Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2583

2583 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا سفيان عن الأعمش عن يحيى بن فلان عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : مرض أبو طالب فجاء النبي صلى الله عليه و سلم يعوده وعند رأسه مقعد رجل فقام أبو جهل فجلس فيه فشكوه إلى أبي طالب وقالوا : يقع في آلهتنا فقال : يا ابن أخي ما تريد إلى هذا ؟ قال : أي عم إنما أريدهم على كلمة تدين [ لهم ] بها العرب وتؤدي إليهم بها العجم الجزية ) قال : وما هي ؟ قال : لا إله إلا الله فقال : { أجعل الآلهة إلها واحدا إن هذا لشيء عجاب } [ ص : 5 ]

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طالب بیمار ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ۔ ان کے سر کی جانب ایک آ دمی بیٹھا ہوا تھا۔ ابو جہل کھڑا ہوا آپ اس جگہ پر بیٹھ گئے ۔مشرکین مکہ نے کہا: حضرت ابو طالب نے شکایت کی‘ کہنے لگے یہ ہمارے خداؤں کی مذمت کرتا ہے۔حضرت ابو طالب نے کہا: اے بھتیجے ! تیرا اس کے ساتھ کیا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اے چچا! میں چاہتا ہوں ایسے کلمہ کی طرف بلوانے کے لیے جس کی وجہ سے سارے عرب والے ان کی اطاعت کریں اور عجمی ان کو جزیہ دیں ۔حضرت ابو طالب نے کہا: وہ کیا کلمہ ہے: آپ نے فرمایا: لا الہ الا اللہ! یہ آیت پڑھی: ’’اجعل الآلهة الىٰ آخرہ‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يحيى بن فلان ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2583

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2584

2584 - حدثنا زهير حدثنا وهب بن جرير حدثنا أبي قال : سمعت يعلى بن حكيم يحدث عن عكرمة Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج في مرضه الذي مات فيه عاصبا رأسه بخرقة فجلس على المنبر فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : إنه ليس من أحد أمن علي بنفسه وماله من ابن أبي قحافة ولوكنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر ولكن خلة الإسلام أفضل سدوا كل خوخة في المسجد غير خوخة أبي بكر K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس مرضی میں نکلے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر انور کو پٹی باندھے ہوئے تھے۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ کی حمد اور ثناء بیان کی ۔ پھر فرمایا لوگو! تم میں سے کوئی بھی اپنی جان و مال کے لحاظ سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا نہیں‘ سوائے ابو بکر بن ابی قحافہ کے اگر میں کسی کو اپنا خلیل بنانا تو ضرور ابو بکر کوخلیل بنانا لیکن اسلام کی دوستی افضل ہے۔مسجد کی ہر کھڑکی کو بند کر دو سوائے ابو بکر سے گھر کی کھڑکی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2584

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2585

2585 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا أبوعوانة عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سئل عن علم فكتمه جاء يوم القيامة ملجما بلجام من نار ومن قال في القرآن بغير ما يعلم جاء يوم القيامة ملجما بلجام من نار K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس سے علم کے متعلق پوچھا گیا اس نے چھپایا تو قیامت کے دن اس کو لایا جائے گا اس کے منہ میں آگ کی لگام ہو گی ۔ جس نے قرآن کا مفہوم بغیر علم کے بیان کیا قیامت کے دن اس کو بھی لایا جائے جہنم کی آگ کی لگام دے کر ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اَبُوعَوَانَۃَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2585

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2586

2586 - حدثنا زهير حدثنا هاشم حدثنا عمران بن زيد التغلبي حدثني الحجاج بن تميم عن ميمون بن مهران Y عن عبد الله بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يكون في آخر الزمان قوم ينبزون الرافضة : يرفضون الإسلام ويلفظونه فاقتلوهم فإنهم مشركون K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایک قوم ہو گی رافضہ کریں گے‘ اسلام کو چھوڑ دیں گے ان کو قتل کرو پس بے شک وہ مشرک ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ، ← هَاشِمٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2586

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2587

2587 - حدثنا زهير حدثنا وهب بن جرير حدثنا أبي قال : سمعت يونس بن يزيد الأيلي يحدث عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله Y عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الصحابة أربعة وخير السرايا أربع مئة وخير الجيوش أربعة آلاف ولن يغلب اثنا عشر ألفا من قلة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ساتھی چار ہیں ، بہترین سرایا وہ ہے جس میں چار سو لوگ ہیں اور بہترین لشکر وہ جو چار ہزار مشتمل ہو‘ بارہ ہزار قلت کی بناء پر مغلوب نہیں ہو سکتے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2587

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2588

2588 - حدثنا زهير حدثنا زكريا بن عدي حدثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم عن عكرمة . Y عن ابن عباس قال : خرج رجل من خيبر فاتبعه رجلان وآخر يتلوهما فيقول : ارجعا ارجعا حتى ردهما ثم لحق الأول فقال : إن هذان شيطانان و إني لم أزل بهما حتى رددتهما فإذا أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأقرئه السلام وأخبره أنا هاهنا في جمع صدقاتنا ولو كانت تصلح لبعثنا بها إليه قال : فلما قدم الرجل المدينة أخبر النبي صلى الله عليه و سلم فعند ذ لك نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن الخلوة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی خیبر سے نکلا اس کے پیچھے دو آدمی نکلے اور دوسرا ان کو کہہ رہا تھا‘ واپس چلا جا! واپس چلا جا! یہاں تک کہ دونوں نے واپس کر دیا، پھر پہلا اس سے ملا تو اس نے کہا: یہ دونوں شیطان ہیں‘ میں ان دونوں کو مسلسل کہتا رہا یہاں تک کہ میں نے دونوں کو واپس کر دیا جب تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو میرا سلام کہنا اور آپ کو بتانا کہ یہاں ہم نے صدقہ کا مال جمع کیا ہے‘ اگر آپ پسند کرتے ہیں تو ہم اس کو آپ کی طرف بھیج دیتے ہیں‘ جب وہ آدمی مدینہ منورہ آیا تو اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا‘ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوت سے منع کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2588

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2589

2589 - حدثنا هشام بن الحارث حدثنا عبيد الله بن عمرو Y بإسناده نحوه

حضرت عبیداللہ بن عمرو اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

عبيد الله بن عمرو بإسناده نحوه ← هشام بن الحارث

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2589

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2590

2590 - حدثنا زهير حدثنا ربعي بن إبراهيم حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق حدثنا زيد بن أسلم عن ابن وعلة Y عن ابن عباس أن رجلا خرج والخمر حلال فأهدى لرسول الله صلى الله عليه و سلم راوية خمر فأقبل بها يقاد بها على بعير حتى وجد رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا فقال : ما هذا معك ؟ قال : راوية من خمر أهديتها لك قال : هل علمت أن الله حرمها ؟ [ قال : لا ] قال : فإن الله قد حرمها قال : فالتفت الرجل إلى قائد البعير فكلمه بشيء فيما بينه وبينه فقال : ماذا قلت له ؟ قال : أمرته ببيعها قال : إن الذي حرم شربها حرم بيعها قال فأمر بعزلاء المزادة ففتحت فجرت في التراب فنظرت إليها في البطحاء ما فيها شيء K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی شراب لے کر نکلا‘ اس وقت شراب حلال تھی‘ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شراب ہدیہ دینے کے لیے اونٹ پر سوار ہوا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھے ہوئے پایا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے پاس کیا ہے؟ اس نے کہا۔ شراب کا مٹکا جو آپ کو ہدیہ دینے کے لیے آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کو معلوم نہیں کہ بے شک اللہ نے شراب حرام قرار دی ہے؟ اس نے عرض کی نہیں! آپ نے فرمایا: بے شک اللہ نے شراب حرام کر دی ہے ۔ وہ آدم اپنے اونٹ کو پکڑنے والے کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کوئی بات کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے عرض کی، میں نے اسے فروخت کرنے کا حکم دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو فروخت کرنے اور پینے کو حرام کر دیا گیا ہے ۔ اس نے وہ مٹکا کھولا اور اسے مٹی پر بہا دیا، میں نے بطحاء کی طرف دیکھا تو اس میں کوئی شی نہیں تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابن وعله ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2590

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2591

2591 - حدثنا زهير حدثنا عبيد الله بن موسى أخبرنا سفيان عن ابن أبي نجيح عن أبيه Y عن ابن عباس قال : ما قاتل رسول الله صلى الله عليه و سلم قوما قط حتى يدعوهم K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم سے جہاد نہیں کرتے تھے کبھی بھی یہاں تک کہ پہلے اس کو اسلام کی دعوت ضرور دیتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2591

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2592

2592 - حدثنا زهير حدثنا إبراهيم أبو إسحاق حدثني الفضل بن موسى عن عبد الله بن سعيد بن أبي هند حدثني ثور عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يلتفت في صلاته يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں دائیں و بائیں جانب التفات فرماتے تھے لیکن گردن کو نہیں پھیرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← إِبْرَاهِيمَ أَبُو إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2592

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2593

2593 - حدثنا زهير حدثنا أبو مصعب حدثنا الأوزاعي عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله Y عن ابن عباس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بشاة ميتة قد ألقاها أهلها فقال : والذي نفسي بيده للدنيا أهون على الله من هذه على أهلها

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے اس کے مالک نے اس کو باہر پھینک دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! دنیا اللہ کے ہاں اس سے زیادہ حقیر ہے جتنی یہ اپنے مالک کے ہاں حقیر ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو مُصْعَبٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2593

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2594

2594 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا همام بن يحيى حدثنا عطاء Y عن ابن عباس قال : د خل رسول الله صلى الله عليه و سلم الكعبة وفيها ست سواري فقام عند كل سارية ولم يصل K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ شریف کے اندر داخل ہوئے‘ اس وقت کعبہ شریف چھ ستونوں پر تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرستون کے پاس کھڑے ہوئے (لیکن ) نماز نہیں پڑھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2594

chevron_left Previous
1…16171819
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter