Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 194

194- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جوشخص اس گھر (خانہ کعبہ ) میں آئے (اور وہ) نہ تو بے حیائی کی باتیں کرےاور نہ گناہ کرے‘ وہ اس طرح واپس لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہو۔

مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 194

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 195

195- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَالْمُلاَئِيُّ، قَالاَ: حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جوشخص حج کرے پس نہ تو بے حیائی کی باتیں کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرےوہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جا تا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 195

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 196

196- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ.

حضرت ابو حازم‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا۔

كَسْبِ الْإِمَاءِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 196

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 197

197- أَخْبَرَنَا زَكَرِيَا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثنا عُبَيْدُ اللهِ، وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ، لِيَقْضِيَ فَرَائِضَ اللهِ، كَانَتْ خُطَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جو شخص گھر میں پاکیزگی حاصل کرے پھر اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی ایک گھر (مسجد) میں جائے تا کہ اللہ تعالی ٰکے فرائض کی ادائیگی کرےتو اس کے ایک قدم اٹھانے سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور دوسرے قدم سے اس کے درجات بلندہوتے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 197

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 198

198- أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثنا يَزِيدُ، وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فِي سَفَرٍ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى إِذَا نَاجَزَ الشَّمْسَ فَاسْتَيْقَظْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: لِيَأَخُذْ كُلٌّ مِنْكُمْ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، عَنْ هَذَا الْمَوْضِعِ الَّذِي أَصَابَكُمْ فِيهِ مَا أَصَابَكُمْ، قَالَ: فَتَنَحَّيْنَا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى هُوَ وَأَصْحَابُهُ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم صَلاَةَ الْغَدَاةِ، بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ.

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ وہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ رات کے پچھلے حصے میں اترے پس ہم بیدار نہ ہو سکے حتیٰ کہ سورج کی گرمی ( دھوپ) نے ہمیں ستایا تو ہم بیدار ہوۓ ۔رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا :تم میں سے ہر ایک اس جگہ سے جہاں تمہیں وہ بات پہنچی جو پہنچی ہے اپنی سواری کے سر کو پکڑ لے (یعنی یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہاں نماز قضا ہوگئی لہٰذا اس جگہ ٹھہر نا مناسب نہیں )۔فرماتے ہیں: ہم اس جگہ سے ہٹ گئے پھر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو فرمایا پھر آپ نے اور صحابہ کرام نے دو رکعتیں نماز پڑھی (یعنی سنتیں پڑھیں ) پھر اقامت ہوئی اور رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے دن کے (اچھی طرح) چڑھنے کے بعد ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا حَازِمٍ، ← يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← المخزومي

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 198

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 199

199- حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ، وَلاَ يَقْبَلُ إِلاَّ الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ قَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ، وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ وَمَطْعَمُهُ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَقَدْ غُذِّيَ فِي الْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ.

حضرت ابو حازم ‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال ہی قبول کرتا ہے اور بےشک اللہ تعالی ٰنے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا جس کا اپنے رسولوں کو حکم دیا‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:يا ایها الرسل كلوا من الطيبات۔”اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔‘‘اور فرمایا: يا ايها الذين اٰمنو كلوا من طيبات ما رزقناكم۔ ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کیں ۔“ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال بکھرے ہوۓ اور چہرہ گرد آلود ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے حالانکہ اس کا کھانا‘ اس کا پینا اور اس کالباس حرام (سے) ہے اور اس کو حرام سے غذا دی گئی تو اس کی دعا کیسے قبول ہو؟

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 199

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 200

200- أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانًا (1)، لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ. _حاشية__________ (1) في الأصل جاء هكذا "عد بابا" [بدون نقط]غير واضح، وما أثبته من "صحيح البخاري" و"صحيح مسلم" وعندهما بزيادة "عليها".

حضرت ابوحازم ‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے پس وہ انکار کر دے اور وہ شخص تنہا رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں (بشرطیکہ کوئی شرعی یا طبی عذر نہ ہو )۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 200

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 201

201- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ (1) . قَالَ: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ هِبَةُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هِبَةِ اللهِ، بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ، فِي سَنَةِ أَرْبَعٍ وَثَلاَثِينَ وَخَمْسِمِائَةٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قِرَاءَةً سَنَةَ سِتٍّ وَسِتِّينَ وَأَرْبَعمِائَةٍ، قَالَ: أنا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ النَّصْرَوِيُّ، قَالَ: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السِّمِّذِيُّ قَالَ: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثنا الإِمَامُ أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ الْحَنْظَلِيُّ،

حضرت ابوحازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: تین (قسم کے ) آدمی وہ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا نہ ان کی طرف نظر کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ا۔بوڑھا زانی۔ ۲۔جھوٹا بادشاہ ۔ ۳۔ عیال دار (محتاج ) تکبر کرنے والا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 201

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 202

202- أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ.

حضرت ابوحازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ا۔ آپ نے فرمایا: اگر مجھے ( بکری کا ) باز و بطور ہدیہ پیش کیا جاۓ تو میں قبول کر لوں گا اور اگر مجھے (جانور کے ) پائے کی دعوت دی جاۓ تو اسےبھی قبول کروں گا۔

لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 202

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 203

203- أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثنا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے۔

الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 203

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 204

204- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ. قَالَ جَرِيرٌ: وَأَرَاهُ قَالَ: لَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لأَجَبْتُ.

حضرت ابوحازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’اگر مجھے ( بکری کے ) پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں قبول کروں گا‘حضرت جریر فرماتے ہیں:میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر مجھے ( بکری کے) بازو کی طرف بلایا جائے تو میں قبول کروں گا۔

لَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لأَجَبْتُ. ← جَرِيرٌ: وَأَرَاهُ ← لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 204

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 205

205- أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثنا أَبُو مُنَيْنٍ، قَالَ يَعْلَى، وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَأَذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الاسْتِغْفَارِ فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَزُورُوهَا [فَإِنَّهَا] (1) تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ.

حضرت ابوحازم‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے اپنی والدہ ماجدہ کی قبر مبارک دیکھی تو آپ رو پڑے اور جو لوگ آپ کے اردگردکھڑے تھے ان کو بھی رُلا دیا پھر فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی اور میں نے طلب ِبخشش کی اجازت طلب کی تو اس نے مجھے اجازت نہ دی پس تم (قبروں کی) زیارت کیا کرو یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گی۔

رَأَى رَسُولُ اللهِ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، ثُمَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْلَى، وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← أَبُو مُنَيْنٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 205

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter