Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2571

2571 - حدثنا زهير حدثنا جرير بن عبد الحميد عن فطر عن شرحبيل بن سعد Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يكون له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبتاه أو صحبهما إلا أدخلتاه الجنة K إسناده ليس بذاك

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جس کی دو بیٹیاں ہوں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے جب تک اس کے پاس ہوں تو اللہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شرحبيل بن سعد ← فِطْرٍ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2571

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2572

2572 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا داود عن إبراهيم الصائغ عن عطاء Y عن ابن عباس قال : صلى نبي الله صلى الله عليه و سلم الفطر بالناس ركعتين بغير أذان وخطب بعد الصلاة ثم أخذ بيد بلا ل ثم انطلق إلى النساء فخطبهن ثم أمر بلالا بعد ما قفا من عندهن أن يأتيهن فيأمرهن فيتصدقن K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو دو رکعتیں عید الفطر کی نماز پڑھائی بغیر اذان اور اقامت کے اور نماز کے بعد خطبہ دیا‘ پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر عورتوں کی طرف آئے اور ان کو خطبہ دیا پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا ان کے پاس آنے کے بعد کہ ان کے پاس جانے کا ان کو حکم دینا کہ وہ صدقہ دیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← دَاوُدُ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2572

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2573

2573 - حدثنا زهير حدثنا حجاج بن محمد عن ابن جريج قال : سمعت عطاء يقول Y سمعت ابن عباس يقول : سمعت نبي الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو أن لابن آدم ملئ واد مالا لأحب أن يكون إليه مثله ولا يملأ نفس ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب قال ابن عباس : فلا أدري أمن القرآن هو أم لا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے لیے ایک وادی مال کی ہو تو وہ پسند کرے گا اس کے لیے اس کی مثل ایک اور ہو‘ ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا‘ صرف مٹی ہی بھرے گی‘ اللہ توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : یہ بات قرآن سے ہے؟ یانہیں ۔

لَوْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2573

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2574

2574 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن أبي الطفيل Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبيت ثلاثا ومشوا أربعا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا جو ان سے انہوں نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں اپنی حالت پر چلے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2574

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2575

2575 - حدثنا زهير حدثنا وكيع بن الجراح حثنا صالح بن رستم عن ابن أبي مليكة Y عن ابن عباس قال : أقيمت الصلاة ولم أصل الركعتين فرآني وأنا أصليهما فمر بي وقال : أتريد أن تصلي الصبح أربعا ؟ فقيل لابن عباس : النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی میں نے دو رکعتیں ادانہیں کی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں ان دونوں کو پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو چاہتا ہے کہ صبح کی چار رکعت پڑھے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔

أتريد ← أُصَلِّيهِمَا فَمَرَّ بِي ← أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← وكيع بن الجراح حثنا صالح بن رستم ← زُهَيْرٍ

Hadith 2575

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2576

2576 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا شريك عن حسين بن عبد الله عن عكرمة Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى في كساء يتقي بفضوله حرالأرض وبردها K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی‘ اضافی چادر کو زمین پر بچھا دیا‘ زمین کی گرمی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← شَرِيکٍ ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2576

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2577

2577 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق عن عوف الأعرابي عن سعيد بن أبي الحسن قال Y كنت عند ابن عباس إذ أتاه رجل فقال إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صور صورة فإن الله يعذبه يوم القيامة حتى ينفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبدا قال : فربا لها الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه فقال ابن عباس : ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر وكل شيء ليس فيه روح K إسناده صحيح

حضرت سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا۔ اچانک ایک آدمی آیا‘ اس نے عرض کی: میں انسان ہوں‘ میرا پیشہ ہاتھ کا ہے، میں تصاویر بناتا ہوں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تصویر بناتا ہے بے شک اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن عذاب دے گا کہ اس میں روح پھونک وہ اس میں ہمیشہ روح نہیں پھونک سکے گا۔ وہ آدمی یہ سن کر سخت پریشان ہوا اس کا رنگ پیلا ہو گیا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! اگر تو انکار کرتا ہے تو درخت کی تصویر بنا لیا کر اور ہر اس شی کی جس میں روح نہ ہو۔

كنت عند ابن عباس إذ أتاه رجل ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Hadith 2577

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2578

2578 - حدثنا زهير حدثنا إسحاق بن يوسف عن سفيان عن المغيرة بن النعمان عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فوعظهم فقال : يا أيها الناس إنكم محشورون إلى الله حفاة عراة غرلا ثم قرأ : { كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين } [ الأنبياء : 104 ] قال : وأوتى برجال فيؤخذ بهم ذات الشمال فأقول كما قال العبد الصالح : { وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد * إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم } [ المائدة : 117 118 ] قال : فيقال لي : إنهم لن يزالوا مرتدين على أعقابهم مذ فارقتهم قال : وأول من يكسى إبراهيم عليه السلام K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سارے کے سارے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اکٹھے ہو جاؤ گے، ننگے بدن ، ننگے پاؤں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : ” جس طرح کہ ہم نے پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ‘ ہم دوبارہ لوٹا دیں گے‘ ہمارا وعدہ ہے بے شک ہم کرنے والا ہیں‘‘ ( الانبیاء:۱۰۴) کچھ مردوں کو لایا جائے گا، ان کو بائیں جانب سے پکڑا ہو گا ، میں ایسے ہی کہوں گا جس طرح کہ عبد صالح نے کہا تھا: ؟؟ میں ان پر گواہ رہا، جب تک ان میں رہا، جب میں وصال کروں گا تو ان پر نگہبان تھا تو ہرشئی پر گواہ ہے اگر تو ان کو عذاب دے پس بے شک تیرے بندے ہیں اگر تو ان کو معاف کر دے تو غالب حکمت والا ہے‘‘ ۔(المائدہ: ۱۱۷) مجھے کہا جائے گا. جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں‘ مسلسل مرتد ہوتے رہے ہیں‘ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کوقیص پہنائی جائے گی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2578

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2579

2579 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن نمير عن الحجاج عن حسين بن عبد الله عن عكرمة Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم رخص في الثوب المصبوغ ما لم يكن نفض أو ردع للمحرم K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخصت دی رنگے ہوئے کپڑے کی محرم کے لیے جب تک جلدی کرنے والا اور رنگ دار نہ ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2579

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2580

2580 - حدثنا زهير حدثنا هشام بن عبد الملك حدثنا أبوعوانة عن سماك عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال نبي الله صلى الله عليه و سلم لماعز : أحقا ما بلغني عنك ؟ قال : وما بلغك عني ؟ قال : بلغني أنك وقعت على جارية بني فلان قال : نعم قال : فشهد أربع شهادات فأمر به فرجم K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز سے کہا: یہ حق بات ہے جو مجھے آپ کے حوالہ سے پہنچی ہے؟ حضرت ماعز نے عرض کی: میرے حوالہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا خبر پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے بنی فلان کی لونڈی کے ساتھ جماع کیا ہے؟ حضرت ماعز نے عرض کی: جی ہاں! اس پر چار مرتبہ گواہی لی گئی۔ آپ سی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو رجم کیا گیا ۔

فشهد أربع شهادات فأمر به فرجم إسناده حسن ← نَعَمْ ← بلغني أنك وقعت على جارية بني فلان ← وما بلغك عني ← نبي الله صلى الله عليه و سلم لماعز أحقا ما بلغني عنك ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكٍ، ← اَبُوعَوَانَۃَ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2580

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2581

2581 - حدثنا زهير حدثنا هشام بن عبد الملك حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يتكلم بكلام بين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما )

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ آپ سے بڑی صاف گفتگو کرنے لگا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں‘ بعض اشعار حکمت بھرے ہوتے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2581

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2582

2582 - حدثنا زهير حدثنا هشام حدثنا أبوعوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا طيرة ولا عدوى ولا هامة ولا صفر فقال له رجل : يا رسول الله إنا نأخذ الشاة الجرباء فنطرحها في الغنم فتجربه قال : فمن أعدى الأول ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدوی‘ طیرہ‘ ھامہ‘ صفر کوئی شی نہیں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک آدمی نے عرض کی : ہماری ایک بکری کو خارش ہو جاتی ہے وہ دوسری بکریوں کو بھی خارش کر دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی کو کس نے لگائی ہے۔

لا طيرة ولا عدوى ولا هامة ولا صفر فقال له رجل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اَبُوعَوَانَۃَ ← هِشَامٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2582

chevron_left Previous
1…1516171819
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter