Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 161

161- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا هُوَ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالْبَرَدِ وَالثَّلْجِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم جب نماز کیلئے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ دیرٹھہرتے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ بتایئے ! تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کس مقصد کیلئے ہے؟فرمایا : میں یہ دعا مانگتاہوں: ’’اللّٰھم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللّٰھم تقنی من الخطا یا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس اللھم اغسلنی من خطا یای بالماء والثّلج والبرد‘‘’’یا اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ یا اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح رہا کر دے جس طرح سفیدکپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ یا اللہ مجھے میری خطاؤں سے پانی‘ برف اور بادلوں کے ساتھ دہو ڈال۔‘‘

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 161

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 162

162- أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عِنْدَ التَّكْبِيرِ سَكْتَةً. قُلْتُ لِسُفْيَانَ: عِنْدَ تَكْبِيرِ فَاتِحَةِ الصَّلاَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.

حضرت عُماره بن قعقاع ‘حضرت ابوذرعہ سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول ِاکرم صلى الله علیہ وسلم تکبیر کے وقت سکتہ کرتے تھے۔حضرت عمرو بن محمد (راوی) فرماتے ہیں میں نے ابوسفیان (راوی) سے پوچھا آغازِ نماز کی تکبیر کے وقت؟ فرمایا: ہاں۔

نَعَمْ ← سَكَتَ رَسُولُ اللهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ سَكْتَةً. قُلْتُ لِسُفْيَانَ: عِنْدَ تَكْبِيرِ فَاتِحَةِ الصَّلاَةِ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 162

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 163

163- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارًا ابْتُنِيَ لِسَعِيدٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوْ لِمَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ، فَتَوَضَّأَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ إِبْطَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ رُكْبَتَيْهِ، فَقُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مُنْتَهَى الطُّهُورِ، قَالَ: فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً.

حضرت ابوزرعہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ایک حویلی میں داخل ہوا جو مدینہ طیبہ میں حضرت سعیدیا مردان کیلئے بنائی جا رہی تھی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کیا انہوں نے ہاتھ بغلوں تک دھوئے اور پاؤں کو گھٹنوں تک دھویا۔میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ طہارت کا انتہائی مقام ہے۔فرماتے ہیں: انہوں نے حویلی میں ایک مصور دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا تو فرمایا: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح بنانے کی کوشش کرے پس چاہئے کہ وہ ایک ذرہ پیدا کریں اور چاہئے کہ ایک دانا پیداکریں۔

أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 163

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 164

164- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم الْخَلاَءَ، فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ، فَاسْتَنْجَى بِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِالأَرْضِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ أتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ بِهِ.

حضرت ابوزرعہ بن عمرو بن جریر‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں پانی کا ایک بڑا برتن لے کر حاضر ہوا آپ نے اس کے ساتھ استنجا فرمایا پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر رگڑ کر اُن کو دھویا پھر میں ایک اور برتن لایا توآپ نے وضو فرمایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 164

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 165

165- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالاَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ، فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ، فَلاَ يَعْرِفُهُ وَلاَ يَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ جَعَلْنَا لَكَ مَجْلِسَا فَتَجْلِسَ فِيهِ حَتَّى يَعْرِفَكَ الْغَرِيبُ، فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ، فَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَانِبَيْهِ، فَكُنَّا جُلُوسًا وَرَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَجِيءُ فِي مَجْلِسِهِ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهَا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا، وَأَنْقَى النَّاسِ ثَوْبًا، كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يُصِبْهَا دَنَسٌ، حَتَّى سَلَّمَ مِنْ عِنْدِ طَرَفِ السِّمَاطِ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ، ثُمَّ قَالَ: أَدْنُو؟ فَمَا زَالَ يَقُولُ: أَدْنُو؟ وَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: ادْنُهْ، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: تَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: صَدَقْتَ،. قَالَ: فَأَنْكَرْنَا مِنْهُ قَوْلَهُ صَدَقْتَ، [فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ بِاللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَبِالنَّبِيِّينَ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ] (1)، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ، فَقَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: فَنَكَسَ وَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ عَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ عَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ [فَحَلَفَ بِهِ بِاللهِ] (2)، أَوْ قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ، مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا عَلاَمَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا، إِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ وَالْعُرَاةَ مُلُوكَ الأَرْضِ، وَإِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّهَا، فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ}، ثُمَّ تَلاَ إِلَى: {عَلِيمٌ خَبِيرٌ}، ثُمَّ سَطَعَ غُبَارٌ مِنَ السَّمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ، مَا أَنَا بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ، وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ، فِي صُورَةِ دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہما (دونوں) سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک اجنبی آیا۔ وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا اور اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں تشریف فرما ہیں ۔ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے بیٹھنے کیلئے (مخصوص) جگہ بنا لیں (تو اچھا ہے) آپ وہاں تشریف رکھیں گے تو اپنی آپ کوپہچان لے گا تو ہم نے گارے سے ایک اونچی جگہ بنائی اور ہم آپ کے گرد بیٹھتے تھے۔(ایک دن) ہم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم اپنی جگہ گھٹنوں کو کھڑا کر کے ان کے گرد ہاتھوں سے گھیرا بنا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص جو بہت خوبصورت تھا اس سے سب سے اچھی خوشبو آ رہی تھی ۔ اس کے کپڑے سب لوگوں (کے کپڑوں) سے زیادہ صاف تھے ۔ گویا اس کے کپڑوں کو میل نہیں پہنچی حتیٰ کہ اس نے صحابہ کرام کی صف کے ایک کنارے سے سلام کیا۔ اس نے کہا:’’السلام عليك يا محمد‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آپ نے سلام کا جواب دیا پھر اس نے کہا: میں قریب ہو جاؤں؟ وہ مسلسل کہتا رہا میں قریب ہو جاؤں اور حضور علیہ السلام فرماتے قریب ہو جاؤ حتیٰ کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا اور کہا کہ اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شر یک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰة دو، ماه ِرمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ شریف کاحج کرو۔ اس نے پوچھا جب میں ایسا کروں تو میں مسلمان ہوں گا؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں)ہمیں اس کا یہ کہنا کہ آپ نےسچ کہا‘ عجیب لگا۔ اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، نبیوں اور ہر تقدیر پر ایمان لانا ہے (دل سے تصدیق کرنا ہے) اس نے کہا: اے محمد! مجھے احسان (اخلاص) کے بارے میں بتائیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت (اس طرح) کرو کہ گویا اسے دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد ! مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے؟ راوی فرماتے ہیں آپ نے سر مبارک جھکا دیا اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا پھر سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا۔ پھر آپ نے اپنا سرِ انور اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی یا فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا البتہ اس کی کچھ علامات ہیں جن کے ذریعے اس کی پہچان ہو گی جب تم جانوروں کو چرانے والے لوگوں کو دیکھو کہ عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں اور جب تم ننگے پاؤں اورننگے جسم والوں کو زمین کے بادشاہ دیکھو اور جب عورت (لونڈی) اپنےمالک کو جنم دے(تو یہ قیامت کی علامات ہیں ) یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو (ذاتی طور) پر صرف اللہ جانتا ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وماتدری نفس ماذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر‘‘’’بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ (عورتوں کے ) رحموں میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا‘ خبر رکھنے والا ہے۔‘‘’’ پھر آسمان میں ایک غبار بلند ہوئی‘ اور پھیلی تو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس بارے میں تم میں ا ن سے کسی ایک سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔ یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے جو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں تمہیں سکھانے آئے تھے ۔‘‘

أبي هُرَيرة، وأبي ذر ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 165

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 166

166- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ، وَتُؤُمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: رُدُّوهُ، الْتَمِسُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم ایک دن صحابہ کرام میں موجود تھے کہ ایک شخص پیدل چلتا ہوا آیا اور اس نے کہا ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں‘ اس کے رسولوں اور اسکی ملاقات اورآخرت میں اُٹھنے پر ایمان رکھو۔اس نے عرض کیا:یارسول اللہ!اسلام کیاہے؟آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤفرض نمازقائم کرو،فرض زکوۃادا کرو‘ماہ رمضان کے روزےرکھو۔ اس نے عرض کیا :اے محمد ! احسان (اخلاص ) کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔اس نے کہا اے محمد ! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جس سے پو چھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا اور عنقریب میں تمہیں اس کی شرائط (علامات ) کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب عورت اپنے آقا کو جنم دے اور تم ننگے پاؤں والوں کو لوگوں کے سردار دیکھو۔یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ان الله عنده علم الساعة و ينزل الغيث ( آخر تک) پھر وہ شخص چلا گیا تو رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلا‘ؤ صحابہ کرام نے اسے تلاش کیا لیکن نہ پایا۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے‘ یہ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔

يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 166

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 167

167- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا لأَصْحَابِهِ: سَلُونِي، فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ، وَيَقُولُ فِي كُلِّ مَسْأَلَةٍ: صَدَقْتَ، وَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكُمَ مُلُوكَ الأَرْضِ، وَرَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَقَالَ فِيهِ: أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: هَذَا جِبْرِيلُ. قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: أَرَادَ أَنْ تَعْلَمُوا أَنْ تَسْأَلُوهُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: ”مجھ سے پوچھو۔“انہوں نے آپ سے پوچھنے میں خوف محسوس کیا ہے۔پس ایک شخص آیا اور اس نے اپنے ہاتھوں کو آپ کے گھٹنوں پر رکھا اور کہا اےمحمد! مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے؟ اس کے بعد پہلی حدیث کی مثل ذکر کیا‘ اس میں یہ اضافہ ہے کہ تم آخرت پر اور تمام تقدیر پر ایمان لاؤ اور وہ ہر سوال کے جواب پر کہتا : آپ نےسچ فرمایا ہے۔اورآپ نے فرمایا:’’ جب تم ننگے پاؤں اور ننگے جسم والوں نیز گونگے اور بہرے لوگوں کوزمین کے بادشاہ دیکھو اور جانوروں کو چرانے والوں کو عمارتوں پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘اور حدیث میں فرمایا’’جبرائیل علیہ السلام تھے۔‘‘حضرت ابوزرعہ فرماتے ہیں: انہوں نے ارادہ کیا کہ تمہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے سوال کرنے کاطریقہ سکھائیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 167

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 168

168- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ فِي ذَلِكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الأعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ (تین بار فرمایا)صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ نےفرمایا: تم اس سلسلے میں میری مثل نہیں ہو۔بے شک میں رات (اس طرح) گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم اسی طرح عمل کرو جس قدر طاقت رکھتےہو۔

إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 168

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 169

169- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنِي الطَّلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ (ح) وَأخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخَافُ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحَظَارَةٍ شَدِيدَةٍ مِنَ النَّارِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی‘ وہ بچہ بیمار تھا۔ اس نےعرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس کا ڈر ہے اور میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں؟رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم اور اپنے درمیان سخت رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← وَأخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الطَّلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 169

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 170

170- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ عِنْدَ نَحْرِكَ، قُلتُ: مَالِي لِفُلاَنٍ وَفُلاَنٍ، وَهُوَ لَهُمْ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں صدقہ کس طرح کروں؟ آپ نے فرمایا (اس وقت صدقہ کرجب)تم تندرست ہو‘ حرص رکھتے ہو‘ زندگی کی امید اور فقر کا خوف رکھتے ہو اور انتظارنہ کروحتیٰ کہ جب سانس تمہارے سینے تک پہنچ جائے تو تم کہو ! میرا مال فلاں فلاں کیلئے ہےحالانکہ اب تو وہ ان کے لئے ہی ہے۔

رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 170

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 171

171- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فِيهِمْ، قَالَ: هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، فَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبْيَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے بنو تمیم (قبیلے) کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں مجھے یہ لوگ سب سے زیادہ پسند ہیں۔ آپ نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ لوگ میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ان میں سے ایک قیدی عورت تھی۔ آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہےاور بنوتمیم کی طرف سے صدقہ آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کا صدقہ ہے۔

هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا. ← رَسُولُ اللهِ أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ، ← هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، فَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ سَبْيَةٌ مِنْهُمْ، ← لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ فِيهِمْ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 171

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 172

172- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص رسولِ اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے پوچھا: میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں‘ پو چھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں‘پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں ‘پوچھا: پھر کون؟ فرمایا تمہارا باپ۔

"أبوك" ← ثُمَّ مَنْ ← ثُمَّ أُمُّکَ ← ثُمَّ مَنْ ← ثُمَّ أُمُّکَ ← ثُمَّ مَنْ ← مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: أُمُّكَ، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 172

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter