Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1860

1860 - حدثنا جعفر بن مهران السباك حدثنا عبد الأعلى حدثنا محمد بن إسحاق عن حرام بن عثمان عن محمود بن عبد الرحمن بن عمرو بن الجموح عن جابر بن عبد الله قال Y ابتعنا بقرة في عهد نبي الله صلى الله عليه و سلم لنشترك عليها فانفلتت منا فامتنعت علينا فعرض لها مولى لنا يقال له : ذكوان بسيف في يده وهي تجول بالصماد فضبا إلى تل فلما مرت به ضربها بالسيف في أصل عنقها أوعلى عنقها فخرقها بالسيف ووقعت فلم يدرك ذكاتها فخرجت أنا و عبد الله بن ثابت بن الجذع فلقينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا له شأنها فقال : كلوا إذا فاتكم من هذه البهائم شيء فاحبسوه بما تحبسون به الوحش K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے گائے خریدی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تاکہ ہم اس پر شریک ہو جائیں‘ وہ ہم سے بھاگ گئی تو ہم اس کو روکنے سے عاجز آ گئے‘ اس کو ہمارے غلام نے روکا‘ اس کو ذکوان کہا جاتا تھا وہ گائے بلند جگہ گھوم رہی تھی‘ سو اس غلام نے ٹیلے کے ساتھ پناہ لی‘ سو جب گائے اس کے پاس سے گزرنے لگی تو اس نے گائے کی گردن کی جڑ میں یا گردن پر ( راوی کو شک ہے ) تلوار ماری‘ سو تلوار کے ساتھ اسے پھاڑ دیا‘ وہ گر پڑی سو وہ اسے شرعی طریقہ سے ذبح نہ کر سکا۔سو میں اور حضرت عبداللہ بن ثابت بن جذع نکلے‘ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مل گئے‘ سو ہم نے اس گائے کا معاملہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا گوشت کھاؤ (وہ حلال ہے) تمہارے پالتو جانوروں میں سے جب کوئی بھاگ جائے تو اسے روکنے کی کوشش کرو‘ اس طریقے سے جس طرح تم جنگلی جانوروں کو روکتے ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، ← حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1860

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1861

1861 - حدثنا جعفر بن مهران قال : حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن سهل : أبي ليلى عن جابر بن عبد الله قال Y خرج مرحب بن الحارث اليهودي وهو يقول : ( قدعلمت خيبر أني مرحب شاكي السلاح بطل مجرب ) . ( أطعن أحيانا وحينا أضرب إذا الليوث أقبلت تلهب ) . ( وأحجمت عن صولة المجرب كان حماي الحمى لا يقرب ) . هل من مبارز ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لهذا ؟ قال محمد بن مسلمة : أنا يا رسول الله أنا والله الموتور الثائر قتلوا أخي بالأمس فقال : قم إليه اللهم أعنه فلما دنا أحدهما من صاحبه عرضت بينهما شجرة فطفق أحدهما يلوذ بها من صاحبه فكلما لاذ بها منه اقتطع بسيفه ما دونه حتى رأيتها وإنها كالرجل القائم حتى خلص كل واحد منهما إلى صاحبه فشد عليه مرحب فضربه واتقاه بالدرقة فوقع سيفه فيها فنشب وعضت له الدرقة فأمسكته فضربه محمد بن مسلمة فقتله

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مرحب بن حارث یہودی نکلا وہ پڑھ رہا تھا : ’’خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں‘ ہمیشہ ہتھیار پہنے رکھتا ہوں‘ جو انمرد ہوں‘ تجربہ کار ہوں‘ کبھی نیزہ چلاتا ہوں اور کبھی تلوار کے وار کرتا ہوں کیونکہ کئی شیر دل جوان آگے بڑھے غصے سے اور بہت جلد ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور میں ایسے حملہ کرتا ہوں جیسے ایک تجربہ کار‘ میری چراگاہ کے قریب کوئی نہیں بھٹکتا‘‘۔ ہے کوئی جنگ کرنا والا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم بخدا! میں ایک ایسا شخص ہوں جو مقتول ( بھائی ) کا بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن خون کا مطالبہ کرنے والا ہوں‘ کل انہوں نے میرے بھائی کو قتل کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھ کھڑا ہو! اس کی طرف جا‘ اے اللہ! اس کی مدد فرمانا۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو دونوں کے درمیان ایک درخت آڑے آ گیا۔ دونوں میں ہر ایک نے دوسرے کے وار سے بچنے کے لیے اس کو اپنی پناہ گاہ بنانا شروع کر دیا‘ سو جب بھی ان میں سے کوئی اس درخت کو اپنی پناہ گاہ بناتا تو دوسرے کے وار اُسی پر ہوتا جو سامنے ہوتی حتٰی کہ میں نے اس درخت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان دونوں میں کھڑے آدمی کی مانند معلوم ہوتا یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے وار سے بچ جاتا‘ مرحب نے ان پر سخت حملہ کیا چمڑے کی ڈھال سے‘ انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی تو مرحب کی تلوار اس میں پیوست ہو گئی اور اس میں پھنس کے رہ گئی‘ چمڑے کی ڈھال میں اس کی پکڑ کا سبب بن گئی اور اسے وہیں روک لیا‘ سو حضرت محمد بن مسلمہ نے اس پر تلوار کا وار کر کے قتل کر دیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عبد الله بن سهل أبي ليلى ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جعفر بن مهران

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1861

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1862

1862 - حدثنا جعفر بن مهران حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال : حدثني عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر بن عبد الله قال Y أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نعلم بخبء القوم الذي خبؤوا لنا فاستقبلنا وادي حنين في عماية الصبح وهو واد أجوف من أودية تهامة حطوط إنما ينحدرون فيه انحدارا قال : فوالله إن الناس ليتتابعون لا يعلمون بشيء إذا فجئهم الكتائب من كل ناحية فلم يتناظر الناس أن انهزموا راجعين قال : وانحاز رسول الله ذات اليمين قال : أين أيها الناس أنا رسول الله أنا محمد بن عبد الله K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے‘ ہمیں معلوم نہ تھا کہ قوم کہاں چھپی ہوئی ہے‘ صبح ہوتے ہی منہ اندھیرے ہم وادی حنین پہنچ گئے وہ ایک ایسی وادی ہے جو تہامہ کی وادیوں سے زیادہ کھلی ہے‘ اونٹیاں اس میں تیز تیز چل رہی تھیں ۔ راوی کہتے ہیں قسم بخدا! بے شک لوگ بغیر کوئی چیز جانے ایک دوسرے کے پیچھے چل رہے تھے۔ اچانک ہر طرف سے مختلف لشکر ان کے پاس آ گئے‘ سو قریب تھا کہ لوگ شکست کھانے کے ڈر سے واپس لوٹنے والے ہوتے ۔ راوی کا بیان ہے : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں ! میں محمد بن عبداللہ ہوں ۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جعفر بن مهران

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1862

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1863

1863 - حدثنا جعفر حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر قال Y كان أمام هوازن رجل جسيم على جمل أحمر في يده راية سوداء إذا أدرك طعن بها وإذا فاته شيء [ من ] بين يديه دفعها من خلفه فأنفذه فصمد له علي بن أبي طالب ورجل من الأنصار كلاهما يريده قال : فضربه علي على عرقوبي الجمل فوقع على عجزه قال : وضرب الأنصاري ساقه قال : فطرح قدمه بنصف ساقه فوقع واقتتل الناس . وخرج حين كانت الهزيمة كلدة ـ وكان أخا صفوان بن أمية ـ يومئذ مشركا في المدة التي ضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا بطل السحر اليوم فقال له صفوان : اسكت فض الله فاك فوالله لأن يربني رجل من قريش أحب إلي من أن يربني رجل من هوازن K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بنو ہوازن کے سامنے سامنے ایک آدمی تھا‘ بھاری بھر کم‘ سرخ اونٹ پر سوار‘ اس کے ہاتھ میں سیاہ جھنڈا تھا‘ جب وہ پاتا تو نیزہ چلاتا‘ اور جب سامنے کوئی شی نہ ہوتی تو پیچھے سے اس کی حفاظت کرتا‘ پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ارادہ کیا اور ایک انصاری نے دونوں اس کو نشانہ کر رہے تھے۔ راوی کا بیان ہے: پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر وار کیا‘ اس کے اونٹ کی دونوں کونچوں پر‘ پس اونٹ اپنی دُم کے بل گرا‘ انصاری نے اس کی پنڈلی پر مارا‘ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے الگ کر دیا‘ پس وہ گر پڑا‘ لوگوں نے مل کر اسے قتل کر دیا‘ پس جب ان کو شکست ہوئی تو وہ کلدہ نکلا‘ وہ صفوان بن امیہ کا بھائی تھا‘ اور وہ اس وقت مشرک تھا‘ جس مدت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے یہ مثال بولی کہ آج کے دن سحر باطل ہو گیا‘ پس صفوان نے آپ سے عرض کی: اللہ آپ کا منہ سلامت رکھے! آپ خاموش رہیں ۔ پس قسم بخدا! ایک قریشی کا مجھے پالنا‘ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے‘ بنو ہوازن کے کسی آدمی کے مجھے پالنے سے۔

أبيه جابر ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1863

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1864

1864 - حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال Y صلى النبي صلى الله عليه و سلم على النجاشي فكنت في الصف الثاني K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نجاشی کی نماز جنازہ پڑھایا‘ میں دوسری صف میں موجود تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1864

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1865

1865 - حدثنا عبيد الله حدثنا بشر بن المفضل حدثنا عمر بن عبد الله مولى غفرة قال : سمعت أيوب بن خالد بن صفوان يقول : قال جابر Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس إن لله سرايا من الملائكة تحل وتقف على مجالس الذكر في الأرض فارتعوا في رياض الجنة قالوا : وأين رياض الجنة يا رسول الله ؟ : مجالس الذكر فاغدوا وروحوا في ذكر الله وذكروه بأنفسكم من كان يحب أن يعلم منزلته عند الله فلينظر كيف منزلة الله عنده فإن الله ينزل العبد منه حيث أنزله من نفسه K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ فرشتے بھیجتا ہے‘ وہ چلتے ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں رکھتے ہیں ۔ پس جنت کے باغوں سے چر لیا کرو۔ عرض کی : یا رسول اللہ! جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا : ذکر کی مجالس میں صبح و شام اللہ کے ذکر میں کرو اور اپنے دل کے ساتھ یاد کرو ۔ جو پسند کرتا ہے کہ وہ معلوم کرے اللہ کے ہاں اپنا مقام تو وہ دیکھے کہ اللہ کے ہاں اپنا مقام کیا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی مقام دیتا ہے جو بندہ اللہ کی ذات کو دیتا ہے۔

أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1865

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1866

1866 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا بشر بن المفضل عن عمر مولى غفرة عن أيوب بن خالد عن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← جَابِرٍ ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1866

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1867

1867 - حدثنا عبيد الله بن معاذ قال : ذكر أبي عن يوسف بن محمد بن المنكدر عن أبيه عن جابر بن عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى حي كريم يستحيي من عبده أن يرفع إليه يديه فيردهما صفرا ليس فيهما شيء ؟ K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بڑا حیاء والا کرم کر نے والا ہے ۔ اس کو حیاء آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کرے اور وہ ان ہاتھوں کو خالی ہاتھ واپس پھیر دے۔ان میں کوئی شے نہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد بن المنكدر ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1867

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1868

1868 - حدثنا عبيد الله بن معاذ قال : ذكر أبي عن يوسف بن محمد المنكدر عن أبيه عن جابر قال Y بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في السوق إذا امرأة قد أخذت بعنان دابته وهو على حمار فقالت : يا رسول الله إن زوجي لا يقربني ففرق بيني وبينه ومر زوجها فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : مالك ولها جاءت تشكو منك جفاء : تشكو منك أنك لا تقربها قال : يا رسول الله والذي أكرمك إن عهدي بها لهذه الليلة وبكت المرأة فقالت : كذب فرق بيني وبينه فإنه من أبغض خلق الله إلي فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أخذ برأسه ورأسها فجمع بينهما وقال : اللهم أدن كل واحد من صاحبه قال : جابر : فلبثنا ما شاء الله أن نلبث ثم مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسوق فإذا نحن بامرأة تحمل أدما فلما رأته طرحت الأدم وأقبلت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما خلق الله من بشر أحب إلي منه إلا أنت قال عبيد الله : ولا أراني سمعته من أبي K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بازار میں تھے جب کہ ایک عورت تھی اس نے اپنے جانور کی لگام پکڑی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار تھے ‘ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا ہے‘ میرے اور اس کے درمیان جدائی کر دی جائے ۔(اس حالت میں ) اس کا شوہر وہاں سے گزرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو اور اس عورت کو کیا ہے؟ یہ تیری وفائی کی شکایت کرنے کے لیے آئی‘ یہ شکایت کر رہی ہے کہ تو اس کے پاس نہیں جاتا۔ اس بندہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دی ہے! میرا اس کے ساتھ وعدہ ہوا ہے اس رات ۔ اس عورت نے عرض کی: یہ جھوٹ بولتا ہے‘ میرے اور اس کے درمیان جدائی ڈال دی جائے ۔ یہ اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا‘ پھر اس مرد اور اس عورت دونوں کا سر پکڑا‘ دونوں کو اکٹھا کیا اور عرض کی : اے اللہ ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے قریب کر دے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ٹھہرے جتنا اللہ نے چاہا ہمارا ٹھہرنا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار سے گزرے ، جب ہم عورت کے پاس سے گزرے وہ سالن اٹھائے ہوئے تھی جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو سالن کو پھینک کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی طرف پلٹی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! کوئی انسان اب مجھے اس ( شوہر ) سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ صرف آپ اس سے زیادہ محبوب ہیں‘ حضرت عبیداللہ نے کہا: مجھے خیال نہیں ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد المنكدر ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1868

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1869

1869 - حدثنا عبيد الله حدثنا أبي حدثنا قره عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال Y دعا النبي صلى الله عليه و سلم بصحيفة عند موته يكتب فيها كتابا لأمته قال : لا يضلون ولا يضلون فكان في البيت لغط فتكلم عمر بن الخطاب فرفضه النبي صلى الله عليه و سلم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے قریب ایک کاغذ منگوایا ، اس میں اپنی امت کے لیے کچھ لکھنے کے لیے (فرمایا) تاکہ نہ گمراہ ہوں گے نہ کیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں شور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی بات کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1869

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1870

1870 - حدثنا عبيد الله حدثنا أبي حدثنا قره عن أبي الزبير عن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من يصعد الثنية : ثنية المرار فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل فكان أول من صعدها خيلنا : خيل بني الخزرج قال : فتتابع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلكم مغفور له إلا صاحب الجمل الأحمر فقلنا : تعال يستغفر لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : والله لأن أجد ضالتي أحب إلي من أن يستغفر لي صاحبكم وإذا هو رجل ينشد ضالة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس بلندی پر چڑھے گا ثنیہ المرار پر ۔ پس اس سے کمی کی جائے گی جو کمی بنی اسرائیل سے کی گئی تھی ۔سب سے پہلے جو چڑھا وہ ہمارا گھوڑا خیل بنی الخزرج تھا۔لوگوں نے اس کا پیچھا کیا (یعنی پے در پے چڑھنے لگے) ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب کی بخشش ہو جائے گی مگر اس سرخ اونٹ کے مالک کی نہیں ۔ ہم نے اس کو کہا: آ تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بخشش طلب کرتے ہیں ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے گم شدہ گھوڑا مل جانا تمہارے صاحب کی بخشش مانگنے سے زیادہ بہتر ہے‘ وہ آدمی اپنے گم شدہ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1870

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1871

1871 - حدثنا ابن نمير حدثنا سعيد بن الربيع حدثنا قره بن خالد عن أبي الزبير عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا عند موته بصحيفة ليكتب فيها كتابا لا يضلون بعده ولا يضلون وكان في البيت لغط وتكلم عمر بن الخطاب فرفضها رسول الله صلى الله عليه و سلم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے قریب ایک کاغذ منگوایا ، اس میں اپنی امت کے لیے کچھ لکھنے کے لیے (فرمایا) تاکہ نہ گمراہ ہوں گے نہ کیے جائیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں شور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی بات کی ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1871

chevron_left Previous
1…111213…20
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter