Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2452

2452 - حدثنا هد بة حدثنا وهب عن يونس بن عبيد أخبرنا عمار بن أبي عمار قال Y سمعت ابن عباس يقول : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن خمس وستين وكان الحسن يقول : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن ستين K رجاله رجال الصحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب وصال ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر 65 سال تھی ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں: اس وقت آپ کی عمر ساٹھ سال تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وَھْبٍ ← هد بة

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2452

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2453

2453 - حدثنا أبو عمر الحارث بن سريج حدثنا يحيى بن زكريا حدثنا محمد بن [ أبي ] القاسم عن عبد الملك بن سعيد بن جبير عن أبيه Y عن ابن عباس قال : كان تميم الداري و عدي بن بداء يختلفان إلى مكة فصحبهما رجل من قريش من بني سهم فمات بأرض ليس بها أحد من المسلمين وأوصى إليهما بتركته فلما قدما فدفعاها إلى أهله وكتما جاما كان معه من الفضة مخوصا بالذهب فقالا : لم نره فأتي بهما النبي صلى الله عليه و سلم فاستحلفهما بالله ما كتما ولا اطلعا وخلى سبيلهما ثم إن الجام وجد عند قوم من أهل مكة قالوا ابتعناه من تميم الداري و عدي بن بداء فقام أولياء السهمي فأخذوا الجام وحلف رجلان منهم بالله إن هذا الجام جام صاحبنا وشهادتنا أحق من شهادتهما وما اعتدينا إنا إذا لمن الظالمين ونزلت هاتان الآيتان : { يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت } [ المائدة : 106 ] إلى آخر الآية K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تمیم داری اور عدی بن بداء مکہ کی طرف جا رہے تھے ۔ ان دونوں کا ساتھی بنی سہم قریش سے ایک آدمی تھا۔ وہ اس ملک میں فوت ہو گیا‘ وہاں مسلمانوں میں کوئی بھی نہیں تھا‘ اس نے ان دونوں کے لیے ترکہ کی وصیت کی‘ وہ دونوں آئے ان دونوں نے ان کے اہل خانہ کو وہ مال دے دیا اور ایک چاندی کا پیالہ تھا اس پر سونا چڑھا ہوا تھا۔ ان دونوں نے کہا ہم نے اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے۔ ان دونوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا۔ ان دونوں نے قسم اٹھائی کہ انہوں نے کچھ نہیں چھپایا نہ اس پر کوئی اطلاع ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو چھوڑ دیا۔ وہ پیالہ مکہ مکرمہ میں کسی کے پاس لایا گیا۔ انہوں نے کہا ہم نے تمیم الداری اور عدی بن بداء سے خریدا ہے ۔ سہمی کے ولی اٹھے اور وہ پیالہ لیا ان میں سے دو آدمیوں نے قسم اٹھائی کہ یہ پیالہ ہمارے ساتھی کا ہے۔ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ حق دار ہو گی ۔ ہم میں سے کوئی زیادتی کرے تو وہ ظالم ہے۔ یہ دونوں آیتیں نازل ہو گئیں: ’’یا ایها الذین الیٰ آخرہ‘‘ (المائدہ:106) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أبو عمر الحارث بن سريج

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2453

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2454

2454 - حدثنا حارث بن سريج حدثنا معتمر حدثنا ليث عن أبي فزارة عن يزيد بن الأصم Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لم أؤمر بتشييد المساجد قال : وقال ابن عباس : لتزخرفنها كما زخرفت اليهود والنصارى K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی نے فرمایا: میں مسجدوں کو خوبصورتی کا حکم نہیں دیتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: تم ضرور بضرور مسجدوں کی زیب و زینت کرو گے جس طرح یہود و نصاریٰ کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبِي فَزَارَةَ ← لَيْثٌ، ← مُعْتَمِرٌ ← حارث بن سريج

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2454

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2455

2455 - حدثنا وهب بن بقية حدثنا خالد عن حسين بن قيس عن عكرمة Y عن ابن عباس أن امرأة من خثعم أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا نبي الله إني امرأة أيم وإني أريد أن أتزوج فما حق الزوج على زوجته ؟ فإن استطعت ذلك وإلا جلست أيما ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن حق الزوج على زوجته إذا أرادها على نفسها وهي على ظهر بعيره لا تمنعه ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تعطي من بيتها إلا بإذنه وإن فعلت ذ لك كان الإثم عليها والأجر لغيرها ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تخرج من بيته إلا بإذنه فإن فعلت ذلك لعنتها الملائكة حتى ترجع أو تتوب K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم سے ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں کنواری عورت ہوں اور میں شادی کرنا چاہتی ہوں ( پوچھنا چاہتی ہوں ) شوہر کا حق بیوی پر کیا ہے؟ اگر میں اس کی طاقت رکھوں گی تو کر لوں گی ورنہ میں کنواری ہی بیٹھی رہوں گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شوہر کا حق بیوی پر ہے کہ جب شوہر بیوی سے جماع کا ارادہ کرے تو وہ اونٹ کی پیٹھ ہی پر کیوں نہ ہوا اس کو منع نہ کرے۔شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ اس کے گھر سے کوئی چیز بغیر اس کی اجازت کے نہ دے۔ اگر بغیر اس کی اجازت یہ کرے گی یہ عورت گناہگار ہو گی اور ثواب دوسروں کے لیے ہو گا۔ اور شوہر کا حق بیوی پر یہ بھی ہے کہ وہ اس کے گھر سے بغیر اجازت کے نہ نکلے ، اگر ایسا کرے گی اس پر فرشتوں کی لعنت ہو گی۔ یہاں تک کہ واپس آ جائے یا توبہ کر لے۔

عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2455

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2456

2456 - وبه قال Y حدثنا ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا ثارت ريح استقبلها وجثا على ركبتيه وقال : اللهم اجعلها رياحا ولا تجعلها ريحا اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی جب بھی ہوا چلتی آپ اپنا منہ مبارک ہوا کی طرف کر لیتے اور گھٹنوں کے بل ہو جاتے اور یہ دعا کرتے ، اللہ اللہ اس ہوا کو رحمت بنا ہمارے لیے اور اس کو عذاب نہ بنا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وبه

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2456

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2457

2457 - حدثنا وهب بن بقية حدثنا خالد عن حسين عن عكرمة Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قبض يتيما بين مسلمين إلى طعامه وشرابه حتى يغنيه الله أوجب الله له الجنة البتة إلا أن يعمل ذ نبا لا يغفر ومن عال ثلاث بنات فأنفق عليهن وأحسن إليهن وجبت له الجنة فقام رجل من الأ عراب فقال أو اثنتين ؟ قال : نعم حتى لو قال واحدة لقال : نعم وما من عبد أذهب الله كريمتيه إلا كان ثوابه عند الله في الجنة قال : وما كريمتاه ؟ قال : عيناه قال : وكان ابن عباس إذا حدث هذا الحديث قال : والله هذا من كرائم الحديث وغرره K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یتیم کی کفالت کی کھانے اور پینے کی ، یہاں تک کہ اللہ نے اس کو غنی کر دیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہو گئی مگر گناہ اس کا نہیں بخشے گا۔ جس نے تین بچیوں کی کفالت کی ان پر خرچ کیا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ ایک دیہاتی آدمی کھڑا ہوا‘ اس نے عرض کی : اگر دو ہوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بھی ہوں پھر بھی جنت ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک ہو؟ فرمایا: ایک بھی ہو تو پھر بھی جنت واجب ہو گی ۔ کسی بندہ کی دو محبوب ترین چیزوں کو لے لیا جائے اس کے لیے ثواب اللہ کے ہاں جنت ہے، راوی نے پوچھا محبوب سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: آنکھیں۔ ابن عباس جب حدیث بیان کرتے تو فرماتے : اللہ کی قسم ! یہ حدیث بہت عمدہ ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنٌ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2457

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2458

2458 - حدثنا وهب حدثنا خالد عن حسين عن عكرمة Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أعطى كل ذي حق حقه وإن الله فرض فرائض و سن سننا وحد حدودا وأحل حلالا وحرم حراما وشرع الإسلام وجعله سهلا سمحا واسعا ولم يجعله ضيقا . يا أيها الناس إنه لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له ومن نكث ذمة الله طلبه الله ومن نكث ذمتي خاصمته ومن خاصمته فلجت عليه ومن نكث ذمتي لم ينل شفاعتي ولم يرد علي الحوض . ألا إن الله لم يرخص في القتل إلا في ثلا ث : مرتد بعد إيمان وزان بعد إحصان أو قاتل نفس فيقتل بها اللهم هل بلغت ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے ہر صاحب حق کو حق دے دیا ہے، بے شک اللہ کے فرائض مقرر کیے ہیں اور سنتیں مقرر کی ہیں اور حدیں مقرر کی ہیں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام کیا ہے اسلام کے طریقوں کو آسان بنایا اور وسیع بنایا ہے اس کو تنگ نہیں کیا۔اے لوگو! جس میں امانت نہیں اس کا ایمان نہیں ، جس میں عہد نہیں اس کا دین نہیں ، جس نے اللہ کے ذمہ کا انکار کیا ، اللہ اس سے پوچھے گا کہ جس نے میرے ذمہ کا انکار کیا میں اس سے جھگڑوں گا ۔ جس سے میں جھگڑوں گا، میں اس پر قابو پا لوں گا۔ جس نے میرے ذمہ کا انکار کیا اس کو میری شفاعت نہیں ملے گی ، اس کو میرے حوض پر پیش نہیں کیا جائے گا ۔خبردار! بے شک اللہ نے قتل میں رخصت نہیں دی مگر تین اشیاء میں ایمان کے بعد مرتد ہونے میں، شادی کے بعد زنا کرنے میں‘ کسی جان کو قتل کرنے پر اس کو قتل کیا جائے گا۔ اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنٌ ← خَالِدٌ، ← وَھْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2458

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2459

2459 - عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اعتمر وكان بينه وبين أهل مكة عهد أن لا يخرج أحدا من أهله فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم عمرته خرج من مكة ومر رسول الله صلى الله عليه و سلم بابنة حمزة بن عبد المطلب فقالت : يا رسول الله إلى من تدعني ؟ فلم يلتفت للعهد الذي بينه وبين أهل مكة ومر بها زيد بن حارثة فقالت : إلى من تدعني ؟ فلم يلتفت إليها ومر بها جعفر فناشدته فلم يلتفت إليها ثم مر بها علي بن أبي طالب فقالت : يا أباحسن إلى من تدعني ؟ فأخذها علي فألقاها خلف فاطمة فلما نزلوا أدنى منزل أتى زيد عليا فقال : أنا أولى بها منك أنا مولى النبي صلى الله عليه و سلم قال علي : أنا أولى بها منك قال جعفر : أنا أولى بها : خالتها عندي أسماء بنت عميس الخثعمية فلما علت أصواتهم بعث إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما أتوه قال : أما أنت يا جعفر فأنت تشبه خلقي و خلقي وأما أنت يا علي فأنا منك وأنت وصيي وأما زيد فمولاي ومولاكم فادفع الجارية إلى خالتها وهي أولى بها K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے لیے گئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان معاہدہ تھا۔ اس میں رہنے والے کو نکالا نہیں جائے گا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کیا اور مکہ سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے پاس سے گزرے‘ اس نے عرض کی :یارسول اللہ! مجھے کس کے سہارے چھوڑ رہے ہیں؟ آپ اس معاہدہ کی وجہ سے جو آپ کے اور اہل مکہ کے درمیان تھا‘ اس کی وجہ سے اس کی توجہ نہیں ہے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس سے گزرے‘ اس نے عرض کی : مجھے کس کے سپرد کر رہے ہیں؟ آپ بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے ۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس سے گزرے‘ میں نے ان کو کہا: آپ نے بھی ان کی طرف توجہ نہیں کی، پھر اس کے پاس سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے تو عرض کی : اے ابوحسن! مجھے کس کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پکڑا اور اس کو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے کر لیا‘ جب وہ گھر آئے تو حضرت زید‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ۔ عرض کی: میں آپ کے ہاں اس سے زیادہ نزدیک ہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں آپ سے آپ کے نزدیک زیادہ ہوں۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں آپ سے زیادہ نزدیک ہوں‘ میری خالہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ ہے۔ جب ان حضرات کی آوازیں اونچی ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف کسی کو بھیجا‘ جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بہرحال اے جعفر! تو میری صورت و اخلاق میں مشابہ ہے‘ اے علی! میں تجھ سے ہوں‘ تو میرا وصی ہے۔ بہرحال زید تو میرا غلام اور تمہارا غلام ہے‘ لونڈی خالہ کو دے دو‘ وہ اس کی زیادہ حق دار ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2459

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2460

2460 - عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من تسع وتسعين امرأة واحدة في الجنة وبقيتهن في النار فاشتد ذلك على من حضر رسول الله صلى الله عليه و سلم من المهاجرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلمة إذا حملت كان لها أجر القائم الصائم المحرم المجاهد في سبيل الله حتى إذا وضعت فإن لها بأول رضعة ترضعه أجر حياة نسمة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 99 عورتیں جہنم میں جائیں گی اور ایک جنت میں جائے گی ۔ یہ بات ان مہاجرین پر دشوار گزری جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو اس کا ثواب اللہ کے لیے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے برابر‘ حالتِ احرام والے کے برابر‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے یہاں تک کہ جب اس کو جن کے پہلے دودھ کے قطرے سے لے کر اس کے دودھ چھوڑنے تک ایک جان کو زندہ کرنے کا ثواب ہو گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2460

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2461

2461 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا محمد بن ثابت العبدي حدثنا جبلة بن عطية عن إسحاق بن عبد الله Y عن ابن عباس قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيت من بعض بيوت نسائه إذ وضع رأسه على فخذ إحداهن فأغفى فضحك في منامه فبعد أن رأيته سأله بعض أهل البيت قال : يا رسول الله ما أضحكك ؟ فقال : عجبت لناس من أمتي يركبون هذا البحر وهول العدو يجاهدون في السبيل - فذ كر فضلا لم يحفظه محمد - قالت امرأة كان ثمة : يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم فدعا لها فخرج بها زوج لها في غزاة فبينما هي على ساحل البحر تسير على راحلة لها إذ وقعت فاندقت فخذها فماتت

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی از واج ِمطہرات میں سے کسی کے گھر میں تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر اپنی ازواج کے ران پر رکھا اور نیند کی حالت میں مسکرائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاگنے کے بعد بعض اہل بیت نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز سے مسکراہٹ آئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تعجب کیا ان لوگوں پر جو میری اُمت سے ہوں گے،سمندر میں سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ۔ ان کی فضیلت کا ذکر بھی کیا لیکن راوی حدیث کو یاد نہیں ۔ قبیلہ ثمہ کی ایک عورت نے عرض کی: یا رسول اللہ ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی‘ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نکلی جہاد کے لیے‘ وہ سمندر کے ساحل پر ہی تھی کہ دو سواری پر بیٹھی سمندر پار کرنے کے لیے کہ اچانک گر گئی ، اس کی ران ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگئی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2461

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2462

2462 - حدثنا عبد الأ على بن جابر حدثنا عبد العزبز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن عكرمة Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من وجدتموه وقع على البهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة K رجاله رجال الصحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم جانور سے بدفعلی کرتے ہوئے پاؤ اس کو اور اس جانور کو مار دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عبد العزبز بن محمد ← عبد الأ على بن جابر

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2462

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2463

2463 - وعن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول K رجاله رجال الصحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم قوم لوط والا عمل کرتے ہوئے پاؤ اے فائل اور مفعول دونوں کو مار دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2463

chevron_left Previous
1…567…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter