Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2824

2824 - حدثنا مسلم بن أبي مسلم الجرمي [ حدثنا مخلد بن الحسين ] حدثنا هشام عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال Y أول لعان كان في الإسلام أن شريك بن سحماء قذفه هلال بن أمية بامرأته فرفعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا هلال أربعة شهود وإلا فحد في ظهرك ! فقال يا رسول الله إن الله ليعلم إني لصادق ولينزلن الله ما يبرئ به ظهري من الجلد فأنزل الله آية اللعان : { والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم } إلى آخر الآية [ النور : 6 ] فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اشهد بالله إنك لمن الصادقين فيما رميتها به من الزنى فشهد بذلك أربع شهادات ثم قال له في الخامسة : ولعنة الله عليك إن كنت من الكاذبين فيما رميتها به من الزنى ففعل ثم دعاها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : قومي اشهدي بالله إنه لمن الكاذبين بالله إنه لمن الكاذبين فيما رماك به من الزنى فشهدت بذلك أربع شهادات ثم قال لها في الخامسة : وغضب الله عليك إن كان من الصادقين فيما رماك به من الزنى فقالت . قال مخلد فلما كان في الرابعة أو الخامسة سكتت سكتة حتى ظنوا أنها ستعترف ثم قالت : لا أفضح قومي سائر اليوم فمضت على القول ففرق رسول الله صلى الله صلى الله عليه و سلم بينهما وقال : انظروا إن جاءت به جعدا حمش الساقين فهو لشريك بن سمحاء وإن جاءت به أبيض سبطا أقمر العينين فهو لهلال بن أمية فجاءت به آدم جعدا حمش الساقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا ما نزل فيهما من كتاب الله كان لي ولها شأن K إسناده صحيح

حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ بے شک اسلام میں سب سے پہلا لعان یہ تھا کہ شریک بن سحماء پر حضرت ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کے ساتھ غلط روابط کا الزام لگایا تو یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حلال! چار گواہ لاؤ ورنہ تیری پیٹھ میں ( کوڑوں کی ) حد ہے (اس کے لیے تیار ہو جاؤ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! بے شک اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور وہ حکم بھی نازل فرما دے گا جو میری پشت کوکوڑوں سے بری کر دے گا تو اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیت نازل فرمادی: ’’وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا کوئی اور گواہ نہ ہو‘‘ الیٰ آخر الآية (سورة النور :6) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلال کو بلایا اور فرمایا: تو گواہی دے اللہ کی قسم کھا کے کہ بے شک تو سچا ہے، اس معاملے میں جو تو نے اپنی عورت پر زنا کا عیب لگایا ہے؟ تو ہلال نے یہ چار بار گواہیاں دیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پانچویں بار یہ گواہی دو اللہ کی قسم کھا کر اللہ کی لعنت ہو تجھ پر اگر تو جھوٹا ہوا اپنے اس معاملے میں جو تو نے اپنی بیوی پر زنا کا عیب لگایا ہے۔ تو حلال نے ایسے ہی کیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اہلیہ کو بلایا اور فرمایا: تو بھی اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دے کہ بے شک وہ جھوٹا ہے اس معاملے میں جو اس نے تجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے۔تو اس نے بھی چار مرتبہ اس کی گواہی دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پانچویں مرتبہ فرمایا اور اللہ کا تجھ پر غضب ہو اگر وہ سچا ہوا، اس معاملے میں جو اس نے تجھ پر زنا کا عیب لگایا ہے۔ تو اس نے ایسا کیا مخلد ( راوی ہیں ) کہتے ہیں: جب چوتھی یا پانچویں مرتب تھی تو وہ خاموش ہو گئی ، تھوڑی دیر کے لیے حتی کہ لوگوں نے گمان کر لیا کہ عنقریب یہ اعتراف جرم کر لے گی ، پھر اس نے کہا کہ میں آج کبھی بھی اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی تو اس نے کہنا شروع کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں (حلال بن امیہ اور ان کی بیوی) کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: غور کروتم دیکھنا اگر اس عورت سے کھنگریالے بالوں والا اور باریک پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے اور اگر میں سفید ، سید ھے بالوں والا اور چمک دار آنکھوں والا بچہ لائی تو وہ حلال بن امیہ کا ہے۔ تو اس نے گھنگھریالے بالوں والا‘ باریک پنڈلیوں والا بچہ جنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب میں نازل ہوا ہے اگر نہ ہوتا تو میرے لیے اور اس عورت کے لیے عیب ہوتا ( مطلب ٹھیک نہ ہوتا ) ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2824

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2825

2825 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وهب ين جرير حدثنا هشام عن محمد عن أنس Y أن هلال بن أمية قذف امرأته بشريك بن سحماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبصروها فإن جاءت به أبيض سبطا فهو لهلال بن أمية وإن جاءت به أكحل جعدا حمش الساقين فهو لشريك بن سحماء فجاءت به أكحل جعدا حمش الساقين K إسناده صحيح

حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ غلط روابط کا عیب لگایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھنا اگر اس سے سفید اور سید ھے بالوں والا بچہ جنا تو وہ حلال بن امیہ کا ہے اور اگر اس نے گھنگھریالے بالوں والا بار یک پنڈلیوں والا اور بڑی آنکھوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔تو اس نے گھنگھریالے بالوں، باریک پنڈلیوں والا اور بڑی بڑی آنکھوں والا بچہ جنا۔

أنس أن هلال بن أمية قذف امرأته بشريك بن سحماء ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← وهب ين جرير ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2825

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2826

2826 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان ذبح قبل الصلاة فليعد فقال رجل : يا رسول الله هذا يوم يشتهى فيه اللحم ـ فذكر هنة من جيرانه كأن رسول الله صلى الله عليه و سلم صدقه فقال : وعندي جذعة هي أحب إلي من شاتي لحم قال : فرخص له فلا أدري أبلغت رخصته من سواة أم لا ؟ فأنكفأ الناس إلى غنيمة فتوزعوها ـ أو قال : فتجزعوها ـ K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا : جس نے نماز ( عید الاضحٰی کی نماز) سے پہلے ذبح کر لیا اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ذیح لوٹائے ۔ ایک آدمی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ایسا دن ہے کہ جس میں گوشت کا بہت اشتہاء ہوتا ہے پس اس نے اپنے پڑوسیوں کی کسی چیز کا بھی ذکر کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق کی پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھوٹا بکرا ہے جو کہ مجھے دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ پسندیدہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت دے دی ( راوی کہتے ہیں ) مجھے نہیں علم یہ رخصت اس کے سوا کسی اور کو بھی ہے کہ نہیں؟ پس لوگ غنیمت کی طرف لوٹے اور اسے تقسیم کر لیا یا کہا: حصے حصے کر لیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2826

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2827

2827 - حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن سهم الأنطاكي قال : سمعت أبا إسحاق الفزازي يحدث عن هشام القردوسي عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك قال Y رمى رسول الله صلى الله عليه و سلم الجمرة يوم النحر ثم أمر بالبدن فنحرت والحلاق جالس عنده فسوى رسول الله صلى الله عليه و سلم شعره يومئذ بيده ثم قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم على شق جانبه الأيمن : على شعره ثم قال للحلاق : احلق فحلق فقسم رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ شعره من حضره من الناس الشعرة والشعرتين ثم قبض بيده على جانب شقه الأيسر على شعره ثم قال للحلاق : احلق فحلق فدعا أبا طلحة الأنصاري فدفعه إليه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی کی ( کنکریاں ماریں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا قربانی کرنے کا تو قربانیاں کی گئیں پھر حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اپنی زلفیں مبارک درست فرمائیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب سے بال مبارک اپنے قبضے میں کیے اور حجام سے فرمایا: حجامت بناؤ تو اس نے حلق کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بال مبارک وہاں پہ جتنے بھی لوگ موجود تھے ان میں تقسیم کر دیئے کسی کے حصے میں ایک بال اور کسی کو دو بال نصیب ہوئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بائیں جانب سے بال مبارک سے زلفیں اپنے قبضے میں کیں اور حجام سے فرمایا : حلق کرو ۔ تو اس نے حجامت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ان کو دے دیئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ ← أبا إسحاق الفزازي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2827

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2828

2828 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حماد بن زيد عن هشام عن محمد عن أنس ـ و أيوب عن محمد قال حماد : أظنه عن أنس ـ قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي يوم خيبر فقيل له : قد أكلت الحمر فأمر أبا طلحة أن ينادي : إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية فإنها رجس قالوا : فاكفئت القدور K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے دن تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ گدھے کا گوشت کھایا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو گدھے کا گوشت کھانے سے روکا ہے پس بے شک یہ ناپاک رجس ہے تو وہ کہتے ہیں کہ سب ہانڈیاں اوندھی کر دی گئیں ۔

أَنَسٍ، ← حماد أظنه ← مُحَمَّدٍ ← أنس و أيوب ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2828

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2829

2829 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا إسماعيل بن زكريا عن عاصم الأحول عن محمد بن سيرين قال Y سألنا أنسا : هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم خضب ؟ قال : لم يبلغ الخضاب كانت لحيته شعرات بيض قال : فقلت له : أكان أبو بكر يخضب ؟ قال : فقال : نعم بالحناء والكتم K إسناده صحيح

حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضاب لگایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی خضاب نہیں کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی (ریش مبارک) میں چند موئے مبارک (بال مبارک ) سفید تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ کیا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خضاب لگاتے تھے؟ (یعنی اپنے بالوں کو رنگتے تھے؟) تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! وہ مہندی اور زرد رنگ کا ( وسمہ کا)۔

فقال نعم بالحناء والكتم إسناده صحيح ← فقلت له أكان أبو بكر يخضب ← لم يبلغ الخضاب كانت لحيته شعرات بيض ← سألنا أنسا هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم خضب ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2829

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2830

2830 - حدثنا عمرو بن الضحاك حدثنا أبي قال : سمعت أشعث الحمراني قال : قال : محمد بن سيرين : حدثني أنس بن مالك أن طلحة بلغه Y أنه ليس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم طعام فذهب فآجر نفسه بصاع من شعير فعمل يومه ذلك فجاء به فقال : اخبزي هذا فقال : إنه شعير ولكن اجعليه خطيفة فجعلته فبعث أنس بن مالك فقال : اذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقل له فيما بينك وبينه فأتى رسول الله صلى الله علسه وسلم ومعه أصحابه فقال : الطعام ؟ قال : نعم قال قوموا فقاموا فلما أتى أنس أبا طلحة قال : قلت هذا قال : الطعام فكرهت أن أكذب فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا عشرة فدخلوا فأكلوا حتى شبعوا ثم دعا عشرة فدخلوا فأكلوا حتى شبعوا ثم دعا عشرة فدخلوا فأكلوا حتى شبعوا ثم بقي لأهله ما يشبعون منه K إسناده صحيح

حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانا نہیں ہے وہ گئے تو انہوں نے خود کو ایک صاع جو کے بدلے میں اجرت پر دے دیا اس دن انہوں نے اس کے بدلے میں کام کیا پھر وہ ایک صاع جو لے کر آئے اور فرمایا (اپنی اہلیہ سے ) اس کی روٹی پکا اور ساتھ میں فرمایا کہ یہ جو ہیں لیکن تو اس کا حلوہ پکا تو انہوں نے اس کا حلوہ بنایا پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور فرمایا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور ان سے اس طرح کہہ کہ جو تیرے اور ان کے درمیان ہو۔ تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام بھی تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا کھانے کے لیے آئے ہو؟ کھانے کی دعوت دینے آئے ہو؟ تو انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اٹھو۔ وہ سارے اٹھ کھڑے ہوئے‘ جب انہیں ابو طلحہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہی کہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: کیا کھانے کے لیے بلایا ہے؟ تو مجھے نا پسند ہوا کہ میں جھوٹ بولتا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس لوگوں کو بلایا وہ داخل ہوئے انہوں نے اتنا کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس لوگوں کو بلایا وہ داخل ہوئے انہوں نے بھی اتنا کھایا حتٰی کہ وہ سیر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس لوگوں کو بلایا انہوں نے بھی اتنا کھایا کہ وہ بھی سیر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر والوں کے لیے بھی اس میں سے پورا کھانا باقی رکھ دیا جس سے وہ بھی سیر ہو گئے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَشْعَثَ الْحُمْرَانِيِّ، ← أَبِي ← عمرو بن الضحاك

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2830

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2831

2831 - حدثنا الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الحراني حدثنا محمد بن سلمة حدثنا هشام عن ابن سيرين قال Y سئل أنس عن خضاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن شاب إلا يسيرا ولكن أبا بكر و عمر خضبا بالحناء والكتم . قال : وجاء أبو بكر بأبيه : أبي قحافة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بكر : لو أقررت الشيخ في بيته لأتيناه لكرامة أبي بكر قال : فأسلم ولحيته ورأسه كالثغامة قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غيروها وجنبوه السواد K إسناده صحيح

حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ سے مروی ہے‘ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا۔ ہاں تھوڑا بہت اور لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہندی اور وسمہ سے زرد رنگ کا خضاب کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ابو قحافہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اگر تو شیخ کو اس کے گھر میں رہنے دیتا تو ہم خود اس کے پاس جاتے ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت کی وجہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے اسلام قبول کیا اس وقت ان کی داڑھی اور سر اس طرح تھا جس طرح ثغامہ (ایک درخت ہے جو سفید پھولوں سے بھرا ہوتا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس کو بدل دو لیکن کالے خضاب سے پر ہیز کرو ۔

خضاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← سُئِلَ أَنَسٌ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2831

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2832

2832 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل عن أيوب عن محمد قال : قلت لأنس Y هل قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح ؟ قال : نعم بعد الركوع قال : ثم سئل بعد ذلك : هل قنت رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الصبح ؟ قال : نعم بعد الركوع يسيرا K إسناده صحيح

حضرت محمد سیرین رحمتہ اللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! رکوع کے بعد ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سوال کیا کیا صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قنوت پڑھی ؟ انہوں نے کہا: ہاں! رکوع کے بعد آہستہ۔

مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2832

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2833

2833 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل عن أيوب عن محمد عن أنس قال Y أشهد أن الله حق وأن لقاءه حق وأن الساعة حق وأن الجنة حق والنار حق اللهم إني أعوذ بك من فتنة الدجال ومن فتنة المحيا والممات ومن عذاب القبر وعذاب جهنم . قال أبو خيثمة : كأنه يعني النبي صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح إلى أنس

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ حق ہے، بے شک اس سے ملناحق ہے، بے شک قیامت حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے ، اے اللہ بے شک میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور عذاب قبر اور جہنم کے عذاب سے۔ ابو خیثمہ ( راوی ہے حدیث کا ) نے کہا کہ گویا اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2833

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2834

2834 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا عبد الوهاب عن خالد عن محمد قال : سألت أنس بن مالك Y أقنت عمر ؟ قال : لقد قنت من هو خير من عمر قنت النبي صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ ٍسے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قنوت پڑھی تو انہوں نے کہا کہ البتہ تحقیق اس نے قنوت پڑھی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قنوت پڑھی۔

سألت أنس بن مالك أقنت عمر ← مُحَمَّدٍ ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2834

مسند أبي يعلى · محمد بن سيرين عن أنس ‹ محمد بن سيرين عن أنس · حديث 2835

2835 - حدثنا وهب ين بقية الواسطي حدثنا خالد عن يونس عن ابن سيرين عن أنس قال Y احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأعطى الحجام أجره K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی مزدوری بھی دی ۔

أَنَسٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← خَالِدٌ، ← وهب ين بقية الواسطي

Musnad Abu Yaalaa · Muhammad bin Sirin on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2835

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter