مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 130
130- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لاَ يَحْمِلُ إِلاَّ شَرَّ مَا يَسْمَعُ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ: يَا رَاعِي أَجْزِرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ خَيْرَ شَاةٍ، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ.
حضرت اوس بن خالد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا:’’ اس شخص کی مثال جو دانائی کی بات سنے پھر وہ سنی ہوئی بات کی صرف برائی اٹھائے (آگے لے جائے) وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی چرواہے کے پاس جائے اور کہے کہ مجھے اپنی بکریوں میں سےذبح کے قابل بکری دو اور وہ کہے جاؤ اور اچھی بکری لے لو۔ پس یہ جائے اور بکریوں کے (حفاظتی) کتے کے کان پکڑے (اور لے جاۓ)۔‘‘
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 130
