Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1943

1943 - حدثنا زهير حدثنا محمد حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز مسجد میں مکمل کرے اور وہ نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے رکھے تو بے شک اللہ تعالیٰ نماز کی برکت سے گھر میں خیر فرماتا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1943

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1944

1944 - وبه حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y إنما أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحج K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← وبه

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1944

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1945

1945 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا بقية عن جرير بن يزيد الحميري [ حدثني المنذر [ عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يتوضأ وهو يغسل خفيه فنخسه بيده وقال : إنا لم نؤمر بهذا قال : فأراه رسول الله صلى الله عليه و سلم : فقال بيده من مقدم الخفين إلى الساق وفرق بين أصابعه مرة واحدة K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ وضو کر رہا تھا اور اپنے موزوں کو دھو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اسے لگا کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا حکم ہمیں نہیں دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دکھا کر فرمایا: ہاتھ موزوں کے آگے رکھو اور پنڈلی کی طرف کھینچو‘ انگلیوں کو کھلا رکھتے ہوئے‘ ایک مرتبہ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْمُنْذِرِ ← جرير بن يزيد الحميري ← بَقِيَّةُ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1945

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1946

1946 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة وعن أبي سفيان عن جابر قال Y جاء سليك الغطفاني ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب في يوم الجمعة فقال له : أصليت قبل أن تجيء ؟ قال : لا قال : فصل ركعتين وتجوز فيهما K إسناد حديث أبي هريرة صحيح وإسناد حديث جابر رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی اس حالت میں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ کیا تو نے آنے سے پہلے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھو، ان میں مختصر قرأت کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1946

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1947

1947 - حدثنا دواد بن رشيد حدثنا الوليد بن مسلم عن عنبسة بن عبد الرحمن عن محمد بن زاذان عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وقعت كبيرة أو هاجت ريح مظلمة فعليكم بالتكبير فإنه يجلي العجاج الأسود K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بڑی مصیبت آ جائے یا کالی آندھی چلے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کرو (اللہ اکبر‘ اللہ اکبرکہو) کیونکہ یہ بڑی سے بڑی مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔

جَابِرٍ ← محمد بن زاذان ← عنبسة بن عبد الرحمن ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دواد بن رشيد

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1947

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1948

1948 - حدثنا أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم النكري حدثنا مبشر عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال Y سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن : أي القرآن أنزل قبل ؟ فقال : { يا أيها المدثر } [ المدثر : 1 ] فقلت : أو { اقرأ باسم ربك الذي خلق } ؟ [ العلق : 1 ] . قال : سألت جابر بن عبد الله : أي القرآن أنزل قبل ؟ فقال : { يا أيها المدثر } فقلت : أو { اقرأ باسم ربك الذي خلق } ؟ قال جابر : لا أخبرك إلا ما حدثنا رسول الله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : جاورت بحراء شهرا فلما قضيت جواري نزلت فاستنبطت بطن الوادي قال : فنوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر أحدا ثم نوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر أحدا ثم نظرت إلى السماء فإذا هو على العرش في الهواء ـ قال مبشر : يعني جبريل ـ فجئت فأتيت خديجة فأمرتهم فدثروني فأنزل الله : { يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر * وثيابك فطهر } [ المدثر : 1 - 4 ] K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: یا ایھا المدثر (المدثر:1) میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق‘‘ (العلق:۱) نہیں؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: قرآن کی کونسی سورۃ پہلے نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا: یا ایها المدثر ۔ میں نے کہا: کیا’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘نہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو نہ بتاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ماہ تک غار ِحرا میں رہا۔ جب میں نے ایک مہینہ تک مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے آگے اور پیچھے ، دائیں وبائیں دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا پھر مجھے آواز دی گئی۔ میں نے اپنے آگے و پیچھے ، دائیں و بائیں جانب دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ تخت ہوا میں تھا جس پر خوشخبری دینے والے جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ کر ان کو حکم دیا کہ مجھے چادر اوڑھا دیں۔ پس اللہ عزوجل نے اتارا: ’’يا ايها المدثر الیٰ آخرہ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جابر لا أخبرك إلا ما ← يا أيها المدثر فقلت أو اقرأ باسم ربك الذي خلق ← سألت جابر بن عبد الله أي القرآن أنزل قبل ← يا أيها المدثر المدثر فقلت أو اقرأ باسم ربك الذي خلق العلق ← سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن أي القرآن أنزل قبل ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم النكري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1948

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1949

1949 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير قال Y سألت أبا سلمة : أي القرأن أنزل أول ؟ قال : { يا أيها المدثر } [ المدثر : 1 ] قال : فقلت إني أنبئت أن أول سورة نزلت من القرآن { اقرأ باسم ربك الذي خلق } [ العلق : 1 ] قال أبو سلمة : سألت جابر بن عبد الله : أي القرآن أنزل [ أول ؟ قال : { يا أيها المدثر } ] فقلت له : إني أنبئت أن أول سورة نزلت من القرآن : { اقرأ باسم ربك الذي خلق } . قال جابر : لا أحدثك إلا ما حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : جاورت في حراء فلما قضيت جواري فاستنبطت الوادي فنوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر شيئا فنوديت فنظرت فوقي فإذا أنا به قاعد على عرش بين السماء والأرض قال : فجثثت منه فانطلقت إلى خديجة فقلت : دثروني فدثروني وصبوا علي ماء باردا فأنزلت علي { يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر } [ المدثر : 1 - 3 ] K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: یا ایھا المدثر (المدثر :1) میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ (العلق:۱) نہیں؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: قرآن کی کونسی سورۃ پہلے نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا: یا ایها المدثر ۔ میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ نہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو نہ بتاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ماہ تک غار ِحرا میں رہا۔ جب میں ایک مہینہ تک مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے آگے اور پیچھے ، دائیں و بائیں دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا پھر مجھے آواز دی گئی۔ میں نے اپنے آگے و پیچھے ، دائیں بائیں جانب دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا وہ ہوا میں تخت بریں کی خوشخبری دینے والے جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ کر ان کو حکم دیا کہ مجھے چارد اوڑھا دیں اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہائیں ۔ پس اللہ عزوجل نے اتارا: يا ايها المدثر الیٰ آخرہ“۔

فقلت إني أنبئت ← سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1949

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1950

1950 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا مبشر عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير حدثني ابن مقسم قال : حدثني جابر بن عبد الله قال Y كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فمرت بنا جنازة فقام لها رسول الله صلى الله عليه سولم فلما ذهبنا لنحمل إذا هي جنازة يهودية فقلنا : يا رسول الله إنها جنازة يهودية قال : إن الموت فزع فإذا رأيتم جنازة فقوموا K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارے پاس سے جنازہ گزرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو گئے ۔ جب ہم گئے تاکہ ہم اس کو اٹھائیں ۔ وہ یہودی عورت کا جنازہ تھا۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت گھبراہٹ ہے، جب تم جنازہ دیکھوتو کھڑے ہو جاؤ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ مِقْسَمٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1950

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1951

1951 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا الرازق أخبرنا معمر عن الزهري عن ابن أبي صعير عن جابر بن عبد الله قال Y لما كان يوم أحد أشرف النبي صلى الله عليه و سلم على الشهداء الذين استشهدوا يومئذ فقال : زملوهم بدمائهم فإني قد شهدت على هؤلاء فكان يدفن الرجلان والثلاثة في القبر الواحد ويسأل : أيهم كان أقرأ للقرآن ؟ فيقدمه قال جابر : فدفن أبي و عمي يومئذ في قبر واحد K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان شہداء پر کھڑے ہوئے جو اس دن شہید ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو خون کے ساتھ ہی لپیٹ دو۔ میں ان تمام پر گواہ ہوں ۔ پس دو اور تین آدمی کو ایک قبر میں دفن کر تے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے تھے ان میں قرآن کا قاری کون ہے اس کو مقدم کرتے ۔ میرے باپ اور چچا تو اس دن ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← الرازق ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1951

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1952

1952 - حدثنا زكريا بن يحيى الواسطي حدثنا هشيم عن أبي الزبير عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار K رجاله رجال الصحيح خلا شيخ أبي يعلى وهو ثقة

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1952

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1953

1953 - حدثنا محمد بن الصباح حدثنا إسماعيل بن زكريا عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بين العبد وبين تركه الإيمان إلا تركه الصلاة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر اور مسلمان کے درمیان فرق نماز کو چھوڑنا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1953

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1954

1954 - حدثنا زكريا بن يحيى حدثنا هشيم عن أبي الزبير عن جابر قال Y كنا مع أبي عبيدة بن الجراح في سرية ـ أو جيش ـ فنفذ زادنا فبصرنا بحوت قذفه البحر فأردنا أن نأكل منه فنهانها أبو عبيدة ثم قال : نحن رسل رسول الله وفي سبيل الله كلوا فأكلنا منه فلما رجعنا ذكرنا لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن كان معكم منه شيء فابعثوا به إلينا K رجاله رجال الصحيح ما عدا شيخ أبي يعلى وهو ثقة

حضرت جابر ان سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک سری میں تھے یا ایک لشکر میں تھے‘ پس ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا‘ پس ہم نے ایک مچھلی کو دیکھا جو سمندر نے ہھینکی تھی‘ پس ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اس میں سے کھائیں‘ پس ہم کو ابو عبیدہ نے روک دیا‘ پھر فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کے راستہ میں ہیں‘ کھاؤ! پس ہم نے اس میں سے کھایا‘ پس جب ہم واپس لوٹے تو ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہماری طرف بھیج دو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1954

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter