Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2661

2661 - حدثنا محرز بن عون قال : حدثنا إبراهيم بن سعد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه عن طلحة بن عبد الله بن عوف قال Y صليت خلف ابن عباس على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب وسورة وجهر حتى أسمعنا فلما انصرف أخذت بيده فسألته عن ذلك فقال : سنة وحق K إسناده صحيح

حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور اونچی پڑھی یہاں تک کہ ہم نے سن لی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حق ہے۔

طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ،

Hadith 2661

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2662

2662 - حدثنا محمود بن خداش حدثنا محمد بن عبيد عن طلحة عن ابن عباس قال Y لما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة قال : أما والله لأخرج منك وإني لأعلم أنك أحب بلاد الله إلي وأكرمه على الله ولولا أن أهلك أخرجوني ما خرجت . يا بني عبد مناف إن كنتم ولاة هذا الأمر من بعدي فلا تمنعوا طائفا ببيت الله ساعة من ليل ولا نهار ولولا أن تطغى قريش لأخبرتها ما لها عند الله اللهم إنك أذقت أولهم وبالا فأذب آخرهم نوالا K رجاله رجال الصحيح خلا محمود بن خداش وهو ثقة

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے نکلے تو فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے نہ نکلتا میں جانتا ہوں تو مجھے اللہ کے شہروں میں سے زیادہ محبوب، اللہ کے ہاں عزت والا ہے۔ اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ نکلواتے میں نہ نکلتا۔ اے بنی عبدمناف! اگر تم اس کام کے ولی بن گئے میرے بعد تم اللہ کے گھر سے طواف کرنے والوں کو نہ منع کرنا ، دن و رات کی کسی بھی گھڑی میں ۔ اگر قریش سرکشی نہ کرتے میں ان کو بتاتا ان کا اللہ کے ہاں کتنا اجر ہے۔اے اللہ! تو نے ان پہلوں کو عذاب کا مزہ چکھایا ہے تو اب ان کے بعد والوں کو انعام کا مزہ بھی چکھا دے۔

لما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ

Hadith 2662

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2663

2663 - حدثنا محمد الأحمسي حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس Y في قوله { وأنزلنا من المعصرات ماء ثجاجا } [ النبأ : 14 ] قال : المعصرات : الرياح ثجاجا قال : منصبا K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کی ’’وانزلنا من المعصرات الىٰ آخره ‘‘ معصرات سے مراد ہوا ہوتی ہے اور ثجاجا سے مراد بارش ہے۔

منصبا إسناده ضعيف جدا ← المعصرات الرياح ثجاجا ← ابن عباس في قوله وأنزلنا من المعصرات ماء ثجاجا النبأ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← محمد الأحمسي

Hadith 2663

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2664

2664 - وعن ابن عباس في قوله Y { أو كصيب من السماء } [ البقرة : 19 ] قال الصيب : المطر K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آیت کا معنی’’اؤ کصیب الیٰ آخرہ ‘‘ (البقرہ:۱۹) یوں کرتے ہیں کہ صیب سے مراد بارش ہے۔

الصيب المطر إسناده ضعيف جدا ← وعن ابن عباس في قوله أو كصيب من السماء البقرة

Hadith 2664

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2665

2665 - وعن ابن عباس في قوله Y { رخاء حيث أصاب } [ ص : 36 ] قال الرخاء : المطيعة وأما قوله : { حيث أصاب } قال : حيث أراد

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کا ’’رخاء حيث أصاب ‘‘الرخاء سے مراد اطاعت ہے‘ حيث اصاب سے مراد جیسے اس کا ارادہ ہے ۔

حيث أراد ← الرخاء المطيعة وأما قوله حيث أصاب ← وعن ابن عباس في قوله رخاء حيث أصاب ص

Hadith 2665

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2666

2666 - وعن ابن عباس في قوله Y { فأصابها إعصار فيه نار فاحترقت } [ البقرة : 266 ] قال الإعصار : الريح الشديد K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ارشاد کا ’’اعصارفيه الىٰ آخرہ‘‘(البقرہ:266 ) کا معنی اعصار سے مراد سخت ہوائیں ۔

الإعصار الريح الشديد إسناده ضعيف جدا ← وعن ابن عباس في قوله فأصابها إعصار فيه نار فاحترقت البقرة

Hadith 2666

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2667

2667 - وعن ابن عباس في قوله Y { أضغاث أحلام } [ يوسف : 44 ] قال : هي الأحلام الكاذبة K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کا معنی’’اضغاث احلام‘‘ احلام سے مراد جھوٹی خوبیاں ہیں ۔

هي الأحلام الكاذبة إسناده ضعيف جدا ← وعن ابن عباس في قوله أضغاث أحلام يوسف

Hadith 2667

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2668

2668 - وعن ابن عباس Y في قوله عز و جل { الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس } [ البقرة : 275 ] قال : يعرفون يوم القيامة بذلك لا يستطيعون القيام إلا كما يقوم المجنون المخنق { ذلك بأنهم قالوا إنما البيع مثل الربا } [ البقرة : 275 ] ـ كذبوا على الله ـ { وأحل الله البيع وحرم الربا فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وأمره إلى الله ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون } [ البقرة : 275 ] وقوله : { يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين * فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله } إلى آخر الآية [ البقرة : 278 279 ] فبلغنا والله أعلم ـ أن هذه الآية نزلت فب بني عمرو بن عمير بن عوف من ثقيف وفي بني المغيرة من بني مجزوم كانت بنو المغيرة يربون لثقيف فلما أظهر الله [ رسوله ] على مكة وضع يومئذ الربا كله وكان أهل الطائف قد صالحوا على أن لهم رباهم وما كان عليهم من ربا فهو موضوع وكتب رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر صحيفتهم أن لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين : أن لا يأكلوا الربا ولا يؤاكلوه فأتاهم بنو عمرو بن عمير وبنو المغيرة إلى عتاب بن أسد ـ وهو على مكة ـ فقال بنو المغيرة : ما جعلنا أشقى الناس بالربا ؟ وضع عن الناس غيرنا فقال بنو عمرو بن عمير : صولحنا على أن لنا ربانا فكتب عتاب ابن أسيد في ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزلت هذه الآية { فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله } [ البقرة : 279 ] فعرف بنو عمرو أن الإيذان لهم بحرب من الله ورسوله بقوله { وإن تبتم فلكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون } [ البقرة : 279 ] { ولا تظلمون } فتأخذون أكثر { ولا تظلمون } فتبخسون منه { وإن كان ذو عسرة } أن تذروه خير لكم إن كنتم تعلمون { فنظرة إلى ميسرة وأن تصدقوا خير لكم إن كنتم تعلمون * واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون } [ البقرة : 280 ، 281 ] فذكروا أن هذه الآية نزلت وآخر أية من سورة النساء نزلتا آخر القرآن K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا معنی بیان کرتے ہیں کہ الذين يأكلون الى ٰ آخره ‘‘ (البقرہ:۴ ۲۷ ) وہ قیامت کے دن پہچانے جائیں گے، اس کے ساتھ کہ وہ کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھیں گے، مگر ایسے جس طرح کوئی مجنون کھڑا ہوتا ہے۔’’یہ اس لیے انہوں نے کہا: بیع سود کی مثل ہے‘‘۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ۔’’ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے جو اپنے رب کی نصیحت کی طرف آئے وہ باز آ جائے جو دوبارہ کھائے‘‘۔ پس جس نے سود کھایا ’’یعنی لوگ اصحاب النار ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ (البقرہ:۸۱) ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، چھوڑو جو سود باقی ہے اگر تم ایمان والے ہو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘ (البقرہ:۲۷۹) ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ یہ آیت بنی عمر و بن عمیر بن عوف‘ قبیلہ ثقیف والے اور بنی مغیرہ قبیلہ بنی مخزوم والے کے متعلق نازل ہوئی۔ بنو مغیرہ‘ قبیلہ ثقیف والوں کوسود دیتے تھے‘ جب اللہ عزوجل نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ دیا‘ سود ان تمام سے ختم کر دیا‘ اہل طائف نے ان ے صلح کی کہ ان کے لیے سود ہو گا اور ان پر سود نہیں ہو گا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط لکھا کہ نہ ان کے لیے نہ مسلمانوں کے لیے سود جائز ہے کہ وہ سود نہ خود کھائیں اور نہ کھلائیں۔ بنوعمرو بن مغیرہ اور بنو مغیرہ‘ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کے گورنر تھے ۔ بنو مغیرہ نے کہا: ہم لوگوں میں سب سے بڑا بد بخت وہ ہو گا جوسود لیتا ہو گا‘ سود ہمارے علاوہ اور لوگوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ بنو عمرو نے کہا: ہم پرصلح کی گئی ہے کہ ہمارے لیے سود ہو گا۔حضرت عتاب بن اُسید نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف خط لکھا تو اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اگر تم سود لینے سے باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘۔ بنو عمروکومعلوم ہو گیا کہ سود لینے کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے ’’اگر تم توبہ کر لو تو اصل مال تمہارا ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘ تم ظلم نہ کرو کہ تم زیادہ لو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا کہ اس سے کمی کرو‘ اگر تنگ دست ہو تو مہلت دو اگر صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو اللہ سے ڈرو اور اس دن سے کہ تم اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے پھر ہر جان کو پورا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ یہ آیت ذکر کی اور سورۃ النساء کی آیت ذکر کی‘ دونوں قرآن کی آخری آیت نازل ہوئی۔

ابن عباس في قوله عز و جل

Hadith 2668

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2669

2669 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا وكيع بن الجراح عن شيخ سماه وكيع قال : سمعت طاووسا يحدث عن عبد الله الأزدي أو عبيد الله الأزدي شك أبو عثمان عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوحي إلي أن أسجد على سبعة أعظم ولا أكف شعرا ولا ثوبا K إسناده ضعيف غير أن الحديث صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وحی کی گئی ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور کپڑے اور بالوں سے نہ کھیلوں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الله الأزدي أو عبيد الله الأزدي شك أبو عثمان ← طَاوُوسًا ← شيخ سماه وكيع ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Hadith 2669

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2670

2670 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوري قال : أخبرني زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تمضمض واستنشق وغسل وجهه وغسل ذراعيه مرة ويده مرة ومسح برأسه وأذنيه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا‘ ایک ایک مرتبہ اور سر کا مسح کیا۔ ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ نے دونوں پاؤں بھی دھوئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عبد العزيز بن محمد الدراوري ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Hadith 2670

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2671

2671 - وأخبرني بعض أصحابنا أن ابن عباس قال Y وغسل رجليه K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کُلی اور ناک میں ایک ہی مرتبہ پانی ڈالا ۔

وغسل رجليه إسناده ضعيف ← وأخبرني بعض أصحابنا أن ابن عباس

Hadith 2671

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2672

2672 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد العزيز بن محمد عن زيد بن أسلم قال : حدثني عطاء عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ فتمضمض واستنشق من غرفة واحدة K إسناده صحيح

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Hadith 2672

chevron_left Previous
1…456…15
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter