مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2824
2824 - حدثنا مسلم بن أبي مسلم الجرمي [ حدثنا مخلد بن الحسين ] حدثنا هشام عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال Y أول لعان كان في الإسلام أن شريك بن سحماء قذفه هلال بن أمية بامرأته فرفعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا هلال أربعة شهود وإلا فحد في ظهرك ! فقال يا رسول الله إن الله ليعلم إني لصادق ولينزلن الله ما يبرئ به ظهري من الجلد فأنزل الله آية اللعان : { والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم } إلى آخر الآية [ النور : 6 ] فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اشهد بالله إنك لمن الصادقين فيما رميتها به من الزنى فشهد بذلك أربع شهادات ثم قال له في الخامسة : ولعنة الله عليك إن كنت من الكاذبين فيما رميتها به من الزنى ففعل ثم دعاها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : قومي اشهدي بالله إنه لمن الكاذبين بالله إنه لمن الكاذبين فيما رماك به من الزنى فشهدت بذلك أربع شهادات ثم قال لها في الخامسة : وغضب الله عليك إن كان من الصادقين فيما رماك به من الزنى فقالت . قال مخلد فلما كان في الرابعة أو الخامسة سكتت سكتة حتى ظنوا أنها ستعترف ثم قالت : لا أفضح قومي سائر اليوم فمضت على القول ففرق رسول الله صلى الله صلى الله عليه و سلم بينهما وقال : انظروا إن جاءت به جعدا حمش الساقين فهو لشريك بن سمحاء وإن جاءت به أبيض سبطا أقمر العينين فهو لهلال بن أمية فجاءت به آدم جعدا حمش الساقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا ما نزل فيهما من كتاب الله كان لي ولها شأن K إسناده صحيح
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ بے شک اسلام میں سب سے پہلا لعان یہ تھا کہ شریک بن سحماء پر حضرت ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کے ساتھ غلط روابط کا الزام لگایا تو یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حلال! چار گواہ لاؤ ورنہ تیری پیٹھ میں ( کوڑوں کی ) حد ہے (اس کے لیے تیار ہو جاؤ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! بے شک اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور وہ حکم بھی نازل فرما دے گا جو میری پشت کوکوڑوں سے بری کر دے گا تو اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیت نازل فرمادی: ’’وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا کوئی اور گواہ نہ ہو‘‘ الیٰ آخر الآية (سورة النور :6) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلال کو بلایا اور فرمایا: تو گواہی دے اللہ کی قسم کھا کے کہ بے شک تو سچا ہے، اس معاملے میں جو تو نے اپنی عورت پر زنا کا عیب لگایا ہے؟ تو ہلال نے یہ چار بار گواہیاں دیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پانچویں بار یہ گواہی دو اللہ کی قسم کھا کر اللہ کی لعنت ہو تجھ پر اگر تو جھوٹا ہوا اپنے اس معاملے میں جو تو نے اپنی بیوی پر زنا کا عیب لگایا ہے۔ تو حلال نے ایسے ہی کیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اہلیہ کو بلایا اور فرمایا: تو بھی اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دے کہ بے شک وہ جھوٹا ہے اس معاملے میں جو اس نے تجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے۔تو اس نے بھی چار مرتبہ اس کی گواہی دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پانچویں مرتبہ فرمایا اور اللہ کا تجھ پر غضب ہو اگر وہ سچا ہوا، اس معاملے میں جو اس نے تجھ پر زنا کا عیب لگایا ہے۔ تو اس نے ایسا کیا مخلد ( راوی ہیں ) کہتے ہیں: جب چوتھی یا پانچویں مرتب تھی تو وہ خاموش ہو گئی ، تھوڑی دیر کے لیے حتی کہ لوگوں نے گمان کر لیا کہ عنقریب یہ اعتراف جرم کر لے گی ، پھر اس نے کہا کہ میں آج کبھی بھی اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی تو اس نے کہنا شروع کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں (حلال بن امیہ اور ان کی بیوی) کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: غور کروتم دیکھنا اگر اس عورت سے کھنگریالے بالوں والا اور باریک پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے اور اگر میں سفید ، سید ھے بالوں والا اور چمک دار آنکھوں والا بچہ لائی تو وہ حلال بن امیہ کا ہے۔ تو اس نے گھنگھریالے بالوں والا‘ باریک پنڈلیوں والا بچہ جنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب میں نازل ہوا ہے اگر نہ ہوتا تو میرے لیے اور اس عورت کے لیے عیب ہوتا ( مطلب ٹھیک نہ ہوتا ) ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ
Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2824
