Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2613

2613 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا حفص بن غياث النخعي حدثني ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال Y قال رجل : يا رسول الله وجبت علي بدنة وقد عزت البدن فما ترى ؟ قال : اذبح مكانها سبعا من الشاء K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھ پر اونٹ واجب ہے، اونٹ کم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا راۓ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی جگہ سات بکریاں ذبح کر لو۔

رَجُلٌ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حفص بن غياث النخعي ← عمرو بن حصين

Hadith 2613

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2614

2614 - حدثنا هدبة حدثنا وهيب عن يونس بن عبيد عن عمار بن أبي عمار قال : سمعت ابن عباس يقول Y توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن خمس وستين وكان الحسن يقول : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن ستين

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا‘ اس وقت آپ کی عمر 65 سال تھی ۔ حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت آپ کی عمر 60 سال تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وُهَيْبٌ، ← هُدْبَةُ

Hadith 2614

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2615

2615 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا حديج بن معاوية حدثنا أبو إسحاق عن سعيد بن جبير قال : Y جاء رجل إالى ابن عباس فقال : قد جاء حسان اللعين : فقال ابن عباس : ما هو بلعين لقد جاهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بلسانه ونفسه K إسناده ضعيف

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی : ان کو حسان العین آیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ ان کو لعین کوئی نہیں ہے، بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان اور جان کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔

قد جاء حسان اللعين ← جاء رجل إالى ابن عباس ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← حديج بن معاوية ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Hadith 2615

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2616

2616 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا الوليد بن محمد الموقري عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود . Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إلى قيصر يدعوه إلى الإسلام فبعث بكتابه مع دحية الكلبي وأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يدفعه إلى عظيم بصرى ليدفعه إلى قيصر فدفعه عظيم بصرى إلى قيصر فكان قيصر لما كشف الله عنه جنود فارس نذر أن يمشي من حمص إلى إيلياء بما أبلاه الله في ذلك فلما جاء قيصر كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حين قرأ : التمسوا هل ها هنا من قومه أحد لنسألهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ K إسناده ضعيف جدا ولكن الحديث صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا۔ اس کو اسلام کی دعوت دی۔ خط حضرت دحیہ کلبی کو دے کر بھیجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ کو حکم دیا کہ یہ خط عظیم بصری کو دے دینا تاکہ وہ قیصر کو پہنچا دے ۔عظیم بصری نے قیصر کو دیا۔ قیصر نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ ایران کے لشکر پر فتح دی تو پیدل چل کر حمص سے ایلیاء کی طرف جائے گا جو اللہ نے آزمایا تھا اس کو جب قیصر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط آیا اس نے جس وقت پڑھا۔ اس نے کہا تلاش کرو کیا اس قوم کا کوئی آدمی ہے تاکہ ہم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کوئی سوال کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، مجھے ابو سفیان نے بتایا وہ شام میں تجارت کے لیے گیا ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: ہمارے پاس قیصر کے بھیجے ہوئے آدمی آئے ہیں اور وہ مجھے اور میرے ساتھی کو ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ ہم ایلیاء آئے ہم دونوں اس کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا اس کے اردگر دروم کے سردار تھے۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا ان سے پوچھو کون آدمی اس کے زیادہ قریب ہے جو خیال کرتا ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔ ابو سفیان نے کہامیں ، میں نے کہا وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔ سواری میں اس دن میرے علاوہ عبد مناف کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ قیصر نے کہا: اس کو میرے قریب کرو ۔ میرے ساتھی کو حکم دو کہ وہ میری پشت کے پیچھے ہو جائے ۔ پھر اس نے کہا: اپنے ترجمان سے میں پوچھتا ہوں اس آدمی کے متعلق جو اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے، اگر وہ جھوٹ بولے اس کے جھوٹ کی تکذیب کرو ۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اگر اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ مجھ پر جھوٹ بو ملنے کا الزام لگائیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا جس وقت وہ سوال کرتا لیکن میں نے شرم کی کہ میں اپنے اوپر جھوٹ کو ترجیح دوں‘ میں نے اس سے سچ بولا ۔ پھر اس کے ترجمان نے کہا: اس کو کہو کہ اس آدمی کا نسب تم میں کیسا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: وہ اچھے نسب والے ہیں، پھر اس نے کہا: میں نبوت کا دعویٰ اس سے پہلے بھی کسی نے کیا ہے؟ کسی نے ہم میں نہیں کیا۔ اس نے کہا: کیا تم اس کو جھوٹ کے ساتھ متمع کیا اس کے کہنے سے پہلے جو کہتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔ اس نے پوچھا: کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔ اس نے پوچھا: اس کی اتباع کرنے والے امیر لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ کمزور لوگ ہیں ۔ اس نے پوچھا: وہ اتباع کرنے والے زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا: وہ زیادہ ہو رہے ہیں ۔ اس نے پوچھا: کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔اب ہم نے اس سے ایک مدت کا معاہدہ کیا ہے‘ ہم اس سے ڈرتے ہیں ۔ جو ابو سفیان نے کہا: میں اس بات کے علاوہ کوئی بات داخل کرنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ میں اس سے کم کروں کیونکہ میں ڈرتا تھا کہ مجھ پر جھوٹ کا الزام نہ لگ جائے ۔ اس نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ اس نے پوچھا: تمہاری جنگ اور اس کی جنگ کیسی رہی۔ میں نے کہا: ڈول کی مثل کبھی ہم اس پر غالب آجاتے ہیں دوسری مرتبہ وہ ہم پر غالب آ جاتا ہے۔ اس نے پوچھا: وہ تم کو کیا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ حکم دیتا ہے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، منع کرتا ہے اس سے جس کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے تھے ، ہم کو نماز کا حکم دیتا ہے اور زکوٰۃ کا اور وعدہ پورا کرنے کا اور امانت ادا کرنے کا۔ ترجمان نے کہا: جس وقت میں نے کہا اس کے متعلق اور تجھ سے اس کے نسب کے متعلق پوچھا تم میں کیسا ہے؟ تو نے گمان کیا تم ہی اچھے نسب والا ہے ۔ اس طرح رسول قوم میں اچھے نسب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے تجھ سے سوال کیا: کیا یہ بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی ہے؟ تو نے جواب دیا نہیں ۔ میں نے کہا تھا: وہ اگر اس سے پہلے یہ دعویٰ کسی نے کیا ہوتا تو میں کہتاکہ یہ وہ آدمی ہے جو پہلے کے کہی بات دوہرا رہا ہے ۔ میں نے تجھ سے پوچھا: کیا تم نے اس کو جھوٹ کے ساتھ متمع کیا ہے؟ قبل اس کے جو اس نے کہا‘ تو نے کہا: نہیں۔ میں نے پوچھا تھا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے جھوٹ نہ بولتا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھے ۔ میں نے تجھ سے پوچھا تھا: کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہے؟ تو نے کہا تھا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا تھا: اگر اس کے آباؤ اجداد میں بادشاہ ہوتا ، میں کہتاکہ دو آدمی اپنے باپ کی بادشاہی طلب کرتا ہے۔ میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ اس کی اتباع امیر لوگ یا غریب لوگ کر رہے ہیں؟ ٹو نے کہا تھا کہ اس کی اتباع غریب لوگ کر رہے ہیں، رسولوں کی اتباع ہمیشہ غریب لوگ ہی کرتے ہیں ۔ باقی حدیث سوید کی حدیث میں آ چکی ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد الموقري ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 2616

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2617

2617 - قال ابن عباس : فأخبرني أبو سفيان بن حرب . Y أنهم كانوا بالشام تجارا وذلك في المدة التي كانت بين رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين كفار قريش . قال أبو سفيان : فأتانا رسول قيصر فانطلق بي وبأصحابي حتى قدمنا الإيلياء فأدخلنا عليه فإذا هو جالس في مجلس ملكه عليه التاج وإذا عظماء الروم فقال لترجمانه : سلهم أيهم أقرب إلى هذا الرجل الذي يزعم أنه نبي ؟ قال أبو سفيان : أنا أقربهم قال : فما قرابتك ؟ قال : قلت : هو ابن عمي وليس في الركب يومئذ رجل من بني عبد مناف غيري قال : فقال قيصر : أدنوه مني فأمر بأصحابي فجعلوا خلف ظهري ثم قال لترجمانه : إني سائل هذا عن هذا الرجل الذي يزعم أنه نبي فإن كذب فكذبوه . قال أبو سفيان : لولا الاستحياء يومئذ من أن يأثر أصحابي عني الكذب لكذبته حين سأل ولكني استحييت أن يأثروا عني الكذب فصدقت عنه ثم قال لترجمانه : قل كيف نسب هذا الرجل فيكم ؟ قال : قلت : هو فينا ذو نسب قال : فهل قال هذا القول فيكم أحد قط ؟ قلت : لا قال : فهل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال ؟ قلت : لا قال : فهل كان من آبائه ملك ؟ قال : قلت : لا قال : فأشراف الناس اتبعوه أم ضعفاؤهم ؟ قال : بل ضعفاؤهم قال : فيزيدون أم ينقصون ؟ قال : قلت : بل يزيدون قال : فهل يغدر ؟ قال : قلت : لا ونحن الآن منه في مدة فنحن نخاف ذلك قال : فقال أبو سفيان : فلم تمكني كلمة أدخل فيها بشيء أنتقصه به لأني أخاف أن يؤثر عني غيرها قال : فهل قاتلتموه ؟ قال : قلت : نعم قال : كيف كانت حربكم وحربه ؟ قال : قلت : كانت سجالا يدال علينا المرة ويدال عليه الأخرى قال : فبماذا يأمركم ؟ قلت : يأمرنا أن نعبد الله لا نشرك به شيئا وينهانا عما كان يعبد آباؤنا ويأمرنا بالصلاة والصدقة والوفاء بالعهد وأداء الأمانة . قال : فقال لترجمانه حين قلت ذلك : سألتك عن نسبه فيكم فزعمت أنه فيكم ذو نسب وكذلك الرسل تبعث بأنساب قومها وسألتك : هل قال هذا القول منكم أحد قبله ؟ فزعمت أن لا فقلت : لو كان أحد منهم قال هذا القول قبله قلت : رجل يأتم بقول قيل قبله وسألتك : هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال ؟ فزعمت أن لا فقلت : إنه لم يكن ليذر الكذب على الناس ويكذب على الله وسألتك : هل كان من آبائه ملك ؟ فزعمت أن لا فقلت : لو كان من آبائه ملك قلت رجل يطلب ملك أبيه وسألتك : أشراف الناس يتبعونه أم ضعفاؤهم ؟ فزعمت أن ضعفاءهم اتبعوه وهم أتباع الرسل وسألتك فذكر الحديث والحديث في حديث سويد K إسناده ضعيف جدا ولكن الحديث صحيح

أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 2617

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2618

2618 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا أصبغ بن زيد الجهني حدثنا القاسم بن أبي أيوب حدثنا سعيد بن جبير عن ابن عباس Y في قول الله تعالى { وفتناك فتونا } [ طه : 40 ] سألته عن الفتون ما هو ؟ قال : استأنف النهار يا ابن جبير فإن لها حديثا طويلا فلما أصبحت غدوت إلى ابن عباس لأنتجز منه ما وعدني من حديث الفتون فقال : تذاكر فرعون وجلساؤه ما كان الله وعد إبراهيم من أن يجعل في ذريته أنبياء وملوكا فقال بعضهم : إن بني إسرائيل لينتظرون ذلك ما يشكون فيه وقد كانوا يظنون أنه يوسف بن يعقوب فلما هلك قالوا : ليس كذلك إن الله عز و جل وعد إبراهيم قال فرعون : فكيف ترونه ؟ فائتمروا وأجمعوا أمرهم على أن يبعث رجالا معهم الشفار يطوفون في بني إسرائيل فلا يجدون مولودا ذكرا إلا ذبحوه ففعلوا ذلك فما رأوا أن الكبار من بني إسرائيل يموتون بآجالهم والصغار يذبحون قالوا : يوشك أن تفنوا بني إسرائيل فتصيرون [ إلى ] أن تباشروا من الأعمال التي كانوا يكفونكم فاقتلوا عاما كل مولود ذكر فيقل نباتهم ودعوا عاما فلا يقتل منهم أحد فينشأ الصغار مكان من يموت من الكبار فإنهم لن يكثروا بمن تستحيون منهم فتخافوا مكاثرتهم إياكم ولن يفنوا بمن تقتلون فتحاجون إلى ذلك فأجمعوا أمرهم على ذلك . فحملت أم موسى بهارون في العام الذي لا يذبح فيه الغلمان فولدته علانية آمنة فلما كان من قابل حملت بموسى فوقع في قبلها الهم والحزن ـ وذلك من الفتون يا ابن جبير ـ ما دخل منه في قلب أمه مما يراد به فأوحى الله تبارك وتعالى إليها { ولا تخافي ولا تحزني إنا رادوه إليك وجاعلوه من المرسلين } [ القصص : 7 ] وأمرها إذا ولدت أن تجعله في تابوت ثم تلقيه في اليم فلما ولدت فعلت ذلك به فلما توارى عنها ابنها أتاها الشيطان فقالت في نفسها ما صنعت بابن لو ذبح عندي فواريته وكفنته كان أحب إلي من أن ألقيه بيدي إلى زفرات البحر وحيتانه ؟ فانتهى الماء به حتى انتهى به فرضة مستقى جواري امرأة فرعون فلما رأينه أخذنه فهممن أن يفتحن التابوت فقال بعضهن : إن في هذا مالا وإنا إن فتحناه لم تصدقنا امرأة الملك بما وجدناه فيه فحملنه بهيئته لم يحركن منها شيئا حتى دفعنه إليها فلما فتحته رأت غلاما فألقي عليه منها محبة لم تجد مثلها على أحد من البشر قط فأصبح فؤاد أم موسى فارغا من ذكر كل شيء إلا من ذكر موسى . فلما سمع الذباحون بأمره أقبلوا بشفارهم إلى امرأة فرعون ليذبحوه ـ وذلك من الفتون يا ابن جبير ـ فقالت لهم : اتركوه فإن هذا الواحد لا يزيد في بني إسرائيل حتى آتي فرعون فأستوهبه منه فإن وهبه لي كنتم قد أحسنتم وأجملتم وإن أمر بذبحه لم ألمكم فأتت به فرعون فقالت : قره عين لي ولك قال فرعون : يكون لك فأما لي فلا حاجة لي في ذلك . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي أحلف به لو أقر فرعون بأن يكون له قرة عين كما أقرت امرأته لهداه الله به كما هدى امرأته ولكن حرمه ذلك فأرسلت إلى من حولها من كل امرأة لها لبن لتختار له ظئرا فجعل كلما أخذته امرأة منهن لترضعه لم يقبل ثديها حتى أشفقت عليه إمرأة فرعون أن يمتنع من اللبن فيموت فأحزنها ذلك . فأخرج إلى السوق ومجمع الناس ترجو أن تجد له ظئرا يأخذ منها فأصبحت أم موسى والهة فقالت لأخته قصيه : قصي أثره واطلبيه هل تسميعن له ذكرا ؟ أحي ابني أم قد أكلته الدواب ونسيت ما كان الله وعدها فيه فبصرت به أخته عن جنب وهم ولا يشعرون ـ والجنب : أن يسمو بصر الإنسان إلى الشيء البعيد وهو إلى جنبه لا يشعر به ـ فقالت من الفرح حين أعياهم الظؤار : أنا أدلكم على أهل بيت يكفلونه لكم وهم له ناصحون فأخذوها فقالوا : ما يدريك ما نصحهم له ؟ هل تعرفونه ؟ حتى شكوا في ذلك ـ وذلك من الفتون يا ابن جبير ـ فقالت : نصيحتهم له وشفقتهم عليه رغبة في صهر الملك ورجاء منفعته فأرسلوها فانطلقت إلى أمها فأخبرتها الخبر فجاءت أمه فلما وضعته في حجرها نزا إلى ثديها حتى امتلأ جنباه ريا . وانطلق البشير إلى إمرأ ة فرعون يبشرها أن قد وجدنا لابنك ظئرا فأرسلت إليها فأتيت بها وبه فلما رأت ما يصنع بها قالت لها : امكثي عندي ترضعين ابني هذا فإني لم أحب حبه شيئا قط فقالت أم موسى : لا أستطيع أن أدع بيتي وولدي فنضيع فإن طابت نفسك أن تعطينيه فأذهب به إلى بيتي فيكون معي لا آلوه خيرا وإلا فإني غير تاركة بيتي وولدي وذكرت أم موسى ما كان الله عز و جل وعدها فتعاسرت على امرأة فرعون وأيقنت أن الله منجز وعده فرجعت إلى بيتها بابنها [ فأصبح أهل ] القرية مجتمعين يمتنعون من السخرة والظلم ما كان فيهم . قال : فلما ترعرع قالت امرأة فرعون لأم موسى : [ أريد ] أن تريني ابني فوعدتها يوما تريها إياه فقالت امرأة فرعون لخزانها وقهارمتها وظؤورتها : لا يبقين أحد منكم إلا استقبل ابني اليوم بهدية وكرامة لأرى ذلك فيه وأنا باعثة أمينا يحصي كل ما يصنع كل إنسان منكم فلم تزل الهدايا والكرامة والنحل تستقبله من حين خرج من بيت أمه إلى أن أدخل على إمرأة فرعون فلما دخل عليها بجلته وأكرمته وفرحت به وأعجبها وبجلت أمه بحسن أثرها عليه ثم قالت : لأتين به فرعون فليبجلنه وليكرمنه فلما دخلت عليه جعلته في حجرة فتناول موسى لحية فرعون فمدها إلى الأرض فقال الغواة أعداء الله لفرعون : ألا ترى إلى ما وعد الله إبراهيم نبيه أنه يربك ويعلوك ويصرعك ؟ ! فأرسل إلى الذباحين ليذبحوه وذلك من الفتون ـ يا ابن جبير ـ بعد كل بلاء ابتلي وأربك به فتونا ! فجاءت امرأة فرعون تسعى إلى فرعون فقالت : ما بدا لك في هذا الغلام الذي وهبته لي ؟ قال : ترينه يزعم أنه يصرعني ويعلوني قالت : اجعل بيني وبينك أمرا تعرف الحق فيه : أئت بجمرتين ولؤلؤتين فقربهن إليه فإن بطش باللؤلؤتين واجتنب الجمرتين عرفت أنه يعقل وإن تناول الجمرتين ولم يرد اللؤلؤتين علمت أن أحدا لا يؤثر الجمرتين على اللؤلؤتين وهو يعقل فقرب ذلك فتناول الجمرتين فانتزعوهما من يده مخافة أن تحرقاه فقالت المرأة : ألا ترى ؟ فصرفه الله عنه بعدما كان قد هم به وكان الله عز و جل بالغا فيه أمره . فلما بلغ أشده وكان من الرجال لم يكن أحد من آل فرعون يخلص إلى أحد من بني إسرائيل معه بظلم ولا سخرة حتى امتنعوا كل الامتناع . فبينما موسى في ناحية المدينة إذا هو برجلين يقتتلان أحدهما فرعوني والآخر إسرائيلي فاستغاثه الإسرائيلي على الفرعوني فغضب موسى غضبا شديدا لأنه تناوله وهو يعلم منزلة موسى بن بني إسرائيل وحفظه لهم لا يعلم الناس أنما ذلك من الرضاع إلا أم موسى إلا أن يكون الله أطلع موسى من ذلك على ما لم يطلع عليه غيره فوكز موسى الفرعوني فقتله وليس يراهما أحد إلا الله والإسرائيلي فقال موسى حين قتل الرجل : { هذا من عمل الشيطان إنه عدو مضل مبين } [ قصص : 15 ] ثم قال : { رب إني ظلمت نفسي فاغفر لي فغفر له إنه هو الغفور الرحيم } [ قصص : 16 ] وأصبح في المدينة خائفا يترقب الأخبار فأتي فرعون فقيل له : إن بني إسرائيل قتلوا رجلا من آل فرعون فخذ لنا حقنا ولا ترخص لهم فقال : ابغوني قاتله ومن يشهد عليه فإن الملك وإن كان صفوه مع قوم لا يستقيم له أني يقيد بغير بينة ولا ثبت فاطلبوا لي علم ذلك آخذ علم ذلك آخذ لكم بحقكم . فبينما هم يطوفون لا يجدون ثبتا إذا موسى قد رأى من الغد ذلك الإسرائيلي يقاتل رجلا من آل فرعون آخر فاستغاثه الإسرائيلي على الفرعوني فصادف موسى قد ندم على ما كان منه فكره الذي رأى لغضب الإسرائيلي وهو يريد أن يبطش بالفرعوني فقال الإسرائيلي - لما فعل أمس واليوم - : { إنك لغوي مبين } [ قصص : 18 ] [ فنظر الإسرائيلي إلى موسى حين ما قال له ما قال فإذا هو غضبنان كغضبه بالأمس فخاف ] أن يكون إياه أراد وما الفرعوني ولم يكن أراده إنما أراد الفرعوني فخاف الإسرائيلي فحاجز الفرعوني { قال يا موسى أتريد أن تقتلني كما قتلت نفسا بالأمس } [ قصص : 19 ] وإنما قال ذلك مخافة أن يكون إياه أراد موسى ليقتله وتنازعا وتطاوعا وانطلق الفرعوني إلى قومه فأخبرهم بما سمع من الإسرائيلي من الخبر حين يقول : { أتريد أن تقتلني كما قتلت نفسا بالأمس } فأرسل فرعون الذباحين ليقتلوا موسى فأخذ رسل فرعون الطريق الأعظم يمشون على هيئتهم يطلبون لموسى وهم لا يخافون أن يفوتهم إذ جاء رجل من معيشة موسى من أقصى المدينة فاختصر طريقا قريبا حتى يسبقهم إلى موسى فأخبره الخبر وذلك من الفتون يا ابن جبير . فخرج موسى متوجها نحو مدين لم يلق بلاء قبل ذلك وليس له بالطريق علم إلا حسن ظنه بربه عز و جل فإنه قال : { عسى ربي أن يهديني سواء السبيل * ولما ورد ماء مدين وجد عليه أمة من الناس يسقون ووجد من دونهم امرأتين تذودان } [ القصص : 22 - 23 ] يعني بذلك : حابستين غنمهما ـ فقال لهما ما خطبكما معتزلتين لا تسقيان مع الناس ؟ قالتا : ليس لنا قوة نزاحم القوم وإنما تنتظر فضول حياضهم فسقى لهما فجعل يغرف في الدلو ماء كثيرا حتى كان أول الرعاء فراغا فانصرفتا بغنمهما إلى أبيهما وانصرف موسى فاستظل بشجرة { فقال رب إني لما أنزلت إلي من خير فقير } [ قصص : 24 ] فاستنكر أبوهما سرعة صدروهما بغنمهما حفلا بطانا فقال : إن لكما اليوم لشأنا فأخبرتاه بما صنع موسى فأمر أحدهما تدعوه له فأتت موسى فدعته فلما كلمه قال : { لا تخف نجوت من القوم الظالمين } [ قصص : 25 ] ليس لفرعون ولا لقومه علينا سلطان ولسنا في مملكته . قال : { قالت إحداهما يا أبت استأجره إن خير من استأجرت القوي الأمين } [ قصص : 26 ] فاحتملته الغيرة على أن قال : وما يدريك ما قوته وما أمانته ؟ قالت : أما قوته فما رأيت منه في الدلو حين سقى لنا لم أر رجلا أقوى في ذلك السقي منه وأما أمانته فإنه نظر إلي حين أقبلت إليه وشخصت له فلما علم أني امرأة صوب رأسه ولم يرفعه ولم ينظر إلي حتى بلغته رسالتك ثم قال : امشي خلفي وانعتي لي الطريق فلم يفعل هذا لأمر إلا وهو أمين فسري عن أبيها فصدقها وظن به الذي قالت : فقال له : هل لك { أن أنكحك إحدى ابنتي هاتين على أن تأجرني ثماني حجج فإن أتممت عشرا فمن عندك وما أريد أن أشق عليك ستجدني إن شاء الله من الصالحين } [ قصص : 27 ] ففعل فكانت على نبي الله موسى صلى الله عليه و سلم ثمان سنين واجبة وكانت سنتان عدة منه فقضى الله عنه عدته فأتمها عشرا . قال سعيد : فلقيني رجل من أهل المدينة النصرانية من علمائهم فقال : هل تدري أي الأجلين قضى موسى ؟ قلت : لا وأنا يومئذ لا أدري فلقيت ابن عباس : فذكرت ذلك له فقال : أما علمت أن ثمانيا كان على موسى واجبة ولم يكن نبي الله لينقص منها شيئا ويعلم أن الله قاض عن موسى عدته التي وعد فإنه قضى عشر سنين فلقيت النصراني فأخبرته ذلك فقال : الذي سألته فأخبرك أعلم منك بذلك ؟ قال : قلت : أجل وأولى . فلما سار موسى بأهله كان من أمر النار والعصا ويده ما قص الله عليك في القرآن فشكا إلى ربه تبارك وتعالى ما يتخوف من آل فرعون في القتل وعقد لسانه فإنه كان في لسانه عقدة تمنعه من كثير من الكلام وسأل ربه أن يعنيه بأخيه هارون يكون له ردءا ويتكلم عنه بكثير مما لا يفصح به لسانه فآتاه الله سؤله وحل عقدة لسانه فأوحى الله إلى هارون وأمره أن يلقاه فاندفع موسى بعصاه حتى لقي هارون فانطلقا جميعا إلى فرعون فأقاما على بابه حينا لا يؤذن لهما ثم أذن لهما بعد حجاب شديد فقالا : { إنا رسولا ربك } [ طه : 47 ] { قال فمن ربكما يا موسى } [ طه : 49 ] فأخبره بالذي قص الله عليك في القرآن قال فما تريد ؟ وذكره القتيل فاعتذر بما قد سمعت وقال : إني أريد أن تؤمن بالله وترسل معي بني إسرائيل فأبى عليه ذلك وقال : إني أريد أن تؤمن بالله وترسل معي بني إسرائيل فأبى عليه ذلك وقال : أئت بآية إن كنت من الصادقين فألقى عصاه فإذا هي حية عظيمة فاغرة فاها مسرعة إلى فرعون فلما رآها فرعون قاصدة إليه خافها فاقتحم عن سريره واستغاث بموسى أن يكفها عنه ففعل ثم أخرج يده من جيبه فرآها بيضاء من غير سوء ـ يعني من غير برص ـ ثم ردها فعادت إلى لونها الأول فاستشار الملأ حوله فيما رأى فقالوا له : { إن هذان لساحران يريدان أن يخرجاكم من أرضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلى } [ طه : 63 ] يعني ملكهم الذي هم فيه والعيش ـ فأبوا أن يعطوه شيئا مما طلب وقالوا له : اجمع لنا السحرة فإنهم بأرضك كثير حتى يغلب سحرهم سحرهما فأرسل في المدينة فحشر له كل ساحر متعالم فلما أتوا فرعون قالوا : بم يعمل هذا الساحر ؟ قالوا : يعمل بالحيات قالوا : فلا والله ما أحد في الأرض يعمل السحر بالحيات والعصي الذي نعمل فما أجرنا نحن غلبنا ؟ فقال لهم : إنكم أقاربي وخاصتي فأنا صانع إليكم كل ما أحببتم فتواعدوا يوم الزينة { وأن يحشر الناس ضحى } [ طه : 59 ]. قال سعيد : حدثني ابن عباس أن يوم الزينة اليوم الذي أظهر الله فيه موسى على فرعون والسحرة وهو يوم عاشوراء فلما اجتمعوا في صعيد قال الناس بعضهم لبعض : انطلقوا فلنحضر هذا الأمر { لعلنا نتبع السحرة إن كانوا هم الغالبين } [ الشعراء : 40 ] ـ يعنون موسى و هارون استهزاء بهما ـ فقالوا : يا موسى ـ لقدرتهم بسحرهم ـ { إما أن تلقي وإما أن نكون نحن الملقين } [ الأعراف : 115 ] قال بل ألقوا { فألقوا حبالهم وعصيهم وقالوا بعزة فرعون إنا لنحن الغالبون } [ الشعراء : 44 ] فرأى موسى من سحرهم ما أوجس في نفسه خفية فأوحى الله تبارك وتعالى إليه { أن ألق عصاك } [ الأعراف : 117 ] فلما ألقاها صارت ثعبانا عظيما فاغرة فاها فجعلت العصي بدعوة موسى تلبس بالحبال حتى صارت جزرا إلى الثعبان تدخل فيه حتى ما أبقت عصا ولا حبلا إلا ابتلعته فلما عرف السحرة ذلك قالوا : لو كان هذا سحرا لم يبلغ من سحرنا هذا ولكنه أمر من أمر الله تبارك وتعالى آمنا بالله وبما جاء به موسى ونتوب إلى الله عز و جل مما كنا عليه وكسر الله ظهر فرعون في ذلك الموطن وأشياعه وأظهر الحق { وبطل ما كانوا يعملون * فغلبوا هنالك وانقلبوا صاغرين } [ الأعراف : 118 119 ] و امرأة فرعون بارزة متبذلة تدعو الله بالنصر لموسى على فرعون فمن رآها من آل فرعون طن أنها ابتذلت للشفقة على فرعون وأشياعه وإنما كان حزنها وهمها لموسى . فلما طال مكث موسى لميواعيد فرعون الكاذبة كلما جاءه بآية وعده عندها أن يرسل بني إسرائيل فإذا مضت أخلف مواعيده وقال : هي يستطيع ربك [ أن ] يصنع غير هذا ؟ فأرسل الله عليه وعلى قومه الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم آيات مفصلات كل ذلك يشكو إلى موسى ويطلب إليه أن يكفها عنه ويوافقه أن يرسل معه بني إسرائيل فإذا كف ذلك عنه أخلف موعده ونكث عهده حتى أمر بالخروج بقومه غخرج بهم ليلا فلما أصبح فرعون ورأى أنهم قد مضوا أرسل إلى المدائن حاشرين يتبعهم بجنود عظيمة كثيرة فأوحى الله إلى البحر : أن إذا ضربك عبدي موسى بعصاه فانفرق اثني عشر فرقا حتى يجوز موسى ومن معه ثم التق على من بقي بعده من فرعون وأشياعه فنسي موسى أن يضرب البحر بالعصا فانتهى إلى البحر وله قصيف مخافة أن يضربه موسى بعصاه وهو غافل فيصير عاصيا . فلما تراءى الجمعان وتقاربا قال قوم موسى { إنا لمدركون } [ الشعراء : 61 ] افعل ما أمرك ربك فإنك لن تكذب ولن تكذب فقال : وعدني إذا أتيت البحر أن يفرق لي اثني عشر فرقا حتى أجاوزه ثم ذكر بعد ذلك العصا فضرب البحر بعصاه فانفرق له حين دنا أوائل جند فرعون من أواخر موسى فانفرق البحر كما أمره ربه وكما وعد موسى فلما أن جاوز موسى وأصحابه كلهم ودخل فرعون وأصحابه التقى عليهم كما أمر الله . فلما جاوز موسى البحر قالوا : إنا نخاف أن لا يكون فرعون غرق فلا نؤمن بهلاكه فدعا ربه فأخرجه له ببدنه حتى استيقنوا بهلاكه . ثم مروا على قوم قوم يعكفون على أصنام لهم { قالوا يا موسى اجعل لنا إلها كما لهم آلهة قال إنكم قوم تجهلون * إن هؤلاء متبر ما هم فيه وباطل ما كانوا يعملون } [ الأعراف : 138 - 139 ] قد رأيتم من العبر وسمعتم ما يكفيكم ومضى فأنزلهم موسى منزلا ثم قال لهم : أطيعوا هارون فإني قد استخلفته عليكم وإني ذاهب إلى ربي وأجلهم ثلاثين يوما أن يرجع إليهم . فلما أترى ربه أن يكلمه في ثلاثين وقد صامهن : ليلهن ونهارهن كره أن يكلم ربه ويخرد من فمه ريح فم الصائم فتناول موسى شيئا من نبات الأرض فمضغه فقال له ربه حين أتاه : أفطرت ؟ ـ وهو أعلم بالذي كان ـ قال : رب كرهت أن أكلمك إلا وفمي طيب الريح قال : أو ما علمت يا موسى أن ريح فم الصائم أطيب من ريح المسك ؟ ارجع حتى تصوم عشرا ثم ائتني ففعل موسى ما أمر به . فلما رأى قوم موسى أنه لم يرجع إليهم للأجل قال : ساءهم ذلك وكان هارون قد خطبهم فقال : إنكم خرجتم من مصر ولقوم عوار وودائع ولم فيها مثل ذلك وأنا أرى أن تحتسبوا مالكم عندهم ولا أحل لكم وديعة ولا عارية ولسنا برادين إليهم شيئا من ذلك ولا ممسكيه لأنفسنا فحفر حفيرا وأمر كل قوم عندهم شيء من ذلك من متاع أو حلية أن يقذفوه في ذلك الحفير ثم أوقد عليه النار فأحرقه فقال : لا يكون لنا ولا لهم . وكان السامري رجلا من قوم يعبدون البقر جيران لهم ـ ولم يكن من بني إسرائيل ـ فاحتمل مع موسى وبني إسرائيل حين احتملوا فقضي له أن رأى أثرا فأخذ منه قبضة فمر بهارون فقال هارون : يا سامري ألا تلقي ما في يدك ؟ وهو قابض عليه لا يراه أحد طوال ذلك قال : هذه قبضة من أثر الرسول الذي جاوز بكم البحر فلا ألقيها بشيء ‘لا أن تدعو الله إذا ألقيتها أن يكون ما أريد فألقاها ودعا له هارون وقال : أريد أن أكون عجلا فاجتمع ما كان في الحفرة من متاع أو حلية أو نحاس أو حديد فصار عجلا أجوف ليس فيه روح له خوار . قال ابن عباس : ولا والله ما كان له صوت قط إنما كانت الريح تدخل كم دبره وتخرج من فيه وكان ذلك الصوت من ذلك فتفرق بنو إسرائيل فرقا : فقالت فرقة يا سامري ما هذا فأنت أعلم به ؟ قال : هذا ربكم ولكن موسى أضل الطريق . وقالت فرقة : لا تكذب بهذا حتى يرجع إلينا موسى فإن كان ربنا لم نكن ضيعناه وعجزنا فيه حين رأيناه وإن لم يكن ربنا فإنا نتبع قول موسى . وقالت فرقة : هذا عمل الشيطان وليس بربنا ولا نؤمن به ولا نصدق . وأشرب فرقة في قلوبهم التصديق بما قال السامري في العجل وأعلنوا التكذيب به . فقال لهم هارون : { يا قوم إنما فتنتم به وإن ربكم الرحمن } [ طه : 90 ] ليس هكذا . قالوا : فما بال موسى وعدنا ثلاثين يوما ثم أخلفنا ؟ هذه أربعون قد مضت فقال سفاؤهم : أخطأ ربه فهو يطلبه ويتبعه . فلما كلم الله موسى وقال له ما قال أخبره بما لقي قومه من بعده { رجع موسى إلى قومه غضبان أسفا } [ الأعراف : 150 ] فقال لهم ما سمعتم في القرآن : { وأخذ برأس أخيه يجره إليه } وألقى الألواح ثم إنه عذر أخاه واستغفر له وانصرف إلى السامري فقال له : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : قبضت قبضة من أثر الرسول وفطنت لها وعميت عليكم فقذفتها { وكذلك سولت لي نفسي } قال : { فاذهب فإن لك في الحياة أن تقول لا مساس وإن لك موعدا لن تخلفه وانظر إلى إلهك الذي ظلت عليه عاكفا لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفا } [ طه : 96 - 97 ] ولو كان إلها لم تخلص إلى ذلك منه فاستيقن بنو إسرائيل واغتبط الذين كان رأيهم فيه مثل رأي هارون : وقالوا ـ جماعتهم ـ لموسى : سل لنا ربك أن يفتح لنا باب توبة نصنعها فتفكر لنا ما عملنا فاختار قومه سبعين رجلا لذلك ـ لإتيان الجبل ـ ممن لم يشرك في العجل فانطلق بهم ليسأل لهم التوبة فرجفت بهم الأرض فاستحيا نبي الله من قومه ووفده حين فعل لهم ما فعل فقال فقال : { رب لو شئت أهلكتهم من قبل وإياي أتهلكنا بما فعل السفهاء منا } [ والأعراف : 155 ] وفيهم من كان الله اطلع على ما أشرب من حب العجل إيمانا به فلذلك رجفت بهم الأرض فقال : { ورحمتي وسعت كل شيء فسأكتبها للذين يتقون ويؤتون الزكاة والذين هم بآياتنا يؤمنون * الذين يتبعون الرسول النبي الأمي الذي يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والإنجيل } [ الأعراف : 156 - 157 ] فقال : رب سألتك التوبة لقومي فقلت : إن رحمتك كتبتها لقوم غير قومي فليتك أخرتني حتى تخرجني حيا في أمة ذلك الرجل المرحومة فقال الله عز و جل له : إن توبتهم أن يقتل كل رجل منهم كل من لقي من والد وولد فيقتله بالسيف لا يبالي من قتل في ذلك الموطن ويأتي أؤلئك الذين خفي على موسى و هارون ما اطلع الله عليه من ذنوبهم واعترفوا بها وفعلوا ما أمروا به فغفر الله للقاتل والمقتول ثم سار بهم موسى متوجها نحو الأرض المقدسة وأخذ الألواح بعدما سكت عنه الغضب فأمرهم بالذي أمر به أن يبلغهم من الوظائف فثقل ذلك عليهم وأبوا أن يقروا بها فنتق الله عليهم الجبل كأنه ظلة ودنا منهم حتىخافوا أن يقع عليهم فأخذوا الكتاب بأيمانهم وهم مصغون إلى الجبل والأرض والكتاب بأيديهم وهم ينظرون إلى الجبل مخافة أن يقع عليهم ثم مضوا حتى أتوا الأرض المقدسة فوجدوا فيها مدينة فيها قوم جبارون خلقهم خلق منكر وذكروا من ثمارهم أمرا عجيبا كم عظمها فقالوا : { يا موسى إن فيها قوما جبارين } [ المائدة : 22 ] لا طاقة لنا بهم ولا ندخلها ما داموا فيها { فإن يخرجوا منها فإنا داخلون } [ المائدة : 22 ] { قال رجلان من الذين يخافون } [ المائدة : 23 ] من الجبارين : آمنا بموسى فخرجا إليه فقالا : نحن أعلم بقومنا إن كنتم إنما تخافون مما ترون من أجسامهم وعدتهم فإنهم لا قلوب لهم ولا منعة عندهم فادخلوا عليهم الباب { فإذا دخلتموه فإنكم غالبون } . ويقول ناس : إنهما من قوم موسى وزعم عن سعيد بن جبير أنهما من الجبابرة آمنا بموسى يقول : { من الذين يخافون } إنما عنى بذلك الذين يخافهم بنو إسرائيل { قالوا يا موسى إنا لن ندخلها أبدا ما داموا فيها فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا هاهنا قاعدون } [ المائدة : 24 ] فأغضبوا موسى فدعا عليهم وسماهم فاسقين ولم يدع عليهم قبل ذلك لما رأى منهم من المعصية وإساءتهم حتى كان يومئذ فاستجاب الله له فسماهم كما سماهم موسى : فاسقين وحرمها عليهم أربعين سنة يتيهون في الأرض يصبحون كل يوم فيسيرون ليس لهم قرار ثم ظلل عليهم الغمام في التيه وأنزل عليهم المن السلوى وجعل لهم ثيابا لا تبلى ولا تتسخ وجعل بين ظهورهم حجرا مربعا وأمر موسى فضربه بعصاه { فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا } [ البقرة : 60 ] في كل ناحية ثلاثة أعين وأعلم كل سبط عينهم التي يشربون منها لا يرتحلون من منقلة إلا وجد ذلك الحجر فيهم بالمكان الذي [ كان فيه ] بالأمس . رفع ابن عباس هذا الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم : وصدق ذلك عندي أن معاوية سمع ابن عباس حدث هذا الحديث فأنكره عليه : أن يكون الفرعوني هذا الذي أفشى على موسى أمر القتيل الذي قتل قال : فكيف يفشي عليه ولم يكن علم به ولا ظهر عليه إلا الإسرائيلي الذي حضر ذلك وشهده ؟ فغضب ابن عباس وأخذ بيد معاوية فذهب به إلى سعد بن مالك الزهري فقال : يا أبا إسحاق هل تذكر يوم حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتيل موسى الذي قتله من آل فرعون : الإسرائيلي أفشى عليه أم الفرعوني ؟ فقال : إنما أفشى عليه الفرعوني بما سمع من الإسرائيلي الذي شهد ذلك وحضره K رجاله ثقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول: ’’وفتناك فتونا ‘‘ کے بارے فرمایا: میں نے ابن عباس سے ’’فتون ‘‘ ( فتنوں ) کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیا ہے؟ اے ابن جبیر! اس کے بارے ایک لمبی حدیث ہے‘ آج وقت کافی ہو گیا ہے‘ کل آ کر اس کے بارے پوچھنا۔ پس جب میں نے صبح کی تو صبح صبح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ فتون کی حدیث بتانے کا جو وعدہ انہوں نے فرمایا ہے‘ وہ اسے پورا فرمائیں ۔ سو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ایک بار فرعون اور اس کے سارے ہم مجلس مل بیٹھے با ہم مذاکرہ کرنے لگے‘ موضوع گفتگو یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں نبی بھی پیدا فرمائے گا اور بادشاہ بھی ۔سو ان میں سے بعض نے یہ کہا: بنی اسرائیل اس کا بڑی شدت سے انتظار کرتے رہے جس میں وہ شک کا شکار ہیں‘ وہ یہ بھی گمان کرتے رہے کہ وہ حضرت یوسف بن یعقوب علیہ السلام ہوں گے لیکن جب وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو انہوں نے کہا: نہیں! یہ سوچ درست نہ تھی کہ حضرت ابراہیم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ۔ فرعون بولا : تم اسے کیسے دیکھتے ہو؟ انہوں نے مشورہ کیا اور اس بات پر اجماع کیا کہ وہ ان کے ساتھ کچھ آ دمی بھیجے وہ جا کر بنی اسرائیل میں چکر لگائیں‘ سو دہ جو بھی نیا پیدا شد و بچہ پائیں اسے ذبح کر دیں ۔سو انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کے بڑے لوگ اپنی آئی موت سے مرتے جا رہے ہیں اور چھوٹے بچوں کو وہ ذبح کرتے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ بنی اسرائیل سرے سے ختم ہی ہو جائیں‘ تو پھر معاملہ ایسے ہو گا کہ ان کے وہ کام جو بنی اسرائیل ( بحثیت لوگر ) سرانجام دیتے ہیں‘ انہیں بذات خود کرنا پڑ جائیں گے۔سو وہ ایسا کریں کہ ایک سال تو وہ ہر مولود کو قتل کریں اور ایک سال وہ ہر مولود کو چھوڑ دیں کسی کو بھی ذبح نہ کریں تاکہ بڑوں میں سے جو موت کا شکار ہو رہے ہیں‘ ان کی جگہ وہ چھوٹے بچے بڑے ہو کر لے لیں کیونکہ وہ ہرگز زیادہ نہ ہوں گے ان کے ساتھ جو زندہ رہتے ہیں سو وہ اپنے سے تمہارے بڑھ جانے سے ڈرتے اور ہرگز فنا نہ ہوں گے ان کے ساتھ جن کو تم قتل کرتے ہو ۔ سو انہیں اس بات کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے اس کام پر اتفاق کیا ( کہ ایک دن ذبح کرتے تھے ) سو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ حاملہ ہوئیں اس سال میں جس میں بچوں کو ذبح نہیں کیا جاتا تھا‘ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امی جان نے ان کو پورے امن کے ساتھ علی الاعلان جنم دیا ۔سو جب اگلا سال آیا تو آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حاملہ تھیں ان کے دل میں غم و اندوہ تھا۔ اس کا تعلق فتون سے ہے۔ اے جبیر کے بیٹے! جو اس میں سے آپ کی ماں کے دل میں داخل ہوا‘ اس میں سے جو مراد لیا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ’’ڈر میں مت اور غم نہ کھائیں‘ بے شک ہم انہیں تیری طرف لوٹا دیں گے اور ہم اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں‘‘ ۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کوحکم ارشاد فرمایا کہ جب اسے جنم دے لوتو اسے ایک تابوت میں رکھ کر سمندر کی لہروں کے حوالے کر دو ۔ سو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو آپ کی والدہ نے ایسا ہی کیا‘ پس جب ان کی آنکھوں سے ان کا بیٹا اوجھل ہو گیا تو ان کے پاس شیطان آ گیا‘ سو انہوں نے دل ہی دل میں کہا: میں نے اپنے بیٹے سے کیا کیا! اگر اسے میرے سامنے ذبح کر دیا جاتا تو سو میں خود اسے اپنی مرضی سے اپنی آنکھوں سے اوجھل کرتی اور اسے کفن دیتی تو یہ بہتر تھا بہ نسبت اس کے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے اسے سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا ۔ سو پانی کی لہریں آپ کو بہا کر لے گئیں یہاں تک کہ اور مچھلیوں کا پانی آپ کو اس مقام تک لے گیا جہاں سے فرعون کی بیوی کی لونڈیاں پانی بھرتی تھیں ۔ مو جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو صندوق کو پکڑ لیا‘ سو انہوں نے کھولنے کا ارادہ کیا لیکن ان میں سے بعض نے کہا: اس میں مال ہو گا اور اگر ہم نے اسے کھول دیا تو جو کچھ ہم نے اس سے پایا تو بادشاہ کی بیوی ہماری بات کی تصدیق نہیں کرے گی ۔ انہوں نے اسی طرح اس کو پکڑ کر بڑے آرام سے اٹھا لیا اور بڑے سکون سے فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں‘ جب بادشاہ کی بیوی نے اسے کھولا تو اس میں دیکھا کہ ایک خوبصورت بچہ ہے‘ سو وہ دیکھ کر فریفتہ ہو گئی اور ایسی فریفتہ ہوئی کہ آج تک وہ کسی مرد بشر پر کبھی ایسے فریفتہ نہ ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا دل ہر وقت ذکر موسیٰ میں مشغول رہنے لگا۔سو جب یہ بات بچے کے ذبح کرنے والوں تک پہنچی تو دوڑتے ہوئے آ گئے اس حال میں کہ چھریاں اٹھائے ہوئے تھے‘ سیدھے فرعون کی بیوی کے پاس تاکہ اس بچے کو ذبح کریں ۔اے ابن جبیر! یہ فتون سے ہے۔فرعون کی بیوی نے ان سے کہا: اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ ایک بچہ ہے‘ یہ بنی اسرائیل میں کیا اضافہ کر سکے گا یہاں تک کہ میں فرعون سے جا کر یہ بچہ مانگتی ہوں‘ اگر اس نے مجھے ہبہ کر دیا تو تمہار ااحسان و انعام ہو گا اور اگر اس نے اس کے ذبح کرنے کا حکم دے دیا تو میں تمہیں ملامت نہ کروں گی ۔سو فرعون کی بیوی آپ علیہ السلام کو اٹھا کر فرعون کے پاس آئی اور کہا: یہ میری بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور تیری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے کہا: بس تیرے لیے ہے! باقی رہا میرا معاملہ تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس ذات کی میں قسم اٹھا سکتا ہوں! اگر فرعون بھی اقرار کر لیتا کہ وہ اس کی بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جس طرح اس کی بیوی نے اقرار کیا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ہدایت عطا فرما دیتا‘ جیسے اس کی بیوی کو ہدایت عنایت فرمائی‘ لیکن وہ اس سے محروم رہا۔ فرعون کی بیوی نے قاصد بھیج دیئے کہ آس پاس جو دودھ والی عورتیں ہیں‘ آ جائیں تاکہ اس کے لیے دایہ مقرر کی جائے ‘ سو جب بھی کوئی دودھ والی عورت آپ علیہ السلام کو دودھ پلانا چاہتی تو آپ اس کے پستانوں کو قبول نہ فرماتے یہاں تک کہ فرعون کی بیوی کو اس بات نے خوف میں مبتلا کر دیا کہ اگر اسی طرح اس نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا تو موت کا شکار ہو جائے گا۔ اس بات نے اسے بہت پریشان کر دیا آپ علیہ السلام کو بازار کی طرف لایا گیا اور مجمع عام میں تاکہ آپ کے لیے کوئی دایہ مل جائے ۔سو آپ نے کسی کو قبول نہ فرمایا‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے صبح انتہائی گھبراہٹ کی حالت میں کی‘ سو آپ کی بہن نے کہا: اس کے پیچھے چلی جا! اس کے آثار دکھ اور اسے تلاش کر کہ کیا کہیں کوئی اس کی شنید ہے؟ کیا میرا بیٹا زندہ ہے یا اسے دریائی جانور کھا گئے ہیں؟ (غلبۂ محبت ولد میں اس وقت ) وہ وعدہ خداوندی بھول چکی تھیں ۔سو آپ کی بہن نے آس پاس اس انداز میں دیکھا کہ لوگوں کو محسوس نہ ہو۔ جُب ( دور ) کا معنی ہوتا ہے کہ آدمی کی آنکھ دور کی کسی چیز کی طرف اٹھی ہوئی ہو اور وہ بظاہر اپنے قریب پہلو میں محسوس تک نہ کرے ( کہ کیا ہو رہا ہے )‘ سو وہ اس وقت بہت خوشی سے گویا ہوئیں‘ جب ساری دائیاں عاجز آ گئیں: میں تمہاری راہنمائی کرتی ہوں ایک ایسے گھر کی طرف جو تمہارے لیے اس کی کفالت کریں گے اور وہ اس کے لیے مخلص ہوں گے۔سو انہوں نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سو انہوں نے کہا: مجھے کیا معلوم کہ اس کے لیے کون مخلص ہے؟ کیا تو ان کو جانتی ہے؟ یہاں تک کہ انہوں نے اس میں شک کی نگاہ ڈالی اور اے ابن جبیر! اس کا تعلق بھی فتون سے ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے کہا: وہ اس بچے کے لیے اس لیے مخلص ہیں کہ انہیں بادشاہ کے گھر میں دلچسپی ہے اور وہ ان کا نفع چاہتے ہیں ۔ سو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کو چھوڑ دیا‘ سو وہ اپنی ماں کے پاس آئیں اور انہیں آ کر ساری بات بتائی تو آپ علیہ السلام کی ماں آئیں ۔ جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی گود میں ڈالا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام آپ کے پستانوں کی طرف متوجہ ہوئے اور چوسنا شروع کر دیا یہاں تک کہ خوب سیر ہو کر پی لیا اور خوشخبری دینے والا فرعون کی بیوی کی طرف گیا۔ یہ بشارت دیتے ہوئے کہ ہم نے آپ کے بیٹے کے لیے دایہ تلاش کر لی ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف قاصد بھیجا کہ ان کو اور ان کے بیٹے کو لے آئے ۔ سو جب فرعون کی بیوی نے دیکھا کہ اتنی خوشی سے موسی علیہ السلام ان کا دودھ پی رہے ہیں تو آپ کی والدہ سے کہا: میرے پاس ہی ٹھہر جاؤ! میرے اس بیٹے کو ودھ پلاؤ کیونکہ مجھے جتنا اس سے پیار ہے اتنا کسی چیز سے نہیں ہے۔سو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے کہا: میں اپنا گھر اور بیٹا (ہارون ) نہیں چھوڑ سکتی، اگر میں ایسا کروں تو انہیں ضائع کرنے والی ہوں گی‘ اگر تجھے یہ بات پسند آئے کہ تو یہ بچہ مجھے دیدے اور میں اسے اپنے ساتھ گھر لے جاؤں سو یہ میرے ساتھ ہو گا‘ میں اس کے ساتھ بھلائی میں زیادہ حریص ہوں گی‘ ورنہ میں اپنا گھر اور بیٹا چھوڑنے والی نہیں ہوں اور حضرت موسیٰ کی ماں نے اس وعدہ کا بھی تذکرہ کیا جو ان کے خدا نے ان سے فرمایا تھا۔ فرعون کی بیوی پر یہ بات مشکل ہوئی لیکن آپ کی والدہ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعد و ضرور پورا فرمائے گا‘ سو آپ اپنے بیٹے کو لے کر اپنے گھر واپس آ ئیں ۔سو دیہات والے صبح کے وقت سارے اکٹھے ہوئے لیکن اب مذاق وظلم سے رکنے والے تھے۔ راوی کا بیان ہے: سو جب آپ پروان چڑھے تو فرعون کی بیوی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیوی سے کہا: میری خواہش ہے کہ اب ایک بار آپ میرا بیٹا مجھے دکھائیں تو آپ نے اس سے وعدہ کیا کہ کسی دن ضرور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زیارت کروائیں گے۔ (اس دوران ) فرعون کی بیوی نے اپنے خزانچیوں اور اپنی سب دائیوں کو حکم جاری کیا کہ تم میں سے کوئی بھی میرے بیٹے کا استقبال کرنے سے آج پیچھے نہ رہے‘ اپنے تحفے لے کر حاضر ہوں اور عزت واحترام سے آئیں‘ میں اس کو خود ملاحظہ کروں گی اور میں ایک امین مقرر کر رہی ہوں جو تم میں سے ہر ایک کا عمل نوٹ کرے گا جو وہ کرے گا۔ تحفے‘ عطیات اور کرامت کا سلوک آپ کے اپنی ماں کے گھر سے نکلنے سے لے کر فرعون کی بیوی کے پاس داخل ہونے تک جاری رہا‘ سو جب آپ اس کے پاس پہنچے تو اس نے آپ کی بے حدعزت و تکریم کی ۔ آپ کی تشریف آوری سے بہتر خوش ہوئی اور اس نے آپ کی والدہ کی بھی بہت عزت کی ان کے اچھے سلوک کی وجہ سے ۔ پھر کہا: اس کو فرعون کے پاس لے جاؤ! اسے بھی چاہیے کہ اس کی عزت کرے اور تکریم بجا لائے ۔سو جب آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لے کر اس کے پاس آئیں تو آپ کو اس کی گود میں ڈال دیا۔ سو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی داڑھی کو پکڑ کر زمین کی طرف کھینچا۔ سرکش اللہ کے دشمنوں نے فرعون سے کہا: کیا آپ نہیں دیکھ رہے جو وعدہ اللہ نے اپنے نبی ! ابراہیم سے کیا کہ وہ تجھے پالے گا‘ تیرے خلاف اٹھے گا اور تجھے پچھاڑ دے گا؟ سو اس نے ذبح کرنے والے گروہ کی طرف پیغام بھیجا کہ آ کر اسے ذبح کر دو ۔ اے ابن جبیر! اس کا تعلق بھی فتون سے ہے‘ ہر اس بلا کے بعد جس میں ان کو مبتلا کیا گیا۔ ( فرعون کی بیوی کو پتا چلا ) تو وہ دوڑتی ہوئی فرعون کے پاس آئی اور کہا: تیرے لیے اس بچہ میں کیا بات ظاہر ہوئی ہے جو میں نے تیری طرف بھیجا ہے؟ راوی کا بیان ہے: اس کا گمان ہے کہ وہ اسے پچھاڑ دے گا اور غالب آ جائے گا۔ فرعون کی بیوی نے کہا: اپنے اور میرے درمیان ایک بات رکھ جس سے حق واضح ہو جائے ( یہ بچہ ہے اسے ابھی اچھے برے کی پہچان نہیں ) دو انگارے اور ان کے مشابہ دو سرخ موتی لائے جائیں‘ سب اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں‘ اگر تو یہ موتیوں کو پکڑ لے اور انگاروں کو چھوڑ دے تو آپ یہ سمجھیں کہ یہ عقل مند ہے اور اگر انگاروں کو پکڑ لے اور موتیوں کی طرف جانے کا ارادہ ہی نہ کرے تو جان لے کہ کوئی بھی عقل رکھتے ہوئے موتیوں کو چھوڑ کر انگاروں کو ترجیح نہیں دیتا۔سو اس نے یہ چیزیں آپ کے قریب کیں تو آپ نے انگارے اٹھا لیے سو سب نے مل کر آپ کے ہاتھ سے کھینچ لیے کہ آپ کے ہاتھ نہ جل جائیں تو فرعون کی بیوی نے کہا: ہاں! اب تو نے دیکھ لیا ؟ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو موتی سے پھیر دیا بعد اس کے کہ آپ اسے اٹھانے کا ارادہ فرما چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہی اس میں آخری بات تک پہنچانے والا ہے ۔ سو جب آپ ہوش کی عمر کو پہنچے جبکہ آپ کا تعلق ان لوگوں سے تھا جن میں سے کوئی ایک آل فرعون سے نہ تھا۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر رک گئے ۔ اس اثناء میں موسیٰ علیہ السلام شہر کے ایک کونے میں رہتے تھے‘ ایک دن اچانک آپ کی نظر پڑی تو دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں‘ جن میں سے ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی تھا۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرعونی کے خلاف مدد طلب کی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سخت غصہ آیا کیونکہ آپ علیہ السلام نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ جانتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل سے میں اور فرعون نے آپ کی حفاظت کی ہے۔ دیگر لوگ بس اتنا ہی جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انہیں دودھ پلایا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان باتوں پر مطلع فرما دیا تھا جن پر کسی دوسرے کو مطلع نہ فرمایا تھا۔سو موسیٰ علیہ السلام نے فرعونی کو مُکّہ دے مارا ( اسی غصہ میں )‘ سو وہ قتل ہو گیا ( آپ کے ہاتھوں ) جبکہ ان دونوں کو دیکھنے والا خدا تھا یا وہ اسرائیلی‘ اس کے سوا کوئی دیکھنے والا نہ تھا۔ سو موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جب وہ بندہ قتل ہو گیا تو آپ کی زبان سے بے اختیار نکلا (قرآن میں بھی ہے: )’’ یہ تو شیطانی کام ہے کیونکہ شیطان گمراہ کرنے والا کھلا دشمن ہے‘‘۔ پھر بولے: ”اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا سو تُو مجھے معاف کر دے! سو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو معاف کر دیا کیونکہ وہ بہت بخشنے والا بہت ہی مہربان ہے‘‘۔ انہوں نے شہر میں صبح اس حال میں کی کہ آپ ڈر محسوس کر رہے تھے‘ خبریں دینے والوں کو تاڑتے تھے۔سو ایک آدمی فرعون کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اسرائیلیوں نے فرعونیوں کا ایک آدمی قتل کر دیا ہے‘ ہمیں ہمارا حق دلائیں اور ہم کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ سو فرعون بولا: اس کے قاتل کو تلاش کر کے میرے پاس لے آؤ اور ایک گواہ بھی لاؤ! کیونکہ بادشاہ اگرچہ اس کی اپنی قوم کے ساتھ صفائی کے حوالے سے صحیح نہیں کہ غیر مبینہ اور بغیر ثبوت کے ساتھ اس کے فیصلے کو مقید کیا جائے ‘ تم میرے لیے اس کی معلومات تلاش کرو‘ میں تمہارا حق دلا دیتا ہوں ۔سو اسی اثناء میں کہ وہ گھوم رہے تھے اور کوئی ثبوت نہیں پا رہے تھے‘ دوسرے دن اچانک موسیٰ علیہ السلام کی نظر پڑی تو وہی اسرائیلی ایک اور فرعونی سے مقابلہ کر رہا ہے تو اسرائیلی نے فرعون کے خلاف آپ سے استغاثہ کیا ۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے سابقہ عمل پر نادم تھے تو آپ نے اسرائیلی کے غصہ کو انتہائی ناپسند فرمایا‘ وہ چاہتے تھے کہ فرعونی کو پکڑ لیں‘ سو آپ نے اسرائیلی سے فرمایا: تو نے کل بھی اور آج بھی یہ کام کیوں کیا :’’تو تو نرا فسادی ہے‘‘۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھا جب موسیٰ علیہ السلام نے اس سے یہ بات کہی تو پس وہ انتہائی غصے میں تھا‘ جیسے ایک دن پہلے تھا۔سو آپ کو خوف ہوا کہ ممکن ہے اسرائیلی نے پہلے لڑنے کا ارادہ کیا ہو‘ اور فرعونی نے ارادو نہ کیا ہو‘ حالانکہ اس نے ارادہ کیا تھا‘ ارادہ تو فرعونی نے کیا تھا۔ سو اسرائیلی ڈرا اور فرعونی سے عاجز آ گیا اور بولا: ’’اے موسیٰ ! کیا تو چاہتا ہے کہ تو مجھے اس طرح قتل کر دے جس طرح تو نے کل ایک آدمی کو قتل کر دیا‘‘۔ سو اس نے یہ بات اس خوف سے کہی کہ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ان دونوں نے خوب جھگڑا کیا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اور فرعونی اپنی قوم کی طرف گیا‘ سو ان سب کو خبردار کر دیا‘ جو بات اس نے اسرائیلی سے سنی تھی‘ جب اسرائیلی کہہ رہا تھا :’’کیا تو مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس طرح تو نے کل آدمی قتل کیا‘‘۔ سو فرعون نے ذبح کرنے والوں کو بھیج دیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیں ۔ فرعون کے قاصد شاہراہ پر چلنے لگے‘ وہ بڑے سکون سے چل رہے تھے اور انہیں موسیٰ علیہ السلام کی تلاش تھی‘ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہ تھا کہ وہ آپ کو نہ پاسکیں گے۔ اچانک موسیٰ علیہ السلام کے گروہ کا ایک آدمی شہر کے پہلے کنارے سے آیا اور اس نے قریبی راستہ طے کیا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام سے مل کر آپ کو ساری بات سے آگاہ کر دیا۔اے ابن جبیر! اس کا تعلق بھی فتون سے ہے ۔ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام آمدین کی طرف متوجہ ہوئے‘ اس شہر سے نکل پڑے۔اس سے قبل ان کی کوئی آ زمائش نہ ہوئی تھی اور نہ انہیں راستے کا علم تھا مگر وہ اپنے رب کے بارے نیک گمان رکھتے تھے ( کہ وہ راہنمائی فرمائے گا ) کیونکہ آپ نے کہا: مجھے قوی اُمید ہے کہ میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرمائے گا اور جب آپ مدین میں تشریف لائے تو لوگوں کے ایک گروہ کو پانی بھرتے دیکھا اور ان کے ساتھ دو عورتیں رکی ہوئی دیکھیں‘ یعنی وہ اپنے مویشیوں کو روکے ہوئے ایک طرف کھڑی تھیں تو آپ نے ان سے فرمایا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تم کیوں الگ تھلگ کھڑی ہو؟ لوگوں کے ساتھ (اپنے مویشیوں کو ) پانی کیوں نہیں پلاتی ہو؟ ان دونوں نے کہا: قوم سے مزاحمت کرنے کی ہم میں طاقت نہیں‘ ہم حوضوں کے خالی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ سو آپ علیہ السلام نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا پس آپ ڈول میں پانی ڈالتے رہے یہاں تک کہ پہلا فرواہا فارغ ہو گیا‘ سو وہ دونوں عورتیں اپنی بکریوں کو لے کر اپنے باپ کی طرف چلی گئیں اور موسیٰ علیہ السلام ایک طرف ہو کر درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ پس آپ نے عرض کی : ’’میرے رب! میں اس چیز کا محتاج ہوں جو تو نے میرے لیے اتاری ہے‘‘۔ ان دونوں عورتوں کے باپ نے تعجب کیا اس بات پر کہ وہ اپنے ریوڑ کو اتنا جلدی کس طرح خوب سیر کر کے لے آئی ہیں۔ان کے باپ نے کہا: بے شک آج تمہیں کوئی خاص معاملہ پیش آیا ہے۔سو ان دونوں نے اپنے باپ کو خبر دے دی جو نیک سلوک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کیا تھا۔ ان کے باپ نے ان میں سے ایک کو حکم دیا کہ جاؤ اور اسے بلا کر لے آؤ! سو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی اور آپ کو دعوت دی ۔ پس جب موسیٰ علیہ السلام نے جا کر ان کے باپ (حضرت شعیب علیہ السلام ) سے بات کی تو انہوں نے فرمایا:’’ ڈریئے مت! آپ نے ظلم قوم سے نجات پالی ہے‘‘( کیونکہ فرعون کی حکومت ہم پر نہیں ہے اور) نہ ہی ان کی قوم کا ادھر کوئی دخل ہے اور نہ ہی ہم اس کی مملکت میں ہیں ۔ راوی کا بیان ہے: ’’ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: اے میرے باپ! انہیں اجرت عنایت کیجئے کیونکہ یہ طاقتور اور امانتدار مستاجر ہیں‘‘ وہ غیرت میں آ گئے اور پوچھنے لگے: آپ کو اس کی قوت اور امانت کا کیا علم؟ اس نے اپنے باپ کو جواب دیا: میں نے اس کی طاقت کا اس وقت اندازہ کیا جب انہوں نے ہمیں ڈول میں پانی بھر کر دیا، میں نے پانی بھرنے کے کام میں اتنا طاقتور آج تک نہیں دیکھا‘ باقی رہی آپ کی امانت تو جب میں دُور سے اس کی طرف آنے لگی تو اس نے میری طرف دیکھا‘ سو جب اسے علم ہو گیا کہ یہ عورت ہے تو اس نے سر جھکا لیا‘ پھر سر نہیں اٹھایا اور نہ ہی میری طرف دیکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کا پیغام انہیں پہنچا دیا۔ پھر کہا: میرے پیچھے چلنا اور مجھے راستہ بتاتے جانا یہ کام وہی کر سکتا ہے جو امین ہو اور اس کے باپ سے کچھ سرگوشی کی گئی‘ سو اس کے باپ نے اس کی تصدیق اور جو کچھ اس نے کہا: من وعن اس پر یقین کر لیا۔ ان کے باپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: تیرا کیا خیال ہے کہ ’’ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کر دوں اس شرط پر کہ آ ٹھ سال تک تو میرے گھر کے کام بجا لائے، پس اگر دس سال مکمل کرے تو وہ تیری اپنی طرف سے ہوں گے ہم تجھے مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے‘ آپ مجھے نیک سلوک کرنے والوں سے پائیں گے‘ ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا ‘‘۔سو آپ نے یہی کام کیا سو اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام پر آ ٹھ سال تو واجب تھے اور دو سال کی مدت ان کی اپنی طرف سے تھی سو ان کی طرف سے اللہ نے مدت مقرر فرمائی‘ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دس سال مکمل کیے ۔حضرت سعید نے فرمایا: نصرانی علماء میں سے ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی ۔ سو اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مدت پوری فرمائی؟ میں نے جواب دیا‘ نہیں! ( کیونکہ اس دن تک مجھے معلوم نہ تھا‘ سو میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے اس کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آٹھ سال کی مدت موسیٰ علیہ السلام پر واجب تھی اور آپ نبی ہونے کے ناطے اس میں کمی نہیں کر سکتے تھے اور آپ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے اس مدت کا فیصلہ فرمایا ہے جس کا آپ نے وعدہ کیا سو آپ نے دس سال مکمل فرمائے ۔ (اس کے بعد ) میں نصرانی سے جا ملا اور میں نے اسے اس بات کی خبر دی ۔ اس نے کہا: ہاں ( ٹھیک ہے ) اور بہتر ہے۔ سو جب موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے کر چلے تو آگ‘ عصا اور ہاتھ کا معجزہ ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا‘ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے شکایت کی کہ انہیں قتل کے معاملے میں آل ِفرعون سے خوف ہے اور میری زبان میں لکنت ہے کیونکہ آپ کی زبان میں گرہ تھی جو زیادہ کلام کرنے سے آپ کو روکتی تھی‘ اور آپ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ آپ کے بھائی ہارون کو آپ کا معاون و مددگار بنا دے۔ اور اُن کی طرف سے کثیر کلام کریں (اور اس کی وضاحت کرے ) جو ان کے منہ سے واضح ہو کر نہیں نکلتی ۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کا سوال پورا کیا اور ان کی زبان کی گرہ کھول دی‘ سو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو الہام کے ذریعے حکم دیا کہ وہ آپ سے ملاقات فرمائیں ۔ سو موسیٰ علیہ السلام نے عصاء سے اپنا دفاع کیا یہاں تک کہ حضرت ہارون کی آپ سے ملاقات ہو گئی تو دونوں مل کر فرعون کی طرف گئے اور اس کے دروازے پر اس وقت جا کر کھڑے ہوئے جب دروازے کھولنے کی اجازت نہ تھی ۔ بہت زیادہ رکاوٹ کے بعد ان دونوں کے لیے دروازہ کھولنے کی اجازت دی گئی سو دونوں نے کہا:’’ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں‘‘۔ اس نے کہا: ’’اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے؟‘‘ (یعنی میرے سوا) سو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بتایا جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر قرآن میں بیان کر دیا ہے ۔ اس نے کہا تو کیا چاہتا ہے؟ اور مقتول کا تذکرہ کیا اور معذرت کی (اے راوی!) جس کو تُو نے سن لیا ہے اور فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ تو اللہ پر ایمان لے آئے اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے لیکن اس نے اس سے انکار کر دیا اور اس نے کہا: کوئی نشانی لاؤ! اگر آپ سچے ہیں ۔ سو موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عضا زمین پر ڈال دیا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر گھومنے لگا‘ وہ سانپ منہ کھولے ہوئے تھا اور فرعون کی طرف جانے میں جلدی کر رہا تھا۔ سو جب فرعون نے دیکھا کہ اس کا ارادہ اسی کی طرف آنے کا ہے تو اسے خوف ہوا کہ وہ اسے نگل لے گا ۔سو وہ اپنے تخت سے اتر کر نیچے آیا اور موسیٰ علیہ السلام سے استغاثہ کیا کہ آپ اس کو اس کو روکیں ۔سو موسیٰ علیہ السلام نے اسے روک لیا‘ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گریبان سے ہاتھ نکالا تو فرعون نے دیکھا کہ وہ بغیر کسی بیماری کے روشن ہے‘ یعنی برص کی وجہ سے سفید نہیں ہے۔ پھر آپ نے اسے پیچھے کر لیا تو اس کا رنگ وہی پہلے والا ہو گیا جو کچھ اس نے دیکھا اس بارے میں اس نے اپنی کابینہ سے مشورہ کیا‘ سو انہوں نے اس سے کہا: ’’ یہ تو جادوگر ہیں‘ یہ دونوں چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی سلطنت سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے اور تیری بہتر راہ وہ لے لیں‘‘ یعنی ان کا ملک جس میں وہ موجود ہیں اور عیش کی زندگی گزار رہے ہیں‘ سو انہوں نے انکار کر دیا کہ کوئی چیز بھی انہیں دیں جو انہوں نے مانگی ہے اور فرعون سے کہا: ہمارے لیے جادوگروں کو جمع کرو کیونکہ وہ تیری سلطنت میں بہت ہیں یہاں تک کہ ان کا جادو ان دونوں کے جادو پر غالب آ جائے ۔ اس نے شہر میں قاصد بھیجا‘ اس نے ہر جادوگر کو دعوت دے کر سب کو اکٹھا کیا‘ سو جب وہ سارے فرعون کے پاس آ گئے تو انہوں نے کہا: یہ جادوگر کس چیز پر جادو کرتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سانپوں کے ذریعے کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا قسم بخدا! اس زمین میں سانپوں اور رسیوں کے ذریعے جادو کا عمل نہیں کر سکتا ہے جیسا ہم کرتے ہیں اب بتاؤ! اگر ہم غالب آ جائیں تو ہمارا اجر کیا ہو گا؟ فرعون نے ان سے کہا: تم سب میرے قرب خاص میں آ جاؤ گے اور میرے خاص بندوں میں شمار ہو گئے‘ میں تم سے ہر وہ سلوک کروں گا جو تمہیں پسند ہو گا‘ سو انہوں نے کہا کہ سارے لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ حضرت سعید فرماتے ہیں: مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ یوم زینت سے مراد وہ دن ہے جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور جادوگروں پر غالب آئے اور وہ عاشوراء ( دسویں محرم ) کا دن تھا۔ سو جب وہ سارے کھلی جگہ اکٹھے ہو گئے تو لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے: چلو‘ چلو! ہمیں اس کام کے لیے ضرور حاضر ہونا چاہیے‘ ممکن ہے کہ ہم جادوگروں کی پیروی کرنے والے ہوں‘ اگر وہ غالب آ جائیں‘‘ اور اس سے موسیٰ و ہارون مراد لیتے تھے اور ہ بات مذاقاً کہتے تھے۔ سو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ ! اس وجہ سے کہ انہیں اپنی جادوگری پہ ناز تھا۔ ’’آپ پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں‘‘ آپ نے بڑی بے نیاز سے (اللہ پر توکل کرتے ہوئے) کہا: بلکہ تم پہلے ڈالو! سو انہوں نے اپنی رسیاں ڈالیں اور اپنے چھوٹے بڑے سانپ چھوڑے اور بولے: عزت فرعون کی قسم! ہمیں غالب ہیں ضرور بالضرور ۔سو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے جادو کو دیکھا تو ان کے دل میں ہلکا سا خوف محسوس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی: ’’ کہ اپنا عصا پھینکو‘‘ سو موسیٰ علیہ السلام نے عصا پھینکا تو وہ بہت بڑا سانپ بن گیا جو اپنا منہ کھولے ہوئے تھا۔ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آواز دی تو لاٹھیاں رسیوں کی مانند ہوگئیں یہاں تک کہ بڑے سانپ کے سامنے بے کار ہو گئیں‘ وہ اس سانپ کے منہ میں داخل ہونے لگیں یہاں تک کہ نہ کوئی لاٹھی رہی‘ نہ کوئی رسی رہی بلکہ سب کو سانپ نے نگل لیا۔سو جب جادوگروں نے یہ دیکھا تو کہہ اٹھے : اگر یہ جادو ہے تو ہمارے جادو کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا‘ لیکن یہ تو اللہ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے‘ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ہم جس غلط نظریہ پر تھے اس سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اپنے دامن میں فرعون اور اس کے گروہ کی کمر توڑ دی اور حق کو ظاہر کر دیا ’’اور باطل کر دیا اس کو جسے وہ کرتے تھے۔ وہ وہیں پر مغلوب ہو گئے اور ذلیل ہو گئے‘‘۔ اور فرعون کی بیوی ظاہراً باہر بڑی عاجزی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون پر غالب آنے کی دعائیں کرتی تھی ۔سو فرعونیوں میں سے جو اسے اس حال میں دیکھتا تو یہی گمان کرتا کہ یہ فرعون اور اس کے گروہ پر مشقت کی وجہ سے عاجزی کر رہی ہے حالانکہ اس کی ساری پریشانی اور غم موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے تھا۔ فرعون کے جھوٹے وعدوں کی وجہ سے جب موسیٰ علیہ السلام کا ٹھہرنا لمبا ہو گیا ( کیونکہ ) جب بھی موسیٰ علیہ السلام اس کے پاس کوئی معجزہ لے آتے تو وہ بنی اسرائیل کو بھیجنے کا جھوٹا وعدہ کر دیا۔ جب وہ مدت گزر جاتی تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا اور بڑی ڈھٹائی سے کہتا: تیرا رب اس کے علاوہ کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ سو اللہ تعالیٰ نے اس پر اور اس کی قوم پر طوفان کا عذاب بھیجا‘ لکڑیاں‘ جوئیں‘ مینڈک اور خون نازل کیے‘ واضح آیات کی صورت میں ان سب چیزوں کی شکایت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں کی اور مطالبہ کیا کہ وہ اللہ سے دعا کر کے ان کو روک دیں اور اس سے بات کی موافقت کی کہ وہ اسرائیلیوں کو ان کے ساتھ بخوشی بھیج دے گا ۔سو جب میں ساری چیزیں رُک گئیں تو اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنے عہد کو توڑ دیا یہاں تک کہ حکم جاری کر دیا گیا کہ موسیٰ اپنی قوم کو لے جائیں سو آپ رات کے وقت اپنی قوم کو لے کر نکلے سو جب فرعون نے صبح کی اور دیکھا کہ اسرائیلی چلے گئے ہیں تو اس نے شہروں میں اکٹھا کر کے لانے والے بھیجے۔ ان کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر تھا‘ سو اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف وحی کی ( جیسے اس کی شان ہے ) کہ جب میرا بندہ موسیٰ علیہ السلام تجھے اپنے عصا سے مارے تو بارہ راستوں والا بن جا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دے‘ پھر ان کے بعد فرعون اور اس کے حواریوں پر مل جانا جو باقی رہ جائیں ۔سو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام پر نسیان طاری ہو گیا اور انہوں نے سمندر کو اپنے عصا سے نہ مارا یہاں تک کہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے جبکہ سمندر قوت استقلال کھو چکا تھا اس ڈر سے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ڈنڈا ماریں اور وہ بے خرب ہو تو عاصی ہے ۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے نظر آئے اور ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا: ’’ ہم تو پکڑے گئے‘‘ وہ کام کر دکھائیے جو آپ کے رب نے آپ کو فرمایا ہے کیونکہ نہ تو آپ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور نہ آپ کو جھٹلایا جاتا ہے ۔ سو آپ نے فرمایا: ہاں! میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ جب میں سمندر کے کنارے آؤں تو وہ بارہ راستے بنا دے گا یہاں تک کہ میں اس سے آگے گزر جاؤں‘ پھر آپ نے اس عصا کا ذکر کیا۔ سو آپ نے اپنے عصا سے سمندر کو مارا تو وہ پھٹ گیا یہاں تک کہ جب فرعونیوں کے شکر کا پہلا گروہ پہنچ گیا اور موسیٰ علیہ السلام کا آخری گروہ گزر گیا۔ سمندر نے ایسے ہی راستے بنائے جیسا اس کے رب نے اسے حکم دیا تھا اور جیسے موسیٰ علیہ السلام سے آپ کے رب نے وعدہ کیا تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے تمام ساتھی اس سے آگے گزر گئے اور فرعون اور اس کے ساتھی اس میں داخل ہو گئے تو وہ ان پر مل گیا جیسے اللہ نے اسے حکم دیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام سمندر پار کر گئے تو آپ کے حواریوں نے کہا: ہمیں ڈر ہے کہ کہیں فرعون غرق نہ ہو۔ سو ہم اس کی ہلاکت کا یقین نہیں کریں گے سو آپ علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر کے اس کے بدن کو سمندر سے باہر نکال دیا یہاں تک کہ ان کو یقین ہو گیا کہ واقعی وہ ہلاک ہو چکا ہے۔ پھر آگے چلتے چلتے قوم کی نظر ایسے لوگوں پر پڑی جو بتوں پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھی ہوئی تھی تو انہوں نے کہا: اے موسیٰ ! جیسے ان کے معبود ہیں تو ہمارے لیے بھی ایسا معبود ( بت ) بنا دے۔ آپ نے فرمایا: تم جاہل قوم ہو کیونکہ یہ لوگ اپنے دین میں باطل ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں وہ بھی باطل ہے‘ تم عبرت ناک واقعات دیکھ چکے ہو اور ایسی چیزیں سن چکے ہو جو تمہاری ہدایت کے لیے کافی ہیں ۔ اور آپ آ گے چلے گئے‘ سو موسیٰ علیہ السلام نے ان کو وہیں اتار دیا پھر ان سے کہا: اب تم ہارون کی اطاعت کرو کیونکہ میں نے انہیں اپنا نائب بنا دیا ہے میں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دینے والا ہوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو تیس دن میں واپس تشریف لانے کی مدت بتائی۔ پس جب وہ اپنے رب کی بارگاہ تیس حاضر ہوئے تو تمہیں دن میں کلام کرنے کا ارادہ تھا۔ ان میں سے دو دن اور دو رات انہوں نے روزہ رکھا لیکن (جب عین ملاقات کا وقت آیا) تو آپ علیہ السلام نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اس حال میں اپنے رب سے ملاقات کریں کہ آپ کے منہ سے روزے کی بو آ رہی ہو تو موسیٰ علیہ السلام نے زمینی بوٹیوں میں سے کوئی بوٹی ( تھوم ) منہ میں ڈال کر چبا لی ۔سو اس حال میں جب حاضری ہوئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا: جب تم میری ملاقات کو آنے لگے تو روزہ افطار کر لیا ؟ وہ اس حال کو زیادہ بہتر جانتا ہے جس حال پر وہ تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے رب! میں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس بات کو نا پسند کیا کہ تجھ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ میرے منہ سے روزے کی بو آ رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسٰی! تو نہیں جانتا کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک مشک وعنبر سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ (ملاقات کے بغیر ) اب واپس جاؤ! جا کر دس روزے رکھو پھر میری بارگاہ کی حاضری دو ۔ سو موسیٰ علیہ السلام کو جو حکم ملا‘ بجا لائے ۔ پس جب موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام جو مدت بتا کر تشریف لے گئے اس کے مطابق واپس نہیں آئے۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات ان پر ناگوار گزری۔ حضرت ہارون علیہ السلام ( جو پیچھے موجود تھے) انہیں خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے : بے شک تم لوگوں نے مصر سے کوچ کیا تو تمہارے پاس قوم فرعون کی عاریتیں اور امانتیں تھیں جبکہ ان میں تمہارے لیے اس کی مثل موجود ہے‘ میرا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کا حساب کرو جو تمہاری ان کے پاس ہیں‘ میں حلال نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو یا ادھار لی ہوئی کوئی چیز ہو۔ اب ہم نہ تو فرعونیوں کو ان کی کوئی چیز واپس کر لیں گے اور نہ ہی ان کی کوئی چیز اپنے پاس رکھیں گے ۔ پس آپ نے ایک گڑھا کھودا اور ہر گروہ کو الگ الگ حکم جاری فرمایا کہ جس کے پاس کوئی سامان یا کوئی زیور ہے تو وہ اس گڑھے میں ڈال دے۔ آپ نے اس پر آگ جلا کر اسے راکھ کر دیا ‘ اور فرمایا: اب یہ نہ ہمارا رہا اور نہ ان کا رہا‘ سامری کا تعلق اس گروہ سے تھا جو گائے کی پوجا کرنے والے تھے اور ان کے پڑوسی (موسیٰ) تھے ۔ ان کا تعلق بنی اسرائیل سے نہ تھا۔ سو جب بنی اسرائیل شک کا شکار ہوئے تو وہ بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ شک کرنے لگا۔ اس نے نشانات محسوس کیے تو اس میں سے کچھ (مٹی) لے لیا۔ پس وہ حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے سامری! جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے اسے پھینک کیوں نہیں دیتا‘ حالانکہ وہ اس کو اس طرح چھپائے ہوئے تھا کہ اس پر کسی کی نظر نہ پڑے ۔ اس نے کہا: یہ رسول کے نشان ِقدم کی خاک ہے جو تمہارے پاس سے گزر کے سمندر کی طرف چلا گیا ہے ۔ سو میں اس میں سے ایک ذرّہ بھی نہ پھینکوں گا مگر اس صورت میں کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ جب میں اسے پھینکوں تو وہ کام ہو جائے جس کا میں ارادہ رکھتا ہوں ۔ سو حضرت ہارون علیہ السلام نے اس کے حق میں دعا کی‘ اس نے کہا: میں تو ایک بچھڑا بنانا چاہتا ہوں‘ سو جو کچھ سامان‘ زیور‘ تانبا اور لوہا‘ اس گڑھے‘ میں موجود تھے اس نے اکٹھا کر لیا اور ایک ایسا بچھڑا تیار کیا جو اندر سے خالی تھا‘ اس میں روح نہ تھی لیکن وہ گائے کی طرح ڈکارتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس بچھڑے کی اپنی سرے سے کوئی آواز نہ تھی ۔ بس اس کے پیچھے سے ہوا داخل ہوتی تھی جو اس کے آگے سے منہ کی طرف سے نکلتی تھی اور ایک آواز آتی تھی ۔ اس کی وجہ سے بنی اسرائیل گروہوں میں بٹ گئے ہیں ان میں سے ایک گروہ نے کہا: اے سامری! یہ کیا ہے؟ سو اسے تو ہی سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اس نے کہا: یہ تمہارا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام نے تمہیں گمراہ کیا (صحیح رب کا پی نہیں دیا) اور ایک گروہ بولا : ہم سامری کی اس بات کو اس وقت تک جھوٹا نہ کہیں گے جب تک موسیٰ علیہ السلام ہمارے پاس واپس نہیں آ جاتے ۔ پس اگر یہ ہمارا رب ہے تو ہم اسے ضائع نہ کریں گے‘ اس کے بارے اپنے عجز کا اظہار کریں گے‘ جب ہم نے اسے دیکھ لیا ہے اور اگر یہ ہمارا رب نہیں تو ہم موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کریں گے۔ ایک گروہ نے کھلے لفظوں میں کہا: یہ شیطانی کام ہے‘ نہ یہ ہمارا رب ہے نہ ہم اس پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی تصدیق کریں گے ۔ لیکن بچھڑے کے بارے میں جو کچھ سامری نے کہا‘ ایک گروہ کے دلوں میں اس کی بات گھر کر گئی اور انہیں اسی کا نشہ چڑھ گیا اور انہوں نے علی الاعلان تکذیب کی ۔سو حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ’’اے میری قوم ! تم تو اس سے فتنہ میں مبتلا ہو گئے ہو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا رب تو وہ ہے جو بے حد مہربان ہے ‘‘۔ معاملہ اس طرح نہیں ( جس طرح تم نے سمجھا ہے ) ان لوگوں نے کہا: موسیٰ علیہ السلام کو کیا ہوا؟ انہوں نے ہم سے تیس دن کا وعدہ کیا پھر وہ لوٹ کر ہمارے پاس نہیں آئے حالانکہ چالیس دن گزر گئے ہیں ۔سوان میں سے جو بے وقوف تھے‘ انہوں نے کہا: لگتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ بھول گئے ہیں سو وہ اپنے رب کو تلاش کرتے پھر رہے ہوں گے ۔سو جب موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے کلام فرمایا اور ان سے کہا جو کچھ کیا ( خدا جانے یا موسیٰ جانے ) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تشریف لے جانے کے بعد قوم جس فتنہ میں مبتلا ہوئی‘ آپ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی ۔ سو موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف اس حال میں آئے کہ غصہ میں بھی تھے اور ان کی حالت پر افسوس کر رہے تھے ۔ سو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے جو کچھ کہا وہ آپ لوگوں نے قرآن کی زبان میں سن لیا ہے (اور وہ یہ ہے: کیا تمہارے رب نے تم سے عمدہ وعدہ نہیں کیا تھا تو کیا طویل مدت گزر گئی ہے اس وعدہ پر یا تم یہ چاہتے ہو کہ تم پر غضب اترے تمہارے رب کی طرف سے اس لیے تم نے توڑ ڈالا میرے ساتھ کیا ہوا وعدہ) اور اپنے بھائی کو سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور تختیاں ان کے سامنے رکھ دیں‘ پھر ان کے بھائی نے ان سے معذرت کی اور اپنے لیے مغفرت کی دعا کی (یا موسیٰ علیہ السلام نے ان کے لیے مغفرت مانگی ) اس کے بعد آپ علیہ السلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا :تمہیں کس چیز نے یہ کام کرنے پر ابھارا؟ اس نے جواب دیا: میں نے رسول کی سواری کے نشان قدم کی خاک سے مٹھی بھر لی اور اس کے بارے غور وفکر کیا اور اس طرح میرے لیے میرے نفس نے یہ بات سیدھی کر دی۔ ( آپ نے غصہ سے ) فرمایا: جا چلا جا؟ پس تیرے لیے اس زندگی میں تو یہ (سزا) ہے کہ تو کہتا پھرے گا کہ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے اور تیرے لیے ایک اور دعدہ (عذاب ) بھی ہے جس کی خلاف ورزی نہ ہو گی اور ذرا دیکھ اپنے اس خدا کی طرف جس پر تُو جم کر بیٹھا رہا (اس کا کیا حشر ہوتا ہے) ہم اسے لا ڈالیں گے پھر ہم اس سمندر میں اس ( کی راکھ ) کو بہا دیں گے ۔ اور اگر یہ معبود برحق ہوتا تو‘ سو بنی اسرائیل نے یقین حاصل کیا اور رشک کرتے ہوئے خوش ہوئے وہ لوگ جن کا نظریہ اس کا بارے میں حضرت ہارون علیہ السلام کی مانند تھا‘ ان میں سے ایک جماعت نے موسیٰ علیہ السلام سے عرض کی : اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے جو کچھ ہم نے کیا ہے ہم اس سے توبہ کرتے ہیں ۔سو وہ ہمارے اس برے عمل کو مٹا دے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہیں۔ سو (توبہ کا طریقہ یہ اپنایا کہ) موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں سے اس کے لیے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا جو بچھڑے کی عبادت کر کے شرک میں مبتلا نہ ہوئے تھے تاکہ وہ پہاڑ کو لائیں ۔ پس آپ علیہ السلام ان کو لے کر چلے تاکہ سب کے لیے اپنے رب سے توبہ کا سوال کریں ۔ ان سے زمین پر زلزلہ طاری ہو گیا ۔سو اللہ کے نبی کو اپنی پوری قوم اور ان کے نمائندہ وفد سے حیا آ گئی‘ جب ان کے ساتھ وہ کچھ کچھ ہونے لگا جو ہونے لگا۔ سو آپ علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں یوں عرض کی : ’’اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ان لوگوں کو اس کام کا ارتکاب کرنے سے پہلے ہی مار ڈالتا اور خود مجھے ہی لیکن کیا تو ہمیں ایک ایسے کام کے سبب ہلاک فرمانا چاہتا ہے جو ہم میں سے چند بے وقوفوں نے کیا ہے‘‘ حالانکہ ان میں وہ لوگ بھی تھے جن کو اللہ نے بروقت مطلع کر دیا تھا اس پر جو اس پر ایمان کی وجہ سے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں گھر کر چکی تھی سو اسی وجہ سے زمین کانپنے لگی ۔سو فرمایا: میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے سو میں اپنی رحمت ان لوگوں کے لیے خاص کر دوں گا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا‘ زکوٰۃ دیتے رہے اور ان لوگوں کو اپنی رحمت عطا کروں گا جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں‘ وہ لوگ جو اس رسول اُمّیِ کی اتباع کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔ آپ نے عرض کی : اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لیے تجھ سے توبہ کا سوال کیا ہے‘ تو نے فرمایا ہے : بے شک تیری رحمت میری قوم

الفُتُونِ مَا هُوَ؟ ← ابن عباس في قول الله تعالى سألته ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ← أصبغ بن زيد الجهني ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أبو خثيمة

Hadith 2618

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2619

2619 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر بن الوليد : أخبركم أبو يوسف عن محمد بن عبيد الله عن عطاء عن أبي هريرة قال : Y نهاني خليلي عن ثلاث وأمرني بثلاث : نهاني أن أنقر نقر الديك وأن ألتفت التفات الثعلب أو أقعي إقعاء السبع وأمرني بالوتر قبل النوم وصوم ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے دوست نے تین چیزوں سے منع کیا اور تین چیزوں کا حکم دیا۔ جس سے منع کیا وہ یہ ہیں: (۱) مرغ کی طرح ٹھونگا مارنے سے (یعنی نماز میں ) (۲) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنے سے(۳) کتے کی طرح کلیوں کو بچانے سے‘ یہ سب باتیں نماز میں کرنے سے ۔جن چیزوں کا حکم دیا۔ (ا)وتر سونے سے پہلے ادا کرنے کا (۲) ہر ماہ تین روزے رکھنے کا (۳) چاشت کی نماز کا۔

نهاني خليلي ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← قرئ على بشر بن الوليد أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2619

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2620

2620 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف عن ابن أبي ليلى و الحجاج بن أرطأة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يخطب يوم الجمعة قائما ثم يجلس ثم يقوم فيخطب فزاد ابن أبي ليلى حرفا قال : فجلس جلوسا خفيفا K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے‘ پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوکر بقیہ خطبہ دیتے۔ ابن لیلیٰ نے ایک حرف کا اضافہ کیا ہے کہ آپ ( درمیان میں) مختصر طور پر بیٹھتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابن أبي ليلى و الحجاج بن أرطأة ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2620

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2621

2621 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف عن الحجاج عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة . Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوا من ذلك K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوا من ذلك إسناده ضعيف ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْحَجَّاجِ، ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2621

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2622

2622 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف حدثنا إسماعيل بن مسلم عن الحسن و أبي الزبير عن جابر Y أن سليكا الغطفاني جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب يوم الجمعة فقال : أصليت ؟ قال : لا قال : فصل ركعتين تجوز فيهما K الحديث صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلیکا القطفانی آیا اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں ادا کرو‘ اس میں قرأت مختصر کرو۔

جَابِرٍ ← الحسن و أبي الزبير ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2622

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2623

2623 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف عن أبن أبي ليلى عن نافع عن ابن عمر . Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خفت الصبح فأوتر بواحدة إن الله وتر يجب الوتر لأنه واحد K إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کو نماز دو دو رکعتیں ہیں جب تجھے خوف ہو صبح ہونے کا، ایک رکعت کے ساتھ وتر کر لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق پسند کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2623

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2624

2624 - أخبرنا أبو يعلى قال : قرئ على بشر : أخبركم أبو يوسف عن أبي إسحاق الشيباني عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن عمر . Y بنحو من ذلك K إسناده حسن

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح کی روایت کرتے ہیں۔

ابن عمر بنحو من ذلك إسناده حسن ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← قرئ على بشر أخبركم أبو يوسف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2624

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter