Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2709

2709 - حدثنا محمد بن عباد حدثنا سفيان قال : سمعت خصيف عن مقسم عن ابن عباس قال Y { فلا رفث } قال : الرفث : الجماع { ولا فسوق } قال الفسوق : المعاصي { ولا جدال في الحج } [ البقرة : 197 ] قال : المراء K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کا معنی بیان کرتے ہیں:’’فلارفت ‘‘ سے مراد جماع ہے۔’’ولا فسوق ‘‘ سے مراد گناہ ہے۔’’ولا جدال فی الحج‘‘ سے مراد ریاکاری ہے۔

المراء إسناده ضعيف ← الفسوق المعاصي ولا جدال في الحج البقرة ← الرفث الجماع ولا فسوق ← فلا رفث ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← خُصَيْفٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2709

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2710

2710 - حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة حدثنا علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس ـ وغير واحد عن الحسن ـ قالا Y لما نزلت آية الدين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول من جحد آدم إن أول من جحد آدم إن الله لما خلقه مسح ظهره فأخرج منه ما هو ذارئ فجعل يعرضهم عليه فرأى فيهم رجلا يزهر فقال : أي رب أي بني هذا ؟ قال : ابنك داود قال : يا رب كم عمره ؟ قال : ستون سنة قال : أي رب زده في عمره قال : لا إلا أن تزيده أنت من عمرك قال : وكان عمر آدم ألف سنة فوهب له من عمره أربعين سنة فكتب الله عليه كتابا وأشهد عليه الملائكة فلما احتضر آدم اتته ملائكة لتقبضه فقال : إنه قد بقي من عمري أربعون سنة ! قالوا : قد وهبتها لابنك داود ! قال : ما فعلت فأبرز الله الكتاب وشهدت عليه الملائكة وأكمل لآدم ألف سنة وأكمل لداود مئة سنة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب قرض والی آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے انکار حضرت آدم علیہ السلام نے کیا تھا‘ وہ انکار یہ تھا بے شک اللہ عزوجل نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا‘ آپ کی پیٹ کو مسح کیا اس سے آپ کی اولاد نکالی گئی ۔ آپ پر پیش کی گئی ۔ آپ نے ان سے بہت خوبصورت آدمی دیکھا۔ عرض کی : اے رب! میں میرا کون سا بیٹا ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا حضرت حوا علیہ السلام آدمی ہیں‘ عرض کی: اے رب! اس کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال! عرض کی : اے رب! اس میں اضافہ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں! ایسے نہیں ہو گا مگر ایک صورت ہے وہ یہ ہے کہ تیری عمر سے لے کر اس کی عمر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ہزار سال تھی ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی عمر سے چالیس سال ان کو ہبہ کر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو لکھ لیا‘ اس پر فرشتوں کو گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس موت کا فرشتہ آیا تاکہ آپ کی روح قبض کی جائے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: میری عمر سے چالیس سال باقی ہیں ۔فرشتہ نے عرض کی: آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے داؤد کو چالیس سال ہدیہ نہیں کیے تھے؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: میں نے ایسا نہیں کیا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب ظاہر کی اس پر فرشتوں کو گواہ کیا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی ہزار سال مکمل کی گئی ۔حضرت داؤد علیہ السلام کی سوسال مکمل کی گئی ۔

لما نزلت آية الدين ← الْحَسَنِ، ← ابن عباس وغير واحد ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2710

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2711

2711 - حدثنا محمد بن يحيى حدثنا سليم بن مسلم المكي حدثنا نضر بن عربي عن عكرمة عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الذي يشرب في آنية الذهب والفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک آدمی سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے‘ اس کے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر دیا جائے گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← نضر بن عربي ← سليم بن مسلم المكي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2711

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2712

2712 - حدثنا حميد بن مسعدة حدثنا سفيان بن حبيب عن عوف عن سعيد بن أبي الحسن عن ابن عباس قال Y من ترك الجمعة ثلاث جمع متواليات فقد نبذ الإسلام وراء ظهره K إسناده صحيح إلى ابن عباس وهو موقوف عليه

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لگاتار تین جمعہ چھوڑ دیئے تو بے شک اسلام کو اس نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال لیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← عَوْفٌ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2712

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2713

2713 - حدثنا بشر بن سيحان حدثنا يزيد بن زريع عن سيعد بن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھا جس کے ساتھ تم اپنے بڑھاپے کو بدلتے ہو وہ مہندی اور کتم ہے۔

أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← سيعد بن أبي عروبة ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بشر بن سيحان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2713

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2714

2714 - حدثنا حجاج بن يوسف حدثنا يونس بن محمد و حجين بن المثنى قال يونس : حدثنا حبان بن علي عن عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الأصحاب أربعة وخير السرايا أربع مئة وخير الجيوش أربعة آلاف وما هزم قوم بلغوا اثني عشر ألفا من قلة إذا صدقوا وصبروا . إلا أن حجينا قال : عن ابن شهاب ولم يقل في آخر الحديث وصبروا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ساتھی چار ہیں ، بہترین سرایا وہ جس میں چار سو لوگ ہیں اور بہترین لشکر وہ جو چار ہزار پر مشتمل ہو‘ بارہ ہزار قلت کی بنا پر مغلوب نہیں ہو سکتے‘ جب وہ صدق ِدل سے صبر کے ساتھ لڑیں، مگر حجین نے کہا: حضرت ابن شہاب سے روایت ہے اور انہوں نے حدیث کے آخر میں ’’وصبروا‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← حبان بن علي ← يُونُسَ ← يونس بن محمد و حجين بن المثنى ← حجاج بن يوسف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2714

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2715

2715 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا يحيى بن أبي بكر حدثنا الحسن بن صالح عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجز شاربه وكان إبراهيم يجز شاربه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2715

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2716

2716 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا زهير حدثنا بشر بن السري حدثنا شعبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخنصر والإبهام سواء K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خنصر اور انگوٹھا(دیت) میں برابر ہیں۔

الخنصر والإبهام سواء إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2716

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2717

2717 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن طاووس عمن سمع ابن عمر و ابن عباس يحدثان Y عن النبي صلى الله عليه و سلم : لا يجل لرجل مسلم أن يعطي العطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يرجع في عطيته كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم رجع في قيئه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے لے مگر باپ جو اس نے اپنے بیٹے کو دیا ہے وہ واپس لے سکتا ہے۔ اس کی مثال جو کسی کو عطیہ دے کر واپس لیتا ہے اس طرح جس طرح کتا جب سیر ہو جائے وہ قئے کر کے دوبارہ چاٹ لیتا ہے ۔

ابن عمر و ابن عباس يحدثان ← طاووس عمن ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2717

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2718

2718 - حدثنا زهير أخبرنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم الحديبية : يرحم الله المحلقين قال : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : يرحم الله المحلقين قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : يرحم الله المحلقين قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال ] : والمقصرين قالوا : يا رسول الله ما بال المحلقين لم ظاهرت لهم بالترحم ؟ قال رضي الله عنه إنهم لم يشكوا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تھے: اے اللہ! حلق کرنے والوں کو بخش دے، ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! قصر کرنے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا کی: اے اللہ ! حلق کرنے والوں کو بخش دے۔ تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ دعا کی : اے اللہ ! قصر کرنے والوں کو بھی بخش دے۔صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بال کاٹنے والوں کو دوسروں پر ترجیح دینے کی حکمت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ انہوں نے شک نہیں کیا ( بال چھوٹے کرنے والوں کو شک رہتا ہے کہ شاید اس سے کم یا زیادہ کاٹنے ہوں )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2718

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2719

2719 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ثابت أبو زيد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عم سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذا الحجر لسانا وشفتين يشهدان لمن استلمه يوم القيامة بحق K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پتھر ( حجر اسود ) کے دو ہونٹ اور ایک زبان ہو گی دونوں گواہی دیں گے اس کے لیے جس نے اس کو بوسہ دیا ہو گا قیامت کے دن حق کے ساتھ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الله بن عثمان بن خثيم عم سعيد بن جبير ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2719

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2720

2720 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ثابت أبو زيد عن هلال عن عكرمة عن ابن عباس قال Y أسري بالنبي صلى الله عليه و سلم إلى بيت المقدس ثم جاء من ليلته فحدثهم بمسيره وبعلامة بيت المقدس وبعيرهم قال : قال : أناس نحن لا نصدق محمدا فارتدوا كفارا فضرب الله أعناقهم مع أبي جهل قال : وقال أبو جهل : يخوفنا محمد بشجرة الزقوم ؟ هاتوا تمرا وزبدا تزقموا قال : ورأى الدجال في صورته رؤيا عين ليس رؤيا منام وعيسى بن مريم وإبراهيم قال : فسئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الدجال فقال : رأيته فيلمانيا أقمر هجانا إحدى عينيه قائمة كأنها كوكب دري كأن شعره أغصان شجرة ورأيت عيسى شابا أبيض جعد الرأس حديد البصر مبطن الخلق ورأيت موسى أسحم آدم كثير الشعر ! شديد الخلق ورأيت إبراهيم فلا أنظر إلى إرب من آرابه إلا نظرت إليه كأنه صاحبكم قال : وقال لي جبريل : سلم على أبيك فسلمت عليه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی سیر کروائی گئی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات آئے ان کو بتایا سیر کے متعلق اور بیت المقدس کی نشانی ۔مشرکین کہنے لگے: ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔لوگوں نے کہا: ہم محمد کی تصدیق نہیں کریں گے‘ وہ کافر ہو کر مرتد ہو گئے‘ اللہ عزوجل نے ابو جہل کے ساتھ ان کو مارا۔ ابو جہل کہنے لگے: محمد! ہم کو زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے‘ کھجور اور مکھن لے آ ؤ‘ وہ زقوم کی طرح ہو جائے گا‘ اس نے دجال کو اپنی جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے نہ کہ صرف خواب میں اور عیسیٰ ابن مریم اور ابراہیم کو دیکھا ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا دجال کے دیکھنے کے متعلق تو آپ نے فرمایا: میں نے اس کو دیکھا ہے‘ جسم بھاری بھرکم‘ چاند سے چمکیلا‘ اعلیٰ نسب والا‘ اس کی ایک آنکھ ہے اس طرح گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے‘ اس کے بال ایسے ہیں جس طرح درخت کی ٹہنیاں ہوتی ہیں‘ میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا وہ نوجوان تھے‘ سفید رنگ والے تھے‘ آپ گھنگھریالے بالوں والے تھے‘ تیز نگاہ والے تھے‘ خوش اخلاق تھے‘ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ تھوڑے گھنگھریالے بالوں والے تھے لیکن بال مبارک بہت زیادہ تھے‘ سخت طبیعت کے تھے‘ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا‘ میں نے آپ کے اعضاء میں ایک ایک عضو کو دیکھا مگر میں نے ان کی طرف دیکھا گویا وہ تمہارا صاحب ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خود اپنی ذات ِپاک ۔ مجھے جبرائیل نے عرض کی : اپنے والد ماجد کو سلام کریں تو میں نے ان کو سلام کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالٍ، ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2720

chevron_left Previous
1…8910…15
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter