مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 161
161- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا هُوَ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالْبَرَدِ وَالثَّلْجِ.
حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم جب نماز کیلئے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ دیرٹھہرتے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ بتایئے ! تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کس مقصد کیلئے ہے؟فرمایا : میں یہ دعا مانگتاہوں: ’’اللّٰھم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللّٰھم تقنی من الخطا یا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس اللھم اغسلنی من خطا یای بالماء والثّلج والبرد‘‘’’یا اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ یا اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح رہا کر دے جس طرح سفیدکپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ یا اللہ مجھے میری خطاؤں سے پانی‘ برف اور بادلوں کے ساتھ دہو ڈال۔‘‘
كَانَ النَّبِيُّ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 161
