Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2328

2328 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال Y سمعت ابن عباس يخطب على منبر البصرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه لم يكن نبي إلا وله دعوة يتنجزها في الدنيا وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة وأنا سيد ولد آدم ولا فخر وأول من تنشق عنه الأرض ولا فخر بيدي لواء الحمد و آدم ومن دونه تحت لوائي ولا فخر ويطول يوم القيامة على الناس ويشتد حتى يقول بعضهم لبعض : انطلقوا بنا إلى آدم أبي البشر فيشفع لنا إلى ربكم فيقضي بيننا فينطلقون إلى آدم فيقولون : يا آدم اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول آدم : لست هناك إني أخرجت من الجنة بخطيئتي وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا نوحا فيقولون : يا نوح اشفع لنا إلى ربك فيقضي بيننا فيقول : لست هناكم إني دعوت دعوة أغرقت أهل الأرض وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فيأتون إبراهيم عليه السلام فيقولون : يا إبراهيم اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : لست هناكم إني كذبت في الإسلام ثلاث كذبات : قوله : { إني سقيم } [ الصافات : 89 ] وقوله : { بل فعله كبيرهم هذا } [ الأنبياء : 63 ] وقوله للملك حين مر به - فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله ما أراد بهم إلا عزة لدين الله - فإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا موسى عبدا اصطفاه الله برسالته وكلمه فيأتون موسى فيقولون : يا موسى اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : إني لست هناكم إني قتلت نفسا وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي ولكن ائتوا عيسى روح الله وكلمته فيأتون عيسى فيقولون : يا عيسى اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فيقول : لست هناكم إني اتخذت إلها من دون الله وإنه لا يهمني اليوم إلا نفسي أرأيتم لو كان متاع في وعاء مختوم أكان يقدر على ما فيه حتى يفض الخاتم ؟ فيقولون : لا فيقول : فإن محمدا رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم النبيين وقد حضر وقد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فيأتونني فيقولون : يا محمد اشفع لنا إلى ربك فليقض بيننا فأقول : أنا لها حتى يأذن الله لمن يشاء ويرضى فإذا أراد الله أن يقضي بين خلقه نادى مناد : أين أحمد وأمته ؟ أين أحمد وأمته ؟ فيجيئون فنحن الأولون والآخرون : آخر من يبعث وأول من يحاسب فتفرج لنا الأمم عن طريقنا فنمضي غرا محجلين من آثار الطهور فتقول الأمم : كادت هذه الأمة أن تكون أنبياء كلها K إسناده ضعيف

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بصرہ کی مسجد میں خطبہ ارشادفرما رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی نہیں مگر اس نے دعا کی ہو اور اس کی دعا دنیا میں قبول نہ ہوئی ہو، میں نے اپنی دعا ، اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ میں اولاد ِآدم کا سردار ہوں‘ اس پر فخر نہیں‘ میری قبر زمین سے سب سے پہلے کھلے گی ۔ اس پر فخر نہیں حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا۔ آدم علیہ السلام اور آپ کے علاوہ سارے میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اس پر فخر نہیں قیامت کا دن لوگوں پر لمبا ہو گا اور سخت ہو گا۔ یہاں تک کہ ان میں بعض بعض سے کہیں گے: آدم علیہ السلام کے پاس چلو! وہ ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں‘ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔ پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چل کر آئیں گے‘ عرض کریں گے اے آدم علیہ السلام اپنے رب کے ہاں ہمارے لیے شفاعت کریں ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے :میں یہاں آپ لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں‘ میں جنت سے اپنی لغزش سے نکالا گیا ہوں کیونکہ آج مجھے اپنے ہی متعلق غم ہے‘ تم نوح کے پاس چلے جاؤ ۔ وہ لوگ عرض کریں گے: اے نوح! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے! حضرت نوح علیہ السلام فرمائیں گے: میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے زمین والوں کے لیے غرق ہونے کی دعا کی تھی اور مجھے غم اپنے ہی متعلق ہے تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ رحمٰن کے دوست ہیں۔ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے: اے ابراہیم ! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کرو! وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے اسلام میں تین باتوں میں توریہ کیا تھا‘ وہ یہ ہیں: (۱) میں بیمار ہوں (۲) بلکہ میں بڑے بت نے کیا ہے (۳) جس وقت بادشاہ کے پاس سے گزرا تھا (اس نے آپ کی بیوی کو پکڑا تھا تو آپ نے فرمایا : یہ میری بہن ہے ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ابراہیم نے یہ توریہ (اصل بات کو چھپا کر دوسری بات کو ظاہر کرنا ) اللہ کے دین کی عزت کے لیے بولے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے :مجھے آج اپنا ہی غم ہے‘ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے ان کو اپنی رسالت اور اپنے ساتھ کلام کے لیے چنا تھا۔ وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے! حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے ایک جان کو قتل کیا تھا اور مجھے اپنی ہی ذات کا غم ہے‘ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ آپ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں ۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، عرض کریں گے: اے عیسٰی! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: میں تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ لوگوں نے مجھے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیا تھا‘ مجھے اپنی ہی ذات کے متعلق غم ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : تم بتاؤ کہ اگر سامان ایسے برتن میں ہو جس پر مہر لگی ہو تو کیا اس کی مہر کھولنے سے پہلے اس پر قدرت رکھے گا ؟ وہ کہیں گے :نہیں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم لنبیین ہیں‘ ان کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ عزوجل نے آپ کی وجہ سے آپ کی امت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کر دیئے ہیں ۔ وہ لوگ آئیں گے اور عرض کریں گے۔ اے محمد! ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے! میں کہوں گا : میں ہی شفاعت کرنے کے لیے ہوں یہاں تک کہ اللہ اجازت دے گا جس کے لیے چاہے گا اور جس کے لیے راضی ہو گا جب اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا: احمد اور اُن کی امت کہاں ہیں؟ احمد اور ان کی امت کہاں ہیں؟ وہ آئیں گے ہم اوّل اور آ خر بھی ہیں‘ بھیجنے کے لحاظ سے آخر ہیں‘ حساب کے لحاظ سے اوّل ہیں‘ ہمارے لیے امتیں راستہ کھول دیں گی‘ ہم اس حالت میں چلیں گے کہ ہمارے وضو والے اعضاء چمک رہے ہوں گے‘ دوسری اُمتیں کہیں گی: قریب ہے کہ یہ اُمت‘ سارے کے سارے نبیوں کے درجے میں ہوں ۔

ابن عباس يخطب على منبر البصرة ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Hadith 2328

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2329

2329 - حدثنا أحمد بن جميل المروزي حدثنا عبد الله بن المبارك أخبرنا رباح بن زيد عن عمر بن حبيب عن القاسم بن أبي بزة عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس أنه يحد ث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أول شيء خلقه الله القلم وأمره فكتب كل شيء K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے پہلے جوشی اللہ عزوجل نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے‘ پھر اس کے بعد اس کو حکم دیا (لکھ ) اس نے ہر شی لکھ دی ۔

ابن عباس أنه يحد ث ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ← عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، ← رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أحمد بن جميل المروزي

Hadith 2329

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2330

2330 - حدثنا بشر بن الوليد حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن التميمي Y عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقد أمرت بالسواك حتى ظننت أنه ينزل علي به قرآن أو وحي K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ اس کے متعلق قرآن یا وحی اتر آئے گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← التميمي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Hadith 2330

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2331

2331 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن إدريس الأودي عن محمد بن إسحاق عن إسماعيل بن أمية عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما أصيب إخوانكم بأحد جعل الله أرواحهم في أجواف طير خضر ترد أنهار الجنة وتأكل من ثمارها وتأوي إلى قناديل من ذهب معلقه في ظل العرش فلما وجدوا طيب مأكلهم ومشربهم ومقيلهم قالوا : من يبلغ إخواننا عنا أنا أحياء في الجنة نرزق لأن لا ينكلوا عند الحرب ولا يزهدوا في الجهاد قال : فقال الله : أنا أبلغهم عنكم فأنزل الله تبارك وتعالى : { ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم } [ آل عمران : 169 ] الآية K رجاله ثقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تمہارے بھائی اُحد کے دن شہید ہوئے ہیں‘ اللہ عزوجل نے ان کی ارواح‘ سبر پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیں‘ ان پرندوں نے ان کی ارواح کو جنت کی نہروں میں ڈال دیا‘ وہ اس کا پھل کھاتے ہیں اور جو عرش کے سائے میں قنادیل لٹکے ہوئے ہیں اُس کی پناہ لیتے ہیں‘ جب انہوں نے کھایا اور پیا اور قیلولہ کیا تو انہوں نے کہا: یہ بات ہمارے بھائیوں کو کون پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنگ کے وقت پیچھے نہ ہٹیں اور جہاد سے بے رغبتی نہ کریں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے پہنچاتا ہوں ، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ لوگ گمان نہ کریں کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں‘‘ ( آل عمران :۱۲۹) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Hadith 2331

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2332

2332 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فجعل يتكلم بكلام بين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اس نے بڑی واضح گفتگو کی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک بیان جادو ہوتے ہیں اور بے شک بعض اشعار حکمت خیز ہوتے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Hadith 2332

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2333

2333 - حدثنا محمد بن أبي بكر عن أبو عوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر فقال له رجل : إنا لنأخذ الشاة الجرباء فنطرحها في الغنم فتجرب قال : فمن أعدى الأول ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات‘ فالِ بد‘ مقتول کے سر سے پرندہ نکلنا اور صفر کے مہینہ کی نحوست کوئی شی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک آدمی نے عرض کی ہماری ایک بکری کو خارش ہو جاتی ہے‘ ہم اس کو دوسری بکریوں میں چھوڑتے ہیں تو وہ دوسری بکریوں کو بھی خارش والی کر دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی کو کس نے لگائی ہے؟

فمن أعدى الأول إسناده ضعيف ← لنأخذ الشاة الجرباء فنطرحها في الغنم فتجرب ← لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر فقال له رجل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،

Hadith 2333

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2334

2334 - حدثنا محمد بن أبي بكر حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ماتت شاة لسودة بنت زمعة فقالت : يا رسول الله ماتت فلانة - تعني الشاة - قال : فلولا أخذتم مسكها فقالت نأخذ مسك شاة قد ماتت ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إنما قال : { قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه } الآية [ الأ نعام : 145 ] لا بأس أن تدبغوه تنتفعون به قالت : فأرسلت إليها فسلخت مسكها فاتخذت منه قربة حتى تخرقت K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سودہ بنت زمعہ کی بکری مرگئی۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں کی بکری مرگئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کی کھال اتار لیتے ؟حضرت سودہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مردار کی کھال لے لیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کا ارشاد ہے:) ’’اے حبیب! فرمایئے کہ میں نہیں پاتا اس کتاب میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کھانے والے پر جو کھاتا ہے اسے‘‘ (انعام : ۱۴۵) فرمایا: کوئی حرج نہیں کہ تم اس کو دباغت دو‘ اس سے نفع اٹھاؤ۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں: میں نے اس مردار کی طرف کسی کو بھیجا‘ میں نے اس کی کھال اتاری‘ اور میں اس کا مشکیز بنا لیا۔

مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،

Hadith 2334

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2335

2335 - حدثنا المعلى بن مهدي حدثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : أهدت أم حفيد خالتي ابنة الحارث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم سمنا وأقطا وأضبا فدعا بهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأكلن على مائدته وتركهن كالمتقذر لهن ولو كن حراما ما أكلن على مائدة رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أمر بأكلهن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ اُم حفيد بنت حارث نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گھی، پنیر اور بھونی ہوئی گوہ ہدیہ بھیجی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چیزوں کو منگوایا‘ یہ چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر کھائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا یہ سمجھتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔اگر حرام ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہ کھانے کا حکم دیتے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ،

Hadith 2335

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2336

2336 - حدثنا جعفر بن حميد الكوفي حدثنا شريك عن سماك عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حلف في الإسلام وما كان في الجاهلية لم يزده الإسلام إلا شدة أو حدة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اسلام میں قسم نہیں‘ جو جاہلیت میں تھی‘ اسلام میں اضافہ نہیں کیا مگر سیختی یا چھوڑ دینے کا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ،

Hadith 2336

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2337

2337 - حدثنا المعلى حدثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس أن رجلا وقصه بعيره فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يغسل بماء وسدر ولا يمس طيبا ولا يكفن ولا يخمر رأسه وقال : إنه يبعث يوم القيامة ملبدا K إسناده حسن

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی اپنے اونٹ سے گرا( حالتِ احرام میں ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے سر کو دھویا جائے ۔ ماء سدر کے ساتھ اس کو خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کو کفن نہ دیا جائے اور اس کے سر کو نہ ڈھانپا جائے یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھے گا ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← المعلى

Hadith 2337

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2338

2338 - حدثنا المعلى حدثنا أبو عوانة عن عبد الأعلى الثعلبي عن سعيد بن جبير Y عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اتقوا الحديث علي إلا ما علمتم فإنه من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار ومن كذ ب على القرآن بغيرعلم فليتبوأ مقعده من النار K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری حدیث بیان کرنے سے ڈرو‘ وہ بیان کرو جو جانتے ہو‘ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ جس نے قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی اس کو بھی چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الأعلى الثعلبي ← أَبُو عَوَانَةَ، ← المعلى

Hadith 2338

مسند أبي يعلى · أول مسند ابن عباس ‹ أول مسند ابن عباس · حديث 2339

2339 - حدثنا محرز بن عون حدثنا سفيان عن عمرو عن عطاء Y عن ابن عباس قال : إنما سعى النبي صلى الله عليه و سلم بالبيت وبين الصفا والمروة ليري الناس قوته K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ اور صفاء مروہ کے درمیان سعی کی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت دیکھیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ،

Hadith 2339

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter