٹھہرو! راوی کہتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ فرمایا: بسم اللہ ! وضو کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ رہا ہے اور صحابہ لگاتار وضو کیے جا رہے ہیں‘ یہا تک کہ ان میں سے آخری صحابی نے وضو فرمایا ۔حضرت ثابت کا قول ہے: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا: تقریباً ستر آدمی ۔

أَنَسٍ، ← ثابت و قتادة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3036

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3037

3037 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة و ثابت عن أنس Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ أو قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ قال : إن قوما يخرجون من النار وقد أصابهم سفع النار عقوبة بذنوب عملوها وليخرجنهم الله بفضل رحمته فيدخلهم الجنة K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے کچھ لوگ نکالے جائیں گے اس حالت میں کہ ان کی انگلیاں جلی ہوئی ہوں گی گناہوں کی سزا کی وجہ سے جو انہوں نے کیے تھے‘ اللہ عزوجل ضرور ان کو اپنی رحمت کے فضل سے جہنم سے نکالے گا اور اس کے بعد جنت میں داخل کرے گا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أو ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← قتادة و ثابت ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3037

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3038

3038 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس Y أن النبي صلى الهل عليه وسلم قال : إن في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها مئة عام لا يقطعها K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت (اس کی مسافت اتنی ہے) کہ کوئی سوار اس کے سایہ میں ایک سو سال تک چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہیں ہو گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3038

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3039

3039 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حسبك من نساء العالمين مريم بنت عمران و خديجة بنت خويلد فاطمة بنت محمد و آسية امرأة فرعون K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری کائنات سے زیادہ فضیلت و مقام و مرتبہ والی یہ عورتیں ہیں: مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آسیہ فرعون کی بیوی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3039

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3040

3040 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة قال : قال لنا أنس Y ألا أحدثكم حديثا لا تجدون أحدا يحدثكموه بعدي ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أشراط الساعة أن يذهب العلم ويظهر الجهل ويشرب الخمر ويفشو الزنى ويقل الرجال ويكثر النساء حتى يكون قيم خمسين امرأة رجل واحد K إسناده صحيح

حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں جو حدیث تم میرے بعد کسی سے سننے والا نہیں پاؤ گے۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں: (۱) علم کا اٹھنا (۲) جہالت کا عام ہونا (۳) شراب کا پیا جانا (۴ ) زنا کا عام ہونا (۵ ) مردوں کا کم ہونا (۶) عورتوں کی کثرت ہونا یہاں تک کہ پچاس عورتوں کی ذمہ داری ایک مرد کے ذمہ ہو گی ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لنا أنس ألا أحدثكم حديثا لا تجدون أحدا يحدثكموه بعدي ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3040

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3041

3041 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس قال Y احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو محرم على ظهر القدم من وجع كان به K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں کی پشت پر پچھنا لگوایا کسی تکلیف کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھی ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3041

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3042

3042 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن ثابت و قتادة و أبان كلهم عن أنس قال Y لما حرمت الخمر قال : إني لأسقي يومئذ أحد عشر رجلا قال : فأمروني فكفأتها وكفأ الناس آنيتهم بما فيها حتى كادت السكك تمتنع من ريحها . قال أنس : وما خمرهم يومئذ إلا البسر والتمر مخلوطين . قال : فجاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إنه كان عندي مال يتيم فاشتريت [ به ] خمرا أفتأذن لي أن أبيعه فأرد على اليتيم [ ماله ] ؟ قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : قاتل الله اليهود حرمت عليهم الثروب فباعوها وأكلوا أثمانها ولم يأذن له في بيع الخمر K إسناده صحيح

حضرت ثابت و قتاده و ابان رضی اللہ تعالیٰ عنہم بیان کرتے ہیں کہ شراب ( جب ) حرام کی گئی تو میں اس دن گیارہ مرد حضرات کو شراب پلا رہا تھا، مجھے حکم دیا گیا تو میں نے اسے بہا دیا۔لوگوں نے اپنے برتنوں میں جو شراب تھی وہ بھی بہا دی(اتنی شراب ہوئی ) کہ قریب تھا کہ گلیوں سے شراب کی بدبو کی وجہ سے گلیاں بند ہو جاتیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجور کو ملا کر بنی ہوتی تھی‘ اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میرے پاس یتیم کا مال ہے‘ میں نے اس کے بدلے شراب خریدی ہے‘ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کو فروخت کر کے یتیم کو اس کا مال واپس کر دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل یہود کو ہلاک کرے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کیا اور اس کی کمائی کھائی‘ آپ نے اس کو شراب فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

أَنَسٍ، ← ثابت و قتادة و أبان كلهم ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3042

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3043

3043 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس Y في قوله { فساء صباح المنذرين } [ الصافات : 177 ] قال : لما أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر فوجدهم حين خرجوا إلى زرعهم معهم مساحيهم فلما رأوه ومعه الجيش نكصوا فرجعوا إلى حصنهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الله أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کہ ’’بُری صبح ہو گی ڈرنے والوں کے لیے‘‘ کے متعلق فرمایا: جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر آئے تو خیبر والوں کو پایا جس وقت وہ اپنے کھیتوں کی طرف نکل رہے تھے‘ ان کے ساتھ اپنے سبل کے ساتھ‘ جب انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھ لشکر کو دیکھا تو الٹے پاؤں پلٹے اور اپنے قلعوں میں آئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہت بڑا ہے‘ خیبر تباہ ہو گیا، جب ہم اترتے ہیں کسی قوم کی ہلاکت کے لیے تو وہ صبح بُری صبح ہو گی ڈرنے والوں کے لیے۔

أنس في قوله ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3043

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3044

3044 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس قال Y قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم نفر من عكل وعرينة ـ هكذا قال معمر ـ قال : فتحدثوا بالإسلام فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فذكروا أنهم أهل ضرع وليسوا أهل ريف واجتووا المدينة وشكوا وباءها إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأمر لهم النبي صلى الله عليه و سلم بذود وأمر لهم براع وقال : تخرجون من المدينة فتشربون من أبوالها وألبانها وانطلقوا فنزلوا بناحية الحرة فكفروا بعد إسلامهم وقتلوا الراعي وساقوا الذود فبعث النبي صلى الله عليه و سلم في طلبهم فأتي بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمر أعينهم وتركوا بناحية الحرة يقضمون حجارتها حتى ماتوا قال قتادة : فبلغنا أن هذه الآية نزلت فيهم { إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا } [ المائدة : 33 ] إلى آخر الآية K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل اور عرینہ سے کچھ لوگ آئے ۔ حضرت معمر فرماتے ہیں : وہ اسلام کے ساتھ آئے‘ اس کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ انہوں نے ذکر کیا کہ وہ گاؤں کے رہنے والے ہیں اور شہری نہیں ہیں‘ مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اونٹوں کے پاس جانے کا حکم دیا اور انہیں اونٹ چرانے کا حکم دیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلے‘ انہوں نے ان اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور چلے‘ وہ ایک گرم جگہ میں آئے‘ وہ مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو گئے‘ انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں بھیجا، انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے اور انہیں سورج کی گرمی میں ڈال دیا۔ انہیں پتھر مارے گئے یہاں تک کہ وہ مر گئے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ہے: ’’ان کو جزاء جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں‘‘ آخر آیت تک ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3044

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3045

3045 - حدثنا محمد بن مهدي حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن قتادة عن أنس قال Y لقد نزلت على النبي صلى الله عليه و سلم { ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } [ الفتح : 2 ] مرجعه من الحديبية فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لقد نزلت علي آية هي أحب إلي مما على الأرض وقرأها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : هنيئا مريئا يا نبي الله قد بين الله لك ماذا يفعل بك فماذا يفعل بنا ؟ فنزلت : { ليدخل المؤمنين والمؤمنات } حتى بلغ : { فوزا عظيما } [ الفتح : 5 ] K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کر دیئے ہیں‘‘ (الفتح:۲) مقام حدیبیہ سے لوٹتے وقت ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے جو کچھ زمین میں ہے اس سے زیادہ پسند ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اے غیب کی خبریں بتانے والے! اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، بے شک اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ آپ کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گا، ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟ پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:”مومن مردو وعورت کو داخل کیا جائے (یہاں تک ) بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔

لقد نزلت على النبي صلى الله عليه و سلم مرجعه من الحديبية ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن مهدي

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3045

chevron_left Previous
1…161718…32
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter