Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2815

2815 - حدثنا أبو خيثمة و أبو بكر بن أبي شيبة قالا : حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن حجاج بن أبي عثمان حدثني أبو رجاء مولى أبي قلابة عن أبي قلابة قال : قال أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل أمة أمين وإن أميننا أيتها الأمة أبو عبيدة بن الجراح K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور ہماری اس اُمت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أبو رجاء مولى أبي قلابة ← حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبو خيثمة و أبو بكر بن أبي شيبة

Hadith 2815

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2816

2816 - حدثنا أبو بكر حدثنا إسماعيل بن علية عن حجاج بن أبي عثمان حدثني أبو رجاء مولى أبي قلابة عن أبي قلاية قال : حدثني أنس بن مالك Y أن نفرا من عكل : ثمانية قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فبايعوه على الإسلام فا ستوخموا الأرض وسقمت أجسامهم فشكوا ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألا تحرجون مع راعينا في إبله فتصيبون من أبوالها وألبانها ؟ فصحوا فقتلوا الراعي فطرودا الإبل فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فبعث في آثارهم فأدركوا فجيء بهم فأمر بهم فقطعت أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم ثم نثروا في الشمس حتى ماتوا K إسناده صحيح

حضرت ابو قلابہ رحمتہ اللہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ بے شک عکل کے آٹھ (۸) لوگوں کا ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ کے ہاتھ پر اسلام پر بیعت کی‘ ان کو زمین کی آب و ہوا موافق نہ آئی ان کے جسم بیمار پڑ گئے، انہوں نے اس بات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ بیت المال کے اونٹوں میں نہیں نکلتے کہ تم اونٹوں کا پیشاب اور دودھ لو اور ٹھیک ہو جاؤ؟ (صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا) تو وہ تندرست ہو گئے پھر بعد میں انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے ۔ اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو بھیجا تو وہ لوگ مل گئے ( پا لیے گئے ) ان سب کو لایا گیا ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ دیا جائے اور آنکھوں کو چھوڑ دیا جائے پھر ان کو سورج کی دھوپ میں پھینک دیا گیا یہاں تک کہ وہ سارے مر گئے ۔

أبي قلاية ← أبو رجاء مولى أبي قلابة ← حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَکْرٍ

Hadith 2816

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2817

2817 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير حدثنا صالح بن رستم عن أبي قلابة عن أنس بن مالك قال Y خرجنا معه إلى الحرم فحضرت الصلاة فقال : ألا تنزلوا نصلي ؟ فقلت : لو تقدمت إلى هذا المسجد فقال : أي مسجد ؟ قيل : مسجد بني فلان ففزع وقال : سمعته يقول صلى الله عليه و سلم : يأتي على أمتي زمان يتباهون بالمساجد ولا يعمرونها إلا قليلا K إسناده حسن

حضرت ابو قلابہ رحمتہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ ابو قلابہ رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مسجد حرام کی طرف نکلے تو نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم اترو گے نہیں کہ ہم نماز ادا کر لیں ۔ ابو قلابہ رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مسجد میں تشریف لے آئیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کون سی مسجد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا ، بنی فلاں کی مسجد ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: میری اُمت پر ایک زمانہ آئے گا لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے اور ان کو تعمیر (آباد ) تھوڑے ہی کریں گے ۔

أي مسجد قيل مسجد بني فلان ففزع ← ألا تنزلوا نصلي فقلت لو تقدمت إلى هذا المسجد ← خرجنا معه إلى الحرم فحضرت الصلاة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Hadith 2817

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2818

2818 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس Y أن رجلا من اليهود قتل جارية من الأنصار على أوضاح لها ثم ألقاها في قليب فرضخ رأسها بالحجارة فأخذ فأتي به النبي صلى الله عليه و سلم فأمر به أن يرجم فرجم حتى مات K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک یہودی نے ایک بچی کو محض اس وجہ سے کہ اس پر برص کے داغ تھے قتل کر دیا اور پھر اس کو ایک پرانے کنویں میں پھینک دیا اس نے اس کا سر پتھروں سے کچلا بھی تھا تو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کر دیا جائے تو اس کو رجم کر دیا گیا ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Hadith 2818

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2819

2819 - حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا ريحان بن سعيد عن عباد عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس قال Y أذن رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل بيت من الأنصار أن يرقوا من الحمة وأذن برقية العين والنفس K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت انصار کو بخار اور نظر بد کے دَم کی اجازت عطا فرمائی ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبَّادٌ ← ريحان بن سعيد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Hadith 2819

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2820

2820 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا ريحان بن سعيد عن عباد بن منصور عن أيوب عن قلابة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيدرك رجال من أمتي عيسى بن مريم ويشهدون قتال الدجال K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری اُمت میں سے کچھ لوگ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو پا لیں اور دجال کے ساتھ لڑائی ( جہاد ) میں وہ موجود ہوں گے۔

أَنَسٍ، ← قلابة ← أَيُّوبَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← ريحان بن سعيد ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Hadith 2820

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2821

2821 - حدثنا أبو خيثمة و جعفر بن محمد قالا : حدثنا عفان حدثنا وهيب عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس قال Y صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر بالمدينة أربعا وصلى العصر بذي الحليفة ركعتين وبات بها حتى أصبح فلما صلى الصبح ركب راحلته فلما انبعثت به راحتله سبح وكبر حتى استوت به على البيداء ثم جمع بينهما فلما قدمنا مكة أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحلوا فلما كان يوم التروية أهلوا بالحج ونحر رسول الله صلى الله عليه و سلم سبع بدنات بيده قياما وضحى رسول الله صلى الله عليه و سلم بكبشين أقرنين أملحين . واللفظ لزهير K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر مدینہ شریف چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ کے مقام پر عصر دو رکعتیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات گزاری حتٰی کہ صبح ہو گئی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز ادا فرمائی تو اپنی سواری پر سوار ہو گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری مبارک تیز ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تسبیح و تکبیر کہی حتٰی کہ وہ سواری بیداء کے مقام پر جا کر ٹھہر گئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع فرمایا۔ پھر جب ہم مکہ آئے تو صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ احرام کھول دیں پھر آٹھویں ذوالحجہ کے دن انہوں نے حج کا احرام باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست نبوت مبارک سے کھڑے ہو کر ہی سات اونٹ نحر کیے (ذبح کیے ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دو موٹے تازے سینگھوں والے مینڈھے قربان کیے تھے (اور یہ الفاظ زہیر کے ہیں)۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أبو خيثمة و جعفر بن محمد

Hadith 2821

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2822

2822 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا أحمد ابن إسحاق حدثنا وهيب حدثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم لما قدم مكة أمرهم أن يحلوا إلا من كان معه الهدي قال : ونحر رسول الله صلى الله عليه و سلم سبع بدنات قياما K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ احرام کھول دیں مگر وہ نہ کھولے جس کے پاس ہدی ہو( قربانی کا جانور ہو ) وہ پہلے قربانی کرے پھر احرام کھولے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے ہو کر ہی ذبح فرمائے ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← أحمد ابن إسحاق ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 2822

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2823

2823 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا إسماعيل عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أنس قال Y سبع للبكر وثلاث للثيب أما إني لو قلت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم [ لصدقت ] ولكن سنة K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کی صورت میں اس کے پاس سات دن ٹھہرنا ہے اور شادی شدہ کے پاس تین دن‘ اگر میں یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کروں تو میں سچ کہوں گا۔ لیکن یہ سنت ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم لصدقت ولكن سنة إسناده صحيح ← سبع للبكر وثلاث للثيب أما إني لو قلت ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Hadith 2823

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter