Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1955

1955 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن جابر بن عبد الله يقول Y بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في ثلاث مئة راكب وأميرنا أبو عبيدة بن الجراح نرصد عيرا لقريش فأقمنا بالساحل نصف شهر فأصابنا جوع شديد حتى أكلنا الخبط قال فسمي ذلك الجيش جيش الخبط ثم ألقى البحر لنا دابة يقال لها : العنبر فأكلنا منه نصف شهر حتى ثابت أجسامنا وادهنا بودكه فأخذ أبو عبيدة ضلعا من أضلاعه فنظر إلى أطول جمل في الجيش فحمله عليه فمر تحته K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سو تیرہ آدمیوں کو بھیجا اور ہمارے اوپر امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا‘ ہم قریش کے ایک قافلہ میں ٹھہرے‘ ہم آ دھا ماہ ساحل پر رہے‘ ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت سے جھاڑے ہوئے پتے کھائے ۔ راوی کا بیان ہے کہ اس لشکر کا نام ہی دجیش خبط پڑ گیا‘ پھر سمندر نے ہمارے لیے جانور پھینکا‘ اُسے عنبر کہا جاتا تھا، ہم اس کو آ دھے ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے‘ ہم نے اس کی چربی اکٹھی کر لی ۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پہلی پکڑی‘ اس کی لمبائی دیکھی تو اس کے نیچے سے لشکر گزر جاتا تھا۔ حضرت ابوعثمان فرماتے ہیں کہ ہمیں سفیان بن عیینہ نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ابو زبیر‘ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تھال دیا اس میں کھجوریں تھیں‘ جب ہمارے پاس سے ختم ہو گئیں تو ایک آدمی کوئی شی لاتا‘ ہم اس کی دونوں آنکھوں سے چربی نکالتے‘ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے ہم سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اس سے کوئی شی ہے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1955

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1956

1956 - قال أبو عثمان قال لنا سفيان بن عيينة : قال أبو الزبير عن جابر Y أعطانا رسول الله صلى الله عليه و سلم جرابا فيه تمر فلما نفد وجدنا فقده فجعل الرجل يجيء بالشيء قال : وأخرجنا من عينيه كذا وكذا جرة من ودك قال : فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه و سلم سألنا : هل معكم منه شيء K إسناده صحيح

أَبُو الزُّبَيْرِ ← لنا سفيان بن عيينة ← أَبُو عُثْمَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1956

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1957

1957 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا سفيان عن عمرو عن جابر قال Y كسع رجل من المهاجرين رجلا من الأنصار فقال الأنصاري : يا للأنصار ! وقال المهاجري : يا للمهاجرين ! فلما سمع النبي صلى الله عليه و سلم ذاك قال : ما بال دعوى الجاهلية ؟ قالوا يا رسول الله رجل من المهاجرين كسع رجلآ من الأنصار فقال : دعوها فإنها منتنة فقال عبد الله بن أبي بن سلول : أقد فعلوها ! ؟ لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل فقال عمر : دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق فقال : دعه إنه لا يتحدث الناس أن محمدا يقتل أصحابه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے آدمی کو دُبر پر مارا‘ انصاری نے کہا: اے انصار! مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا تو آپ نے فرمایا: کیا زمانہ جاہلیت کے دعویٰ ہیں! صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو دُبر پر مارا ہے۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہا: کیا اس نے کیا ہے؟ اگر ہم مدینہ کی طرف گئے تو ضرور عزت والے ذلیل کو نکال دیں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا میں اس منافق کی گردن نہ اُڑا دوں؟ آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو! کیونکہ لوگ بیان کریں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔

«مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ ← النبي صلى الله عليه و سلم ذاك ← المهاجري يا للمهاجرين فلما ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1957

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1958

1958 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان عن عمرو عن جابر قال Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن أبي بعدما أدخل حفرته فأمر به فأخرج فوضع على ركبتيه ونفث عليه من ريقه وألبسه قميصه والله أعلم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لائے ۔ اس کو قبر میں داخل کر نے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اس کو نکلنے کا ، وہ نکلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن پر اپنا لعاب لگایا اور اس کو قمیض پہنائی‘ اللہ زیادہ جانتا ہے۔

جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1958

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1959

1959 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا حماد بن زيد عن عمرو عن جابر بن عبد الله قال Y كسع رجل من المهاجرين رجلا من الأنصار قال : فجاء قوم ذا وقوم ذا فقال هؤلاء : يا للمهاجرين ! وقال هؤلاء : يا للأنصار ! فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : دعوها فإنها منتنة ثم قال : : ألا ما بال دعوى الجاهلية ؟ ! ألا ما بال دعوى الجاهلية ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو دھکا دیا (تو جنگ و جدل کی آگ بھڑک اٹھی ) دونوں قومیں آمنے سامنے آ گئیں‘ انصار نے مہاجرین کو للکارا اور مہاجرین نے انصار کو‘ پس یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اب اسے چھوڑ بھی دو کیونکہ یہ انتہائی قبیح چیز ہے‘ پھر فرمایا :خبردار! یہ جاہلیت کی آواز کہاں سے آئی؟ خبردار! یہ زمانہ جاہلیت کے دعوے کدھر آئے؟

دعوها فإنها منتنة ثم ← هؤلاء يا للأنصار فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم ← هؤلاء يا للمهاجرين ← فجاء قوم ذا وقوم ذا ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1959

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1960

1960 - حدثنا زكريا بن يحيى الواسطي حدثنا هشيم حدثنا أبو الزبير عن جابر قال Y لعن النبي صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه وقال : هم سواء K رجاله رجال الصحيح خلا شيخ أبي يعلى وهو ثقة

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے‘ کھلانے والے‘ اس کے دونوں گواہوں اور لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا: میں سب ( گناہ میں ) برابر ہیں۔

لعن النبي صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1960

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1961

1961 - حدثنا زكريا بن يحيى حدثنا هشيم عن خالد قال : حدثنا بعض أشياخنا عن جابر بن عبد الله Y أن أبا بكر قال : من كانت له عند رسول الله صلى الله عليه و سلم عدة فليقم قال : فقلت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعدني أن يعطيني كذا وكذا وحفن بيده ثلاث حفنات قال : فقال أبو بكر : إذا أتانا مال فأتنا قال : فجاءه مال فأتيته قال : فحفنته بيدي فقال : اعددها فإذا هي خمس مئة قال : فأعطاني ألفا أخرى قال : وقال : ألك مال سواه ؟ قال : قلت : لا قال : فإذا حال عليه الحول فأد زكاته K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ ہو‘ وہ کھڑا ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہیں اتنا اتنا دوں گا تو آپ نے تین چُلو بھر دیئے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب ہمارے پاس مال آئے تو آنا۔ پس مال آیا تو میں ان کے پاس آیا۔ پس میں نے ایک چُلو بھرا۔ فرمایا: اس کو گنو! وہ پانچ سو تھے۔ آپ نے مجھے ایک ہزار اور دیا ۔ فرمایا : اس کے علاوہ بھی مال تیرے پاس ہے؟ میں نے عرض کی نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس پر سال گزر جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← بَعْضُ أَشْيَاخِنَا ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1961

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter