Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2607

2607 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الوليد بن جميع عمن حدثه Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : راصوا الصفوف فإني رأيت الشياطين تخللكم كأنها أولاد الحذف K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : صفوں کو سیدھا رکھا کرو‘ میں شیطان کو تمہارے درمیان داخل دیکھتا ہوں ایسے جیسے تمہارے بیچ میں شیطان کالی چھوٹی بکریوں کی بیٹیوں کی طرح گھس آئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الوليد بن جميع عمن ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Hadith 2607

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2608

2608 - حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح حدثنا معاذ بن هشام أخبرني أبي عن قتادة عن أبي قلابة عن خالد بن اللجلاج Y عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيت ربي في أحسن صورة قال لي : يا محمد قلت : لبيك وسعديك قال : فيم يختصم الملأ الأعلى ؟ قلت : رب لا أدري فوضع يده على كتفي فوجدت بردها بين ثديي فعلمت ما بين المشرق والمغرب فقال : يا محمد فيم يختصم الملأ الأعلى ؟ قلت : في الكفارات : المشي على الأقدام إلى الجمعات وإسباغ الوضوء في المكروهات وانتظار الصلاة بعد الصلاة فمن حافظ عليهن عاش بخير ومات بخير وكان من ذنوبه كيوم ولدته أمه K رجاله رجال الصحيح غير خالد بن اللجلاج

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں نے اپنے رب کو بہت اچھی صورت میں دیکھا۔ مجھے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں! فرمایا: تیرے لیے سعادت ہے۔ ملاء الاعلیٰ کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: یا اللہ! میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں دست قدرت (جو اس کی شان کے لائق ہیں ) میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھے، میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی ۔ میں نے جان لیا جو کچھ زمین اور مشرق میں ہے، پھر اللہ نے فرمایا : اے محمد ! ملا اعلیٰ کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: کفارات کے متعلق، اور ان کے قدموں کے متعلق جو جمعہ کے لیے جاتے ہیں مشکل وقت میں ، وضو کرنے کے متعلق، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنے والے کے متعلق ، جس نے اس پر ہمیشگی کی اس نے بہتر زندگی گزاری اور اچھی موت حاصل کی ۔ اس کے گناہ ایسے معاف ہو جاتے ہیں جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ

Hadith 2608

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2609

2609 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا مبشر حدثنا الأوزاعي عن الزهري : أراه أخبرني علي بن حسين Y أن ابن عباس قال : أخبرني رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأنصار : أنهم بينما هم جلوس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ رمي بنجم فاستنار فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما كنتم تقولون في الجاهلية إذا رمي بمثل هذا ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم كنا نقول : ولد اليلة رجل عظيم ومات الليلة رجل عظيم قال : فإنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك الله تعالى إذا قضى أمرا سبح حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم حتى التسبيح أهل السماء الدينا ثم قالوا للذين يلون حملة العرش : ماذا قال ربكم ؟ فيخبرونهم فيستخبر أهل السماوات بعضهم بعضا حتى يبلغ الخبر أهل السماء الدنيا فتخطف الجن فيلقونه إلى أوليائهم ويرمون فما جاؤوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يقذفون فيه ويزيدون . الشك من مبشر K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کہ مجھے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک صحابی نے بتایا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ستارا پھینکا گیا وہ روشن ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہتے تھے جب اس مثل کا ستارا پھنک جاتا تھا، انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ ہم کہتے تھے کہ اس رات کوئی عظیم آدمی کی پیدائش ہوئی اور عظیم آدمی کی وفات ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کا ٹوٹنا کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے تسبیح پڑھتے ہیں پھر اہل آسمان والے تسبیح پڑھتے ہیں جو ان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح آسمان دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں جو عرش اٹھانے والوں سے قریب ہوتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ ان کو خبر دی جاتی ہے وہ آسمان والے بعض کو خبر دیتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر آسمان سے دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے وہاں جن آوازوں کو اچک لیتے ہیں وہ اپنے اولیاء کی طرف ڈال دیتے ہیں اور پھانک دیتے ہیں جو وہ لے کر آتے ہیں وہ حق ہوتا ہے لیکن جھوٹ بولتے ہیں جو اس پر اپنی طرف سے اضافہ کر لیتے ہیں‘ شک کو خوشخبری ہے۔

عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← الزهري أراه ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 2609

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2610

2610 - حدثنا ابن نمير حدثنا عبد السلام بن حرب حدثنا يزيد الدالاني عن قتادة عن أبي العالية Y عن ابن عباس قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم نام حتى غط - أو نفخ - فقلت : يارسول الله إنك قد نمت قال : إن الوضوء لا يجب إلا على من نام مضطجعا فإنه إذا نام مضطجعا استرخت مفاصله K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے دیکھا آپ محو آرام تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خراٹے لیے یا سانس لیتے تھے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سوئے نہیں تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو فرض نہیں ہوتا مگر اس پر جوسوئے چت لیٹ کر ۔ جب چت لیٹ کر سوئے اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں (اس وقت وضو واجب ہو جاتا ہے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← يَزِيدَ الدَّالاَنِيِّ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Hadith 2610

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2611

2611 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا يحيى بن العلاء عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة قال : الحمد لله الذي حسن خلقي وخلقي وزان مني ما شان من غيري . وإذا اكتحل جعل في كل عين اثنين وواحدا بينهما وكان إذا لبس نعليه بدأ باليمين وإذا خلع خلع اليسرى وكان إذا دخل المسجد أدخل رجله اليمنى وكان يحب التيمن في كل شيء أخذا وعطاء K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شیشہ دیکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے کہ تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری سیرت وصورت کو خوبصورت بنایا۔ جب سرمہ لگاتے تھے ہر آنکھ میں دو سلائیاں ڈالتے تھے اور ایک آدھی آدھی کر کے۔ جب جوتا پہنتے تھے تو دائیں جانب سے ابتداء کرتے ، جب اتارتے تو بائیں جانب سے اتارتے ، جب مسجد میں داخل ہوتے، تو دائیں پاؤں پہلے داخل کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کو پسند کرتے تھے ہر شئی لینے و دینے میں۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نظر في المرآة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← يحيى بن العلاء ← عمرو بن حصين

Hadith 2611

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2612

2612 - حدثنا عمرو بن حصين حدثنا يحيى بن العلاء حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي صالح Y عن ابن عباس قال يوم الأحد يوم غرس وبناء ويوم الاثنين يوم السفر ويوم الثلاثاء يوم الدم ويوم الأربعاء يوم أخذ ولاعطاء فيه ويوم الخميس يوم دخول على السلطان ويوم الجمعة يوم تزويج وباءة K إسناد تالف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اتوار کے دن اگنے اور بنانے کے لیے ہے، پیر کا دن سفر کے لیے ہے، منگل کا دن خوف کا دن ہے، بدھ کا دن لینے کا دن ہے، اس میں دینے کا نہیں ، جمعرات کا دن بادشاہ کے پاس آنے کا ہے، جمعہ کا دن شادی اور جماع کا دن ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن العلاء ← عمرو بن حصين

Hadith 2612

chevron_left Previous
1…16171819
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter