مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 214
214- أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَيْسَرَةَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ قري ضَيْفِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّ الضَّيْفِ؟ قَالَ: ثَلاَثٌ، فَمَا كَانَ فَوْقَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ، أَوْ لِيسْكُتْ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلْعِ أَعْلاَهُ، فَإِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا.
حضرت ابوحازم ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی مہمان نوازی اچھی طرح کرے۔‘‘عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! مہمان کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تین دن (مہمان نوازی) ہے۔ پس جو اس سے زائد ہے یا فرمایا: جو اس کے بعد ہے وہ صدقہ ہے۔اور جوشخص اللہ تعالی ٰاور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی گفتگو کرے یا خاموش رہے۔ عورتوں سے اچھا سلوک کرو بے شک وہ پسلی سے پیدا کئی گئی ہیں اورپسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا حصہ ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائے گااور اگر چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھا رہے گا پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 214
