مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2328
2328 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال Y سمعت ابن عباس يخطب على منبر البصرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه لم يكن نبي إلا وله دعوة يتنجزها في الدنيا وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة وأنا سيد ولد آدم ولا فخر وأول من تنشق عنه الأرض ولا فخر بيدي لواء الحمد و آدم ومن دونه تحت لوائي ولا فخر ويطول يوم القيامة على الناس ويشتد حتى يقول بعضهم لبعض : انطلقوا بنا إلى آدم أبي البشر فيشفع لنا إلى ربكم فيقضي بيننا فينطلقون إلى آدم فيقولون : يا آدم اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول آدم : لست هناك إني أخرجت من الجنة بخطيئتي وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا نوحا فيقولون : يا نوح اشفع لنا إلى ربك فيقضي بيننا فيقول : لست هناكم إني دعوت دعوة أغرقت أهل الأرض وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فيأتون إبراهيم عليه السلام فيقولون : يا إبراهيم اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : لست هناكم إني كذبت في الإسلام ثلاث كذبات : قوله : { إني سقيم } [ الصافات : 89 ] وقوله : { بل فعله كبيرهم هذا } [ الأنبياء : 63 ] وقوله للملك حين مر به - فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله ما أراد بهم إلا عزة لدين الله - فإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا موسى عبدا اصطفاه الله برسالته وكلمه فيأتون موسى فيقولون : يا موسى اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : إني لست هناكم إني قتلت نفسا وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا عيسى روح الله وكلمته فيأتون عيسى فيقولون : يا عيسى اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : لست هناكم إني اتخذت إلها من دون الله وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي أرأيتم لو كان متاع في وعاء مختوم أكان يقدر على ما فيه حتى يفض الخاتم ؟ فيقولون : لا فيقول : فإن محمدا رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم النبيين وقد حضر وقد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فيأتونني فيقولون : يا محمد اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فأقول : أنا لها حتى يأذن الله لمن يشاء ويرضى فإذا أراد الله أن يقضي بين خلقه نادى مناد : أين أحمد وأمته ؟ أين أحمد وأمته ؟ فيجيئون فنحن الأولون والآخرون : آخر من يبعث وأول من يحاسب فتفرج لنا الأمم عن طريقنا فنمضي غرا محجلين من آثار الطهور فتقول الأمم : كادت هذه الأمة أن تكون أنبياء كلها K إسناده ضعيف
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بصرہ کی مسجد میں خطبہ ارشادفرما رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی نہیں مگر اس نے دعا کی ہو اور اس کی دعا دنیا میں قبول نہ ہوئی ہو، میں نے اپنی دعا ، اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ میں اولاد ِآدم کا سردار ہوں‘ اس پر فخر نہیں‘ میری قبر زمین سے سب سے پہلے کھلے گی ۔ اس پر فخر نہیں حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا۔ آدم علیہ السلام اور آپ کے علاوہ سارے میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اس پر فخر نہیں قیامت کا دن لوگوں پر لمبا ہو گا اور سخت ہو گا۔ یہاں تک کہ ان میں بعض بعض سے کہیں گے: آدم علیہ السلام کے پاس چلو! وہ ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں‘ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔ پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چل کر آئیں گے‘ عرض کریں گے اے آدم علیہ السلام اپنے رب کے ہاں ہمارے لیے شفاعت کریں ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے :میں یہاں آپ لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ میں جنت سے اپنی لغزش سے نکالا گیا ہوں کیونکہ آج مجھے اپنے ہی متعلق غم ہے‘ تم نوح کے پاس چلے جاؤ ۔ وہ لوگ عرض کریں گے: اے نوح! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے! حضرت نوح علیہ السلام فرمائیں گے: میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے زمین والوں کے لیے غرق ہونے کی دعا کی تھی اور مجھے غم اپنے ہی متعلق ہے تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ رحمٰن کے دوست ہیں۔ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے: اے ابراہیم ! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کرو! وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے اسلام میں تین باتوں میں توریہ کیا تھا‘ وہ یہ ہیں: (۱) میں بیمار ہوں (۲) بلکہ میں بڑے بت نے کیا ہے (۳) جس وقت بادشاہ کے پاس سے گزرا تھا (اس نے آپ کی بیوی کو پکڑا تھا تو آپ نے فرمایا : یہ میری بہن ہے ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ابراہیم نے یہ توریہ (اصل بات کو چھپا کر دوسری بات کو ظاہر کرنا ) اللہ کے دین کی عزت کے لیے بولے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے :مجھے آج اپنا ہی غم ہے‘ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے ان کو اپنی رسالت اور اپنے ساتھ کلام کے لیے چنا تھا۔ وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے! حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے ایک جان کو قتل کیا تھا اور مجھے اپنی ہی ذات کا غم ہے‘ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ آپ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں ۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، عرض کریں گے: اے عیسٰی! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: میں تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ لوگوں نے مجھے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیا تھا‘ مجھے اپنی ہی ذات کے متعلق غم ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : تم بتاؤ کہ اگر سامان ایسے برتن میں ہو جس پر مہر لگی ہو تو کیا اس کی مہر کھولنے سے پہلے اس پر قدرت رکھے گا ؟ وہ کہیں گے :نہیں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم لنبیین ہیں‘ ان کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ عزوجل نے آپ کی وجہ سے آپ کی امت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کر دیئے ہیں ۔ وہ لوگ آئیں گے اور عرض کریں گے۔ اے محمد! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! میں کہوں گا : میں ہی شفاعت کرنے کے لیے ہوں یہاں تک کہ اللہ اجازت دے گا جس کے لیے چاہے گا اور جس کے لیے راضی ہو گا جب اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا: احمد اور اُن کی امت کہاں ہیں؟ احمد اور ان کی امت کہاں ہیں؟ وہ آئیں گے ہم اوّل اور آ خر بھی ہیں‘ بھیجنے کے لحاظ سے آخر ہیں‘ حساب کے لحاظ سے اوّل ہیں‘ ہمارے لیے امتیں راستہ کھول دیں گی‘ ہم اس حالت میں چلیں گے کہ ہمارے وضو والے اعضاء چمک رہے ہوں گے‘ دوسری اُمتیں کہیں گی: قریب ہے کہ یہ اُمت‘ سارے کے سارے نبیوں کے درجے میں ہوں ۔
ابن عباس يخطب على منبر البصرة ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي
Musnad Abu Yaalaa · The first Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2328
