Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2547

2547 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا إسرائيل عن أبي يحيى عن مجاهد Y عن ابن عباس قال : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فخذ رجل خارجة فقال : غط فخذ ك فإن فخذ الرجل عورته K إسناده لين

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کی ران بر ہنہ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران کو ڈھانپ ، بے شک آدمی کی ران اس کی شرم گاہ میں شامل ہے۔

رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فخذ رجل خارجة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2547

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2548

2548 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا شعبة عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن صهيب البصري Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي فجاءت جاريتان من قريش فأخذتا بركبتيه أظنه قال : ففرع - أو ففرق - بينهما وصلى وجئت أنا وغلام من بني هاشم على حمار فمررنا بين يديه ثم دخلنا في الصلاة فلم ينصرف K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کی دو بچیاں آئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور پیچھے ہٹا دیا اور نماز پڑھی ۔ میں اور بنی ہاشم میں سے ایک لڑکا آیا‘ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرے، ہم دونوں نماز میں داخل ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( ہم ) کو پیچھے نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← صهيب البصري ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2548

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2549

2549 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن أبي أويس قال : حدثني إبراهيم بن إسماعيل عن داود بن الحصين عن عكرمة Y عن ابن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا بعث جيوشه قال : اخرجوا باسم الله فقاتلوا في سبيل الله من كفر بالله لا تغدروا ولا تمثلوا ولا تغلوا ولا تقتلوا الولدان ولا أصحاب الصوامع K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی لشکر کو بھیجتے تھے تو اس کو کہتے تھے کہ اللہ کا نام لے کر نکلو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جواللہ کا انکار کرتا ہو، اس سے دھوکہ نہ کرو ، مثلہ نہ کرنا ، خیانت نہ کرنا ، بچوں کو نہ مارنا ، نہ گرجے والوں کو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا بعث جيوشه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← إبراهيم بن إسماعيل ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2549

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2550

2550 - حدثنا زهير حدثنا يزيد أخبرنا محمد بن إسحاق عن أبي جعفر و الزهري عن يزيد بن هرمز قال Y كتب نجدة الحروري إلى ابن عباس يسأله عن سهم ذي القربى لمن هو ؟ وعن قتل الولدان ويذكر في كتابه أن العالم صاحب موسى قد قتل الغلام وعن النساء : هل كن يحضرن الحرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ قال يزيد فأنا كتبت لابن عباس كتابه . فكتب إليه : كتبت تسألني عن سهم ذي القربى لمن هو ؟ هو لنا أهل البيت وقد كان عمر بن الخطاب دعانا إلى أن ينكح منه أيمنا ويخدم منه عائلنا ويقضي منه عن غارمنا فأبينا إلا أن يسلمه إلينا وأبى ذلك فتركناه . وكتبت تسألني عن قتل الولدان وتذكر أن العالم صاحب موسى قتل الغلام ولو كنت تعلم من الولدان ما يعلم ذلك العالم قتلت ولكنك لا تعلم فاجتنبهم فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن قتلهم . وكتبت تسألني عن النساء : هل كن يحضرن الحرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ فقد كن يحضرن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما أن يضرب لهن بسهم فلا قد كان يرضخ لهن K رجاله ثقات فكتب إليه : كتبت تسألني عن سهم ذي القربى لمن هو ؟ هو لنا أهل البيت وقد كان عمر بن الخطاب دعانا إلى أن ينكح منه أيمنا ويخدم منه عائلنا ويقضي منه عن غارمنا فأبينا إلا أن يسلمه إلينا وأبى ذلك فتركناه . وكتبت تسألني عن قتل الولدان وتذكر أن العالم صاحب موسى قتل الغلام ولو كنت تعلم من الولدان ما يعلم ذلك العالم قتلت ولكنك لا تعلم فاجتنبهم فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن قتلهم . وكتبت تسألني عن النساء : هل كن يحضرن الحرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ فقد كن يحضرن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما أن يضرب لهن بسهم فلا قد كان يرضخ لهن K رجاله ثقات

حضرت یزید بن هرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف خط لکھا‘ آپ سے پوچھا: قریبی رشتہ دار کا حصہ کس کے لیے ہے؟ بچوں کے مارنے کے متعلق (اس خط میں یہ ذکر کیا کہ ایک عالم جو موسیٰ علیہ السلام کا ماننے والا تھا‘ اس نے بچہ کو قتل کیا تھا ) اور عورتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی تھیں ، کیا اُن کے لیے حصہ مقرر کیا جاتا تھا؟ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے خط لکھا‘ اس کی طرف لکھا کہ تو نے لکھا کہ قریبی رشتہ داروں کا حصہ کس کے لیے ہے؟ وہ ہم ہی اہل بیت ہیں ۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں بلواتے تھے کہ ہمارے ائمہ کا نکاح کر دیں ۔ ہم نے ان کو سپرد کرنے سے انکار کر دیا‘ یہ بھی انکار کیا‘ ہم نے چھوڑ دیا۔ اس سے لوگ ہماری خدمت کرتے اور ہمارا قرض ادا کرتے تھے۔ تو نے لکھا ہے کہ میں پوچھتا ہوں بچوں کے قتل کے متعلق تم کو یاد ہے کہ وہ عالم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے انہوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ اگر تو بھی جانتے جس طرح اس عالم نے جاننا تھا بچہ کے متعلق تو بھی اس کو قتل کر دے ،لیکن تو نہیں جانتا ۔ تو اس سے بیچ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ تو نے لکھا ہے کہ میں پوچھتا ہوں کہ کیا عورتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی تھیں کیا ان کے حصے ہوتے تھے؟ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں شریک ہوتی تھیں جنگ میں ان کے لیے حصہ ہوتا تھا لیکن معین نہیں ہو تھا۔ محمد فرماتے : مجھے اس نے بتایا جو جھوٹ کے ساتھ نہیں ہے کہ اس نے لکھا تھا غلاموں کے متعلق بھی کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوتے تھے جنگ میں کیا ان کے لیے حصے ہوتے تھے؟ اور یتیم کے متعلق کہ وہ یتیم پن سے کب نکلتا ہے؟ ان کا حق مال فئی سے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف جواب لکھا کہ بے شک غلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے تھے ان کے لیے حصہ ہوتا تھا مالِ غنیمت سے لیکن معین نہیں تھا۔ بہرحال یتیم ، جب یتیم بالغ ہو جائے تو وہ یتیم پن سے نکل جاتا ہے اس کے لیے مال فئی سے حصہ ہوتا ہے۔

فِي كِتَابِهِ: ← قتل الولدان وي ← سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ ← نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← أبي جعفر و الزهري ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ: ← زُهَيْرٍ

Hadith 2550

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2551

2551 - قال محمد Y حدثني بذلك من لا أتهم عن يزيد بن هرمز أنه في كتابه يسأله عن العبيد هل كانوا يحضرون الحرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وهل كان يضرب لهم بسهم ؟ وعن اليتيم متى يخرج من اليتم ويقع حقه في الفيء ؟ فكتب إليه أن العبيد قد كانوا يحضرون الحرب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما أن يضرب لهم بسهم فلا وقد كان يرضخ لهم وأما اليتيم فإذا احتلم خرج من اليتم ووقع حقه في الفيء K إسناده ضعيف

يزيد بن هرمز أنه في كتابه يسأله ← بذلك من لا أتهم ← مُحَمَّدٍ

Hadith 2551

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2552

2552 - حدثنا زهير حدثنا عثمان بن عمر حدثنا يونس عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أجود الناس وأجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل وكان يلقاه كل ليلة في رمضان يدارسه القرآن فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا لقيه جبريل أجود من الريح المرسلة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے رمضان شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور زیادہ ہو جاتی تھی جس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام ملاقات کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن پاک دہراتے تھے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2552

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2553

2553 - حدثنا زهير حدثنا هشام بن القاسم حدثنا ورقاء بن عمر اليشكري قال : سمعت عبيد الله بن أبي يزيد يحدث Y عن ابن عباس قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم الخلاء فوضعت له وضوءا فلما خرج قال : من وضع هذا ؟ قالوا : ابن عباس قال : اللهم فقهه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کےلیے پانی رکھا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے رکھا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ابن عباس نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا دی: اے اللہ ! اس کو فقیہ بنا دے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ الْيَشْكُرِيِّ، ← هشام بن القاسم ← زُهَيْرٍ

Hadith 2553

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2554

2554 - حدثنا زهير حدثنا عثمان بن عمر أخبرنا يونس عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله Y عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسدل شعره وكان المشركون يفرقون رؤوسهم وكان أهل الكتاب يسدلون شعورهم وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم ينزل عليه ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اہل کتاب اپنے بالوں کو چھوڑتے ہیں ، مشرکین بالوں کی تفریق کرتے تھے‘ حضور سے بعض کاموں جس کے متعلق وحی نازل نہ ہوتی تھی اہل کتاب کی موافقت کر تے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2554

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2555

2555 - حدثنا زهير حدثنا شبابة بن سوار حدثنا يونس عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر بثلاث : ب { سبح اسم ربك الأعلى } [ الأعلى : 1 ] و { قل : يا أيها الكافرون } [ الكافرون : 1 ] و { قل : هو الله أحد } [ الإخلاص : 1 ] K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے‘ پہلی میں’’فسبح اسم ربك الاعلیٰ ‘‘ دوسری میں ’’قل يا ايها الكفرون‘‘ تیسری میں’’قل هو الله احد ‘‘ پڑھتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسَ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2555

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2556

2556 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا ليث عن قيس بن الحجاج عن حنش الصنعاني Y عن عبد الله بن عباس أنه حدث أنه ركب خلف النبي صلى الله عليه و سلم يوما فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا غلام إني معلمك كلمات : احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده تجاهك و إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله واعلم أن الأمة لو اجتمعوا على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك ولو اجتمعوا على أن يضروك لم يضروك إلا بشيء كتبه الله عليك رفعت الأ قلام وجفت الصحف K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سواری میں پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بیٹے! میں تم کو چند کلمات سکھاتا ہوں تم اللہ کے احکامات کی حفاظت کرو، اللہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ کے احکامات کی حفاظت کر تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے، جب تو مانگے تو اللہ سے مانگا کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ سے مدد طلب کر ۔ جان لے! اگر لوگ تجھے کسی چیز کا نفع دینا چاہیں تو تجھے کسی شئی کا نفع نہیں دے سکتے مگر اس شئی کا جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھا ہے اور اگر سارے لوگ جمع ہو جائیں تجھ کو نقصان دینے کے لیے تو تجھے نقصان نہیں دے سکتے مگر اتنا جتنا اللہ نے تیرے لیے لکھا ہے‘ قلموں کو اٹھا لیا گیا ہے اور رجسٹر خشک ہو گئے ہیں ۔

حنش الصنعاني ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← لَيْثٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2556

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2557

2557 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن ثور بن زيد عن عكرمة Y عن ابن عباس أنه قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فبايعه في المسجد ثم انصرف فقام ففشج فبال فهم الناس به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تقطعوا على الرجل بوله ثم دعا به فقال : ألست بمسلم ؟ قال : بلى قال : فما حملك على أن بلت في المسجد ؟ فقال : والذي بعثك بالحق ما ظننت إلا أنه صعيد من الصعدات فبلت فيه فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بذنوب من ماء فصب على بوله K إسناده جيد

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسجد میں بیعت کی پھر چلا گیا اور اس کے بعد وہ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور پیشاب کیا ، صحابہ کرام نے اس کو ڈرایا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو پیشاب کرتے ہوئے نہ روکا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوا کر فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ اس نے عرض کی : کیوں نہیں ۔فرمایا: تو تجھے کس چیز نے ابھارا ہے کہ مسجد میں پیشاب کرے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی ٹیلا ہے ٹیلوں میں سے، میں نے اس میں پیشاب کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا پانی کے ڈول لانے کا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 2557

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2558

2558 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني محمد بن مسلم الزهري عن طاووس اليماني قال Y قلت لعبد الله بن عباس : زعموا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اغتسلوا يوم الجمعة واغسلوا رؤوسكم إلا أن يكون جنبا ومسوا من الطيب . فقال ابن عباس : أما الطيب فلا أدري وأما الغسل فنعم K إسناده صحيح

حضرت طاؤس یمانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : تم خیال کر تے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر کو دھوؤ ، مگر یہ کہ جنبی ہو اور خوشبو لگاؤ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بہرحال خوشبو میں نہیں جانتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو بہرحال غسل کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ۔

قلت لعبد الله بن عباس زعموا ← طَاوُوسٍ الْيَمَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 2558

chevron_left Previous
1…131415…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter