Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2214

2214 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا داود بن أبي هند عن أبي الزبير Y عن جابر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة جائزة لمن أعمرها والرقبى جائزة لمن أرقبها K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آباد کرده زمین انعام ہے‘ اس کے لیے جس نے اسے آباد کیا اور لونڈی انعام ہے اس کیلئے جس نے اسے قید کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2214

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2215

2215 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا العوام بن حوشب قال : حدثني طلحة بن نافع Y عن جابر قال : مرعلى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل فقالوا فيه وأثنوا عليه فقال : من يقتله قال أبو بكر : أنا فانطلق فوجده قد خط على نفسه خطة فهو قائم يصلي فيها فلما رآه على ذ لك الحال رجع ولم يقتله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يقتله ؟ فقال عمر : أنا فذهب فرآه يصلي في خطة قائما يصلي فرجع ولم يقتله فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : من له - أو من يقتله ؟ فقال : علي : أنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنت ولا أراك تدركه فانطلق فوجده قد ذهب K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ صحابہ کرام نے اس کی (عبادت کی ) تعریف کی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کون قتل کرے گا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے ۔ اس کو پایا، اس نے اپنے سامنے ایک خط کھینچ رکھا تھا ، اور نماز اس میں پڑھ رہا تھا۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اس حالت میں دیکھا تو آپ پانی واپس آئے اور اس کو قتل نہیں کیا پھر اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کون قتل کرے گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : میں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے اس کو دیکھا وہ اس خط میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی واپس آ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو قتل نہیں کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون اس کو قتل کرے گا؟ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ اگر اس کو پا لیں گے تو قتل کریں گے میرا خیال ہے کہ آپ اس کو نہیں پائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے تب وہ جا چکا تھا۔

جَابِرٍ ← طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2215

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2216

2216 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا يحيى بن سعيد أن شرحبيل بن سعد أخبره Y عن جابر قال : أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم زمن الحديبية فنزلنا بالسقيا فقال معاذ بن جبل : من يسقينا في أسقيتنا ؟ قال جابر فقلت : أنا فخرجت في فتية معي حتى أتينا الماء الذي بالأثاية وبينهما قريبا من ثلاثة وعشرين ميلا قال : فأتينا الماء الذي بالأ ثاية فسقينا في حوضنا وسقينا في أسقيتنا حتى إذا كان بعد عتمة إذا أنا برجل ينازعه بعيره إلى الحوض فقال : أوردوا وإذا هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فأورد وأخذ بزمام راحلته فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى العشاء و جابر فيما ذ كر إلى جنبه ثم صلى بعد العشاء ثلا ثة عشرة ركعة K إسناده ليس بذاك

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرمایا: صلح حدیبیہ کے زمانہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھے تو ہم ایک کنویں پر اترے سو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہماری مشکوں میں پانی کون بھرے گا؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میں بھروں گا۔ سو میں جوانوں کے ایک گروہ کو لے کر نکلا یہاں تک کہ ہم پانی تک پہنچ گئے‘ جوا ثُایہ کے مقام پر تھا اور تقریبا ۲۳ میل چلے‘ سو ہم اُثایہ کے مقام سے پانی لائے‘ ہم نے اسے حوض میں بھی بھرا اور اپنی مشکوں میں بھی ڈالا یہاں تک کہ تھوڑے فاصلے پر تھے تو حوض پر ایک آدمی سے اس کا اونٹ جھگڑ رہا تھا‘ سو اس نے کہا: وارد ہو جاؤ جبکہ دیکھا تو وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے پس آپ اُترے اپنی سواری کی مہار پکڑ کر کھڑے ہو گئے‘ آپ نے عشاء کی نماز پڑھی اور جابر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں نماز ادا کی‘ پھر آپ نے عشاء کے بعد تیرہ رکعتیں ادا فرمائیں ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2216

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2217

2217 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا سليمان التيمي عن أبي نضرة Y عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما منكم من نفس منفوسة يأتي عليها مئة سنة وهي حية K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نفس ایسا نہیں جو سانس لے اور اس پر سو سال گزر جائیں زندگی کی حالت میں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2217

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2218

2218 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا الحجاج بن أبي زينب حدثنا أبوسفيان طلحة بن أبي نافع قال Y سمعت جابر بن عبد الله قال : كنت جالسا في داري فمر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأشار إلي فقمت إليه فأخذ بيدي فانطلقنا حتى أتى بعض حجر نسائه فدخل ثم أذن لي فدخلت و الحجاب عليها فقال : هل من غداء ؟ فقالوا : نعم فأتي بثلاثة أقراص فوضعهن فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم قرصة فوضعه بين يديه وأخذ قرصة آخر فوضعه بين يدي ثم أخذ الثالث فكسره باتتين فجعل نصفه بين يديه ونصفه بين يدي ثم قال : هل من أد م ؟ قالوا : لا إلا شيئا من خل قال : هاتوا فنعم الأدم هو K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا‘ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے قریب سے گزرے تو میری طرف اشارہ کیا سو میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر لے چلے یہاں تک کہ ہم ازواج ِمطہرات میں سے ایک کے حجرہ تک پہنچ گئے‘ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تھوڑی دیر بعد مجھے بھی بلا لیا‘ سو میں بھی اندر چلا گیا جبکہ زوجہ محترمہ پردہ میں تھیں سو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کی : ہاں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تین نیکیاں لائی گئیں‘ آپ نے پہلے ایک اٹھائی اور اپنے سامنے رکھی‘ دوسری میرے سامنے رکھ کر تیسری کے دو ٹکڑے کیے اور آدھا اپنے سامنے اور آدھا میرے سامنے رکھ دیا‘ پھر فرمایا: کوئی سالن ہے؟ تو انہوں نے کہا: سرکہ کے علاوہ نہیں تو آپ نے فرمایا: لاؤ! یہ کتنا بہترین سالن ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبوسفيان طلحة بن أبي نافع ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2218

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2219

2219 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا هشام عن الحسن Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كنتم في الخصب فأمكنوا الركب أسنتها ولا تعدوا المنازل وإذا كنتم في الجدب فاستنجوا وعليكم بالدلجة فإن الأرض تطوى بالليل فإذا تغولت لكم الغيلان فبادروا بالأذان ولا تصلوا على جواد الطريق ولا تنزلوا عليها فإنها مأوى الحيات والسباع ولا تقضوا عليها الحوائج فإنها الملاعن ) K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم خشکی میں سفر کرو تو سواری کو تیز کر لو ۔ جب تم سر سبز زمین میں ہو تو اس کو اپنا حصہ لینے دو ۔ تم پر ہے کہ تم رات کو سفر کرو۔ بے شک رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔ راستہ میں رات کو نماز نہ پڑھو نہ راستہ میں اترو بے شک رات کو سانپ ،درندے راستہ میں سے گزرتے ہیں‘ نہ قضاء حاجت کرو کیونکہ وہ نقصان دے گا۔

جَابِرٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2219

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2220

2220 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد أخبرنا محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد Y عن جابر قال : جاء رجل ببيضة من ذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أصابها في بعض المغازي فقال : خذها يا رسول الله صدقة فوالله ما أصبحت أملك غيرها فأعرض عنه ثم أتاه عن شماله فقال مثل ذلك ثم أتاه من بين يد يه فقال مثل ذ لك فقال : هاتها مغضبا فأخذها فخذفه بها خذفة لو أصابه لشجه - أو عقره - ثم قال : يأتي أحدكم بماله كله فيتصدق به ثم يجلس فيتكفف الناس ؟ ! ألا إنه لا صدقة إلا عن ظهرغنى K رجاله ثقات

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اچانک ایک آدمی سونے کا انڈہ لے کر آیا جو اس کو کسی جنگ سے ملا تھا۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میری طرف سے یہ صدقہ قبول کیجیے۔ اللہ کی قسم! میں اس مال کے علاوہ کسی اور چیز کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا۔ پھر وہ دائیں جانب آ گیا۔ پھر اس نے یہی بات کی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کی طرف آیا۔ اس نے پہلے والی بات کہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لاؤ! غصہ کی حالت میں فرمایا۔ جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مال لے کر آتا ہے یا اس جیسا کوئی اور وہ کہتا ہے وہ اس کے علاوہ کا مالک نہیں ہے وہ صدقہ بھی کرتا ہے پھر اس کے بعد بیٹھ جائے گا۔ اور لوگوں سے مانگتا پھرے گا ۔صدقہ مال دار پر ہے۔

جَابِرٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ: ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2220

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2221

2221 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد أخبرنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن عطاء بن يسار Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سمعت نباح الكلاب ونهيق الحمر فتعوذا بالله من الشيطان الرجيم فإنهن يرون ما لا ترون وأقلوا الخروج إذا هدأت الرجل فإن الله يبث في خلقه في ليله ما شاء وأجيفوا الأبواب فإن الشيطان لا يفتح بابا إذا أجيف وأوكوا الأسقية وخمروا الآنية وأطفئوا السرج K رجاله ثقات

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے بولنے کی آواز سنو تو اللہ کی شیطان مردود سے پناہ مانگو کیونکہ وہ دیکھتے ہیں تم نہیں دیکھتے ہو‘ جب رات ہو جائے تو کم نکلو‘ بے شک اللہ عزوجل رات کو جو چاہے مخلوق بھیجتا ہے‘ دروازے بند کر لیا کرو‘ بے شک شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا ہے‘ اپنے مشکینرے کو منہ بند کر لیا کرو اور برتن ڈھانپ لیا کرو اور چراغ بجھا لیا کرو۔

جَابِرٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ: ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2221

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2222

2222 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد أخبرنا الحجاج عن عطاء وعن أبي الزبير Y عن جابر قال : وقت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل المدينة من ذي الحليفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل اليمن الملم ولأهل طائف قرن ولأهل العراق ذات عرق K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے میقات (یعنی احرام باندھنے کی جگہ ) ذی الحلیفہ ، اور اہل شام کے لیے جحفہ ، اہل یمن کے لیے یلملم ، اہل طائف کے لیے قرن ، اہل عراق کے لیے ذات میقات مقرر فرمائے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَطَاءٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَزِيدُ: ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2222

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2223

2223 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد أخبرنا الحجاج بن أرطاة عن أبي الزبير Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الحيوان اثنان بواحد لا بأس به ولا يصلح نسيئة K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک حیوان کی دو حیوانوں کے ساتھ بیع کرنے میں حرج نہیں ہے شرط یہ کہ نقد نفذ ہو ادھار میں بھلائی نہیں۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ: ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2223

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2224

2224 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن حبيب المعلم عن عطاء Y عن جابر أن رجلا نذر أن يصلي في بيت المقدس فسأل عن ذ لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له : صل ها هنا يعني المسجد الحرام قال يا رسول الله إني إنما نذرت أن أصلي في بيت المقدس قال : صل ها هنا قال : وأظنه قال في الثالثة : صل حيث قلت K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز ادا کرے گا‘ پس اس نے اس بارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس سے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لے‘ یعنی مسجد حرام میں‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بے شک میں نے تو نذر مانی تھی کہ بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہیں نماز ادا کرلو۔ راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ اس نے تیسری دفعہ سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس جگہ پڑھ لئے جہاں تو کہتا ہے ۔

له صل ها هنا يعني المسجد الحرام ← ذ لك رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جابر أن رجلا نذر أن يصلي في بيت المقدس فسأل ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2224

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2225

2225 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا الوليد قال : حدثني أبو عمروالأوزاعي قال : سمعت يحيى يقول Y سألت أبا سلمة أي القرآن أنزل قبل ؟ فقال : { يا أيها المدثر } فقلت : أو { اقرأ } . فقال جابر : أحدثكم ما حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : جاورت بحراء شهرا فلما قضيت جواري نزلت فاستبطنت الوادي فنوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر أحدا ثم نوديت فنظرت فلم أر أحدا ثم نوديت فظرت فلم أر أحدا فرفعت رأسي فإذا هو على العرش في الهواء - يعني جبريل - فأخذتني رجفة شديدة فأتيت خديجة فقلت : دثروني فدثروني وصبوا علي ماء فأنزل الله { يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر * وثيابك فطهر } K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا: یا ایھا المدثر (المدثر:1) میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ (العلق :ا) نہیں؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: قرآن کی کونسی سورۃ پہلے نازل ہوئی؟ انہوں نے کہا: یا ایها المدثر ۔ میں نے کہا: کیا’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ نہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو نہ بتاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ماہ تک غار حِرا میں رہا۔ جب میں ایک مہینہ تک مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے آگے اور پیچھے ، دائیں بائیں دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا پھر مجھے آواز دی گئی ۔ میں نے اپنے آگے پیچھے ، دائیں بائیں جانب دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا وہ ہوا میں تخت بریں کی خوشخبری دینے والے جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس آ کر ان کو حکم دیا کہ مجھے چادر اوڑھا دیں ۔ پس اللہ عزوجل نے اتارا:’’یا ايها المدثر الیٰ آخرہ‘‘ انہوں نے مجھ پر پانی ڈالا ۔

يَحْيَى ← أبو عمروالأوزاعي ← الْوَلِیْدُ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2225

chevron_left Previous
1…181920…28
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter