مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2649
2649 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا هشام بن يوسف حدثني القاسم بن أخي خلاد بن عبد الرحمن عن خلاد بن عبد الرحمن عن سعيد بن المسيب أنه سمع ابن عباس يقول Y بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس يوم الجمعة أتاه رجل من بني ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة يتخطى الناس حتى أقترب إليه فقال : يا رسول الله : أقم علي الحد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اجلس فجلس ثم قام الثانية فقال : اجلس ثم قام الثالثة فقال مثل ذلك فقال : وما حدك ؟ قال : أتيت امرأة حراما فقال النبي صلى الله عليه و سلم لرجال من أصحابه فيه علي بن أبي طالب و العباس و زيد بن حارثة و عثمان بن عفان : انطلقوا به فاجلدوه مئة جلدة ولم يكن الليثي تزوج قيل : يا رسول الله : ألا تجلد التي خبثت بها ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ائتوني به مجلودا فلما أتي به قال النبي صلى الله عليه و سلم : من صاحبتك ؟ قال : فلانة ـ امرأة من بني بكر ـ فدعا بها فسألها عن ذلك فقالت : كذب والله ما أعرفه وإني مما قال لبريئة الله على ما أقول من الشاهدين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من شهد على أنك خبثت بها ؟ فإنها تنكر فإن كان لك شهداء جلدتها حدا وإلا جلدناك حد الفرية فقال : يا رسول الله ما لي شهداء فأمر به فجلد حد الفرية ثمانين جلدة K إسناده ضعيف
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ نبی لیث بن بکر بن عبد مناة بن کنانہ کا ایک آدمی آیا۔لوگوں کی گردنیں پچھلانگتا ہوا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گیا ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھ پر حد قائم کیجیے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: بیٹھ جا! بیٹھ جا! وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوسری مرتبہ کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا ، وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا حد چاہتا ہے؟ اس نے عرض کی میں نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا جو وہاں موجود تھے۔ حضرت علی ، حضرت عباس، حضرت زبیر بن حارثہ، عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: اس کو لے چلو اور اس کو سو کوڑے مارو ۔ اس لیثی نے شادی نہیں کی تھی ۔عرض کی : یا رسول اللہ! کیا اس کو کوڑے ماریں اس کے خبث کی وجہ سے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوڑا لاؤ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا ساتھی کون ہے؟ یعنی جس کے ساتھ زنا کیا۔ اس نے عرض کیا: فلانی بنی بکر کی عورت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوا کر اس سے اس کے متعلق پوچھا؟ اس عورت نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے۔ میں اس کو نہیں جانتی ہوں یہ جو کہہ رہا ہے میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ کی قسم! میرے پاس گواہ نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو گواہی دے اس پر کہ اس نے زنا کیا ہے؟ یہ عورت تو انکار کر رہی ہے ۔اگر تیرے پاس گواہ نہیں ہے تو میں تم کو چھوڑ دوں اس کو حد لگاتا ہوں ۔ ورنہ حد فریہ لگاتا ہوں۔عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس گواہ نہیں ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حد فریہ لگوائی ۸۰ کوڑے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← القاسم بن أخي خلاد بن عبد الرحمن ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2649
