Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2364

2364 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : ماتت شاة لسودة بنت زمعة فقالت : يا رسول الله ماتت فلانة - تعني الشاة - قالت : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فهلا أخذتم مسكها ؟ قالت : نأخذ مسك شاة قد ماتت ؟ ! فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : { قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما } [ الأ نعام : 145 ] إلى { أو لحم خنزير } أيكم يطعمه ؟ أي : تدبغونه فتنتفعون به قال : فأرسلت إليها فسلختها فدبغتها واتخذت منه قربة حتى تخرقت عندها K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سودہ بنت زمعہ کی بکری مر گئی ۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلانی بکری مر گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کی کھال اتار لیتے ؟ حضرت سودہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! مردار کی کھال لے لیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کا ارشاد ہے: ) ’’اے حبیب! فرمایئے کہ میں نہیں پاتا اس کتاب میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام ...... یہاں تک .... یا خنزیر کا گوشت‘‘ ( انعام : ۱۴۵) فرمایا: اسے کون کھاتا ہے؟ کوئی حرج نہیں کہ تم اس کو دباغت دو‘ اور اس سے نفع اٹھاؤ ۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس مردار کی طرف کسی کو بھیجا‘ میں نے اس کی کھال اتاری‘ اور میں نے اس کا مشکیزہ بنا لیا۔

مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2364

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2365

2365 - حدثنا يعقوب بن ماهان حدثنا هشيم حدثنا أبو بشر عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله : إذا أخذ ت كريمتي عبدي فصبر واحتسب لم أرض له ثوابا دون الجنة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندہ کی دو محبوب ترین چیزوں کو لے لیتا ہوں وہ اس پر صبر کرے اور ثواب کی نیت کرے ۔ میں اس کے کسی ثواب پر راضی نہیں ہوں گا مگر جنت اس کے لیے ہو گی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2365

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2366

2366 - حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي قال حدثني أبي حدثنا ابن جريج عن عمرو بن د ينار عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : اشتد غضب الله على من قتله نبي الله في سبيل الله واشتد غضب الله على قوم دموا وجه نبي الله صلى الله عليه و سلم K أخرجه البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی اس پر سخت ناراضگی ہو گی جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی راہ میں شہید کیا اور اللہ سے سخت ناراضگی ہو گی‘ اس قوم پر جس نے اللہ کے نبی کے چہرے کو خون آلود کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عمرو بن د ينار ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2366

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2367

2367 - حدثنا سعيد بن يحيى قال : حدثني أبي عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال Y أخبرني ابن عباس أنه دخل قبر النبي صلى الله عليه و سلم علي و الفضل و أسامة . قال : وأخبرني مرحب أنهم أدخلوا عبد الرحمن بن عوف فكأني أنظر إليهم في القبر أربعة قال الشعبي : ومن يلي الرجل إلا أهله ؟ K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے ۔ مجھے مرحب نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بھی داخل ہوئے تھے‘ گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں وہ منظر کہ قبر انور میں چار آدمی داخل ہوئے ہیں ۔ حضرت امام شعبی فرماتے ہیں: آپ کے خاندان کے لوگ ہی تھے؟

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2367

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2368

2368 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا أبو عوانة عن عاصم الأحول و حصين بن عبد الرحمن عن عكرمة Y عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم سافر فأقام تسع عشرة يقصر الصلاة قال : فنحن إذا سافرنا فأقمنا تسعة عشرة قصرنا الصلاة فإذا زدنا على ذلك أتممنا K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انیس دن ٹھہر رہے، نماز میں قصر کرتے رہے۔ پس ہم جب سفر کرتے ہیں ہم انیس دن ٹھہرتے ہیں تو ہم بھی نماز قصر کرتے ہیں جب انیس دن سے زیادہ ٹھرنے کی نیت کر تے ہیں تو ہم مکمل نماز پڑھتے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عاصم الأحول و حصين بن عبد الرحمن ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2368

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2369

2369 - وعن أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : ما قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم على الجن وما رآهم - انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليها الشهب فرجعت الشياطين إلى قومهم فقالوا : ما لكم ؟ قالوا : حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب قال : وما ذاك إلا من شيء حدث فاضربوا مشارق الأرض ومغاربها فمر النفر الذين أخذوا نحو تهامة وهو بنخلة عامدين إلى سوق عكاظ وهو يصلي بأصحابه صلاة الفجر فلما سمعوا القرآن استمعوا له وقالوا : هذا الذي حال بيننا وبين خبر السماء فرجعوا إلى قومهم فقالوا : يا قومنا إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به فأوحى الله إلى نبيه : { قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن } [ الجن : 1 ] K أخرجه مسلم والبخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں پر پڑھا بھی نہیں اور ان کو دیکھا بھی نہیں‘ ہوا ایسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام کا ایک گروہ بھی تھا جو عکاظ بازار جا رہے تھے‘ شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آ گئے‘ انہوں نے کہا: تم کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہو گئے تو ہم پر شہاب بھیجا گیا‘ کوئی نہ کوئی بات ہوئی ہے۔انہوں نے مشرق اور مغرب میں دیکھا ایک گروہ کے پاس سے گزرے جو عکاظ بازار جا رہے تھے اور وہ اپنے صحابہ کو نماز فجر پڑھا رہے تھے‘ جب انہوں نے قرآن سنا تو وہ سننے لگے‘ انہوں نے کہا: یہ ہی ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا تھا‘ وہ اپنی قوم کی طرف واپس آئے‘ انہوں نے کہا: اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے‘ ہم اس پر ایمان لائے ہیں ۔اللہ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کی :”اے حبیب! فرما دیں مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں میں سے ایک گروہ نے قرآن سنا ہے‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2369

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2370

2370 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حيان بن عبيد الله بن حيان أبو زهير العدوي حدثنا أبو مجلز Y عن ابن عباس قال : وحدثنا عبد الله بن بريدة عن أبيه أن راية رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت سوداء ولواؤه أبيض

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا مبارک کالا ہوتا تھا اور اس کی لکیر سفید ہوتی تھی ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مِجْلَزٍ ← حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَيَّانَ أَبُو زُهَيْرٍ الْعَدَوِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2370

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2371

2371 - حدثنا إبراهيم قال : حدثنا وهيب عن عبد الله بن طاووس عن أبيه Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وراثت اصحاب الفرائض کو دے دو‘ جو باقی بچ جائے وہ عصبات کو دے دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُوسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2371

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2372

2372 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا زيد بن الحباب حدثنا محمد بن مسلم عن عمرو بن د ينار Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدين النصيحة قالوا : لمن يا رسول الله ؟ قال : لكتاب الله ولنبيه ولأئمة المسلمين K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین نصیحت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس کے لیے؟ اللہ کی کتاب ، نبی کے لیے اور ائمہ مسلمانوں کے لیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عمرو بن د ينار ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2372

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2373

2373 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبد الرحيم عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : قيل : يا رسول الله - حين فرغ من بدر - عليك بالعير ليس دونها شيء قال : فناداه العباس : لا يصلح قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لم ؟ قال : لأن الله وعد ك إحدى الطائفتين قد أعطاك ما وعدك K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! جس وقت بدر سے فارغ ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اونٹ کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آواز دی: یہ درست نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ عرض کی : اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا‘ دو گردوں میں سے ایک کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیا جو وعدہ فرمایا تھا۔

قِيلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2373

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2374

2374 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن الحسن حدثنا إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير عن عتبة مولى ابن عباس Y عن ابن عباس قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم من الطائف نزل الجعرانة فقسم بها الغنائم ثم اعتمر منها وذلك لليلتين بقيتا من شوال K رجاله رجال الصحيح خلا عتبة مولى ابن عباس

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپس آئے‘ جعرانہ کے مقام پر اترے تو اس مقام پر مال ِغنیمت تقسیم کیا پھر اس جگہ سے عمرہ کیا۔ یہ دورا تیں شوال کی آخری دو راتیں تھیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عتبة مولى ابن عباس ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2374

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2375

2375 - حدثنا أبو بكر حدثنا عبيدة بن حميد عن يزيد بن أبي زياد عن تميم بن سلمة عن مسروق Y عن ابن عباس قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعرس من الليل فرقد فلم يستيقظ إلا بالشمس فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بلالا فأذن ثم صلى ركعتين . قال ابن عباس فما يسرني به الد نيا وما فيها - يعني الرخصة - K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے‘ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ ڈالا‘ پس اس کے بعد سوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے نہیں مگر سورج کی تپش نے اٹھایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا پھر دو رکعت نماز ادا کی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا و مافیہا سے رخصت زیادہ پسند ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَسْرُوقٍ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عبيدة بن حميد ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2375

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter