Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 274

274- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ؟ وَأيُّ الصَّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصَّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ.

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں یعنی حضور صلى الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے؟ اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: فرض نماز کے بعد افضل نماز آدمی کا رات کے درمیان نماز پڑھنا ہے اور ماہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 274

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 275

275- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ (1)، [نَا] أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ صَلاَةُ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصَّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ. _حاشية__________ (1) جاء في الأصل: "حماد" والصواب ما أثبته، وما بين الحاجزين ليس في الأصل، استدركته من مصادر التخريج والترحمة.

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن حمیری‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سےروایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے اورماه رمضان المبارک کے بعد افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُمَيْدِيِّ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 275

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 276

276- أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ يَلِي طَعَامَ الْقَوْمِ كُلَّ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنَّا، فَكَانَ يَوْمِي فَاجْتَمَعَ عِنْدِي، وَلَمَّا يُدْرِكَ طَعَامَهُمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَتْحَ مَكَّةَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ، فَجَاؤُوا يُهَرْوِلُونَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَتَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا. قَالَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا، فَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى، وَالزُّبَيْرَ بنَ الْعَوَّامِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى، قَالَ: وَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجرَّاحِ عَلَى الْبَارِقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي،. فَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِينَاهُمْ، قَالَ: فَلَمْ يُسْرِفْ مِنَ الْقَوْمِ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَامُوهُ، قَالَ: وَفُتِحَ لِرَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عِنْدَ الصَّفَا، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، [فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم:] (1) مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ، مَنْ أَلْقَى سِلاَحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: أَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَحْمَةٌ فِي قَوْمِهِ وَرَغْبَةٌ فِي [قَرْيَتِهِ] (2)، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، أَقُلْتُمْ أَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَقَدْ أَدْرَكَتُهُ رَحْمَةٌ فِي قَوْمِهِ وَرَغْبَةٌ فِي [قَرْيَتِهِ] (2)، فَمَا اسْمِي إِذًا، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلاَّ ضَنًّا بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ. قَالَ عَفَّانُ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجرَّاحِ عَلَى الْحُسَّرِ، يُرِيدُ الْبَارِقَةَ.

حضرت عبداللہ ابن رباح فرماتے ہیں ہم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ ہم میں سے ہرشخص ایک دن سب کے کھانے کا انتظام کرتا ت تھا جس دن میری باری تھی‘ سب لوگ میرے پاس جمع ہوئے ۔ ابھی ان کے لئے کھانا تیار نہ ہوا تھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ! انصار کو بلاؤ۔ میں ان کو بلا لایا تو وہ قدرے تیز رفتار سے آئے ۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم قریش کے بدمعاشوں کو دیکھتے ہو؟ كل جب ان سے مقابلہ ہو تو ان کو اچھی طرح کاٹ دو۔حضرت حماد (راوی) نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر اشارہ کیا پھر ہم صفا پرملیں گے پھر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لشکر کے دائیں پہلو پر مقرر کیا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بائیں پہلو پر مقرر فرمایا۔ فرماتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیدل دستے پر مقرر فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب دوسرا دن ہوا تو ہم ان کے مقابل ہوئے اور ان میں سے جو بھی سامنے آیا اس کو موت کی نیند سُلا دیا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کو فتح حاصل ہوئی حتیٰ کہ آپ صفا پر چڑھ گئے ۔ انصار آئے اور صفا پر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ قریش کی جماعت کو بالکل ختم کر دیں گے؟ آج کے بعد قریش باقی نہیں رہیں گے؟ پس رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص اپنے گھر میں داخل ہو جائے اسے امن ہے۔ جوآدمی ہتھیار ڈال دے اسے امن ہے۔ جو اپنا دروازہ بند کر دے اسے بھی امن ہے۔انصار نے کہا: رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کو اپنی قوم پر ترس آ گیا اور اپنے شہر کی طرف رغبت ہو گئی ہے۔ اس دوران رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم پروحی نازل ہوئی جب وحی کی حالت ختم ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم لوگوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ(صلى الله علیہ وسلم)کو اپنی قوم رحم آ گیا ہے اور اپنی بستی کی طرف رغبت پیدا ہو گئی ؟ اس وقت میرا نام کیا ہو گا۔ میں اللہ کابندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ اور زندگی تمہارے ساتھ اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے۔انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم نے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لالچ میں یہ بات کہی ہے۔ فرمایا: بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے اور عذر قبول کرتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 276

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 277

277- أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى (1)، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ. _حاشية__________ (1) تحرف في المطبوع إلى: "زرارة بن أبي أوفى"، انظر: "التاريخ الكبير" 3/438، و"الجرح والتعديل" 3/603، و"تهذيب الكمال" 9/339، وهو زُرارة بن أَوفى العامري الحرشي، أَبو حاجب البَصرِي، قاضي البصرة.

حضرت سعد بن هشام‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا: ” کتے‘ گدھے اور عورت (کے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے(یعنی ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے)۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 277

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 278

278- أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي (1)، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ. _حاشية__________ (1) في المطبوع: "[و]حَدَّثَنِي أَبِي" وأثبتناه، بحذف "الواو". فمعاذ بن هشام يروي عن أبيه هشام الدستوائي. والحديث على الصواب، في "مسند أحمد" 14/546، و15/214، و"السنن الكبرى" 8/110.

حضرت زاره بن اوفیٰ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا:’’(رحمت کے) فرشتے اس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 278

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 279

279- أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا زَكَرِيَا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونَا، وَاللَّبَنُ الدَّرُّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونَا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ.

حضرت شعبی‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’سواری پر اس کے نفقہ کے بدلے سواری کی جاسکتی ہے جب وہ رہن رکھی گئی ہو اور( جانور کے) تھنوں کا دودھ بھی پیا جا سکتا ہے جب وہ جانور رہن رکھا گیا ہو اور جو شخص سوار ہو اور دودھ پیے اس پر اس (جانور) کا نفقہ ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 279

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 280

280- أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ.

حضرت ابو صالح‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رہن رکھے ہوئے جانور پر سواری کی جاسکتی ہے اور اس کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔

«الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ». ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 280

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 281

281- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ صَفِيِّي وَخَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ، صَاحِبُ الْحُجْرَةِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَا نُزِعَتِ الرَّحْمَةُ إِلاَّ مِنْ شَقِيٍّ.

حضرت ابو صالح‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میرے صفی اور میرے خلیل ابو القاسم حجرۂ مبارکہ والے صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رحمت صرف بد بخت (کے دل) سے نکالی جاتی ہے۔‘‘

صَفِيِّي وَخَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ، صَاحِبُ الْحُجْرَةِ مَا نُزِعَتِ الرَّحْمَةُ إِلاَّ مِنْ شَقِيٍّ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 281

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 282

282- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثنا زُهَيْرُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثنا الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ أَبُو الْقَاسِمِ، صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: أَوَّلُ خَصْمٍ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْزَانُ ذَاتُ قَرْنٍ، وَغَيْرُ ذَاتِ قَرْنٍ. _حاشية__________ (1) تحرف في المطبوع إلى: "عَنْ جَابِرٍ [بن] ابْنِ أَبِي نُعْمٍ"، وقال في حاشيته: "في إسناده جابر بن أبي نعم، لم أقف عليه فيما بحثت". قلت: وأثبتناه، عن جابر "وهو بن يزيد بن الحارث الجعفي"، عن ابن أبي نعم "وهو عبد الرحمن بن أبي نعم". والحديث على الصواب، في "المعجم الأوسط" 8/27، وقال عقبه: "لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدَيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، إلاَّ جَابِرٌ، وَلاَ عَنْ جَابِرٍ، إلاَّ زُهَيْرٌ، وَلاَ عَنْ زُهَيْرٍ، إلاَّ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الشَّعْثَاءِ".

حضرت جابر‘ ابن اُبی سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں صادق ومصدوق ابوالقاسم صلى الله علیہ وسلم نے خبر دی ۔ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے د و بکریوں کے درمیان فیصلہ ہو گا۔ ایک سینگ والی اور دوسری بغیر سینگ کے۔‘‘

الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ أَبُو الْقَاسِمِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← جَابِرٍ ← زهير بن خيثمة ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 282

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 283

283- أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَجَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعِزُّ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَظَمْتُهُ أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ.

حضرت اغرّ ابومسلم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کبریائی میری چادر ہے اور عزت میری ازار(چادر) ہے پس جوشخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا ‘ میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سفيان وجرير

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 283

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 284

284- أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالاَ: حَدَّثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الْخَالُ وَارِثٌ.

حضرت ابوھُبَیرہ(یحییٰ بن عبّاد ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’ماموں وارث ہے‘‘

الْخَالُ وَارِثٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي هُبَيْرَةَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ← لَيْثٌ، ← شَرِيکٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 284

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مِنْ رِجَالِ الْكُوفِيِّينَ. · حديث 285

285- أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثنا أَبُو بَلْجٍ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْجُلاَسُ، يُحَدِّثُ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ مَرَّ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضٌ: حَدِّثْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: دَعْنَا مِنْكَ يَا مَرْوَانُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ: أَتَعُدُّ مَا قُلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَقُولُ: اللَّهُمْ أَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلإِسْلاَمِ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلاَنِيَتَهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهُ.

حضرت جُلاس روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ حدیث بیان کر رہے تھے ۔ اس نے کہا: اے ابو ہریرہ! کچھ حدیث بیان کرو ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے مروان! ہمیں اپنے آپ سے دور رہنے دو۔راوی فرماتے ہیں وہ پھر آیا اور کہنے لگا آپ نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے جنازے کے بارےمیں کس طرح سنا ہے؟آپ نے فرمایا: تمہاری اس گفتگو کے بعد( میں بیان کروں)؟ اس نے کہا: ہاں! آپ نےفرمایا : حضور صلى الله علیہ وسلم اس طرح فرماتے تھے : ’’اللّٰھم انت خلقتھا وانت قبضت روحھا روحھا وانت ھدیتھا للاسلام وانت تعلم سرھا وعلانیتھا جئنا شفعاء فاغفرلھا‘‘یا اللہ! تو نے اس کو پیدا کیا اور یہ تیرےہی قبضہ میں ہے‘ تو نے اس کی روح کو قبضہ میں کیا‘ تو نے اس کو اسلام کی ہدایت دی اور تُو اس کے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے ہم سفارشی بن کرآئے ہیں پس تو اس کو بخش دے۔

نَعَمْ ← أَتَعُدُّ مَا قُلْتُ؟ ← رَسُولَ اللهِ عَلَى الْجِنَازَةِ؟ ← لَهُ: كَيْفَ ← ثم رجع ← دَعْنَا مِنْكَ يَا مَرْوَانُ، ← يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ← بَعْضٍ» ← أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ مَرَّ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ ← الجلاس ← أَبُو بَلْجٍ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، ← سويد بن عبد العزيز الدمشقي

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 285

chevron_left Previous
1…646566…233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter