Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2499

2499 - حدثنا أبو بكر حدثنا يحيى بن يعلى قال : حدثني أبي حدثنا غيلان عن عثمان أبي اليقظان عن جعفر بن إياس عن مجاهد Y عن ابن عباس قال : لما نزلت هذه الآ ية : { الذين يكنزون الذهب والفضة } [ التوبة : 34 ] قال : كبر ذ لك على المسلمين فقالوا : ما يستطيع أحد منا [ أن يترك ] لولده مالا يبقى بعده فقال [ عمر ] : أنا أفرج عنكم فانطلقوا وانطلق عمر و اتبعه ثوبان فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله إنه قد كبرعلى أصحابك هذه الآية فقال النبي صلى الله عليه و سلم : [ إن الله ] لم يفرض الزكاة إلا [ ليطيب ما ] بقي من أموالكم و إنما فرض المواريث في الأموال لتبقى [ لمن ] بعد كم . قال : فكبر عمر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ألا أخبرك بما يكنز المرء ؟ المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرته و إذا أمرها أطاعته و إذا غاب عنها حفظته K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’وہ لوگ جو سونا اور چاندی کو جمع کرتے ہیں‘‘ (التوبہ:۳۴) مسلمانوں پر بڑا دشوار گزرا۔ عرض کرنے لگے: ہم میں سے کوئی طاقت نہیں رکھتاکہ اپنی اولاد کے لیے اس کے بعد بھی مال باقی رہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے لیے گنجائش نکالنے کی بات کرتا ہوں‘ لوگ بھی چلے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے اور حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے پیچھے چلے اور حضور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی : اے اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بھاری ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ صرف اس مال کو پاک کرنے کے لیے فرض کی گئی ہے جو تمہارے اموال سے باقی بچ گیا ہے‘ مالوں میں حق وراثت مقرر کیا ہے جو اس کے لیے تمہارے بعد بھی باقی رہے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’’اللہ اکبر‘‘ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آدمی کیا جمع کرے؟ فرمایا، نیک عورت جب اس کی طرف دیکھے وہ اُسے خوش کر دے، جب اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی حرمت کی حفاظت کرے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ ← غَيْلَانَ ← أَبِي ← يحيى بن يعلى ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2499

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2500

2500 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير حدثنا محمد بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : طلق ركانة بنت عبد يزيد - أخو بني عبد المطلب في مجلس ثلاثا فحزن عليها حزنا شد يدا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : كم طلقتها يا ركانة ؟ فقال : ثلاثا في مجلس واحد : فقال : فإنها واحدة K رجاله ثقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید‘ بنی عبدالمطلب کے ایک فرد نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں‘ یہ دے کر سخت پریشان ہوئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے رکا نہ ! تم نے کتنی طلاقیں دی ہیں؟ عرض کی: تین ایک ہی مجلس میں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2500

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2501

2501 - حدثنا مسروق بن المرزبان حدثنا ابن أبي زائدة قال : حدثني داود بن أبي هند عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : قالت قريش ليهود : أعطونا [ شيئا ] نسأل عنه هذا الرجل فقالت : سلوه عن الروح فسألوه ونزلت : { و يسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا } [ الإ سراء : 85 ] قالوا : لم نؤت نحن من العلم إلا قليلا وقد أوتينا التوراة ومن يؤت التوراة فقد أوتي خيرا كثيرا ؟ ! فنزلت { قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي } [ الكهف : 109 ] الآ ية K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا: ہمیں کوئی شی دو جو ہم اس آدمی سے پوچھتے ہیں۔ یہود نے کہا: اس سے روح کے متعلق پوچھو! انہوں نے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں‘ آپ فرمائیں روح میرے رب کا حکم ہے‘ تمہیں اس کا علم تھوڑا دیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہی تھوڑ اعلم دیا گیا ہے‘ حالانکہ ہمیں تورات عطا کی گئی ہے اور جس کو تورات عطا کی گئی‘ اسے خیر کثیر عطا کی گئی‘ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:’’قل لو كان الیٰ آخرہ‘‘۔

الروح فسألوه ونزلت ← سَلُوہُ ← قريش ليهود أعطونا نسأل عنه هذا الرجل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2501

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2502

2502 - حدثنا مسروق بن المرزبان الكوفي حدثنا ابن أبي زائدة قال : حدثني أبي عن ابن إسحاق عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : كانت الشياطين لهم مقاعد يستمعون فيها الوحي فإذا سمعوا الكلمة زادوا فيها تسعا فأما الكلمة فتكون حقا وأما ما زادوا فيكون باطلا فلما بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم منعوا مقاعدهم فشكوا ذلك إلى ابليس ولم تكن النجوم يرمى بها من قبل ذلك فقال : إن هذا لأمر قد حدث في الأرض فاضربوا في الأرض فانطلقوا فوجدوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بين جبلي نخلة يصلي فأتوه فأخبروا فقال : هذا الحدث الذي حدث في الأرض K رجاله ثقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شیاطین ان کے لیے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ اس میں بیٹھ کر وحی سنتے ہیں جب کوئی کلمہ سنتے اس میں نو حصے اضافہ کر لیتے تھے۔ جو ان کا اضافی کلام ہوتا تھا وہ باطل ہوتا تھا جو اللہ کی طرف سے کلام ہوتا تھا وہ حق ہوتا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان کو بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے ابلیس کے پاس جا کر شکایت کی ۔ اس سے پہلے ستارے ان کو نہیں مارے جاتے تھے۔ اس نے کہا: بے شک میر زمین میں کوئی نیا واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے ہوا ہے ان کو زمین میں پھرو، وہ چلے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ایک باغ میں دو پہاڑوں کے درمیان پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس انہوں نے ابلیس کو خبر دی کہ یہ وہ نیا کام ہے جو زمین میں ہوا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مسروق بن المرزبان الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2502

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2503

2503 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن عطاء Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أكل أحدكم فلا يمسح يده يلعقها أو يلعقها K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھوں کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ ان کو چاٹ لے یا کسی کو چاٹنے دے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2503

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2504

2504 - حدثنا هناد بن السري حدثنا يونس بن بكير قال : حدثني مطر بن ميمون المحاربي قال : حدثني عكرمة Y عن ابن عباس قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من أصحابه إلى رجل من اليهود فأمره بقتله فقال : يا رسول الله إني لا أستطيع ذلك إلا أن تأذن لي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحرب خدعة فاصنع ما تريد K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کو یہود کی طرف بھیجا‘ آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ہوں مگر آپ مجھے اجازت دیں ( کچھ کرنے کی ) ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے‘ تو جو چاہے کر۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← مَطَرِ بْنِ مَيْمُونَ الْمُحَارِبِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2504

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2505

2505 - حدثنا إسماعيل بن موسى حدثنا حسين بن عيسى عن معمر عن الزهري عن أبي حازم Y عن ابن عباس قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحديبية إذ قال : الله أكبر الله أكبر قد جاء نصر الله والفتح وجاء أهل اليمين قيل : يا رسول الله وما أهل اليمين ؟ قال : قوم رقيقة قلوبهم لينة طباعهم الأيمان يمان والفقه يمان والحكمة يمانية K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا۔ فرمایا: بے شک اللہ کی مدد اور فتح آگئی ، یمن والا آ گیا ، عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اہل یمن کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی قوم ہے جن کے دل نرم ہیں ان کی طبیعت نرم ہے، ایمان یمن کا ہے ،فقہ یمن کا ہے‘ حکمت یمن کی ہے۔

بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحديبية إذ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← حُسَيْنُ بْنُ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2505

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2506

2506 - حدثنا أبو سعيد الأشج حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن أبي حازم عن أبي هريرة . و حجاج عن الحكم عن مقسم Y عن ابن عباس قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک صبح یا ایک شام اللہ کی راہ میں دنیا اور جو دنیا کے اندر ہے ان سب سے بہتر ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← أبي هريرة و حجاج ← أَبِي حَازِمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2506

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2507

2507 - حدثنا أبو كريب حدثنا ابن المبارك عن حجاج عن الزهري عن عروة عن عائشة . وعن حجاج عن عكرمة Y عن ابن عباس قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نكاح إلا بولي K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں ہے۔حضرت عروہ کی حدیث میں ہے کہ جس کا ولی کوئی نہیں اس کا ولی بادشاہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عائشة وعن حجاج ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← حجاج، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2507

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2508

2508 - وفي حديث عروة Y والسلطان ولي من لا ولي له K طريق عائشة ضعيفة لضعف حجاج

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع کیا۔

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2508

Daif

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2509

2509 - حدثنا أبو كريب حدثنا يحيى بن آدم عن قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن أبي يحيى القتات عن مجاهد Y عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التحريش بين البهائم K إسناده فيه لين

التحريش بين البهائم إسناده فيه لين ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← الْاَعْمَشِ ← قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2509

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2510

2510 - حدثنا أبو كريب حدثنا يحيى بن آدم عن شريك عن الأعمش عن مجاهد Y عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التحريش بين البهائم K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کولڑانے سے منع کیا ۔

التحريش بين البهائم إسناده ضعيف ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2510

chevron_left Previous
1…91011…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter