Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2637

2637 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر بن الوليد : أخبركم أبو يوسف عن ليث بن أبي سليم عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة . Y أن امرأة سألتها عن الحائض تقضي الصيام ولا تقضي الصلاة فقالت لها : أحرورية أنت ؟ كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسبم نقضي الصيام ولا نقضي الصلاة K إسناده ضعيف

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے پوچھا: حالت ِحیض میں روزوں کی قضاء ہے اور نماز کی قضا نہیں ہے، ایسا کیوں ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: تو احروریہ ہے؟ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھیں ہم روزوں کی قضاء کرتے تھے اور نماز کی قضاء نہیں کرتے تھے۔

الحائض تقضي الصيام ولا تقضي الصلاة ← عائشة أن امرأة سألتها ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← ليث بن أبي سليم ← قرئ على بشر بن الوليد أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2637

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2638

2638 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر بن الوليد : أخبركم أبو يوسف عن عبد الله بن علي عن إسحاق بن عبد الله عن طلحة بن كيسان عن عروة عن عائشة قالت : Y أول ما فرضت الصلاة ركعتين فزيد في صلاة الحضر وتركت صلاة السفر

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے نماز فرض دو رکعتیں کی گئی ۔ پھر اس کے بعد مقیم کی نماز میں اضافہ کیا گیا اور سفر کی نماز کو چھوڑ دیا گیا (یعنی اس حالت پر جس حالت پر فرض ہوئی تھیں ) ۔

أول ما فرضت الصلاة ركعتين فزيد في صلاة الحضر وتركت صلاة السفر ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← طلحة بن كيسان ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← عبد الله بن علي ← قرئ على بشر بن الوليد أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2638

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2639

2639 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف عن الأجلح عن عبد الله بن ذكوان عن الأعرج أنه قال : أخبرني عبد الله بن مالك بن بحينة Y أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى من الليل فلم يجلس في السجدتين الأوليتين فسجد سجدتي السهو مكانه K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے دوسجدوں کے درمیان نہیں بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی جگہ پر دو سجدے سہو کے کیے۔

الْأَعْرَجُ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ ← الأَجْلَحِ، ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2639

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2640

2640 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا محمد بن جامع العطار حدثنا حماد بن زيد حدثنا أيوب عن نافع عن أبي هريرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الخيل معقود بنواصيها الخير K إسناده ضعيف

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی ہی بھلائی رہے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← محمد بن جامع العطار ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2640

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2641

2641 - حدثنا محمد بن جامع حدثنا يزيد بن زريع حدثنا روح بن القاسم عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير معقود بنواصي الخيل K إسناده ضعيف

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی ہی بھلائی رہے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← محمد بن جامع

Hadith 2641

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2642

2642 - حدثنا محم بن جامع العطار حدثنا حماد بن زيد عن زيد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير معقود بنواصي الخيل K إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی ہی بھلائی رہے گی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← زيد1 ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← محم بن جامع العطار

Hadith 2642

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2643

2643 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا محمد بن عقبة السدوسي حدثنا علي أبو محمد القرشي حدثنا أبو عبد الرحمن الغنوي عن عبيد الملك بن عمير قال Y رأيت الحسين بن علي أتي به عبيد الله بن زياد ورأيت رأس عبيد الله بن زياد أتي به المختار بن أبي عبيد ورأيت رأس المختار أتي به مصعب بن الزبير ورأيت رأس مصعب أتي به عبد الملك بن مروان .قال أبو يعلى : ما كان لهؤلاء عمل إلا الرؤوس ! ؟ K أثر إسناده ضعيف جدا

حضرت ابوعبدالرحمٰن الغنوی، عبد الملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر مبارک دیکھا، اس کو عبداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تھا اور میں نے عبداللہ بن زیادہ کے سر کو دیکھا وہ مختار بن ابی عبید کے پاس لایا گیا تھا، میں نے مختار کا سر دیکھا اس کو مصعب بن زبیر کے پاس لایا گیا تھا، میں نے مصعب بن زبیر کا سر دیکھا اس کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس لایا گیا تھا۔ امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں: ان تمام کا جو انجام ہوا‘ وہ سر ہی لائے گئے تھے۔

أبو يعلى ما كان لهؤلاء عمل إلا الرؤوس أثر إسناده ضعيف جدا ← رأيت رأس مصعب أتي به عبد الملك بن مروان ← رأيت رأس المختار أتي به مصعب بن الزبير ← رأيت رأس عبيد الله بن زياد أتي به المختار بن أبي عبيد ← رأيت الحسين بن علي أتي به عبيد الله بن زياد ← عبيد الملك بن عمير ← أبو عبد الرحمن الغنوي ← علي أبو محمد القرشي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2643

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2644

2644 - أخبرنا أبو يعلى حدثنا محمد بن عقبة حدثنا يحيى بن حماد حدثنا أبو عوانة قال Y صنعت طعاما فدعوت سليمان الأعمش فبلغني عنه أنه قال : إن وضاحا دعانا على عرق عائر ورمان حامض قال : فلقيت رقبة بن مسلقة فشكوته إليه فقال : أكفيك فلقيه فقال : يا أبا محمد دعاك أخ من إخواننا فأكرمك ثم تقول : على عرق عائر ورمان حامض ؟ ! أما والله ما علمتك إلا شرس الطبيعة دائم القطوب سريع الملل مستخفا بحقوق الزور كأنك تسعط الخردل إذا سئلت الحكاية

حضرت امام ابو عوانہ فرماتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا‘ سلیمان الاعمش کی دعوت کی‘ ان کی طرف سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ انہوں نے کہا ہے کہ وضاح نے میری دعوت کی ہے جس میں سی عرق اور کھٹے انار پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں: پس میں اس سلسلہ میں عقبہ بن مسقلہ سے ملا اور ان کے سامنے ان کی شکایت کی تو انہوں نے میری طرف سے ان سے بات کرنے کی حامی بھر لی‘ پس انہوں نے ان سے ملاقات کر کے کہا: تیرے مسلمان بھائیوں میں سے ایک بھائی نے تیری دعوت کی اپنی طاقت کے مطابق تیری عزت کی‘ پھر آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے سی عرق اور کھٹا انار کھلایا پلایا ہے‘ قسم ہے میں نے تیرے جیسا خراب مزاج، جلدی اُکتا جانے والا اور ملاقات کے حقوق کو پامال کرنے والا نہیں دیکھا۔

أكفيك فلقيه ← فلقيت رقبة بن مسلقة فشكوته إليه ← إن وضاحا دعانا على عرق عائر ورمان حامض ← صنعت طعاما فدعوت سليمان الأعمش فبلغني عنه أنه ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2644

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2645

2645 - حدثنا وهب بن بقية حدثنا حماد بن زيد قال Y لقنت سلمة بن علقمة فحدثني به فرجع عنه ثم قال : إذا أردت أن يكذب صاحبك فلقن K أثر رجاله ثقات

حضرت حماد بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن علقمہ سے ملاقات کی مجھے انہوں نے بیان کیا، وہ اس سے واپس آ گئے، پھر فرمایا: جب تو ارادہ کرے اپنے ساتھی کو جھٹلانے کا ، اس کو تلقین کر ۔

إذا أردت أن يكذب صاحبك فلقن أثر رجاله ثقات ← لقنت سلمة بن علقمة فحدثني به فرجع عنه ثم ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Hadith 2645

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2646

2646 - حدثنا شعيب بن سلمة بن قاسم الأنصاري من ولد رفاعة بن رافع بن خديج قال : حدثنا أبو مصعب إسماعيل بن قيس بن زيد بن ثابت حدثنا أبو حازم عن سهب بن سعد الساعدي قال Y أستأذن العباس بن عبد المطلب النبي صلى الله عليه و سلم في الهجرة فقال له : يا عم أقم مكانك الذي أنت به فإن الله ـ عز و جل ـ يختم بك الهجرة كما ختم بي النبوة K إسناده ضعيف جدا

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے چچا! اپنی جگہ ٹھہریئے جس جگہ آپ ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ہجرت ختم کر دے گا ۔ جیسے میرے آنے سے نبوت ختم کر دی گئی۔

سهب بن سعد الساعدي ← أَبُو حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،

Hadith 2646

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2647

2647 - حدثنا يعقوب حدثنا عبد الرحمن بن مهدي قال : سمعت شعبة يقول : Y إن هذا الحديث يصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة وعن صلة الرحم فهل أنتم منتهون ؟ ! K إسناده صحيح إلى شعبة

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ یہ بات تم کو اللہ کے ذکر سے ، نماز سے اور صلہ رحمی سے روکتی ہے، کیا تم باز آ جاؤ گے؟

الصَّلَاةِ ← اللہُ ← «إِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ يَصُدُّكُمْ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ،

Hadith 2647

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2648

2648 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا بشر قال : أخبرنا عبد الله بن عثمان عن عبيد الله بن أبي مليكة حدثني ذكوان Y أن ابن عباس جاء يستأذن على عائشة وهي في الموت قال : فجئت وعند رأسها عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر فقلت هذا ابن عباس يستأذن عليك ؟ قالت : دعني من ابن عباس فلا حاجة لي به ولا بتزكيته قال : فقال عبد الله : يا أمتاه إن عبد الله بن عباس من صالحي بنيك يريد أن يسلم عليك قالت : فأذن له إن شئت قال : فجاء ابن عباس فعقد فقال : أبشري فو الله ما بينك وبين أن تفارقي كل نصب وتلقي محمدا والأحبة إلا أن تفارق روحك جسدك قالت : أيضا ابن عباس ؟ ! قال : كنت أحب نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا طيبا سقطت قلادتك يوم الأبواء فأصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم في المنزل يلتقطها وأصبح الناس ليس معهم ماء فأنزل الله ـ تبارك وتعالى ـ أن تيمموا صعيدا طيبا فكان ذلك من سببك ما أنزل الله لهذه الأمة من الرخصة ثم أنزل الله براءتك من فوق سبع سماوات فأصبح ليس مسجد من مساجد الله يذكر فيه الله إلا تتلى فيه براءتك آناء الليل وآناء النهار . قالت : دعني منك يا ابن عباس فو الله لوددت أني كنت نسيا منسيا K إسناده صحيح

حضرت ذکوان فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے حضرت اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اجازت چاہی اس بیماری میں جس میں آپ نے وصال فرمایا تھا۔ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے سر کے پاس حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر تھے۔ میں نے عرض کی: یہ ابن عباس ہیں ( آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:چھوڑ دو مجھے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے (یعنی میں بیمار ہوں اور مجھ میں ہمت نہیں ہے ) ۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ان کے پاس ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ، اے امی جان بے شک عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نیک فرزندوں میں سے ہے، وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اس کو اجازت دے دوا گر تو چاہتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ۔اس کے بعد بیٹھ گئے ۔عرض کی: اللہ کی قسم! آپ کو خوشخبری ہو۔ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان جو دنیا سے چلے گئے ان سے ملاقات کا اتنا وقت رہ گیا جتنا روح کا جسم سے جدا ہونے کا ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کہا: اے ابن عباس! یہ بھی ہو گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج پاک سے زیادہ محبوب تھیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہی کو پسند کرتے تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ابواء کے دن ہار گر گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی جگہ صبح کہا۔صحابہ کرام نے اس کو تلاش کیا ۔لوگوں نے صبح اس حالت میں کی کہ ان کے پاس پانی تک نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ تم پاک مٹی سے تیمّم کر لو۔ یہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سبب ہوا تھا۔ اللہ عزوجل نے رخصت فرمائی اس امت پر۔ پھر اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برات نازل فرمائی ۔ سات آسمانوں کے اوپر سے کوئی مسجد نہیں ہو گی جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہو مگر وہاں پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر برأت کی آیتیں نازل ہونے والی پڑھی نہ جاتی ہوں دن و رات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دیں ، اللہ کی قسم! میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہو جاتی ۔

ذَكْوَانَ، ← عبيد الله بن أبي مليكة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← بِشْرٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Hadith 2648

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter