مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1860
1860 - حدثنا جعفر بن مهران السباك حدثنا عبد الأعلى حدثنا محمد بن إسحاق عن حرام بن عثمان عن محمود بن عبد الرحمن بن عمرو بن الجموح عن جابر بن عبد الله قال Y ابتعنا بقرة في عهد نبي الله صلى الله عليه و سلم لنشترك عليها فانفلتت منا فامتنعت علينا فعرض لها مولى لنا يقال له : ذكوان بسيف في يده وهي تجول بالصماد فضبا إلى تل فلما مرت به ضربها بالسيف في أصل عنقها أوعلى عنقها فخرقها بالسيف ووقعت فلم يدرك ذكاتها فخرجت أنا و عبد الله بن ثابت بن الجذع فلقينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا له شأنها فقال : كلوا إذا فاتكم من هذه البهائم شيء فاحبسوه بما تحبسون به الوحش K إسناده ضعيف
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے گائے خریدی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تاکہ ہم اس پر شریک ہو جائیں‘ وہ ہم سے بھاگ گئی تو ہم اس کو روکنے سے عاجز آ گئے‘ اس کو ہمارے غلام نے روکا‘ اس کو ذکوان کہا جاتا تھا وہ گائے بلند جگہ گھوم رہی تھی‘ سو اس غلام نے ٹیلے کے ساتھ پناہ لی‘ سو جب گائے اس کے پاس سے گزرنے لگی تو اس نے گائے کی گردن کی جڑ میں یا گردن پر ( راوی کو شک ہے ) تلوار ماری‘ سو تلوار کے ساتھ اسے پھاڑ دیا‘ وہ گر پڑی سو وہ اسے شرعی طریقہ سے ذبح نہ کر سکا۔سو میں اور حضرت عبداللہ بن ثابت بن جذع نکلے‘ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مل گئے‘ سو ہم نے اس گائے کا معاملہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا گوشت کھاؤ (وہ حلال ہے) تمہارے پالتو جانوروں میں سے جب کوئی بھاگ جائے تو اسے روکنے کی کوشش کرو‘ اس طریقے سے جس طرح تم جنگلی جانوروں کو روکتے ہو۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، ← حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1860
