Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2781

2781 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي حدثنا أبي عن إسماعيل بن مسلم عن الحسن عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي على راحلته K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری مبارک پر نماز پڑھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← أَبِي ← الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي

Hadith 2781

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2782

2782 - حدثنا أبو يوسف الجيزي حدثنا مؤمل أخبرنا مبارك عن الحسن عن أنس قال Y كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وعنده عمر بن الخطاب ورسول الله على سرير شريط ليس بين جنب رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين الشريط شيء قال : وكان أرق الناس بشرة فانحرف انجرافة وقد أثر الشريط ببطن جلده ـ أو بجنبه ـ فبكى عمر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يبكيك ؟ قال : أما والله ما أبكي يا رسول الله أن لا أكون أعلم أنك أكرم على الله من قيصر و كسرى إنهما يعيثان فيما يعيثان فيه من الدنيا وأنت رسول الله بالمكان الذي أرى ؟ فقال : يا عمر أما ترضى أن تكون لنا الآخرة ولهم الدينا ؟ قال : بلى قال : فإنه كذلك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار پائی پر جلوہ افروز تھے اور وہ کھجور کے چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی تھی ۔ نبی کریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو مبارک اور ان رسیوں کے مابین کوئی چیز بھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے نرم جلد والے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑا سا پہلو تبدیل فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلد مبارک یا پہلو مبارک ( راوی کو شک ہے ) پر اس رسی کے نشانات واضح تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھے کس شے نے رُلایا ؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم! مجھے اس شے نے رلایا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے نزدیک قیصر روم اور کسریٰ ایران سے کئی گناہ زیادہ عزت والے ہیں اور وہ دونوں اس دنیا میں دنیا کی اعلیٰ ترین آسائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس مکان میں زندگی شریف بسر فرما رہے ہیں جس کو میں دیکھ رہا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! جی ہاں! میں اس پر خوش ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر معاملہ اسی طرح ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أبو يوسف الجيزي

Hadith 2782

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2783

2783 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثنا الضحاك بن مخلد عن المبارك بن فضالة عن الحسن عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان على سرير وهو مرمل بشريط قال : فدخل عليه ناس من أصحابه قال : ودخل عمر فانحرف النبي صلى الله عليه و سلم فإذا الشريط قد أثر بجنبه فبكى عمر وقال : والله لنعلم أنك أكرم على الله من كسرى و قيصر وهما يعيثان فيما يعيثان فيه قال : أما ترضى أن تكون لهم الدينا ولنا الآخرة ؟ قال : بلى قال : فسكت K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چار پائی پر جلوہ افروز تھے اور وہ کھجور کے پتوں کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پہلو مبارک تبدیل فرمایا‘ اس رسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلد مبارک میں نشان ڈال دیئے تھے تو (اس معاملے کو دیکھ کر ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیصر و کسریٰ سے بہت زیادہ عزت والے ہیں لیکن وہ دونوں دنیا کی آسائشوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں جیسا کہ دہ گزار رہے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا اور ہمارے لیے آخرت؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جی ہاں! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر خاموش ہو جاؤ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← الضحاك بن مخلد ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Hadith 2783

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2784

2784 - حدثنا عمرو بن الضحاك بن مخلد [ حدثنا أبو عاصم عن ] سالم الخياط عن الحسن عن أنس قال Y ما شممت مسكة ولا عنبرة أطيب رائحة من رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو مبارک سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو اور نہ ہی کوئی عطر سونگھی ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← سَالِمٍ الْخَيَّاطِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ،

Hadith 2784

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2785

2785 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن الفضل حدثنا حماد عن حبيب بن الشهيد عن الحسن عن أنس بن مالك قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يريد المسجد وهو متكىء على أسامة بن زيد وعليه ثوب قطن متوشحا به فصلى بهم K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، کہتے ہیں: (ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہارا لیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسجد کا ارادہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک اونی کپڑا تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گردن مبارک سے لٹکایا ہوا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 2785

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2786

2786 - حدثنا هارون بن عبد الله حدثنا حماد بن مسعدة عن عمران القمي عن الحسن عن أنس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما زلت أشفع إلى ربي ويشفعني حتى أقول : رب شفعني فيمن قال : لا إله إلا الله قال : فيقول : ليست هذه لك يا محمد إنما هي لي أما وعزتي وحلمي ورحمتي لا أدع في النار أحدا ـ أو قال : عبدا ـ قال : لا إله إلا الله K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مسلسل اپنے رب کے حضور شفاعت کرتا رہوں گا اور میرا رب میری سفارش قبول فرماتا رہے گاحتٰی کہ میں کہوں گا اے میرے رب تو میری اس بندے کے بارے میں بھی سفارش قبول فرما کہ جس نے بھی لا الہ الا اللہ کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے پیارے محمد ! اس کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کی ضرورت ہے مجھے میری عزت میرے علم اور میری رحمت کی قسم میں آگ میں کسی ایک بھی ایسے کو نہ چھوڑوں گا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ یہ تو میرے ذمہ کرم پر ہے ۔ اس میں راوی کو شک ے کہ ’’احد ‘‘ کہا تھا یا ’’عبدُا‘‘۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← عمران القمي ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 2786

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2787

2787 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن عن أنس قال Y ما صليت خلف أحد بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم أتم صلاة وأوجز من رسول الله صلى الله عليه و سلم K رجاله ثقات

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے بھی پیچھے نماز نہیں پڑھی کہ جس کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے زیادہ تام اور زیادہ مختصر ہو۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Hadith 2787

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2788

2788 - حدثنا محمد بن المثنى حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن عن أنس قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة بين القبور K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

الصلاة بين القبور رجاله رجال الصحيح ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Hadith 2788

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2789

2789 - حدثنا محمد بن بحر حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي عن أبيه عن الحسن عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مشى إلى حاجة أخيه المسلم كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة إلى أن يرجع من حيث فارقه فإن قضيت حاجته خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وإن هلك فيا من هالك دخل الجنة بغير حساب ! K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی حاجت کی طرف چلا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک وہ جہاں سے چلے تھے وہاں واپس لوٹ آئیں پھر اگر اس کی حاجت پوری ہو جائے یعنی اس کا کام ہو جائے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسا کہ اس کو اس کی والدہ نے آج جنا ہو اور اگر وہ اس دوران میں ہلاک ہو جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے جنت میں داخل فرما دے گا۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحيم بن زيد العمي ← محمد بن بحر

Hadith 2789

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2790

2790 - حدثنا محمد بن إبراهيم الشامي العباداني حدثنا سويد بن عبد العزيز عن نوح بن ذكوان عن أخيه أيوب عن الحسن عن أنس قال Y قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم عن الأجود الأجود ؟ الله الأجود الأجود وأنا أجود ولد آدم وأجودهم من بعدي رجل علم علما فنشر علمه يبعث يوم القيامة أمة واحدة ورجل جاد بنفسه في سبيل الله حتى يقتل K إسناده مسلسل بالضعفاء

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے سخی سے بھی بڑے سخی کے بارے میں خبر نہ دوں؟ اللہ تعالیٰ سب سے بڑے سخی سے بھی بڑا سخی ہے اور میں اولاد ِآدم میں سب سے بڑا سخی ہوں ( جواد ہوں ) اور میرے بعد لوگوں میں سب سے بڑا سخی وہ ہے جس نے علم حاصل کیا اور اپنے علم کو پھیلا یا قیامت کے دن ان کو ایک گروہ کی صورت میں اٹھایا جائے گا اور وہ آدمی ( سخی ہے ) جس نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے اس قدر جہاد کیا حتٰی کہ وہ اللہ کی راہ میں مار دیا گیا ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أخيه أيوب ← نوح بن ذكوان ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← محمد بن إبراهيم الشامي العباداني

Hadith 2790

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter