مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2178
2178 - حدثنا عبدالله بن عمر بن أبان حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي سلمة Y عن جابر قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على المنبر فقال : بينما ناس يسيرون في البحر فلقيتهم الجساسة فقلت : وما الجساسة ؟ فقال : امرأة تجر شعر جلدها ورأسها فقالت : في هذا القصر خبر ما تريدون فأتوه فإذا هم برجل موثق قال : أخبروني أو سلوني أخبركم فسكت القوم : فقال : أخبروني عن نخل بيسان - وعين زغر وعمان - هل أطعم ؟ قالوا : نعم قال : فأخبروني عن حمأة زغر هل فيها ماء ؟ قالوا : نعم هي ملاى تدفق جانبها قال : فقال : وهو المسيح تطوى له الأرض فيسلكها في أربعين إلا ما كان من طيبة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي المدينة ما باب من أبوابها إلا عليه ملك صالت سيفه يمنعه منها وبمكة بمثل ذلك ثم قال : في بحر فارس ما هو في بحر الروم ما هو ثلاثا قال : فقال ابن أبي سلمة : إن هذا الحديث شيئا ما حفظته قال : فشهد جابر أنه ابن صياد قال : فقلت : إن ابن صياد قد مات قال : وإن مات قال : فقلت : فإنه قد أسلم قال : وإن كان قد أسلم قال : فإنه قد دخل المدينة قال : وإن كان قد دخل المدينة K إسناده صحيح
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک گروہ سمندر میں سفر کرتا ہے‘ تو انہیں ایک جسامہ ملتی ہے ۔ میں نے ابوسلمہ سے سوال کیا (راوی کا بیان ہے : ) جساسہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ عورت جو اپنی جلد اور سر کے بال گھیسٹتی ہے‘ تو وہ کہتی ہے: اس محل میں اس چیز کی خبر ہے جو تم تلاش کر رہے ہو‘ وہ سارا گروہ مل کر اس جگہ آتا ہے‘ وہاں ایک رسیوں اور زنجیروں سے جکڑا ہوا آدمی ہے‘ پس وہ کہتا ہے: مجھے بتاؤ! یا مجھ سے پوچھو! ( راوی کو شک ہے کہ ان دو میں سے کون سا لفظ مروی عنہ نے بولا ) میں تمہیں بتاؤں گا۔ (یہ سن کر ) قوم خاموش ہو جاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے: مجھے کھجوروں کے باغ کی خبر دو‘ مجھے زغر اور عمان کے چشمہ کی خبر دو گے کیا اس میں پانی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! وہ کھرا ہوا ہے اس کی ایک طرف سے پانی ٹپک رہا ہے‘ وہ کہتے ہیں: ہاں! (بالکل) ۔ انہوں نے کہا: وہ مسیح ہے جس کے لیے پوری زمین لپیٹ دی جائے گی چالیس دن میں وہ اس میں بھرے گا مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہو گا جس پر ایک فرشتہ تلوار سونتے‘ اس کو روکنے کے لیے نہ کھڑا ہو گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ۔ پھر فرمایا: فارس کے سمندر میں کیا ہے؟ روم کے سمندر میں کیا ہے؟ یہ بات تین بار فرمائی‘ پھر تین بار ۔ سو ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے یاد کیا۔ ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جناب جابر نے گواہی دی کہ وہ ابن صیاد ہے۔ میں نے کہا: نہیں! ابن صیاد نہیں کیونکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے انہوں نے کہا: اگرچہ وہ فوت ہو چکا‘ میں نے کہا: وہ اسلام لایا ؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مسلمان بھی ہوا‘ میں نے کہا: وہ مدینہ میں داخل ہوا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مدینہ میں بھی داخل ہوا۔
جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عبدُاللهِ بنُ عمرَ بنِ أبانَ:
Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2178
