Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1789

1789 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا عدوى ولا طيرة ولا صفر و لا غول K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوت کی بیماری ہے نہ فال ہے‘ نہ صفر مہینہ کی نحوست‘ نہ ناگہانی کوئی چیز نہیں ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1789

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1790

1790 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن عمار بن أبي عمار عن جابر قال Y جاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر فأطعمناهم رطبا وأسقيناهم من الماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا من النعيم الذي تسأولن عنه K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے ان کو تازہ کھجوریں دیں اور پینے کے لیے پانی دیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نعمتوں میں سے ہیں ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔

جَابِرٍ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1790

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1791

1791 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن حجاج الصواف عن أبي الزبير عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا أوى الرجل إلى فراشه ابتدره ملك وشيطان فيقول الملك : اختم بخير ويقول الشيطان : اختم بشر فإن ذكر الله ثم نام بات الملك يكلؤه فإذا استيقظ قال الملك : افتح بخير وقال الشيطان : افتح بشر فإن قال : الحمد لله الذي رد علي نفسي ولم يمتها في منامها الحمد لله الذي يمسك السماوات والأرض أن تزولا [ فاطر : 41 ] إلى آخر الآية الحمد لله الذي يمسك السماء ان تقع على الأرض إلا بإذنه فإن وقع من سريره فمات دخل الجنة K رجاله رجال الصحيح عدا إبراهيم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بستر پہ آتا ہے۔ فرشتہ اور شیطان دونوں اس کی طرف جلدی کرتے ہیں‘ فرشتہ کہتا ہے: تو اس کا اختتام بہتر کرنا‘ اور شیطان کہتا ہے: برائی کے ساتھ اختتام کر اگر اللہ کا ذکر کر کے پھر سو جاتا ہے فرشتہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے رات گزارتا ہے‘ جب جگاتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: بھلائی سے آغاز کر ۔ شیطان کہتا ہے: بیرائی کے ساتھ آغاز کر ۔ اگر وہ کہتا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے میری جان کو واپس کیا مجھے اس نیند میں نہیں مارا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے زمین و آسمان کو روکا ہوا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے آسمان کو روکا ہوا ہے زمین پر گرنے سے مگر اس کی اجازت سے اگر وہ چار پائی پر تھا پس اس کوموت آئی تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1791

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1792

1792 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الرحمن بن جابر عن جابر بن عبد الله قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي بكبشين أقرنين أملحين عظيمين موجوءين فأضجع أحدهما وقال : بسم الله والله أكبر اللهم عن محمد وآل محمد ثم أضجع الآخر فقال : بسمالله والله أكبر عن محمد وأمته : من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ K إسناده حسن ( وكذا قال شعيب الأرناؤوط على هامش مسند أحمد 17 / 104 : إسناده حسن )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو سینگھوں والے چتکبرے بہت موٹے مینڈھے لائے گئے ۔ آپ نے ان میں سے ایک کو لٹایا اور پڑھا: ’’بسم الله والله اكبر اللهم عن محمد و آل محمد ‘‘۔ پھر دوسرے کو لٹایا اور پڑھا: بسم الله الیٰ آخرہ‘‘۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1792

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1793

1793 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن علي بن زيد عن أبي المتوكل عن جابر بن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له في غزوة تبوك وهو على جمل أحمر فتخلف البعير فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما شأنك يا جابر ؟ فقلت : يا رسول الله تخلف بعيري فأتاه من قبل عجزه فدعا له وزجره فأتى علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما فعل البعير يا جابر ؟ قال يا رسول الله : ما زال يقدمنا منذ الليلة قال : فبكم أخذته ؟ فقلت بثلاثة عشر دينارا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعينه بثمنه الذي أخذته ولك ظهره إلى المدينة ففعلت فلما قدمنا المدينة خطمته فأتيته فأعطاني البعير والثلاثة عشر دينارا K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کوغزوہ تبوک میں فرمایا اس حال میں کہ وہ سرخ اونٹ پر سوار تھے کہ میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! کیا وجہ ہے؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ آپ اس کے پیچھے کی جانب سے آئے ۔ اس کے لیے دعا کی اور اس کو ڈانٹا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے جابر! اونٹ کا کیا بنا؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کتنے کا خریدا تھا؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! تیرہ دینار کا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا. مجھے فروخت کر دو اتنے کا جتنے کا آپ نے لیا اور مدینہ شریف تک سواری تیرے لیے ہے۔ میں نے ایسے ہی کیا جب ہم مدینہ شریف آئے میں نے اس کی لگام پکڑی‘ میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اونٹ بھی دے دیا اور تیرہ دینا ر بھی واپس کر دیئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1793

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1794

1794 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا بشر بن منصور عن عمر بن نبهان عن أبي شداد عن جابر بن عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من جاء بهن مع إيمان دخل من أي أبواب الجنة شاء وزوج من الحور العين حيث شاء : من عفا عن قاتله وأدى دينا خفيا وقرأ في دبر كل صلاة مكتوبة عشر مرات { قل هو الله أحد } [ الإخلاص : 1 ] قال : فقال أبو بكر : أو إحداهن يا رسول الله ؟ قال : أو إحداهن K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں انسان ایمان کے ساتھ کرے وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جس حور العین سے چاہے شادی کرے۔ وہ یہ تین چیزیں ہیں: جس نے اپنے قاتل کو معاف کر دیا اور قرض خفیہ طور پر ادا کیا اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ قل ہواللہ اُحد پڑھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ( دیکھا دریائے رحمت جوش پہ ہے مانگ لیں جو مانگنا ہے ) یا رسول اللہ ! اگر کوئی ان میں سے ایک کر لے فرمایا: ایک ہی کر لے فرمایا : ایک ہی کر لے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبي شداد ← عمر بن نبهان ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1794

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1795

1795 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا يعقوب بن عبد الله عن عيسى بن جارية عن جابر بن عبد الله قال Y صلى أبي بالناس في قباء ودخل في صلاته غلام من الأنصار وله سقي قال : فلما سمع أبيا يقرأ سورة طويلة انفتل من صلاته فلما انفتل أبي أخبر بذلك قال : فعرف أبي أن الغلام يشكو إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وقرب الغلام يشكو أبيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن منكم منفرين فإذا صليتم فأوجزوا ـ فأوجز شك أبو يحيى أو كما قال ـ فإن خلفكم الكبير والمريض وذا الحاجة K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو مسجد قباء شریف میں نماز میں پڑھاتے تھے۔ انصار کا غلام ان کی نماز میں شریک ہوا‘ اس کو پیٹ کی بیماری تھی ۔ جب اس نے سنا کہ اتنی لمبی سورت پڑھتے ہیں وہ نماز سے پھر گیا‘ جب وہ پھر نماز سے حضرت اُبی کو خبر ہو گئی ۔حضرت اُبی کو معلوم ہو گیا کہ یہ غلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شکایت کرنے لگا۔ وہ غلام قریب ہوا اور حضرت اُبی کی شکایت کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ نفرت پھیلاتے ہیں جب تم نماز پڑھاؤ تو مختصر کرو۔ بے شک تمہارے پیچھے بزرگ اور مریض اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں ۔

فعرف أبي ← أبيا يقرأ سورة طويلة انفتل من صلاته فلما انفتل أبي أخبر بذلك ← فَلَمَّا ← صلى أبي بالناس في قباء ودخل في صلاته غلام من الأنصار وله سقي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1795

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1796

1796 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا يعقوب بن عبد الله عن عيسى بن جارية عن جابر بن عبد الله قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة فمر على رجل قائم يصلي على صخرة فأتى ناحية مكة فمكث مليا ثم أقبل فوجد الرجل على حاله يصلي فجمع يديه ثم قال ثلاث مرار : يا أيها الناس عليكم بالقصد عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن الله لن يمل حتى تملوا K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی طرف نکلے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ چٹان پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی ایک بستی میں آئے ۔ کچھ دیر ٹھہرے پھر واپس جانے لگے۔ اس آدمی کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع کیے‘ پھر تین مرتبہ فرمایا : اے لوگو! تم پر درمیانہ روی در میانہ روی ہے۔ تم پر درمیانہ روی ہے۔ بے شک اللہ نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1796

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1797

1797 - حدثنا أبو الربيع حدثنا يعقوب حدثنا عيسى بن جارية عن جابر Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة على رجل يصلي على صخرة فأتى ناحية فمكث مليا ثم انصرف فوجد الرجل يصلي على حاله فقام فجمع يديه ثم قال : أيها الناس عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن الله لا يمل حتى تملوا K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی طرف نکلے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ چٹان پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی ایک بستی میں آئے ۔ کچھ دیر ٹھہرے پھر واپس جانے لگے۔ اس آدمی کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع کر کے تین مرتبہ فرمایا : اے لوگو! تم پر درمیانہ روی در میانہ روی ہے۔ تم پر درمیانہ روی ہے۔ بے شک اللہ نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو۔

عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1797

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1798

1798 - حدثنا أبو الربيع حدثنا يعقوب أخبرنا عيسى بن جارية عن جابر قال Y كان أبي يصلي بأهل قباء فاستفتح سورة طويلة ودخل معه غلام من الأنصار في الصلاة فلما سمعه قد استفتح بسورة طويلة انتقل الغلام من صلاته وكان يريد أن يعالج ناضجا له يسقي عليه فلما انفتل أبي بن كعب قال له القوم : إن فلانا انتفل من الصلاة فغضب أبي فأتى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو الغلام فأتاه الغلام يشكوه إليه فغضب النبي صلى الله عليه و سلم حتى رئي العضب في وجهه ثم قال : إن منكم منفرين فإذا صليتم فأوجزوا فإن خلفكم الضعيف والكبير والمريض وذا الحاجة K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اُبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قباء والوں کو نماز پڑھاتے تھے‘ انہوں نے لمبی سورت شروع کی تو آپ کے ساتھ انصار کا غلام نماز میں شریک ہوا‘ جب اس نے سنا کہ آپ نے لمبی سورت شروع کی ہے تو وہ غلام نماز چھوڑ کر چلا گیا‘ وہ اپنے پیٹ کا علاج کروانا چاہتا تھا۔ جب حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلام پھیرا تو قوم نے آپ کو کہا: فلاں نماز چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔ حضرت اُبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غصہ آیا‘ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غلام کی شکایت کرنے کے لیے آئے تو وہ غلام بھی آپ کی شکایت کرنے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آیا‘ یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرہ سے معلوم ہو رہا تھا پھر فرمایا: تم نفرت پھیلانا چاہتے ہو! جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو وہ مختصر پڑھائے بے شک تمہارے پیچھے کمزور‘ بزرگ‘ مریض‘ ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔

كان أبي يصلي بأهل قباء فاستفتح سورة طويلة ← جَابِرٍ ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1798

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1799

1799 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا يعقوب حدثني عيسى بن جارية عن جابر قال Y دخل عبد الله بن مسعود المسجد والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب فجلس إلى جنبه أبي بن كعب فسأله عن شيء ـ أو كلمه بشيء ـ فلم يرد عليه أبي فظن ابن مسعود0 : أنها موجدة فلما انفتل النبي صلى الله عليه و سلم من صلاته قال ابن مسعود : يا أبي ما منعك أن ترد علي ؟ قال : إنك لم تحضر معنا الجمعة قال : لم ؟ قال : تكلمت والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب فقام ابن مسعود فدخل على النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدق أبي أطع أبيا K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو کے پاس بیٹھ گئے۔ ان سے کسی چیز کے متعلق پوچھا یا کسی شے کے ساتھ کلام فرمایا۔ حضرت اُبی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گمان کیا کہ آپ ناراض ہیں‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے اُبی! آپ کو کون سی شے رکاوٹ تھی کہ میرا جواب نہ دینے کے متعلق؟ حضرت اُبی نے کہا آپ ہمارے ساتھ جمعہ میں شریک نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ نے کہا کیوں؟ حضرت اُبی نے کہا: آپ نے گفتگو کی ۔ اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشادفرما رہے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اس بات کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُبی نے سچ کہا، اُبی کی اطاعت کرو۔

شيء أو كلمه بشيء فلم يرد عليه أبي فظن ابن مسعود0 ← دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، الْمَسْجِدَ ← جَابِرٍ ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1799

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1800

1800 - حدثنا أبو الربيع حدثنا يعقوب أخبرنا عيسى بن جارية عن جابر قال Y دخل ابن مسعود المسجد والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب فذكر نحو حديث عبد الأعلى

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دے رہے تھے‘ باقی حدیث وہی ہے جو عبدالاعلیٰ کی حدیث ہے۔

نحو حديث عبد الأعلى ← دخل ابن مسعود المسجد والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب ← جَابِرٍ ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1800

chevron_left Previous
1…567…20
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter