Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1777

1777 - حدثنا شيبان حدثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سليمان بن قيس عن جابر بن عبد الله قال Y دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا طيبة فحجمه فسأله عن ضريبته فقال : ثلاثة آصع قال : فوضع عنه صاعا K رجاله ثقات غير أنه منقطع

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طیبہ کو بلوایا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو پچھنا لگایا‘ اس نے اس کی مزدوری مانگی تو آپ نے اس کو تین صاع دیئے‘ اس نے ایک صاع (ساڑھے چار کلو ) واپس کر دیا ۔

فوضع عنه صاعا رجاله ثقات غير أنه منقطع ← ضريبته فقال ثلاثة آصع ← دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا طيبة فحجمه فسأله ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1777

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1778

1778 - حدثنا شيبان حدثنا أبو عوانة عن بشر عن سليمان بن قيس عن جابر بن عبد الله قال Y قاتل النبي صلى الله عليه و سلم محارب خصفة بنخل فرأوا من المسلمين غرة فجاء رجل منهم يقال له غورث بن الحارث حتى قام على رأس رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسيف فقال : من يمنعك مني ؟ قال : الله قال : فسقط السيف من يده فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم السيف فقال له : من يمنعك مني ؟ قال : كن خير آخذ قال : تشهد أن لا إله إلا الله قال : لا ولكني أعاهدك أن لا أقاتلك ولا أكون مع قوم يقتلونك قال : فخلى سبيله فجاء إلى أصحابه فقال جئتكم من عند خير الناس فلما كان عند الظهر او العصر أمر النبي صلى الله عليه و سلم بصلاة الخوف شك أبو عوانة قال : فكان الناس طائفتين : طائفة بإزاء عدوهم وطائفة يصلون مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى بالطائفة الذين معه ركعتين ثم انصرفوا فكانوا في مكان أولئك وجاء أولئك فصلوا مع النبي صلى الله عليه و سلم فكانت لرسول الله أربع ركعات وللقوم ركعتين K إسناده منقطع

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘ محارب خصفہ سے مقام نخل میں لڑے‘ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آدمی آیا اس کو غورث بن حارث کہا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر کھڑا ہو گیا تلوار کے ساتھ۔ اس نے کہا: کون آپ کو مجھ سے بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ! تلوار اس کے ہاتھ سے گری ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تلوار کو پکڑا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تم کو کون مجھ سے بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ بہتر پکڑنے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا: نہیں! لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ تو میں خود آپ سے لڑوں گا اور نہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گا جو لوگ آپ سے لڑیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا‘ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ میں لوگوں میں سے بہتر کے پاس سے آیا ہوں ۔ جب ظہر یا عصر کا وقت آیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز خوف کا حکم دیا (امام ابوعوانہ کو شک ہے ) لوگوں کے دو گروہ تھے ایک گروہ دشمن کے مقابلہ میں تھا ایک گروہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔ پس جس گروہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھی پھر وہ چلا گیا وہ اس جگہ چلے گئے جس جگہ پر دوسرا گروہ تھا وہ آئے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئی اور صحابہ کرام کے لیے دو دو ہو گئی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← بِشْرٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1778

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1779

1779 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر Y أن رجلا ذبح قبل أن يصلي النبي صلى الله عليه و سلم عتودا جذعا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا يجزي عن أحد بعدك أن يذبح حتى يصلي K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عید کی نماز سے پہلے بکری کا بچہ ذبح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے بعد کسی کے لیے جائز نہیں ہے ذبح کرنا یہاں تک کہ وہ عید کی نماز پڑھ لے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1779

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1780

1780 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم سافر في رمضان فاشتد الصوم على رجل من أصحابه فجعلت ناقته تهيم به تحت ظلال الشجر فأخبر النبي صلى الله عليه و سلم فأمره فأفطر ثم دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بإناء فيه ماء فوضعه على يده فلما رآه الناس شرب شربوا K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا ،صحابہ کرام میں سے کسی کو روزہ سخت لگا۔ اس نے اپنی اوٹنی درخت کے سامیہ کے نیچے کر لی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ افطار کرے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اس میں پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا۔ جب صحابہ کرام نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا تو انہوں نے بھی پیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1780

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1781

1781 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن واسع بن حبان عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في العرايا بالوسق والوسقين والثلاثة والأربعة وقال : في كل جاد عشرة أوسق وما بقي عذقا يوضع في المسجد للمساكين قال محمد : وهم اليوم يشترطون ذلك على التجار K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے عرایا میں رخصت دی ایک وسق کے ساتھ دو اور تین اور چار وسقوں کی بیع کرنے کی اور فرمایا: ہر کھجور کے درخت میں دس وسق ہیں جو باقی کی کھجور ہو اس کو مسجد میں رکھ دیا جائے مساکین کے لیے ۔محمد نامی راوی فرماتے ہیں کہ اس دن آپ اس تجارت پر شرط لگاتے ہیں ۔

جَابِرٍ ← وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1781

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1782

1782 - حدثنا سويد عن مالك عن هاشم بن هاشم بن عتبة بن أبي وقاص عن عبد الله بن نسطاس عن جابر بن عبد الله Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على منبري هذا يمينا آثمة تبوأ مقعده من النار K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے منبر پر جھوٹی قسم اٹھائی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مَالِكٍ، ← سُوَيْد

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1782

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1783

1783 - حدثنا أبو الربيع حدثنا حماد عن عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر اور مسلمان کے درمیان فرق نماز کو چھوڑنا ہے (یعنی انکار کر نا مراد ہے )۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1783

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1784

1784 - حدثنا أبو الربيع حدثنا هشيم أخبرنا علي بن زيد بن جدعان عن محمد بن المنكدر عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بين منبري إلى حجرتي روضة من رياض الجنة وإن منبري على ترعة من ترع الجنة K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان جگہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے اور بے شک میرے منبر جنت کی نہروں میں سے ایک نہر پر ہے۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1784

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1785

1785 - حدثنا أبو الربيع حدثنا إسماعيل بن زكريا عن المعلى عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استتاب رجلا ارتد عن الإسلام أربع مرات K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی توبہ قبول ہوتی ہے‘ اگرچہ اسلام سے چار مرتبہ بھی مرتد ہوا ہو۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← المعلى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1785

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1786

1786 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله Y أنهم كانوا في مغزى لهم فأصابهم جوع شديد فألقى البحر دابة عظيمة فأكلوا منها خمسة وعشرين يوما لحما عبيطا قال أبو الزبير قال جابر بن عبد الله : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل جئتمونا منه بشيء ؟ K رجاله رجال الصحيح خلا إبراهيم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ غزوہ میں تھے اور ان کو سخت بھوک لگی ۔سمندر نے ایک بہت بڑا جانور پھینکا انہوں نے اس کو پکڑا اور پچیس دن اس کا گوشت کھاتے رہے۔حضرت ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے کوئی شے ہمارے لیے بھی لائے ہو؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1786

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1787

1787 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر Y أنهم ذبحوا يوم خيبر الخيل والبغال والحمير الأهلية فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن البغال والحمير ولم ينه عن الخيل K رجاله رجال الصحيح خلا إبراهيم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خیبر کے دن گھوڑے ، خچر اور پالتو گدھے ذبح کیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا خچروں اور پالتو گدھوں کو ذبح کرنے سے اور گھوڑے سے منع نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1787

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1788

1788 - حدثنا إبراهيم حدثنا حماد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال Y نهى رسو الله صلى الله عليه و سلم عن الدباء والمزفت والنقير قال أبو الزبير : فكان جابر إذا لم يجد سقاء انتبذ له في تور حجارة K رجاله رجال الصحيح ما عدا إبراهيم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور مزفت اور نقیر ( برتن میں نبیذ بنانے سے منع کیا)۔حضرت ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مشکیزہ نہ پاتے تو ایک پتھر کے پیالہ میں بناتے تھے۔

الدباء والمزفت والنقير ← نهى رسو الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1788

chevron_left Previous
1…456…20
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter