Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2757

2757 - حدثنا أبو إبراهيم الترجماني حدثنا صالح المري قال : سمعت الحسن يحدث عن أنس بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم ـ فيما يروي عن ربه ـ قال : أربع خصال واحدة منهن لي وواحدة لك وواحدة فيما بيني وبينك وواحدة فيما بينك وبين عبادي . فأما التي لي فتعبدني ولا تشرك بي شيئا وأما التي لك علي فما عملت من خير جزيتك به وأما التي بيني وبينك فمنك الدعاء وعلي الإجابة وأما التي بينك وبين عبادي فارض لهم ما ترضى لنفسك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس روایت میں راوی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: (اے ابن آدم!) چار خصلتیں ہیں ان میں سے ایک میرے لیے ہے اور ایک تیرے لیے ہے اور ان میں سے ایک میرے اور تیرے بندوں کے درمیان ہے بہرحال ان میں سے وہ جو صرف میرے بارے میں ہے وہ یہ ہے کہ تو صرف میری عبادت کر ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ رہی وہ جو تیرے لیے ہے‘ میرے ذمہ کرم پہ ہے وہ یہ ہے کہ تو نے جو بھی اچھا عمل کیا میں اس کی جزا دوں گا، بہرحال وہ جو میرے اور تیرے درمیان ہے تو وہ تیری طرف سے دعا ہے اور میری طرف سے اس کو قبول کرنا ہے اور وہ خصلت جو تیرے اور میرے بندوں کے مابین ہے تو وہ یہ ہے کہ تو ان کے لیے وہ پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

رَبِّهِ ← النبي صلى الله عليه و سلم فيما يروي ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← صالح المري ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2757

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2758

2758 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا مبارك قال سمعت الحسن عن أنس Y أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم متى الساعة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما إنها قائمة فماذا أعددت لها ؟ قال : ما أعددت لها كبيرا إلا أني أحب الله ورسوله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فأنت مع من أحببت ولك ما احتسبت . ثم قال : تسألونني عن الساعة ! والذي نفسي بيده ما على الأرض نفس منفوسة اليوم تأتي عليها مئة سنة . واللفظ للعسكري K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ تو جواباً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خبردار! بے شک وہ آنے والی ہے، تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے کوئی زیادہ تیاری تو نہیں کی مگر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اس کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی ہو گا جو تو نے گمان کیا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھ سے قیامت کے بارے سوال کرتے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی بھی ایسی جان نہیں جو زمین پر آج سانس لے رہی ہو‘ سو سال تک اس زمین پر رہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی‘ پھر فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ تو اس آدمی کو لایا گیا وہ بہت گھبرایا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوس قبیلہ کے ایک بچے کی طرف نظر فرمائی اس کو سعد کہا جاتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ زندہ رہا تو بوڑھا نہ ہو گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن میں بچے جتنا تھا۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2758

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2759

2759 - حدثنا الحسن بن حماد و هدبة بن خالد ـ واللفظ للحسن ـ قالا : حدثنا حزم بن مهران القطعي عن الحسن عن أنس قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم لبعض مخارجه ومعه ناس من أصحابه فانطلقوا يسيرون وحضرت الصلاة فنزل القوم فلم يجدوا ماء يتوضؤون به فقالوا : يا رسول الله ما نجد ما نتوضأ به ! ورأى في وجوه أصحابه الكراهية فانطلق رجل من القوم فجاء بقدح من ماء يسير فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم فتوضأ منه ثم أمر أصابعه الأربع على القدح ثم قال للقوم : هلموا قال : فجاء القوم فتوضؤوا حتى أبلغوا فيما يريدون من الوضوء فقيل : كم بلغ القوم ؟ قال : سبعين رجلا أو نحو ذلك . واللفظ للعسكري K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ ساتھ تھے، وہ سارے چل رہے تھے اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو ساری قوم اتری ان کے پاس اتنا پانی نہیں تھا جس سے سارے وضو کر سکتے‘ تو انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ! ہمارے پاس اتنا پانی بھی موجود نہیں جس سے ہم وضو کر سکیں اور آپ نے اپنے صحابہ کے چہروں میں پریشانی سی دیکھی ۔ پھرقوم میں سے ایک آدمی چلا اور وہ ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ پکڑا اور اس سے وضو کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چاروں انگلیاں پیالے پر پھیریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آؤ۔ راوی کہتے ہیں: ساری قوم آ گئی سب نے وضو کیا حتٰی کہ انہوں نے خوب مبالغہ کر کے وضو کیا جتنا ان کا ارادہ تھا اتنا مبالغہ کر کے وضو کیا۔ راوی سے کہا گیا: اس دن قوم کے کتنے لوگ تھے؟ ( تعداد کیا تھی؟ ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ستر آدمی تھے اور اس جتنے ( جانور وغیرہ بھی ) یہ الفاظ عسکری کے ہیں۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← حزم بن مهران القطعي ← الحسن بن حماد و هدبة بن خالد واللفظ للحسن

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2759

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2760

2760 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا ميمون بن نجيح أبو الحسن الناجي حدثنا الحسن عن أنس قال Y أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه قال : هل بقي من والديك أحد ؟ قال : أمي قال : فأبل الله في برها فإذا فعلت ذلك فأنت حاج ومعتمر و مجاهد فإذا رضيت عنك أمك فاتق الله وبرها

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں جہاد کا شوق رکھتا ہوں مگر اس پر قدرت نہیں رکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! میری ماں زندہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے میں اللہ کی اطاعت کر جب تو نے یہ کر لیا تو حاجی بھی ہے معمر بھی ( عمرہ کرنے والا بھی ) اور مجاہد بھی ہے، جب تیری ماں تجھ سے راضی ہو گئی تو تو اللہ سے ڈر اور اس سے بھی اچھا برتاؤ کر۔

أُمِّي ← هل بقي من والديك أحد ← إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه ← أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← ميمون بن نجيح أبو الحسن الناجي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2760

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2761

2761 - حدثنا عبد الرحمن بن سلام أبو حرب حدثنا حماد عن علي بن زيد عن الحسن عن أنس Y أنه ذكر عند عبيد الله بن زياد الحوض فكأنه أنكره فبلغ ذلك أنسا فقال : لا جرم لأسوءنه فأتاه فقال : ما أنكرتم من الحوض ؟ قال : وهل سمعته يا أبا حمزة من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أكثر من كذا وكذا مرة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما بين طرفي حوضي كما بين أيلة ومكة أو بين صنعاء ومكة وإن آنيته لأكثر من عدد نجوم السماء K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس حوضِ کوثر کا ذکر کیا گیا تو اس نے گویا کہ اس کا انکار کر دیا۔ یہ بات حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میں ضرور اس کو برا کہوں گا۔(ملامت کروں گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے حوضِ کوثر سے کیوں انکار کیا؟ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا آپ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ایک بار نہیں کئی مرتبہ‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ میرے حوضِ کوثر کی دونوں اطراف اتنے فاصلے پر ہیں جتنا کہ ایلہ اور مکہ کے مابین صنعاء اور مکہ کے مابین ہے یا اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← نعم أكثر من كذا وكذا مرة ← يا أبا حمزة من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← «وَهَلْ ← ما أنكرتم من الحوض ← لا جرم لأسوءنه فأتاه ← عند عبيد الله بن زياد الحوض فكأنه أنكره فبلغ ذلك أنسا ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عبد الرحمن بن سلام أبو حرب

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2761

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2762

2762 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن الحسن عن أنس بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل أصحابي مثل الملح في الطعام لا يصلح الطعام إلا بالملح K إسناده ضعيف

حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کی مثال ایسے ہے جس طرح کھانے کے اندر نمک ہوتا ہے کہ کھانا صرف نمک کے ساتھ ہی نہ کھایا جا سکتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2762

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2763

2763 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الحسن عن أنس بن مالك Y أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا يسوق بدنة حافيا فقال : اركبها قال : يا رسول الله إنها بدنة ! قال : اركبها فركبها K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ ایک بدنہ ( قربانی کے بڑے جانور اونٹ وغیرہ کو کہا جاتا ہے ) کو ہانک رہا تھا اور خود ننگے پاؤں تھا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ (بدنہ ) قربانی کا جانور ہے۔ فرمایا: اس پر سوار ہو ۔ وہ اس پر سوار ہو گیا ۔

الْحَسَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2763

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2764

2764 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا سويد بن عبد العزيز عن نوح عن أيوب عن الحسن عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تبارك وتعالى : إني لأستحيي من عبدي وأمتي يشيبان في الإسلام فتشيب لحية عبدي ورأس أمتي في الإسلام أعذبهما في النار بعد ذلك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندے اور اپنی بندی سے کہ جو اسلام میں بوڑھے ہو گئے حیاء آتی ہے میرے بندے کی داڑھی اور میری باندی کا سر اسلام میں سفید ہو جائے اور اس کے بعد بھی میں ان کو دوزخ کا عذاب دوں ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَيُّوبَ، ← نُوحٌ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2764

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2765

2765 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا بقية عن يوسف بن أبي كثير عن نوح بن ذكوان عن الحسن عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من السرف أن تأكل كل ما اشتهيت K إسناده سلسلة من العلل

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی فضول خرچی میں سے ہے کہ جو چیز تیرا نفس خواہش کرے‘ تو اسے کھا لے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← نوح بن ذكوان ← يوسف بن أبي كثير ← بَقِيَّةُ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2765

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2766

2766 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا أبي عن إسماعيل بن مسلم عن الحسن و قتادة عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تبايعوا الغرر K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دھوکہ سے بیع وشراء نہ کرو۔

أَنَسٍ، ← الحسن و قتادة ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2766

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2767

2767 - حدثنا حميد بن مسعدة السامي حدثنا عرعرة بن البرند حدثنا إسماعيل المكي عن الحسن عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تلامسوا ولا تناجشوا ولا تبايعوا الغرر ولا يبيعن حاضر لباد ومن اشترى محفلة فليحلبها ثلاثة أيام فإن ردها فليردها بصاع من تمر K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کپڑے کو چھو کر بیع نہ کرو، نہ ہی بھاؤ میں اضافے کے لیے بولی لگاؤ اور نہ ہی دھوکے سے بیع کرو اور نہ ہی شہری دیہاتی کے لیے بیع کرے اور جو شخص کسی جانور کو دودھ بھرا ہوا خرید لے اس کو چاہیے کہ تین دن اس کو دھوئے پھر اگر اس کو وہ واپس کرنا چاہے ساتھ میں کھجوروں کا ایک صاع بھی دے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← إسماعيل المكي ← عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، ← حميد بن مسعدة السامي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2767

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2768

2768 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا أبي حدثنا إسماعيل عن الحسن و قتادة عن أنس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يلبي : لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہتے تھے: ” حاضر ہوں میں اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، اے اللہ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ، بے شک تمام خوبیاں اور نعمتیں سب تیری ہیں اور تیری ہی بادشاہی ہے تیرا کوئی شریک و ہمسر نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← الحسن و قتادة ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2768

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter