Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 1

1- أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ: جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.

حضرت ابوقلابہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے تھے ،تمہارے پاس (ماه )رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کئے ۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں ۔ اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینےسے بہتر ہے۔ جو اس کی بھلائی سے محروم رہا وہ (حقیقتاً) محروم رہا ۔

كَانَ رَسُولُ اللهِ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 1

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 2

2- أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.

حضرت ابوقلابہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا بے شک تمہارے پاس رمضان (کا مہینہ ) آ گیا‘یہ مبارک مہینہ ہے۔

قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← الثَّقَفِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 2

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 3

3- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَّيْتُهُنَّ فِي يَدِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَدَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ شَيْئًا فَأَدْخِلْ يَدَكَ وَلاَ تَنْثُرْهُ نَثْرًا. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَحَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ فِي حِقْوِي حَتَّى انْقَطَعَ مِنِّي لَيَالِيَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا‘ وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے پاس کچھ کھجوریں لایا جن کو میں نے اپنے ہاتھ میں ترتیب سے رکھا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم! میرے لئے ان میں برکت کی دعا فرمائیں۔ پس آپ نے میرے لئے ان میں برکت کی دعا فرمائی اور آپ نے فرمایا جب تم ان میں سے کچھ لینا چاہو تو اپنا ہاتھ (اس برتن یا تھیلی میں) داخل کرو اور ان کو پوری طرح نہ پھیلا نا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ان کھجوروں میں سے اتنے اتنے وسق (کھجوریں) اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیں۔ وہ فرماتے ہیں ہم ان سے کھاتے اور کھلاتے تھے اور وہ میری ازار بند کی جگہ میں تھیں حتٰی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے محاصرے)کےدور میں ختم ہوئیں۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَّيْتُهُنَّ فِي يَدِي، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 3

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 4

4- أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَلاَةُ الْفَجْرِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ شُعَاعِ الشَّمْسِ، فَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ كُلَّهَا، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِالْمَدِينَةِ الأُولَى وَالْعَصْرَ ثَمَانِي سَجَدَاتٍ. قَالَ: وَسُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ صَلاَةِ الْمُسَافِرِ، فَقَالَ: زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى يَرْجِعَ فِي الْمَسِيرِ وَالإِقَامَةِ بِمَكَّةَ. قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يُصَلِّي بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْهِجْرَةِ، فَلَمَّا أَتَى الْمَدِينَةَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَجَعَلَ صَلاَتَهُ بِمَكَّةَ لِلْمُسَافِرِ.

حضرت عمرو بن ھرم ، حضرت جابر بن زید سے روایت کرتے ہیں۔ ان سے اوقات ِنماز کےبارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں فجر کی نماز‘ طلوع فجر سے سورج کی شعاعیں طلوع ہونے تک ہے۔ پس انہوں نے تمام اوقات کا ذکر کیا اور ان کا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ میں پہلی (یعنی ظہر) اور عصر کی نماز آٹھ (آٹھ) سجدے پڑھی (یعنی چار چار رکعات)۔راوی فرماتے ہیں حضرت جابر بن زید سے مسافر کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا تو وہ سب جب مدینہ طیبہ ( کی حدود) سے نکلتے تو واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے‘ چاہے راستےمیں یا مکہ مکرمہ میں ۔ وہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا رسول کریم صلى الله علیہ وسلم ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں دو رکعتیں پڑھتے تھے‘ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو چار رکعات نماز فرض ہوگئی اور مکہ مکرمہ میں آپ صلى الله علیہ وسلم کی نماز مسافر کی نماز ہوگئی۔

صَلاَةِ الْمُسَافِرِ، ← وَسُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ← صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ بِالْمَدِينَةِ الأُولَى وَالْعَصْرَ ثَمَانِي سَجَدَاتٍ. ← الْمَوَاقِيتَ كُلَّهَا، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← ابْنُ عَبَّاسٍ: صَلاَةُ الْفَجْرِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ شُعَاعِ الشَّمْسِ، ← مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ← حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 4

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 5

5- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا هِشَامٌ، صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

حضرت زرارہ بن اوفیٰ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بندوں کے قلبی وسوسے معاف کر دیئے۔ جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا ان کو کلام میں نہ لائیں۔

بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ. ← امتي ما ← إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 5

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 6

6- أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

حضرت زرارہ بن اوفیٰ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کی دل کی با تیں معاف کردیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا جب تک ان کے ساتھ کلام نہ کرے۔

بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ. ← امتي ما ← إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 6

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 7

7- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا مِسْعَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

ایک اور سند کے ساتھ حضرت زرارہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی مثل غیر مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ. ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 7

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 8

8- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

حضرت اعرج، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے قلبی وسوسوں کو معاف کر دیا جب تک ان پر عمل نہ کرے یا ان کو اپنی گفتگو میں نہ لائے ۔

بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْهُ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ. ← امتي ما ← إِنَّ اللَّهَ عَفَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 8

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 9

9- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ.

حضرت زرارہ بن اوفیٰ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑ دیتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں حتٰی کہ واپس آجائے ۔

«إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 9

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ وبه أستعين مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَزُرَارَةَ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 10

10- أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثنا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم وَهُوَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ خَلَقَ الصُّورَ، فَأَعْطَاهُ إِسْرَافِيلَ، فَهُوَ وَاضِعُهُ عَلَى فِيهِ شَاخِصٌ بَصَرَهُ إِلَى الْعَرْشِ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الصُّورُ؟ قَالَ: الْقَرْنُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ هُوَ؟ قَالَ: عَظِيمٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ عَظْمَ دَارَةٍ فِيهِ لَكَعَرْضِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يَنْفُخَ ثَلاَثَ نَفَخَاتٍ، الأُولَى نَفْخَةُ الْفَزَعِ، وَالثَّانِيَةُ نَفْخَةُ الصُّعُوقِ، وَالثَّالِثَةُ نَفْخَةُ الْقِيَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ فَيَقُولُ لَهُ: انْفُخْ نَفْخَةَ الْفَزَعِ، فَيَفْزَعَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلُ الأَرْضِ، إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، فَيَأْمُرُهُ فَيُدِيمُهَا وَيُطَوِّلُهَا فَلاَ يَفْتُرُ، وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاَءِ إِلاَّ صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ}، فَيُسَيِّرُ اللَّهُ الْجَبَالَ فَتَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ، ثُمَّ تَكُونَ تُرَابًا، وَتَرْتَجُّ الأَرْضُ بِأَهْلِهَا رَجًّا، وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ:. {يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ، تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ}، فَتَكُونَ الأَرْضُ كَالسَّفِينَةِ الْمُوثَقَةِ فِي الْبَحْرِ، تَضْرِبُهَا الأَمْوَاجُ تُكْفَأُ بِأَهْلِهَا، أَوْ كَالْقِنْدِيلِ الْمُعَلَّقِ بِالْعَرْشِ، تُرْجِحُهُ الأَرْوَاحُ، فَتَمِيدُ النَّاسُ عَلَى ظَهْرِهَا فَتَذْهَلُ الْمَرَاضِعُ، وَتَضَعُ الْحَوَامِلُ، وَتَشِيبُ الْوِلْدَانُ، وَتَطِيرُ الشَّيَاطِينُ هَارِبَةً حَتَّى تَأْتِيَ الأَقْطَارَ، فَتَلْقَاهَا الْمَلاَئِكَةُ فَتَضْرِبُ وَجُوهَهَا، فَيَرْجِعُ وَيُوَلِّي النَّاسُ مُدْبِرِينَ، يُنَادِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَوْمَ التَّنَادِ يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ}، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذِ انْصَدَعَتِ الأَرْضُ، فَانْصَدَعَتْ مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، فَرَأَوْا أَمْرًا عَظِيمًا، فَأَخَذَهُمْ لِذَلِكَ مِنَ الْكَرْبِ وَالْهَوْلِ مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ، ثُمَّ تَكُونَ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ، ثُمَّ انْشَقَّتْ مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، ثُمَّ انْخَسَفَتْ شَمْسُهَا وَقَمَرُهَا، وَانْتَثَرَتْ نُجُومُهَا، ثُمَّ كُشِطَتِ السَّمَاءُ عَنْهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: وَالأَمْوَاتُ لاَ يَعْلَمُونَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَمَنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ حِينَ يَقُولُ: {فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ}، فَقَالَ: أُولَئِكَ الشَّهَدَاءُ، وَهُمْ أَحْيَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ،. وَإِنَّمَا يَصِلُ الْفَزَعُ إِلَى الأَحْيَاءِ، فَوَقَاهُمُ اللَّهُ فَزَعَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَأَمَّنَهُمْ مِنْهُ، وَهُوَ عَذَابُ اللهِ يَبْعَثُهُ عَلَى شِرَارِ خَلْقِهِ، وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ، يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ}، قَالَ: فَيَمْكُثُونَ فِي ذَلِكَ الْبَلاَءِ مَا شَاءَ اللَّهُ، إِلاَّ أَنَّهُ يَطُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ بِنَفْخَةِ الصَّعْقِ فَيُصْعَقُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلُ الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا هُمْ خَمَدُوا خُمُودًا، فَجَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى الْجَبَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ مَاتَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلُ الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شِئِتَ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: فَمَنْ بَقِيَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنْتَ الْحَيُّ لاَ تَمُوتُ، وَبَقِيَ حَمَلَةُ عَرْشِكَ، وَجِبْرِيلُ، وَمِيكَائِيلُ، وَأَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: لِيَمُتْ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، قَالَ: فَيَتَكَلَّمُ الْعَرْشُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَتُمِيتُ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ؟ فيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اسْكُتْ، فَإِنِّي كَتَبْتُ عَلَى مَنْ كَانَ تَحْتَ عَرْشِي الْمَوْتَ، فَيَمُوتَانِ، وَيَأْتِي مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى الْجَبَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ مَاتَ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ،. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: فَمَنْ بَقِيَ؟ فَيَقُولُ: بَقِيتَ أَنْتَ الْحَيُّ لاَ تَمُوتُ، وَبَقِيَ حَمَلَةُ عَرْشِكَ، وَأَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: لِيَمُتْ حَمَلَةُ عَرْشِي، فَيَمُوتُونَ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: فَمَنْ بَقِيَ؟ فَيَقُولُ: بَقِيتَ أَنْتَ الْحَيُّ لاَ تَمُوتُ، وَبَقِيتُ أَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَنْتَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِي، خَلَقْتُكَ لِمَا قَدْ رَأَيْتَ فَمُتْ، فَيَمُوتَ، فَإِذَا لَمْ يَبْقَ إِلاَّ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَيْسَ بِوَالِدٍ وَلاَ وَلَدٍ، كَانَ آخِرًا كَمَا كَانَ أَوَّلاً، قَالَ: خُلُودٌ، لاَ مَوْتَ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ وَلاَ مَوْتَ عَلَى أَهْلِ النَّارِ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ؟ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ؟ فَلاَ يُجِيبُهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يَقُولُ لِنَفْسِهِ: {لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ}، ثُمَّ يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكِتَابِ، ثُمَّ يُبَدِّلُ اللَّهُ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ غَيْرَ الأَرْضِ، ثُمَّ دَحَا بِهَا، ثُمَّ يَلْفُفُهَا، ثُمَّ قَالَ: أَنَا الْجَبَّارُ، ثُمَّ يُبَدِّلُ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ غَيْرَ الأَرْضِ، ثُمَّ دَحَاهُمَا، ثُمَّ يَلْفُفُهُمَا فَقَالَ، ثَلاَثًا: أَنَا الْجَبَّارُ، أَلاَ مَنْ كَانَ لِي شَرِيكًا فَلْيَأْتِ، أَلاَ مَنْ كَانَ لِي شَرِيكًا فَلْيَأَتِ، فَلاَ يَأَتِيهِ أَحَدٌ، فَيَبْسُطُهَا وَيَسْطَحُهَا وَيَمُدُّهَا مَدَّ الأَدِيمِ الْعُكَاظِيِّ، لاَ تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلاَ أَمْتًا، ثُمَّ يَزْجُرُ اللَّهُ الْخَلْقَ زَجْرَةً وَاحِدَةً، فَإِذَا هُمْ فِي هَذِهِ الْمُبْدَلَةِ، فِي مِثْلِ مَوَاضِعِهِمُ الأُولَى، مَنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا كَانَ فِي بَطْنِهَا، وَمَنْ كَانَ عَلَى ظَهْرِهَا كَانَ عَلَى ظَهْرِهَا، ثُمَّ يُنَزِّلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ،. فَتُمْطِرُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَنْبُتُونَ كَنَبَاتِ الطَّرَاثِيثِ، وَكَنَبَاتِ الْبَقْلِ، حَتَّى إِذَا تَكَامَلَتْ أَجْسَادُهُمْ، فَكَانَتْ كَمَا كَانَتْ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِيَحْيَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ فَيَحْيَوْنَ، ثُمَّ يَقُولُ: لِيَحْيَ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ فَيَحْيِيَانَ، ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ فَيَقُولُ لَهُ: انْفُخْ نَفْخَةَ الْبَعْثِ، وَيَنْفُخُ نَفْخَةَ الْبَعْثِ، فَتَخْرُجُ الأَرْوَاحُ كَأَنَّهَا النَّحْلُ قَدْ مَلأَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ: وَعِزَّتِي وَجَلاَلِي لَيَرْجِعَنَّ كُلُّ رُوحٍ إِلَى جَسَدِهِ، فَتَدْخُلُ الأَرْوَاحُ فِي الأَرْضِ عَلَى الأَجْسَادِ، ثُمَّ تَمْشِي فِي الْخَيَاشِيمِ كَمَشْيِ السُّمِّ فِي اللَّدِيغِ، ثُمَّ تَنْشَقُّ عَنْهُمُ الأَرْضُ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، فَتَخْرُجُونَ سِرَاعًا إِلَى رَبِّكُمْ تَنْسِلُونَ، كُلُّكُمْ عَلَى سِنِّ ثَلاَثِينَ، وَاللِّسَانُ يَوْمَئِذٍ سُرْيَانِيَّةٌ، {مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ}، ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ، يُوقَفُونَ فِي مَوْقِفٍ وَاحِدٍ مِقْدَارَ سَبْعِينَ عَامًا، حُفَاةً عُرَاةً غُلْفًا غُرْلاً، لاَ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ وَلاَ يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَيَبْكِي الْخَلاَئِقُ حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمْعُ، وَيَدْمَعُونَ دَمًا، وَيَغْرَقُونَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ مِنْهُمُ الأَذْقَانَ، وَيُلْجِمَهُمْ، ثُمَّ يَضِجُّونَ فَيَقُولُونَ: مَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا لِيَقْضِيَ بَيْنَنَا؟ فَيَقُولُونَ: وَمَنْ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْ أَبِيكُمْ آدَمَ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَكَلَّمَهُ قُبُلاً،. فَيُؤْتَى آدَمُ، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَيَأْبَى، فَيَسْتَقِرُونَ الأَنْبِيَاءَ نَبِيًّا نَبِيًّا، كُلَّمَا جَاؤُوا نَبِيًّا أَبَى، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: حَتَّى يَأْتُونِي، فَإِذَا جَاؤُونِي انْطَلَقْتُ حَتَّى آتِيَ الْفَحْصَ، فَأَخِرُّ قُدَّامَ الْعَرْشِ سَاجِدًا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيَّ مَلَكًا (1) فَيَأْخُذُ بِعَضُدِي فَيَرْفَعُنِي، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْفَحْصُ؟ فَقَالَ: قُدَّامُ الْعَرْشِ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: مَا شَأْنُكَ يَا مُحَمَّدُ؟ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، وَعَدْتَنِي الشَّفَاعَةَ، فَشَفِّعْنِي فِي خَلْقِكَ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ: أَنَا آتِيكُمْ فَأَقْضِي بَيْنَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: فَأَجِيءُ فَأَرْجِعُ فَأَقِفُ مَعَ النَّاسِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ وَقُوفًا إِذْ سَمِعْنَا حِسًّا مِنَ السَّمَاءِ شَدِيدًا، فَهَالَنَا، فَنَزَلَ أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمِثْلَيْ مَنْ فِيهَا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ، حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنَ الأَرْضِ، أَشْرَقَتِ الأَرْضُ لِنُورِهِمْ، فَأَخَذُوا مَصَافَّهُمْ، فَقُلْنَا لَهُمْ (2): أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَقَالُوا: لاَ، وَهُوَ آتٍ، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ بِمِثْلَيْ مَنْ نَزَلَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، وَبِمِثْلَيْ مَنْ فِيهَا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ، حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنَ الأَرْضِ أشْرَقَتِ الأَرْضُ لِنُورِهِمْ، وَأَخَذُوا مَصَافَّهُمْ، فَقُلْنَا لَهُمْ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَقَالُوا: لاَ، وَهُوَ آتٍ، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ بِمِثْلَيْ مَنْ نَزَلَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، وَبِمِثْلَيْ مَنْ فِيهَا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنَ الأَرْضِ أَشْرَقَتِ الأَرْضُ لِنُورِهِمْ، وَأَخَذُوا مَصَافَّهُمْ، فَقُلْنَا لَهُمْ: أَفِيكُمْ رَبُّنَا؟ فَقَالُوا: لاَ، وَهُوَ آتٍ، ثُمَّ يَنْزِلُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ، سَمَاءً سَمَاءً، عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ مِنَ التَّضْعِيفِ، حَتَّى يَنْزِلَ الْجَبَّارُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلاَئِكَةُ، [يَحْمِلُ عَرْشَهُ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ] (1)، وَهُمُ الْيَوْمَ أَرْبَعَةٌ، أَقْدَامُهُمْ عَلَى تُخُومِ الأَرْضِ السُّفْلَى، وَالأَرْضُونَ وَالسَّمَاوَاتُ عَلَى حُجُزِهِمْ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنَاكِبِهِمْ، لَهُمْ زَجَلٌ مِنَ التَّسْبِيحِ، وَتَسْبِيحُهُمْ أَنْ يَقُولُوا: سُبْحَانَكَ ذِي الْمُلْكِ ذِي الْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ ذِي الْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ رَبِّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ، قُدُّوسًا قُدُّوسٌ (2)، سُبْحَانَ رَبِّنَا الأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّ الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالسُّلْطَانِ وَالْعَظَمَةِ، سُبْحَانَهُ أَبَدَ الأَبَدِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لاَ يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلاَئِقَ وَلاَ يَمُوتُ، ثُمَّ يَضَعُ اللَّهُ عَرْشَهُ حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الأَرْضِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلاَلِي لاَ يُجَاوِزُنِي أَحَدٌ الْيَوْمَ بِظُلْمٍ، ثُمَّ يُنَادِي نِدَاءً يُسْمِعُ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ، فَيَقُولُ: إِنِّي أُنْصِتُ لَكُمْ مُنْذُ خَلَقْتُكُمْ، أُبْصِرُ أَعْمَالَكُمْ وَأَسْمَعُ قَوْلَكُمْ، فَانْصِتُوا إِلَيَّ، فَإِنَّمَا هِيَ صُحُفُكُمْ وَأَعْمَالُكُمْ تُقْرَأُ (3) عَلَيْكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ الْيَوْمَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ، ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ جَهَنَّمَ، فَيَخْرُجُ مِنْهَا عُنُقٌ سَاطِعٌ مُظْلِمٌ، فَيَقُولُ: {امْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ، أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيرًا، أَفَلَمْ تَكُونُوا (1) تَعْقِلُونَ}، قَالَ: فَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ خَلْقِهِ، إِلاَّ الثَّقَلَيْنِ الْجِنَّ وَالإِنْسَ، يُقِيدُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُقِيدُ الْجَمَّاءَ مِنْ ذَاتِ الْقَرْنِ، فَإِذَا لَمْ تَبْقَ تَبِعَةٌ لِوَاحِدَةٍ عِنْدَ أُخْرَى، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا: كُونِي تُرَابًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ: {يَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا}. ثُمَّ يَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الثَّقَلَيْنِ الْجِنِّ وَالإِنْسِ، فَيَكُونَ أَوَّلُ مَا يَقْضِي فِيهِ الدَّمَاءَ، فَيُؤْتَى بِالَّذِي كَانَ يَقْتُلُ فِي الدُّنْيَا عَلَى أَمْرِ اللهِ وَكِتَابِهِ، وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ، كُلُّهُمْ يَحْمِلُ رَأْسَهُ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا، فَيَقُولُونَ (2): رَبَّنَا قَتَلَنِي هَذَا، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: لِمَ قَتَلْتَ هَذَا؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: صَدَقْتَ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ مِثْلَ نُورِ الشَّمْسِ (3)، وَتُشَيِّعُهِ الْمَلاَئِكَةُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيُؤْتَى بِالَّذِي كَانَ يَقْتُلُ فِي الدُّنْيَا عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللهِ وَأَمْرِهِ، تَعَزُّزًا فِي الدُّنْيَا، وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ، كُلُّهُمْ يَحْمِلُ رَأْسَهُ، تَشْخَبُ (4) أَوْدَاجُهُ دَمًا، فَيَقُولُونَ (2): يَا رَبَّنَا قَتَلَنا (5) هَذَا، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: لِمَ قَتَلْتَ هَذَا؟ [وَهُوَ أَعْلَمُ] فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ لِيَكُونَ (6) الْعِزَّةُ لِي، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: تَعِسْتَ تَعِسْتَ تَعِسْتَ، فَيُسَوِّدُ اللَّهُ وَجْهَهُ، وَتَزْرَقُّ عَيْنَاهُ، فَلاَ تَبْقَى نَفْسٌ قَتَلَهَا إِلاَّ قُتِلَ بِهَا، ثُمَّ يَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ مَنْ بَقِيَ مِنْ خَلْقِهِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُكَلِّفُ يَوْمَئِذٍ شَائِبَ اللَّبَنِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَبِيعُهُ أَنْ يُخَلِّصَ الْمَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ لأَحَدٍ عِنْدَ أَحَدٍ تَبِعَةٌ، نَادَى مُنَادي فَأَسْمَعَ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ، فَقَالَ: أَلاَ لِيَلْحَقْ (1) كُلُّ قَوْمٍ بِآلِهَتِهِمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَلاَ يَبْقَى أَحَدٌ عَبَدَ دُونَ اللهِ شَيْئًا إِلاَّ مُثِّلَتْ لَهُ آلِهَتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَيُجْعَلُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ يَوْمَئِذٍ عَلَى صُورَةِ عُزَيْرٍ، فَيَتَّبِعُهُ الْيَهُودُ، وَيُجْعَلُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ يَوْمَئِذٍ عَلَى صُورَةِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ، فَيَتَّبِعُهُ النَّصَارَى، ثُمَّ تَقُودُهُمْ آلِهَتُهُمْ إِلَى النَّارِ، وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ: {لَوْ كَانَ هَؤُلاَءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا} قَالَ: ثُمَّ يَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ مِنْ هَيْبَةٍ، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ ذَهَبَ النَّاسُ، الْحَقُوا بِآلِهَتِكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونَ اللهِ، فَيَقُولُونَ: وَاللهِ مَا لَنَا مِنْ إِلَهٍ إِلاَّ اللَّهُ، وَمَا كُنَّا نَعْبُدُ غَيْرَهُ، قَالَ: فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ وَهُوَ اللَّهُ مَعَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ مِنْ هَيْبَتِهِ، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ ذَهَبَ النَّاسُ، الْحَقُوا بِآلِهَتِكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونَ اللهِ، فَيَقُولُونَ: مَا لَنَا مِنْ إِلَهٍ إِلاَّ اللَّهُ، وَمَا كُنَّا نَعْبُدُ غَيْرَهُ، فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ وَهُوَ اللَّهُ مَعَهُمْ، ثُمْ يَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ مِنْ هَيْبَتِهِ، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، ذَهَبَ النَّاسُ، الْحَقُوا بِآلِهَتِكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونَ اللهِ، فَيَقُولُونَ: مَا كُنَّا نَعْبُدُ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَهَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ مِنْ آيَةٍ تَعْرِفُونَهَا، قَالَ: فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ مِنْ عَظَمَةِ اللهِ مَا يَعْرِفُونَ بِهِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ، فَيَخِرُّونَ سُجَّدًا، وَيَجْعَلُ اللَّهُ أَصْلاَبَ الْمُنَافِقِينَ كَصَيَاصِيِّ الْبَقَرِ، وَيَخِرُّونَ عَلَى أَقْفِيَتِهِمْ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ لَهُمْ أَنْ يَرْفَعُوا رُؤُوسَهُمْ، وَيُضْرَبُ بِالصِّرَاطِ بَيْنَ ظَهْرَانَيِّ جَهَنَّمَ، كَحَدِّ الشَّعْرَةِ، أَوْ كَحَدِّ السَّيْفِ لَهُ كَلاَلِيبُ وَخَطَاطِيفُ، وَحَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ، دُونَهُ جِسْرٌ دَحِيضٌ مَزْلَقَةٌ، فَيَمُرُّونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ، وَكَلَمْعِ (1) الْبَرْقِ، وَكَمَرِّ الرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ، وَكَأَجَاوِيدِ الرِّكَابِ وَكَأَجَاوِيدِ الرِّجَالِ، فَنَاجٍ سَالِمٍ، وَنَاجٍ مَخْدُوشٍ، وَمَكْدُوسٍ عَلَى وَجْهِهِ، فَيَقَعُ فِي جَهَنَّمَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ أَوْبَقَتْهُمْ أَعْمَالُهُمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُ النَّارُ قَدَمَيْهِ لاَ تُجَاوِزُ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُ كُلَّ جَسَدِهِ إِلاَّ صُوَرَهُمْ، يُحَرِّمُهَا اللَّهُ عَلَيْهَا، فَإِذَا أَفْضَى أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، قَالُوا: مَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا لِيُدْخِلَنَا الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: وَمَنْ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْ أَبِيكُمْ آدَمَ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَكَلَّمَهُ قُبُلاً، فَيُؤْتَى آدَمُ، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَيَأْبَى وَيَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ ؛ فَإِنَّهُ أَوَّلُ رُسُلِ اللهِ، فَيُؤْتَى نُوحٌ، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَيَذْكُرُ ذَنْبًا، وَيَقُولُ: مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذَلِكَ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلاً، فَيُؤْتَى إِبْرَاهِيمُ، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذَلِكَ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى، فَإِنَّ اللَّهَ قَرَّبَهِ نَجِيًّا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذَلِكَ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِرُوحِ اللهِ وَكَلِمَتِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَيُؤْتَى عِيسَى، فَيُطْلَبُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذَلِكَ، وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُمْ، عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: فَيَأْتُونِي، وَلِي عِنْدَ رَبِّي ثَلاَثُ شَفَاعَاتٍ وَعَدَنِيهِنَّ، قَالَ: فَآتِي الْجَنَّةَ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَأَسْتَفْتِحُ، فَيُفْتَحُ لِي فَتْحًا، فَأُحَيِّي، وَيُرَحَّبُ بِي، فَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلْتُهَا، نَظَرْتُ إِلَى رَبِّي عَلَى عَرْشِهِ خَرَرْتُ سَاجِدًا، فَأَسْجُدُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَسْجُدَ، فَيَأْذَنُ اللَّهُ لِي مِنْ حَمْدِهِ وَتَمْجِيدِهِ بِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لأَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَاسْأَلْ تُعْطَهْ، قَالَ: فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَنْ وَقَعَ فِي النَّارِ مِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبُوا، فَمَنْ عُرِفَتْ صُورَتُهُ، فَأَخْرِجُوهُ مِنَ النَّارِ، فَيُخْرَجُ أُولَئِكَ حَتَّى لاَ يَبْقَى أَحَدٌ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبُوا فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ مِنَ النَّارِ،. ثُمَّ يَقُولُ: ثُلُثَيْ دِينَارٍ، ثُمَّ يَقُولُ: نِصْفُ دِينَارٍ، ثُمَّ يَقُولُ: قِيرَاطٌ، ثُمَّ يَقُولُ: اذْهَبُوا، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، قَالَ: فَيُخْرَجُونَ فَيُدْخَلُونَ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَعْرَفَ فِي الدُّنْيَا بِمَسَاكِنِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ بِمَسَاكِنِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ، إِذَا دَخَلُوا الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيُخْرَجُ أُولَئِكَ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي الشَّفَاعَةِ، فَلاَ يَبْقَى نَبِيٌّ وَلاَ شَهِيدٌ وَلاَ مُؤْمِنٌ إِلاَّ يُشَفَّعُ، إِلاَّ اللَّعَانَ فَإِنَّهُ لاَ يُكْتَبُ شَهِيدًا، وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُ فِي الشَّفَاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَيُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا لاَ يُحْصِي عَدَدَهُ إِلاَّ هُوَ، فَيُلْقِيهِمْ عَلَى نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، مَا يَلِي الشَّمْسَ مِنْهَا أُخَيْضِرُ، وَمَا يَلِي الظِّلَ مِنْهَا أُصَيْفِرُ، قَالَ: فَكَانَتِ الْعَرَبُ إِذَا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: كَأَنَّكَ كُنْتَ فِي الْبَادِيَةِ، ثُمَّ يَنْبُتُونَ فِي جِيَفِهِمْ أَمْثَالَ الذَّرِّ، مَكْتُوبٌ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ، يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِذَلِكَ الْكِتَابِ، فَيَمْكُثُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ يَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، امْحُ عَنَّا هَذَا الاسْمَ، فَيَمْحُو اللَّهُ عَنْهُمْ ذَلِكَ.

حضرت محمد بن کعب قرظی، انصار کے ایک شخص کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے درمیان تھے تو آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا توصور کو بھی پیدا فرمایا اور اسے حضرت اسرافیلؑ کو عطا کیا‘ وہ اسے اپنے منہ میں رکھے ہوئے‘ نگاہوں کو عرش کی طرف اٹھائے ہوئے انتظار میں ہیں کہ ان کو کب (پھونکنے کا) حکم دیاجائے گا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : سینگ ہے۔ میں نے پوچھا اس کی کیفیت کیا ہے؟ فرمایا : وہ بہت بڑا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضَہ قدرت میں میری جان ہے‘ اس کے منہ کی گولائی آسمانوں اور زمین کی مثل عظیم ہے۔ اللہ تعالی ٰحضرت اسرافیلؑ کو تین بار پھونکنے کا حکم دے گا۔پہلی پھونک گھبراہٹ کی پھونک ہو گی‘ دوسری پھونک بیہوشی کی پھونک ہو گی اور تیسری پھونک تمام جہانوں کے رب کے حضور کھڑے ہونے کی پھونک ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیؑل کو پھونکنے کا حکم دیتے ہوئے فرمائے گا: گھبراہٹ والی پھونک پھونکیں۔ پس تمام آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا جائیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ ( گھبراہٹ سے بچانا )چاہے تو اللہ تعالیٰ اُن ( حضرت اسرافیلؑ) کو حکم دے گا تو وہ بہت دیر تک پھونکیں گے اور اس میں کمی نہیں کریں گے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَمَا یَنْظُرُ ھٰؤُ لَاءِ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَھَا مِنْ فَرَاقٍ‘‘’’اور یہ (کفار ) انتظار نہیں کر رہے مگر ایک کڑک کی جس کے بعد مہلت نہیں‘‘۔پس اللہ تعالی پہاڑوں کو چلائے گا اور وہ بادلوں کی طرح گزریں گے۔ پھر زمین‘ اہلِ زمین کے ساتھ اچھی طرح حرکت میں آئے گی ۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَاا الرَّادِفَۃُ قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ‘‘ ’’جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی، اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا ہوگا۔ کتنے دل اس دن خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔ ‘‘پس زمین ہلاک ہونے والی کشتی کی طرح ہو گی جس کو موجیں حرکت دیتی ہیں اور وہ اپنی سواریوں سمیت الٹ جاتی ہے یا اس قندیل کی طرح جو چھت میں لٹکی ہوتی ہے اور اسے ہوائیں حرکت دیتی ہیں پس لوگ اس (زمین) کی پیٹھ پر گھوم جائیں گے۔ دودھ پلانے والی (اپنے بچے کو )بھول جائے گی اور حاملہ عورتوں کا حمل گر جائے گا‘بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ شیطان بھاگتے ہوئے اڑ جائیں گے حتیٰ کہ زمین کے کناروں پر چلے جائیں گے پھر فرشتوں سے ان کی ملاقات ہو گی تو وہ ان کے چہروں پر مارتے ہوئے ان کو واپس کریں گے۔ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ اسی بارے میں ارشاد خداوندی ہے: ’’یَوْمُ التَّنَادِ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ مَالَکُمْ مِّنْ اللہِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَالَہٗ مِنْ ھَادٍ‘‘ ’’جس پکار مچے گی۔ جس دن پیٹھ پھیر کر بھاگو گے۔ تمہیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں‘‘وہ اسی حالت میں ہوں گے جب زمین پھٹ جائے گی اور وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پھٹے گی تو لوگ ایک بہت بڑا منظر دیکھیں گے۔ پس اس وجہ سے وہ اس قدر کرب اور ہولناکی میں ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ پھر آسمان دھات کی طرح ہوں گے اور وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پھٹ جائیں گے‘ پھر آسمان سے سورج اور چاند کی روشنی چلی جائے گی اور ستارے پھیل جائیں گے پھر ان سے آسمان پھٹ جائے گا۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مُردوں کو اس سلسلے میں کسی بات کا علم نہ ہو گا ۔“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے جب یہ ارشاد فرمایا تو کس کومتثنٰی کیا۔ ارشاد خداوندی ہے : ’’فَفَزَعَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللہُ‘‘’’تو گھبرا جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے اللہ چاہے۔‘‘آپ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شہداء ہیں اور وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ۔ گھبراہٹ تو زندوں کو ہو گی پس اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا اور ان کو اس سے بے خوف کر دے گا اور وہ گھبراہٹ اللہ تعالی ٰکا عذاب ہے جو اپنی مخلوق میں سے بدترین لوگوں پربھیجے گا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یَا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ۔یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَزْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ھُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِیْدٌ‘‘ ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہرحمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگرالله تعالی ٰکا عذاب بڑا سخت ہے۔“ آپ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک اللہ تعالی ٰچاہے گا وہ لوگ اس مصیبت ( آزمائش) میں ٹھہریں گے لیکن یہ سلسلہ طویل ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیلؑ کو نفخة الصعق (بیہوش کرنے والی پھونک ) کا حکم دے گا تو تمام اہلِ آسمان اور تمام زمین والےبیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے‘ جب وہ بیہوش ہو کر مر جائیں گے تو موت کا فرشتہ اللہ تعالیٰ (جو جبار ہے) کے پاس آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! آسمان والے اوراہلِ زمین سب مر گئے ہیں مگر جس کو تو نے چاہا۔ پس اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کون باقی رہا اور وہ خوب جانتا ہے؟ فرشتہ عرض کرے گا: تو زندہ ہے اور تیرے لئے موت نہیں اور تیرے عرش کو اٹھانے والے (فرشتے) نیز جبریل، میکائیل اور میں باقی ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جبریل اور میکائیل کو بھی مرنا چاہئے۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: عرش کلام کرے گا اور کہے گا: اے رب ! تو نے جبریل ومیکائیل کو موت دے دی ! اللہ تعالی ٰاس سے فرمائے گا: خاموش ہو جاؤ۔ جو بھی میرے عرش کے نیچے ہے میں نے اس کے لئے موت لکھ دی ہے پس وہ مر جائیں گے اور ملک و الموت بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے میرے رب ! جبریل و میکا ئیل بھی فوت ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کون باقی رہا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے؟ وہ عرض کریں گے تُو باقی رہ گیا ہے تُو زندہ ہے اور تجھے موت نہیں آئے گی نیز تیرے عرش کو اٹھانے والے اور میں باقی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عرش والوں کو بھی مر جانا چاہئے پس وہ مر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت سے پوچھے گا کون باقی رہا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے؟ وہ عرض کریں گے تو باقی رہا جو زندہ ہے اور تجھے موت نہیں آئے گی اور میں باقی ہوں ۔ پس اللہ تعالیٰ اُن سے فرمائے گا تو میری مخلوق میں سے مخلوق ہے میں نے تجھے اس کام کے لئے پیدا کیا جسے تو دیکھ چکا ہے پس تو بھی مر جا پس وہ بھی فوت ہو جائیں گے۔ جب صرف اللہ تعالیٰ جو غالب اور بے نیاز ہے‘ جوکسی کا والد اور اولاد نہیں‘ باقی رہ جائے گا تو وہ آخری ہو گا جس طرح سب سے اول تھا۔تو وہ فرمائے گا اب ہمیشہ رہنا ہے‘ اہلِ جنت پر موت نہیں آئے گی اور نہ اہلِ جہنم مریں گے۔رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل فرمائے گا: ’’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ‘‘” آج کس کی بادشاہی ہے؟ آج کس کی بادشاہی ہے؟“تو اسے کوئی بھی جواب نہ دے گا پھر وہ خود ہی فرمائے گا : ’’لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ‘‘’’صرف اللہ کی ( بادشاہی ہے) جو ایک ہے‘ غالب ہے۔“پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اسی طرح لپیٹ دے گا جس طرح لکھنے والوں کے رجسٹر لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو بدل دے گا اور یہ پہلی زمین کی غیر زمین ہو گا پھر ان دونوں کو پھیلائے گا پھر ان کو جلدی سے اٹھاۓ گا۔ پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں پھر آسمانوں اور زمین کو دوسری زمین میں بدل دے گا ۔ پھر ان کو پھیلائے گا اور پھر ان کو جلدی سے اٹھا لے گا اور تین بار فرمائے گا: میں جبار ہوں سنو! جو میرا شریک تھا وہ آۓ ‘سنو! جو میرا شریک تھا وہ آئے تو اس کے پاس کوئی بھی نہیں آئے گا۔ پس اللہ تعالی زمین کو پھیلائے گا اور زمین کو عکاظی چمڑے کی طرح پھیلائے گا ۔اس میں کوئی ٹیڑھا پن اور کمزوری نہ ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کو ایک جھڑک فرماۓ گا تو وہ اس تبدیل شدہ زمین پر اسی طرح ہوں گے جس طرح اپنی پہلی جگہوں میں تھے۔ جو زمین کے اندر تھے وہ اندر ہوں گے اور جو اس کے اوپر تھے وہ اس کے اوپر ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے ان پر پانی اتارے گا تو چالیس دن تک ان پر آسمان سے بارش ہوتی رہے گی تو وہ طراثیث ( سبزی) اور ساگ کی طرح اُگیں گے حتی ٰکہ جب ان کے جسم پہلے کی طرح کامل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: عرش کو اٹھانے والےزندہ ہو جائیں تو وہ زندہ ہو جائیں گے۔ پھر فرمائے گا:جبریل و میکائیل زندہ ہو جائیں تو وہ زندہ ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل ؑکو حکم دے گا کہ وہ نفخة البعث (خلقت کو اٹھانے والی پھونک )پھونکھیں ۔ چنانچہ وہ نفخة البعثپھونکھیں گے تو ارواح باہرنکلیں گی گویا وہ شہدکی مکھیاں ہیں وہ آسمان اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیں گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری ذات و جلال کی قسم!ہر روح اپنے جسم میں لوٹ جائےپس روئیں زمین کے اندر اپنے جسموں پر داخل ہوں گی پھر وہ ناک کے نتھنوں میں اس طرح چلیں گی جس طرح ڈسے ہوئے کے اندر زہر سرایت کرتا ہے۔ پھر ان سے زمین پھٹ جائے گی۔(رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا) سب سے پہلے مجھ سے زمین پھٹے گی۔ وہ سب جلدی جلدی سرباہر نکالیں گے اور دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف بڑھیں گے‘ان سب کی عمر تیس سال ہو گی اور اس دن سریانی زبان ہو گی۔ (ارشاد خداوندی ہے:) ’’مُھْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ یَقُوْلُ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘‘’’بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے۔ ‘‘ یہ نکلنے کا دن ہے لوگوں کو ایک جگہ پر ستر سال کی مقدار کھڑا کیا جائے گا۔ وہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور ختنہ کے بغیر ہوں گے۔نہ تمہاری طرف نظر کی جائے گی اور نہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ ہو گا۔ پس مخلوق روئے گی حتی ٰکہ آنسوختم ہو جائیں گے تو وہ خون کے آنسو روئیں گے اوران کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کی ٹھوڑیوں تک پہنچے گا اور اُن کو لگام ڈال دے گا پھر وہ چیختے ہوئے کہیں گےہمارے رب کے ہاں ہماری سفارش کون کرے گا تا کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے تو وہ (آپس میں )کہیں گے تمہارے باپ آدمؑ سے بڑھ کر اس بات کا حق کس کو ہے! اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا ان میں اپنی روح پُھونکی اور ان سے بالمشافہ گفتگو کی۔پس وہ حضرت آدمؑ کے پاس آئیں گے اور آپ سے مطالبہ کیا جائے گا لیکن آپ انکار فرما دیں گے پھر وہ ایک ایک نبی کے بارے میں معلوم کریں گے وہ جب بھی کسی نبی کے پاس جائیں گے وہ (نبی) انکار کر دیں گے۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حتیٰ کہ وہ میرے پاس آئیں گے جب وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چل پڑوں گا حتیٰ کہ میں فحص کے پاس آؤں گا اور عرش کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا چنانچہ میرا رب میری طرف ایک فرشتے کو بھیجے گا جو میرے بازو کو پکڑ کر مجھے اٹھائے گا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول الله صلى الله علیہ وسلم!’’فحص‘‘ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ عرش کے آگے کی جگہ۔رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد (صلى الله علیہ وسلم )! آپ کا کیا معاملہ ہےحالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تو میں کہوں گا اے میرے رب ! تو نے مجھ سے شفاعت کا وعدہ کیا ہے تو اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما کر ان کے درمیان فیصلہ کر دے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں (اپنی شان کے مطابق) تمہارےپاس آتا ہوں اور تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں آؤں گا اور واپس جا کر لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا۔ اس دوران کہ ہم کھڑے ہوں گے ہم آسمان کی طرف سے سخت آواز سنیں گے جو ہمیں پریشان کرے گی تو آسمان دنیاسےاس میں موجود جنوں اور انسانوں سے دو گنا اہل آسمان اتریں گے حتیٰ کہ جب وہ زمین کے قریب ہوں گے تو ان کے نور کے سبب سے زمین روشن ہو جائے گی اور وہ اپنی صفوں میں چلے جائیں گے ۔ لوگ پوچھیں گے کیا تم میں ہمارا رب ہے؟ جواب دیں گے: نہیں ! وہ (اپنی شان کے مطابق) آنے والا ہے‘ پھر دوسرے آسمان والے (پہلے) اترنے والے فرشتوںسے دو گنا (تعداد میں) اتریں گے حتیٰ کہ جب وہ زمین کے قریب ہوں گے تو ان کے نور کی وجہ سے زمین چمک اٹھے گی اور وہ اپنی صفوں میں چلے جائیں گے۔ ہم ان سے پوچھیں گے کیا تم میں ہمارا رب ہے؟ وہ کہیں گے نہیں (بلکہ) وہ آنے والا ہے۔ پھر تمام آسمانوں والے ایک ایک آسمان سے اسی طرح دو گنا اتریں گے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ (جبار) بادلوں کےسایوں میں سے اترے گا اور اس کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہو گا اور اس وقت وہ چار فرشتے ہیں‘ ان کے پاؤں سب سے نچلی زمین کی حد پر ہیں( جہاں دو زمینیں آپس میں ملتی ہیں) جبکہ تمام زمینیں اور تمام آسمان ان کی ازار بند پر ہیں اور عرش ان کے کاندہوں پرہے۔ ان کا تر انہ تسبیح ہےاور ان کی تسبیح یہ ہے: ’’سبحان ذی الملک ذی الملکوت سبحان رب العرش ذی الجبروت سبحان رب الملائکۃ والروح قدوس قدوس سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان رب الملکوت والجبروت والکبریاء والسلطان والعظمۃ سبحانۃ ابد الا بد سبحان الحی الذ لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت‘‘’’ملک اور ملکوت کا مالک پاک ہے۔ عرش کا رب اور قدرت والا (رب ) پاک ہے۔ملائکہ اور روح کا رب پاک ہے۔ وہ پاک ہے وہ پاک ہے ہمارا بلند و بالا رب پاک ہے۔ ملکوت و جبروت‘ بڑائی ، غلبہ اور عظمت والا رب پاک ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پاک ہے۔وہ زندہ (ذات) پاک ہے جس کیلئے موت نہیں وہ پاک ہے کہ جب مخلوق مر جائے گی اوراسے موت نہیں آئے گی‘‘پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش کو زمین پر جہاں چاہے گا‘ رکھے گا اور فرمائے گا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! آج کوئی بھی مجھے ظلم سے منسوب نہیں کرے گا۔ پھر ایک ایسی آواز دے گا جسےتمام مخلوق کو سنائے گا اور فرمائے گا:میں نے جب سےتمہیں پیدا کیا تمہاری باتیں خاموشی سے سن رہا ہوں ۔ میں تمہارے اعمال کو دیکھتا اور تمہاری باتوں کو سنتا رہا پس (اب) تم خاموشی سے میری بات سنو‘ یہ تمہارے نامہ ہائے اعمال اور تمہارے اعمال ہیں جو تم پر پڑ ھے جائیں گے۔ پس جو شخص آج بھلائی یا پاۓ ‘وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔اس کے بعد الله تعالیٰ جہنم کو حکم دے گا تو اس سے ایک لمباتار یک ٹکڑا نکلے گا اور وہ کہے گا: ’’وامتاز والیوم ایھا المجرمون۔ الم اعھد الیکم یا بنی اٰدم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدومبین۔ وان اعبدونی ھٰذا صراط مستقیم۔ ولقد اضل منکم جبلا کثیرا افلم تکونوا تعقلون‘‘ ’’اور اے مجرمو ! آج الگ ہو جاؤ اور اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھا راستہ ہے۔“پس اللہ تعالیٰ دو بڑی مخلوقوں جنوں اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا بعض کا بدلہ بعض سے لے گا حتیٰ کہ بے سینگ بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لے گا اور جب کسی کا کسی دوسرے کے ذمہ کوئی حق باقی نہیں رہے گا تو اللہ تعالی فرماۓ گا تو مٹی ہو جا‘ اس وقت کافر کہے گا:يا ليتنى كنت ترابا’’کاش! میں مٹی ہو جاتا‘‘ ۔ پھر اللہ تعالی ٰدو بڑی مخلوقوں جنوں اور انسانوں کے درمیان فیصلہ فرماۓ گا تو سب سے پہلے خون (قتل) کا فیصلہ ہو گا۔ پس ان کو لائے گا جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب (قرآن مجید ) کے مطابق قتل کرتے تھے اور ان سب کو لایا جائے گا جوقتل کئے گئے ۔انہوں نےاپنے سروں کو یوں اٹھایا ہو گا کہ ان کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ کہیں گے:اے ہمارے رب! ہمیں اس نے قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ اس ( قاتل) سے پوچھے گا تم نے اس کو کیوں قتل کیا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے؟ وہ کہے گا:اس لئے قتل کیا تا کہ عزت (اور غلبہ ) تیرے لئے ہو‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے سچ کہا: پس اللہ تعالیٰ اس ( قاتل ) کے چہرے کو سورج کے نور کی طرح (روشن) کر دے گا اور فرشتے اُس کو جنت میں لے جائیں گے۔ ساب اس ( قاتل) کو لایا جاۓ گا جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر محض غلبہ اور عزت حاصل کرنے کیلئے قتل کرتا رہا اور مقتول کو بھی لایا جاۓ گا جس نے اپنے سر کو یوں اٹھایا ہو گا کہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ مقتول کہیں گے کہ اے ہمارے رب! اس نےہمیں قتل کیا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا حالانکہ وہ بہتر جانتا ہے تم نے اس کو کیوں قتل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں نے اپنے لئے عزت حاصل کرنے کی خاطر اس کوقتل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو ہلاک ہوا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو سیاہ اور آنکھوں کو نیلگوں کر دے گا تو اس نے جس جس کو قتل کیا ہو گا اس کے بدلے میں اس کو قتل کیا جائےگا۔ پھر اللہ تعالیٰ باقی مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گاحتیٰ کہ اس دن دودھ میں پانی کی ملاوٹ کر کےبیچنے والے کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ پانی کو دودھ سے الگ کرے حتیٰ کہ جب کسی کا کسی کے ذمہ حق باقی نہ رہے گا تو ایک منادی آواز دے گا جو تمام مخلوق کو سنائے گا‘ وہ کہے گا:’’سنو! ہر قوم اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائے جن کی وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے تو جس نے اللہ تعالیٰ کے غیر کی پوجا کی ہو گی اس کے سامنے اس کے معبود کی شکل رکھی جائے گی۔‘‘اس دن ایک فرشتے کو حضرت عزیرؑ کی صورت میں کر دیا جائے گا پس یہودی اس کے پیچھے چلیں گے اور ایک فرشتے کو حضرت عیسیٰؑ کی صورت میں کر دیا جائے گا۔ پس عیسائی اس کے پیچھے چلیں گے پھر اُن کے معبود ُان کو جہنم میں لے جائیں گے اِسی بات کو اس آیت میں بیان کیا گیا: ’’لو کان ھٰو لاء الھۃ ماوردوھا‘‘۔’’ اگر یہ خدا ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ جس صورت میں چاہے گا ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا:’’اے لوگو! لوگ چلے گئے تم اپنے معبودوں اور اللہ کے سوا جس کی پوجا کرتے تھے‘ان سے مل جاو‘‘وہ کہیں گے اللہ کی قسم! اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں اور ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:پھر اللہ تعالیٰ ان سے پھر جائے گا اور ان کے درمیان وہی اللہ ہے ۔اس کے بعد جس صورت میں چاہے گا ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا: س ”اے لوگو! لوگ چلے گئے تم اپنے معبودوں اور جس کی پوجا کرتے تھے ان سے مل جاؤ ۔“ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں اور ہم اس کے علاوہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے ۔ وہ ان سے پھر جائے گا اور وہی ان کے درمیان ”اللہ ‘‘ہو گا۔ پھر وہ جس صورت میں چاہے گا ان کے پاس آۓ گا اور فرمائے گا: اے لوگو! لوگ چلے گئے تم اپنے معبودوں اور تم جن کی پوجا کرتے تھے ان سے مل جاؤ! وہ کہیں گے ہم اس (اللہ ) کے سوا کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے ۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے کہے ں گا: میں تمہارا رب ہوں کیونکہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان کوئی علامت ہے جس کوتم پہچانتے ہو۔ فرمایا: پس ساق کھولی جائے گی تو ان کیلئے اللہ کی عظمت سے وہ ( علامت) ظاہر ہو گی جس الیات کے ذریعے ان کو پہچان حاصل ہو گی کہ وہی ان کا رب ہے پس وہ سجدے میں گر جائیں گے اور اللہ تعالیٰ منافقین کی پیٹھوں کو گائے کے سینگوں کی طرح کر دے گا تو وہ اپنی پچھلی طرف کو گر جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا کہ اپنے سروں کو اٹھائیں اور جہنم کے درمیان ( پل) صراط کو رکھا جائے گا جو بال کے برابر (باریک ) یا تلوار کی طرح تیز ہو گا اس کے کنڈے، پنجے اور سعدان (بوٹی) کے کانٹوں جیسے کانٹے ہوں گے اس کے آگے پُل ہو گا۔ جس پر قدم ٹھہرنہ سکیں گے اور پھسل جائیں گے۔( بعض ) اس سے پلک جھپکنے میں گزرجائیں گے‘ ( کچھ ) بجلی چمکنے کی مقدار میں گزریں گے کچھ ہوا کے گزرنے کی طرح گزر یں گے بعض تیز رفتار گھوڑوں، تیز رفتار سواروں اور کچھ تیز رفتار انسانوں کی طرح گزریں گے۔ کچھ نجات پانے والے محفوظ ہوں گے بعض زخمی ہو کر نجات پائیں گے بعض کے چہروں پر خراشیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جو لوگ جہنم میں گر یں گےشامتِ اعمال ہو گی ۔آگ ان میں سے بعض کے قدموں کو پکڑے گی‘ اس سے تجاوز نہیں کرے گی۔ بعض کی نصف پنڈلی تک پہنچے گی بعض کو ازار بند کے مقام تک پکڑے گی اورکچھ کے تمام جسم کو پکڑے گی البتہ چہرے محفوظ رہیں گے اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو حرام کر ر دیا ہے۔جب اہلِ جنت‘ جنت کی طرف اور جہنمی جہنم کی طرف چلے جائیں گے تو وہ لوگ کہیں گے۔ کون ہے جو ہمارے رب کے ہاں ہماری سفارش کر دے تا کہ وہ ہمیں جنت میں داخل کرے تو وہ آپس میں کہیں گے تمہارے باپ آدم ؑسے بڑھ کر اس کا حق کس کو ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور ان میں اپنی (خاص) روح پھونکی اور ان سے بالمشافہ گفتگو فرمائی ۔ پس وہ حضرت آدم ؑکے پاس جا کر ان سے مطالبہ کریں گے تو وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے تم حضرت نوحؑ کے پاس جاؤ ہے شک وہ اللہ تعالی کے پہلے رسول ہیں ۔ حضرت نوحؑ کے پاس حاضری ہو گی اور سوال کیا جاۓ گا تو وہ کسی خطا کا ذکر کر کے فرمائیں گے میں اس منصب کے لائق نہیں ہوں تم حضرت ابراہیمؑ کے پاس جاؤ بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کو خلیل بنایا ہے۔ پس وہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آ کر عرض گزار ہوں گے تو وہ فرمائیں گے یہ میرا کام نہیں تم حضرت موسی ٰؑکے پاس جاؤ اللہ تعالیٰ نے ان سے ہم کلام ہو کر ان کو اپنے قریب کیا اور ان پر تورات نازل فرمائی ۔ پس وہ حضرت موسیٰ پاس حاضر ہو کر سوال کریں گے تو وہ فرمائیں گے میں اس کے لائق نہیں ہوں تم اللہ کی روح اور اس کے کلمہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ حضرت عیسی ٰؑکے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے تو وہ فرمائیں گے یہ میرا کام نہیں ہے لیکن میں حضرت محمد صلى الله علیہ وسلم کی طرف تمہاری راہنمائی کرتاہوں ۔نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میرے لئے میرے رب کے پاس تین شفاعتیں ہیں جن کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: پس میں جنت کے پاس آ کر دروازے کا حلقہ پکڑوں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ پس میرے لئے دروازہ کھولا جائے گا اور مجھے’’ خوش آمدید‘‘ کہا جاۓ گا چنانچہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا پھر جب میں اس میں داخل ہو جاؤں گا تو اپنے رب کو اس کے عرش پر دیکھوں گا اور سجدے میں گر جاؤں گا اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا میں سجدے میں رہوں گا پھر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی حمد اور بزرگی بیان کرنے کے بارے میں کوئی بات بتاۓ گا جس کی اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اجازت نہیں دی۔ پھر فرماۓگا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئےآپ کو عطا کیا جائے گا۔پس میں کہوں گا اے میرے رب! میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں چلے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جائیں اور جس کی صورت پہچانتے ہیں اس کو جہنم سے نکالیں پس ان لوگوں کو نکالا جائے گا حتیٰ کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جائیں اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے اس کو جہنم سے نکالیں پھر فرمائے گا جس کے دل میں دو تہائی دینار کے برابر (ایمان ہے) پھر فرمائے گا نصف دینار (کے برابر ) پر فرمائے گا ایک قیراط (کے برابر ) ۔ پھر فرمائے گا جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے (اس کو نکالو )۔نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس ان کو نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی جان ہے جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے تو وہ اپنے ٹھکانوں اور اپنی بیویوں کو اس سے زیادہ پہچانتے ہوں گے جس قدرتم دنیا میں اپنے ٹھکانوں اور بیویوں کو پہچانتے ہو۔نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا تو کوئی نبی، شہید اور مومن نہیں رہے گا جس کی شفاعت قبول نہ کی جائے مگر جو لوگ بہت زیادہ لعن طعن کرتے ہیں ان کو نہ تو شہید لکھا جائے گا اور نہ ہی ان کیلئے شفاعت کی اجازت ہو گی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں پس جہنم سے اس قدر لوگوں کو نکالا جائے گا جن کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان کو’’ حیوان‘‘ نامی نہر میں ڈالا جائے گا تو وہ اس دانے کی طرح پروان چڑھیں گے جو سیلاب کےکیچڑ اور پانی میں اگتا ہے ان میں سے جن کو دھوپ پہنچے گی وہ کچھ سبز ہوں گے اور جو سائے میں ہوں گے وہ کچھ زرد ہوں گے۔ راوی فرماتے ہیں جب اہل عرب سرکار دو عالم صلى الله علیہ وسلم سے یہ بات سنتے تو کہتے یا رسول اللہ ! ایسا لگتا ہے کہ آپ جنگل میں رہے ہیں (کیونکہ وہاں کی معلومات رکھتے ہیں)۔آپ نے فرمایا پھر وہ اپنے مردہ جسموں میں چیونٹیوں کی طرح پیدا ہوں گے جن کی گردنوں پر لکھا ہو گا یہ جہنمی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے آزاد کر دیا‘ اس تحریر کی وجہ سے جنتی ان کو پہچانیں گے۔ پس جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اس قدر ٹھہریں گے۔ پھر کہیں گے اے ہمارے رب! ہم سے یہ نام مٹا دے پس اللہ تعالی ٰاسے ان سے مٹا دے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ الْمَدَنِيُّ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّؤَاسِيُّ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 10

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 11

11- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِثَلاَثٍ: الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصَلاَةُ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ، وَصَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

حضرت ابو عثمان النهدی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں میرے خلیل ابو القاسم صلى الله علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تاکید فرمائی۔۱ ۔سونے سے پہلے وتر پڑھنا۔۲۔چاشت کی دورکعتیں پڑھنا۔۳۔ہرمہینےکے تین روزےرکھنا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 11

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 12

12- أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلُوا مَنْزِلاً، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ رَسُولاً وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا، جَعَلَ يَأْكُلُ، فَنَظَرُوا إِلَى رَسُولِهِمْ، فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، فَقَدْ صُمْتُ ثَلاَثًا مِنَ الشَّهْرِ، فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللهِ.

حضرت ابوعثمان النھدی سے مروی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سفر میں تھے ۔ جب لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو ان کی طرف پیغام بھیجا کہ کھانا کھا ئیں ۔اس وقت وہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے فرمایا: بے شک میں روزہ دار ہوں ۔ جب کھانا لگایا گیا اور وہ لوگ فارغ ہونے والے تھے تو آپ نے کھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے قاصد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: انہوں نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ روزہ دار ہیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس نےسچ کہاہے میں نے رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے سنا‘ آپ نے فرمایا: صبر کے مہینے (ماہِ رمضان) کے روزے اور ہر مہینے کے تین روزے زمانہ بھر کے روزوں کی مثل ہیں، میں مہینے کے تین روزے رکھتا ہوں پس میں اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی آسانی کے تحت روزہ چھوڑ دیتا ہوں اور اس کی طرف سے (ثواب میں) اضافہ کی وجہ سے روزہ رکھتا ہوں۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…91
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter