مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، وَأَبِي الأَحْوَصِ، وَأَبِي عِيَاضٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَأَبِي رُزَيْنٍ، وَكُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، وَأَبِي الْجَهْمِ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ · حديث 240
240- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: أَسِوَارَانِ مِنْ نَارٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ: قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ يَزَّيَّنَ (1) لِزَوْجِهَا، صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: فَمَا يَمْنَعُكُنَّ أَنْ تَجْعَلَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، وَتُصَفِّرِيهِ بِعَبِيرٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ، فَيَكُونَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ. _حاشية__________ (1) هكذا في المطبوع: "يزين"، وأظن الصواب ما في "مسند أحمد" 15/423: "تَزَّيَّنْ".
حضرت ابوالجہم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا:یا رسول اللہ! سونے کے دو کنگن(یعنی ان کا حکم کیا ہے)؟رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کے دوکنگن ہیں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ !سونے کی دو بالیاں؟ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی دو بالیاں ہیں۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! عورت جب اپنے خاوند کے پاس زنیت اختیار نہ کرے تو اس کے ہاں اس (عورت) کی قدرو قیمت کم ہو جاتی ہے۔فرماتے ہیں : رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا :تم (عورتوں) کو کس نے منع کیا کہ تم چاندی کی دو بالیاں بناؤ اور اس پرعبیر (زرد رنگ کی بوٹی) یا زعفران کا رنگ چڑھا کر زر د کرلو۔ پس وہ سونے کی طرح ہو جائیں گی۔
كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 240
