Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2154

2154 - وعن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إ ن إ بليس قد يئس أن يعبده المصلون ولكن في التحريش بينكم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان مایوس ہو گیا کہ لوگ اس کی عبادت کریں گے لیکن ان کے درمیان نفرت پھیلانے میں مایوس نہیں ہوا۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2154

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2155

2155 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا حماد بن زيد عن عمرو بن د ينار عن محمد بن علي Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الاهلية وأذن في لحوم الخيل K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی ۔

جَابِرٍ ← محمد بن علي ← عمرو بن د ينار ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2155

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2156

2156 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن حدثنا سفيان عن عبدالله بن محمد بن عقيل قال Y سمعت جابرا يقول : الظهر كاسمها والعصر والشمس حية بيضاء والمغرب كاسمها كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي بنا وإنا نرى مواقع النبل وكان النبي صلى الله عليه و سلم يعجل العشاء والفجر كاسمها K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نماز ِظہر میں سورج ڈھل جائے اور عصر میں سورج سفید اور چمک دار ہو اور مغرب سورج غروب ہونے کے وقت پڑھی جائے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو مغرب پڑھاتے تھے تو ہم تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء جلدی پڑھاتے تھے اور فجر کی نماز سورج طلوع ہونے کے قریب۔

جَابِرًا ← عبدِاللهِ بنِ محمدِ بنِ عقيلٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2156

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2157

2157 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن شعبة عن سعيد الجريري عن أبي نضرة Y عن جابر أن بني سلمه ذكروا للنبي صلى الله عليه و سلم بعد منازلهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم يا بني سلمة دياركم فإ نما تكتب آثاركم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی مسلمہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گھر دور ہونے کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ! اپنے انہیں گھروں میں مقیم رہو کیونکہ تمہارے گھر دور ہونے کی وجہ سے تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔

أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2157

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2158

2158 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن أبي الزبير Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم كوى رجلا في أكحله مرتين K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بازو کی ایک رگ دو مرتبہ داغا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2158

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2159

2159 - حد ثنا شيبان حدثنا محمد بن خازم حدثنا عبد الله بن عبيد بن عمير حدثنا عبد الرحمن بن أبي عمار Y عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن الضبع فقال : هي صيد يجعل فيها كبشا إذا أصابها المحرم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا‘ آپ نے فرمایا: یہ شکار ہے‘ جب محرم اس کا شکار کرے گا تو ایک مینڈھا قربانی کے طور پر دے گا۔

جَابِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← شَيْبَانَ ← حَدَّ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2159

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2160

2160 - حدثنا شيبان حدثنا جرير قال : سمعت محمد بن المنكدر Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى امرأة من النصار فبسطت له عند صور ورشت حوله وذبحت شاة وصنعت له طعاما فأكل وأكلنا معه ثم توضأ لصلاة الظهر فصلى فقالت المرأة : يا رسول الله قد فضلت عندنا من شاتنا فضلة فهل لك في العشاء ؟ قال : نعم فأكل وأكلنا ثم صلى بنا العصر ولم يتوضأ K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بستر بچھایا گیا۔ اردگرد ماحول کو ٹھنڈا کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری ذبح کی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا۔ ہم نے بھی کھایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر ۔ ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہمارے پاس بکری کا گوشت بچ گیا ہے‘ کیا آپ کے پاس رات کا کھانا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! آپ نے کھایا، ہم نے بھی کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← جَرِيرٌ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2160

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2161

2161 - حدثنا هد بة بن خالد حدثنا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار Y عن جابر قال : كان ليهودي على أبي دين تمر وترك أبي حديقتين وتمر اليهودي يستوعب الحديقتين فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : هل لك أن تأخذ العام بعضا وتؤخر بعضا إلى قابل ؟ فأبى اليهودي فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : يا جابر إذا حضر الجداد فآذني فآذنته فجاء النبي صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر فجعل يكال له من أسفل النخل و النبي صلى الله عليه و سلم يدعو بالبركة فوفيناه حقه قال عمار : أراه من أصغر الحديقتين قال : ثم أتيناهم برطب فأكلوا وشربوا ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : هذا من النعيم الذي تسألون عنه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی کا میرے باپ پر قرض تھا کھجور کا۔ میرا باپ دو باغ چھوڑ گیا تھا۔ یہودی کی کھجوریں دونوں باغوں سے زیادہ تھیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا کیا تیرے لیے گنجائش ہے کہ آدمی اس سال لے لے اور آدھی آئندہ سال لے لے؟ یہودی نے انکار کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: اے جابر! جب کھجور اتارنے کا وقت ہوتو مجھے بتانا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ۔ یہ حضرات نیچے سے ناپنے لگے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کی دعا کی۔ ہم نے اس کا حق پورا پورا دے دیا۔ حضرت عمار فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ دو باغوں میں سے چھوٹے سے دیا گیا پھر ہم تر کھجوریں لے کر آئے ۔ انہوں نے کھایا اور پیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان نعمتوں سے متعلق سوال بھی ہو گا۔

له النبي صلى الله عليه و سلم هل لك ← تمر اليهودي يستوعب الحديقتين ← ترك أبي حديقتين ← كان ليهودي على أبي دين تمر ← جَابِرٍ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هد بة بن خالد

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2161

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2162

2162 - حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا يحيى بن يمان حدثنا الأعمش عن أبي صالح Y عن جابر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنتم الغر المحجلون K إسناده صحيح على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے وضو والے اعضاء چمک رہے ہوں گے ۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2162

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2163

2163 - حدثنا أبوهشام حدثنا ابن فضيل حدثنا الاجلح عن أبي الزبير Y عن جابر قال : لما كان يوم الطائف ناجى رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا فأطال نجواه فقال بعض أصحابه : لقد أطال نجوى ابن عمه ! فبلغه ذ لك فقال : ما أنا انجيته بل الله أنتجاه K رجاله رجال الصحيح غير أجلح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سرگوشی فرمائی ۔ سرگوشی لمبی فرمائی، بعض صحابہ کرام نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا زاد سے لمبی سرگوشی فرمائی‘ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس سے سرگوشی نہیں فرمائی بلکہ اللہ نے سرگوشی فرمائی ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الأَجْلَحِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبوهشام

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2163

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2164

2164 - حدثنا أبوهشام الرفاعي حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الوليد بن جميع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن جابر قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على المنبر فقال : يا أيها الناس إني لم أقم فيكم بخبر جاءني من السماء ولكن بلغني خبر ففرحت به فأحببت أن تفرحوا بفرح نبيكم إنه بينا ركبا يسيرون في البحر إذ نفد طعامهم فرفعت لهم جزيرة فخرجوا يريدون الخبز فلقيتهم الجساسة ) - فقلت لأبي سلمة : وما الجساسة ؟ قال : امرأة تجر شعرجلدها ورأسها - فقالت : في هذا القصر خبر ما تريدون فأتوه فإذا هم برجل موثق فقال : أخبروني - أو سلوني أخبركم - فسكت القوم فقال : أخبروني عن نخل بيسان أطعم ؟ قالوا : نعم قال أخبروني عن حمأة زغر فيها ماء ؟ قالوا : نعم قالوا : هو المسيح تطوى له الأرض في أربعين يوما إلا ما كان من طيبة . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وطيبة : المدينة ما باب من أبوابها إلا ملك مصلت سيفه يمنعه وبمكة مثل ذ لك ) ثم قال : في بحر فارس ما هو في بحر الروم ما هو ثلاثا ثم ضرب بكفه اليمنى على اليسرى ثلاثا فقال لي ابن أبي سلمة : في هذا الحديث شيء ما حفظته قلنا ما هو ؟ قال : شهد جابر أنه ابن صائد قلت : لا فإن ابن صائد قد مات قال : وإن مات قلت : قد أسلم قال : وإن أسلم قلت : فإنه قد د خل المد ينة قال : وإن دخل المدينة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہیں کوئی ایسی خبر دینے کے لیے کھڑا نہیں ہوا جو آسمان سے آتی ہے لیکن مجھے ایک ایسی خبر پہنچی ہے جس سے میں خوش ہوا ہوں ۔ پس میں نے پسند کیا کہ میں خوش ہو رہا ہوں تو اپنے نبی کے ساتھ تم بھی خوشی مناؤ! وہ خبر یہ ہے کہ ایک گروہ سمندر میں سفر کرتا ہے‘ اسی دوران ان کا زاد راہ ختم ہو جاتا ہے (جس سے وہ پریشان ہو جاتے ہیں ) پس ان کے لیے ایک جزیرہ بلند ہوتا ہے‘ وہ کھانا تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں ایک جسامہ ملتی ہے۔ میں نے ابو سلمہ سے سوال کیا ( راوی کا بیان ہے:) جساسہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا وہ عورت جو اپنی جلد اور سر کے بال گھسیٹتی ہے یعنی بڑے ہوتے ہیں‘ تو وہ کہتی ہے: اس محل میں اس چیز کی خبر ہے جو تم تلاش کر رہے ہو‘ وہ سارا گروہ مل کر اس جگہ آتا ہے‘ وہاں ایک زنجیروں سے بندھا ہوا آدمی ہے‘ پس وہ کہتا ہے: مجھے بتاؤ! یا مجھ سے پوچھو! ( راوی کو شک ہے کہ ان دو میں سے کون سا لفظ مروی عنہ نے بولا ) میں تمہیں بتاؤں گا۔ (یہ سن کر ) قوم خاموش ہو جاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے: مجھے اس کھجوروں کے باغ کی خبر دو جس سے اس کھایا گیا؟ وہ کہتے ہیں : ہاں! ( خبر دیتے ہیں )۔ وہ کہتا ہے: مجھے زغر کے کیچڑ کی خبر دو گے جس میں پانی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہاں! (بالکل) ۔ انہوں نے کہا: وہ مسیح ہے جس کے لیے چالیس دن میں پوری زمین لپیٹ دی جاتی ہے (یعنی وہ اس میں پھرے گا ) مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہو گا جس پر ایک فرشتہ تلوار سونتے‘ اس کو روکنے کے لیے نہ کھڑا ہو گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ۔ پھر فرمایا : فارس کے سمندر میں کیا ہے؟ روم کے سمندر میں کیا ہے؟ یہ بات تین بار فرمائی‘ پھر تین بار اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر مارا۔سو ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے یاد کیا۔ ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جناب جابر نے گواہی دی کہ وہ ابن صائد ہے۔ میں نے کہا: نہیں ! ابن صائد نہیں کیونکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے‘ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ فوت ہو چکا‘ میں نے کہا: وہ اسلام لایا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ مسلمان بھی ہوا‘ میں نے کہا: وہ مدینہ میں داخل ہوا؟ انہوں نے کہا: وہ مدینہ میں بھی داخل ہوا۔

جَابِرٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أبوهشام الرفاعي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2164

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2165

2165 - حدثنا أبوهشام حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن أبي صلاح و أبي سفيان Y عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا فرغ أحد كم من طعامه فليلعق أصابعه فإنه لا يد ري في أي طعامه تكون البركة K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے۔ وہ نہیں جانتاکہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أبي صلاح و أبي سفيان ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبوهشام

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2165

chevron_left Previous
1…131415…28
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter