مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1884
1884 - حدثنا جعفر بن حميد الكوفي حدثنا يعقوب يعني : القمي عن عيسى بن جارية عن جابر قال Y كان رجل يحمل الخمر من خيبر إلى المدينة فيبيعها من المسلمين فحمل منها بمال فقدم به المدينة فلقيه رجل من المسلمين فقال : يا فلان إن الخمر قد حرمت فوضعها حيث انتهى على تل وسجى عليها بالأكسية ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله بلغني أن الخمر قد حرمت قال : أجل قال : إلى أن أردها على من ابتعتها منه قال : لا يصلح ردها قال : إلى أن أهديها لمن يكافئني منها قال : لا قال : إن فيها مالا ليتامى في حجري قال : إذا أتانا مال البحرين فأتنا نعوض أيتامك من مالهم ثم نادى بالمدينة قال : فقال الرجل : يا رسول الله الأوعية ننتفع بها ؟ قال : فحلوا أوكيتها فانصبت حتى استقرت في بطن الوادي K إسناده ليس بذاك
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی شراب اٹھا کر خیبر سے مدینہ آتا تھا اس کو مسلمانوں میں فروخت کرتا تھا۔ اس نے شراب خریدی مال کے بدلے اس کو لے کر مدینہ آرہا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس کو ملا۔ اس نے کہا: اے فلاں ! بے شک شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ پس اس نے اس جگہ دی جہاں بیچنا تھی ٹیلے پر اور اس کو ڈھک دیا کپڑوں کے ساتھ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کیا: میں اس کو واپس کر دوں جس سے خریدی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس کرنا بہتر نہیں سمجھا‘ اس نے عرض کی : کیا میں ہدیہ کر دوں اس کے لیے جس کے لیے کفایت کرتی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔ اس نے عرض کی : اس میں مال ہے بچوں کا جو میری پرورش میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ہمارے پاس بحرین سے مال آئے تو ہمارے پاس آنا ہم تیرے بچوں کو اس کا بدلہ دیں گے۔ پھر مدینہ شریف میں آواز دی گئی ۔ اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان برتنوں کے ساتھ ہم نفع اٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان برتنوں کو پاک کر کے چھوڑ دو اسے انڈیل ( خراب ) دیا گیا یہاں تک بطن واری میں جاڑ کی ۔
جَابِرٍ ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبَ يَعْنِي الْقُمِّيَّ ← جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1884
