Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 118

118- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: كَانَ مُوسَى حَيِيًّا سِتِّيرًا، لاَ يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ، فَآذَاهُ بَعْضُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالُوا: مَا يَسْتَتِرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلاَّ مِنْ شَيْءٍ بِجِلْدِهِ، إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا إدْرَةٌ (1)، أَوْ آفَةٌ، فَدَخَلَ يَغْتَسِلُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى الْحَجَرِ، فَعَدَا الْحَجَرُ بِثِيَابِهِ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِهِ، فَرَآهُ بَنُو إِسْرَائِيلُ أَحْسَنَ الرِّجَالِ خَلْقًا، وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ} الآيَةَ. _حاشية__________ (1) هكذا في المطبوع: "إدرة"، وفي "مصنف بن أبي شيبة" 16/539، و"مسند أحمد" 16/396، و"صحيح البخاري" 4/190: "أُدْرَةٌ".

حضرت خلاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں: حضرت موسیٰؑ بہت حیا کرنے والے‘بہت پردہ دار تھے ان کےحیا کی وجہ سے ان کے جسم میں سے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی پس بعض بنی اسرائیل نےان کو اذیت پہنچائی اور کہا آپ یہ پردہ اس لئے کرتے ہیں کہ آپ کے جسم میں کوئی چیز (بیماری وغیرہ) ہے یا تو برص کی بیماری یا آپ کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں یا کوئی اورآفت ہے۔ آپ غسل کیلئے داخل ہوئے اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو وہ پھر آپ کےکپڑے لے کر بھاگ گیا۔ آپ اس کے پیچھے دوڑنے لگے پسں بنی اسرائیل نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی جسمانی ساخت سب مردوں سے زیادہ خوبصورت ہے‘ انہوں نے اپنے قول سے حضرت موسیٰؑ کو بٔری پایا اس پر یہ ارشاد خداوندی ہے: ’’یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّأَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوْا‘‘’’اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے حضرت موسیٰؑ کو ازیت پہنچائی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات سے بری کر دیا جو انہوں نے کہی تھی ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ، ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 118

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 119

119- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لَقِيَ مُوسَى آدَمَ عَلَيْهَمَا السَّلاَمُ، فَقَالَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، فَأَخْرَجْتَ وَلَدَكَ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ لَهُ: يَا مُوسَى، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ وَكَلَّمَكَ، فَأَنَا أَقْدَمُ، أَمِ الذِّكْرُ؟ فَقَالَ: لاَ، بَلِ الذِّكْرُ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.

حضرت عمار بن ابی عمار جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام ہیں‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسولِ اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: آپ آدم (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا پس آپ کی وجہ سے آپ کی اولاد کو جنت سے باہر آنا پڑا؟ انہوں نے فرمایا: اےموسیٰ! آپ وہی ہیں جن کو الله تعالیٰ نے اپنے پیغامات کے ساتھ چن لیا اور آپ سے (براہِ راست) کلام کیا تو میں پہلے ہوں یا تقدیر؟ انہوں نے فرمایا: بلکہ تقدیر (پہلے ہے)پس آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 119

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 120

120- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ لَهُ أَجْرَانِ.

حضرت عمار بن ابی عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جب غلام اپنے رب اور اپنے آقا کی فرمانبرداری کرتا ہے تو اس کیلئے دواجر ہوتے ہیں‘‘

إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ لَهُ أَجْرَانِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 120

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 121

121- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: يُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَضَعَ فِيهَا قَدَمَهُ، فَتَبْرَدَ، أَوْ تَقُولَ: قَطْ قَطْ.

حضرت عمار بن ابی عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جہنم میں اہلِ جہنم کو ڈالا جائے گا اور وہ کہے گی کیا مزیدہیں؟ حتی ٰکہ الله تعالیٰ آئے گا اور اس میں اپنا قدم رکھے گا (جس طرح اس کے شایانِ شان ہے) تو وہ با ہم مل جائے گی اور کہے گی: بس بس۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 121

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 122

122- قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلاَثُونَ آيَةً، شَفَعَتْ لِصَاحِبِهَا، حَتَّى غُفِرَ لَهُ {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكَ} فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

(مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) میں نے ابو اسامہ سے کہا کہ تم سے حضرت شعبہ نے حضرت قتادہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا انہوں نے بواسطہ عباس جُشمی‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے حضور علیہ السلام سے روایت کیا آپ نے فرمایا: بے شک قرآن مجید میں ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرےگی حتیٰ کہ اس کو بخش دیا جائے گا اور وہ سورت’ ’تبارك الذی بيده الملك‘‘ہے۔تو حضرت ابو اسامہ نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا: ہاں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ← قَتَادَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 122

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 123

123- أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلاَلَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلاَّ السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ.

حضرت بلال بن یزید‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا : ” کلونجی‘‘ موت کے علاوہ ہر چیز (بیماری) کیلئے شفاء ہے اور’’ السام“ موت کو کہتے ہیں۔

فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلاَّ السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هِلَالِ بْنِ يَزِيدَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 123

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 124

124- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ الطُّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلاَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلاَ الْوَلَدُ الْوَلَدَ.

حضرت طفاوی اپنے والد سے‘ وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ‘ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی لڑکا کسی لڑکے کے ساتھ نہ لیٹے۔

لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلاَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلاَ الْوَلَدُ الْوَلَدَ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الطُّفَاوِيُّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 124

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 125

125- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الآخَرِ دَوَاءً.

حضرت ثُمامہ بن عبداللہ بن انس‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:” جب تم میں سے کسی ایک کے برتن میں مکھی پڑ جائےتو وہ اس کو ڈبو دے بے شک اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسری میں دوا (شفاء) ہے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 125

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 126

126- أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: اخْرُجْ، فَنَادِ فِي النَّاسِ: أَنْ لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَمَا زَادَ.

حضرت ابو عثمان نھدی فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:’ ’باہر جا کر لوگوں میں اعلان کرو کہ سورت ِفاتحہ اور اس سے کچھ زائد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أبا عثمان النهدي ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 126

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 127

127- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، يَقُولُ: صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَحَمَلَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا.

حضرت ابوالمُھزِّم فرماتے ہیں میں نے دس سال حضرت ابو ہریره رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت اختیار کی تو میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور اس کو تین بار اٹھائے تو اس نے اپنے اوپر لازم اس(میت) کا حق ادا کر دیا‘‘

مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَحَمَلَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا. ← رَسُولِ اللَّهِ ← صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ ← أَبَا الْمُهَزِّمِ ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 127

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 128

128- أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلاَثَةِ أَثْلاَثٍ: ثُلُثٌ عَلَى الدَّوَابِّ، وَثُلُثٌ يَنْسِلُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ سَلاًّ، وَثُلُثٌ عَلَى وَجُوهِهِمْ.

حضرت اوس بن ابی اوس‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: لوگ تین طریقوں سے اٹھائے جائیں گے۔ ایک تہائی جانوروں پر (سوار) ایک تہائی پاؤں پر تیز چلتے ہوں گے اور ایک تہائی چہروں کے بل اٹھاۓ جائیں گے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 128

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَأَبِي الْمُهَزِّمِ، وَمَشَايِخِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 129

129- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلاَثَةِ أصْنَافٍ: ثُلُثٌ رُكْبَانًا، وَثُلُثٌ عَلَى أَقْدَامِهِمْ مَشْيًا، وَثُلُثٌ عَلَى وَجُوهِهِمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وَجُوهِهِمْ؟ فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وَجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ.

حضرت اوس بن خالد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا: ”(قیامت کے دن )لوگوں کو تین طرح اٹھایا جائے گا ایک تہائی سواری کی حالت میں ایک تہائی پاؤں پر پیدل چلیں گے اور ایک تہائی چہروں کے بل ہوں گے۔‘‘ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! وہ اپنے چہروں کے بل کس طرح چلیں گے؟فرمایا: بے شک وہ ذات جس نے ان کو قدموں پر چلایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کوچہروں کے بل چلائے لیکن وہ اپنے چہروں کو ہر اونچی جگہ اور کانٹے سے بچائیں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 129

chevron_left Previous
1…515253…233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter